دھاندلی، دھرنا انکوائری اور تحریکِ انصاف


judicialcommission-electionrigging-PTI-PML-N-polls_4-9-2015_180893_lحالیہ دنوں میں سال ۲۰۱۳ء میں ہونے والے انتخابات  میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے۔ عمران خان کے مخالفین اس کے لتے لے رہے ہیں تو حامی صفائیاں پیش کر رہے ہیں۔ یہ بلاگ اس ساری کہانی کا غیر جانبدارانہ انداز میں تجزیہ کرنے کی کوشش ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ عمران خان سے درحقیقت کہاں غلطیاں ہوئیں ہیں۔ 

عمران خان نے ایک سو چھبیس دن کا دھرنا دے کر قوم کا وقت اور وسائل ضائع کئے۔کل ایک خبر چھپی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈروں سے عمران خان نے غیر رسمی مشاورت کی ہے اور اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے کچھ فیصلے کئے ہیں جن میں ایک اہم فیصلہ شیخ رشید کو پارٹی معاملات سے باہر کرنا، اسمبلی میں دوبارہ بھرپور شرکت کرنا اور سب سے بڑھ کر انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں بھرپورشرکت کرنا شامل ہیں۔ یہ سب بہت خوش آئند باتیں ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران خان نے اس سارے تماشے سے کچھ نہ کچھ سبق سیکھا ضرور ہے اگرچہ یہ سبق قوم کو بہت منہگا پڑا ہے۔ 

مہنگا اس لئے کہ جب لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تو نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا اور یہ تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا جائےگا جو انتخابات میں ہونے والے دھاندلی کی تحقیقات کرے گا۔ مگر اس وقت عمران خان کو امپائر پر پورا بھروسہ تھا اس لئے عمران خان حکومت کا دھڑن تختہ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔ جب امپائر مافیہ نے اپنا کام نکال لیا تو عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ دیگر سیاسی پارٹیوں نے عمران خان اور امپائر کا گٹھ جوڑ سمجھ لیا تھا اس لئے کوئی سیاسی پارٹی (بشمول جماعت اسلامی) عمران خان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ ایسے میں عمران خان کو کنٹینر سے نیچے اتر کر انکوائری کمیشن پر راضی ہونا پڑا۔ ایک سو چھبیس کے احتجاج کے بعد بھی اسی کمیشن پر راضی ہوجانا جس کی تجویز پہلے ہی دی گئی تھی اپنی جگہ ایک شکست تھی، فتح نہیں تھی۔ 

کمیشن قائم ہونے کے بعد  مسئلہ یہ ہوا کہ انکوائری کمیشن کے سامنے ثبوت پیش کرنے پڑتے ہیں کہ جو عمران خان کے پاس نہیں تھے۔ پینتیس پنکچر والی کہانی کو جب عمران خان نے یہ کہا کہ سیاسی بیان ہے۔(ویسے  عمران خان اور نواز شریف میں کیا فرق رہ گیا۔ نواز شریف نے بھی شہباز شریف کے لوڈ شیڈنگ چھ ماہ میں ختم کرنے کے بیان کو سیاسی بیان کہا تھا۔)اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں بھی عمران خان نے کہا کہ آر اوز اور الیکشن کمیشن کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ تاہم انکوائری کمیشن کے سامنے کسی آر او کو پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ کسی آر او کا نام نہیں لیا گیا۔ دھرنے کے آغاز پر ایک برگیڈئیر صاحب کا بھی ذکر ہوا تھا وہ بھی ہوا ہو گیا۔

لالاجی کا موقف یہ ہر گز نہیں کہ انتخابات میں کوئی گڑ بر نہیں ہوئی۔ تاہم منظم دھاندلی کے الزام میں جان نہیں ہے۔ انتخابات میں بے قاعدگیاں ہوئیں اور بہت ہوئیں جیسے حلقوں اور پولنگ اسٹیشنوں کے فارم غائب ہیں یا ٹھیک سے پُر نہیں کئے گئے۔ یاد رہے کہ انتخابات کا قانون کے مطابق نہ ہونا، ان میں بے قاعدگیاں ہونا اور منظم دھاندلی دو قطعی مختلف باتیں ہیں۔ بے قاعدگیاں تمام حلقوں میں ہوئی ہیں جن میں تحریک انصاف کے امیدوار جیتے ان میں بھی۔ چنانچہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر یہ بے قاعدگیاں نہ ہوتیں تو بھی نتائج کم و بیش یہی ہوتے۔

مثال کے طور پر فارم ۱۵ کے غائب ہونے کا بہت شور ہے۔ مگر کیا فارم ۱۵ صرف پنجاب کے حلقوں کے غائب ہیں۔ پختونخواہ میں42.5 فیصد ،قبائلی علاقہ جات میں12فیصد ، پنجاب میں 28.8 فیصد ،سندھ میں 45.9 فیصدجبکہ بلوچستان میں 48فیصد فارم 15ریکارڈ سے غائب پائے گئے یا نہیں مل سکے ۔ تو پھر دھاندلی کہاں زیادہ ہوئی؟ (ان حقائق کے باوجود سپریم کورٹ کے ججوں کی کردارکشی کی مہم جاری ہے۔) 

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الیکشن کے نظام میں ان بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کے لئے اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ جب یہ بے قاعدگیاں نہیں ہوں گی، نظام میں خامیاں دور ہو جائیں گی تو انتخابات میں دھاندلی کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے اور اگر دھاندلی ہوگی تو اسے ثابت کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ 

لالاجی پھر یہ کہیں گے کہ جمہوریت کے ثمرات کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ جمہوری نظام کو بار بار پٹڑی سے اتار دینا اپنی جگہ دھاندلی کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے۔ اگر مقامی، صوبائی اور وفاقی سطح پر جمہوری حکومتیں قائم ہوں اور باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہیں تو الیکشن کمیشن کا عملہ تربیت یافتہ ہوجائے گا اور انتخابات کے نظام کو اتنی اچھی طرح سمجھ جائے گا کہ بے قاعدگیاں خود بخود کم ہو جائیں گی۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس اپنا انتخابی عملہ ہی نہیں ہے۔ جب انتخابات کرانا ہوتے ہیں تو ادھر ادھر سے لوگ پکڑ کر ایک ایک دو دو دن کی تربیتی ورکشاپ کی جاتی ہیں اور ان ناتجربہ کار اور نیم تربیت یافتہ لوگوں کے ہاتھ میں انتخابات کا سارا نظام دے دیا جاتا ہے۔ 

لالاجی کو خوشی ہے کہ تحریک ِ انصاف نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابی نظام کو شفاف بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ وہ پنجابی میں کہتے ہیں کہ “حالی وی ڈلیاں بیراں دا کچھ نئیں گیا”۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ انتخابی اصلاحات کریں اور انتخابات کا نظام ایسا بنائیں کہ دھاندلی کی گنجائش نہ رہے اور اگر ہو تو اسے پکڑنا اور ثابت کرنا آسان ہو۔ 

خاندانِ خاکروباں اور گندے سیاستدان


Untitled

برصغیر میں جب مسلمانوں کی حکومت قائم ہو ئی تو سب سے پہلے خاندانِ غلاماں نے حکومت کی۔ جب مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کر لیا تو پاکستان میں خاندانِ خاکروباں کی حکومت قائم ہو گئی اور ان ہی کی حکومت قائم چلی آرہی ہے بس کبھی پردے کے پیچھے سے حکومت کرتے ہیں، کبھی پردے کے آگے آ جاتے ہیں۔ خدا کے فضل سے پاکستان خاکروبوں کے معاملے میں خود کفیل ہے۔

ہر بار حکومت کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ملک میں بہت گندگی پھیل گئی ہے وہ صاف کرنے آئے ہیں۔ تاہم دس دس سال تک گندگی صاف نہیں ہو پاتی۔ جاتے ہیں تو پہلے سے زیادہ گندگی چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں بار بار یہی بتاتے ہیں کہ سیاستدان گندے ہیں مگر کبھی بھی گندے سیاستدانوں پر ان کی گندگی کی بنیاد پر مقدمے نہیں بناتے۔ بناتے بھی ہیں تو ان مقدمات میں انہیں سزائیں نہیں دلوا پاتے ( یا پھر دلوانا ہی نہیں چاہتے ،یعنی گندگی صاف کرنا ہی نہیں چاہتے)۔

ہیں؟ آئیے ذرا دیکھیں تو سہی کہ ان خودساختہ خاکروبوں نے میدانِ سیاست کی گندگی کیسے صاف کی:

خاکروبِ اوّل جنرل ایوب خان :

خود ساختہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کو پاک فوج کے پہلے مقامی سربراہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایوب خان سے پہلے پاک فوج کی سربراہی (پاکستان بننے کے بعد بھی) انگریز جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی۔ جب جنرل صاحب نے فوج کی سربراہی کی بھاری ذمہ داری اٹھائی تو میدانِ سیاست گندگی سے اٹا پڑا تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل کا مقدمہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہا تھا۔ ملک کئی سال گزرنے کے باوجود آئین سے محروم تھا ، نہرو کہتا پھر رہا تھا کہ اتنی جلدی میں اپنی شیروانی نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان وزیر اعظم بدل لیتا ہے (پاکستان میں 1951سے 1958تک سات سال کے عرصے میں سات وزیر اعظم بدلے گئے) ۔

ایسے میں پاکستان کو ایک عظیم خاکروب کی ضرورت تھی۔ جنرل صاحب کو پتہ تھا (اور جنرل صاحب اس خیال کا برملا اظہار بھی کرتے تھے) کہ پاکستان کے عوام جاہل ہیں چنانچہ اس گندگی کی صفائی پاکستان کے عوام پر چھوڑنے کی حماقت کرنے کی بجائے انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ حماقت وہ خود کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مارشل لا ء لگا دیا۔ چن چن کر صاف ستھرے سیاستدان اکٹھے کئے ۔ کسی گندے سیاستدان کو پھڑکنے نہیں دیا حتیٰ کہ فاطمہ جناح  کو بھی نہیں۔ اس قوم کی ماں پر بھی انہیں بھروسہ نہیں تھا کہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور اس قوم کی رہنمائی کے قابل نہیں رہی تھی۔

ان کے چنیدہ صاف ستھرے سیاستدانوں میں ایک نوجوان ذولفقار علی بھٹو بھی تھا۔بھٹو کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کیوں کہ موصوف کا تعلق ایک غدار صوبے سے تھا اور قوی امکان یہ تھا کہ غدار صوبے سے ایک صاف ستھرے سیاستدان کے چناؤ سے اس صوبے کو واپس قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔   یہ نوجوان سیاست کی آلائشوں سے پاک تھا۔ ہمارے عظیم خاکروب نے اس صاف ستھرے اور انتہائی باصلاحیت نوجوان کو اپنی اولاد کا درجہ دیا ، اس کی سیاسی تربیت کی، اسے ملکوں ملکوں گھومنے اور دنیا کے دیگر عظیم سیاسی لیڈروں سے ملنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے خارجہ امور کا وزیر مقرر کردیا۔ یہ تربیت لگ بھگ آٹھ سال جاری رہی۔ اس صاف شفاف سیاستدان نے جنرل صاحب کی کشتی ڈوبنے سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دی ۔

اب خاکروب اول اور دوئم کے درمیان کیا بیتی یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ بتانے والے کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا۔

خاکروبِ دوئم، جنرل یحیٰ خان:

جب خاکروبِ دوئم نے جھاڑو سنبھالا تو میدانِ سیاست (اگرچہ سیاست کے میدان میں گزشتہ گیارہ سال سے  خاکروبِ اوّ ل کے علاوہ کوئی نہیں تھا) میں بہت گندگی پائی جاتی تھی۔ خاکروبِ اوّل جب صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیت میں مشغول تھے تو ان کا دھیان نہیں رہا اور ملک میں قسم قسم کے گندے سیاستدان نشونما پاگئے خاص طور پر مشرقی حصے میں۔یہ حصہ  صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیتی اکیڈمی واقع اسلام آباد سے کافی دور  تھا اس لئے اس پر نظر رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ مشرقی پاکستان  کو گندے سیاستدان پیدا کرنے میں ایک عجیب ملکہ حاصل تھا۔ پھر وہاں کے لوگ گندے سیاستدانوں کے ایسے مرید ہو گئے تھے کہ گولی سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔  خیر خاکروبِ دوئم کو بھی گند صاف کرنے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے لاکھوں گندے لوگوں کو مار ڈالا، ان کے جمعدار جنرل ٹائیگر نیازی نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی نسل بدلنے کی بھی بھرپور کوشش کی تاہم گندگی پر قابو پانا مشکل ہوگیا تو فیصلہ ہوا کہ مشرقی پاکستان ہی سے جان چھڑا لی جائے۔ اس غلاظت کو صاف کرنے میں ہمیں ہمارے دشمن ملک بھارک کا بھی بھرپور تعاون حاصل رہا۔

خاکروبِ دوئم نے فوری ایکشن کر کے مشرقی پاکستان کا گند صاف کر دیا تاہم انہیں ملک کو ایک اچھا سیاستدان دینے کا موقع نہیں ملا۔ خیر اس کی ایسی کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ خاکروبِ اوّل کے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان جناب ذولفقار علی بھٹو کو تب تک آزمانے کا موقع نہیں ملاتھا۔ چنانچہ خاکروبِ دوئم نے کمال دریا دلی کا مظاہر کرتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور بھٹو صاحب کو تھمائی اور خود بن باس لے لیا۔ اقتدار کی ہوس سے پاک ایسا خاکروب پاکستان کو دوبارہ نصیب نہیں ہوا۔

خاکروب ِ سوئم، جناب جنرل ضیاع الحق:

ذولفقار علی بھٹو پر آٹھ سال کی محنت اگرچہ پوری طرح تو ضائع نہیں ہوئی مگر ملک اور قوم کے زیادہ کام بھی نہیں آئی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو داخل دفتر کر دیا گیا۔ تاہم ملک کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے۔ کچھ گندے سیاستدانوں  جنھوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے نیشنل عوامی پارٹی کا نام دے رکھا تھا کو غداری کے مقدمے میں جیلوں میں ڈالا گیا مگر یہ مقدمہ کسی کنارے نہیں لگ رہا تھا۔ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی جس پر قوم سراپا احتجاج بن گئی۔ سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرنا معمول بن گیا۔ ادھر افغانستان میں کمیونسٹ آدھمکے تھے اور بہت خطرہ تھا کہ ملک پر لادین قوتوں کا سایہ پڑے گا اور بہت گند مچے گا۔ چنانچہ ضروری ہو گیا تھا کہ میدانِ سیاست کو صاف کیا جائے۔ چنانچہ اس بار ایک پاک صاف پابند ِ صوم وصلوٰۃ خاکروبِ سوئم جناب جنرل ضیاع الحق نے جھاڑو سنبھالا اور جھُرلُو پھیر دیا۔

جناب کو بھٹو پر ملک و قوم سے غداری کا اتنا قلق تھا اور خاکروبِ اوّل اور دوئم کے کئے کرائے پر پانی پھرجانے پر اتنا غم و غصہ تھا کہ انہوں نے بھٹو کو گندے سیاستدانوں کو سبق سکھانے کے لئے مثال بنانے کا عہد کیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ تاہم بھٹو مرا نہیں، کہتے ہیں بھٹو اب بھی زندہ ہے۔ واللہ اعلم باالصواب…!!!

اس بار فیصلہ ہو اکہ پاک صاف سیاستدان کسی غدار صوبے سے نہ لیا جائے بلکہ پنجاب جیسے محب وطن صوبے سے لیا جائے۔ اس مومن خاکروب کے ایک ساتھی کی نظر ایک لاہور کے ایک نہایت ہی شریف اور گناہوں سے پاک معصوم نوجوان پر پڑی اور اس نے سوچا کہ اس سے بہتر شخص پاکستانیوں کی رہنمائی کے لئے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس نے اس معصوم شخص کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔ اسے چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے الیکشن لڑوا کر صوبائی وزیر خزانہ اور پھر صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے تک کا سفر کروا دیا۔

اگرچہ بھٹو عوام میں مقبول ہر گز نہیں تھا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ موصوف کے جنازے میں مشکل سے چار لوگ ہوں گے مگر سندھ میں بھٹو کے زندہ ہونے کی افواہیں تاحال گونجتی رہتی ہیں۔ چنانچہ سندھ میں بھٹو کو مارنے کے لئے مہاجر وں کو زندہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے الطاف حسین جیسا مہاجروں کے دردکو محسوس کرنے والا نوجوان مل گیا تھا۔ اس کی سیاسی تربیت پر بھی پوری توجہ دی گئی ۔

پسِ پردہ خاکروبوں کادور:

1988میں مومن خاکروب کی ناگہانی موت کے بعد اس کے ساتھیوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ ڈر یہ تھا کہ ملک کے بھولے بھالے عوام نے ایک گندی سیاست دان جو کہ اس ملک کے لئے سکیورٹی رسک کا درجہ رکھتی تھی کو ووٹ دے دینا ہے ۔ لہٰذا مہران بنک وغیرہ سے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکال کر اچھے سیاستدانوں میں بانٹے گئے۔ عظیم تر قومی مفاد میں کے لئے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکالنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ خیر بے نظیر بھٹو جیسی غلیظ سیاست دان کی حکومت کو جلد ہی لپیٹ دیا گیا اور اچھے سیاستدانوں کی حکومت قائم کر دی گئی۔

مگر کیا کہیں صاحب… طاقت اور اختیار اچھے اچھوں کو خراب کر دیتا ہے۔ چنانچہ نواز شریف بھی طاقت اور اختیار ملتے ہی بے قابو ہو گیا اور گندا سیاست دان بن گیا۔ اس سے بھی پیچھا چھڑانا پڑا۔ بڑی لے دے ہوئی ، ساری محنت پر پانی پھر گیا ۔انتخابات ہوئے  اورپھر سے اسی گندی سیاست دان عورت کی حکومت قائم ہو گئی۔ چار و ناچار اسے دو تین سال مزید  برداشت کرنا پڑا۔ پھر سوچا کہ نواز شریف کو عقل آگئی ہو گی  چنانچہ اس کی حکومت دوبارہ قائم کروائی گئی (اس سلسلے میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں کی گئی)۔ مگر نوازشریف کی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی۔

اس دور میں ایک اور صاف ستھرے ، ایمان دار اور نیک شخص کو تلاش کیا گیا اور اس کی سیاسی تربیت کے لئے خصوصی اہتمام کیا گیا۔ یہ فریضہ جناب قاضی حسین احمد اور حمید گل کو سوپنا گیا جو ایک عرصے تک مشرقی پاکستان کے الگ ہونے  کے درد کو مٹانے کے لئے افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لئے سرگرداں رہے مگر بے نظیر بھٹو جیسی غدارِ وطن سیاستدان جسے اس ملک کے جاہل مزدوروں اور کسانوں نے ووٹ دیے تھے نے حمید گل کے اس  عظیم منصوبے پر پانی پھیر دیاتھا  اور حمید گل کو خاکروبی عہدے سےبھی ہاتھ دھونا پڑ گیا۔

کہتے  ہیں کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہوتا ہے۔ بھٹو ہو یا نواز شریف جو بھی سیاست کے آلودہ میدان میں اترا، خود بھی گندا ہو گیا۔ محب وطن خاکروبوں کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ نواز شریف بھی گردن تک سیاست کی آلودگیوں میں دھنس چکا تھا۔ پٹواریوں کی مدد سے انتخابات جیتنا،وکیل کی بجائے جج کر لینا،اپنا سریا بیچنے کے لئے بڑے بڑے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنا، ہندوستان سے تعلقات ٹھیک کرنے کی خواہش، خاکروب یونین کواپنے ماتحت کرنے کی غدارانہ کاوشیں اور خاکروبانہ اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہونا … یہ سب کچھ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہا تھا۔  میدانِ سیاست کی گندگی ناقابلِ برداشت ہو گئی۔

خاکروبِ چہارم، پرویز مشرف روشن خیال:

میدانِ سیاست ایک بار پھر گندگی سے اٹ چکا تھا۔ بھولے بھالے عوام کو تو سمجھ بوجھ تھی نہیں۔ انہوں نے پھر انہی گندے سیاستدانوں کو ووٹ دے دینے تھے۔ لہٰذا ایک بار پھر اس گندگی کو صاف کرنے کے لئے ضرور ی ہو گیا تھا کہ ایک نیا خاکروب میدان میں آئے۔

مومن خاکروب کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد جو نیا خاکروب آیا اس نے سوچا کہ کوئی نیا طریقہ کار اپنا یا جائے۔ چنانچہ اس بار اعتدال اور روشن خیالی کا جھاڑو چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ زیادہ مارا ماری نہیں کی گئی۔ نواز شریف کو اٹک کے قلعے میں قید کیا گیا مگر پھانسی نہیں دی گئی مبادا یہ بھی ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائے۔ نواز شریف جیسے گندے سیاستدان کو ابدی زندگی سے محروم کرنے کے بعد خاکروبِ چہارم جناب پرویز مشرف نے گندگی صاف کرنے کے لئے گندے سیاستدانوں کو دھونا شروع کر دیا۔ چھوٹے موٹے سیاستدانوں کو تو مقامی طور پر ہی دھو لیا گیا اور جھاڑ پھٹک کر استعمال کے قابل بنا لیا گیا۔ ان سیاستدانوں میں چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہیٰ، آفتاب شیرپاؤ، فیصل صالح حیات اور شیخ رشید احمد قابلِ ذکر ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف میں گندگی بہت زیادہ تھی جو اٹک کے قلعے میں بھی صاف نہیں کی جاسکی تو آخر کار ان دونوں بھائیوں کو خاندان اور نوکر چاکر سمیت جدہ بھجوا دیا گیا ۔ امید کی جارہی تھی کہ  مکہ مدینہ کے قریب رہنے سے ان کے اندر کی غلاظت صاف ہو جائے گی۔

بے نظیر بھٹو اس دور کی ایک اور گندی سیاست دان تھی مگر وہ پرویز مشرف کے جھاڑو اٹھانے سے پہلے ہی ملک سے بھاگ چکی تھی اس لئے اس کی دھلائی کا خاطر خواہ موقع خاکروب چہارم کو نہیں مل سکا۔ اگرچہ موصوفہ کے شوہر نامدار جو کہ اپنی بیگم سے بھی زیادہ غلیظ واقع ہو ئے تھے جیل میں تھے  اور ان کی دھلائی کی پوری کوشش کی گئی۔ ان کی تسلی بخش دھلائی کے بعد کوشش کی گئی کہ انہیں ملک سے باہر بھیج کر ان کے بدلے میں ان کی بیگم کو واپس لایا جائے تاکہ ان کی دھلائی بھی ہو سکے مگر یہ حربہ ناکام رہا۔ بے نظیر بھٹو واپس نہ آئیں۔

بے نظیر بھٹو بہت چالاک اور مکار سیاستدان تھی۔ اس کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ اعتدال اور روشن خیالی جیسی بے کار باتوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔ چنانچہ اسے پاکستان کی لانڈری سے گزارنے کے لئےیہ وعدہ کرنا پڑا کہ اس کی دھلائی نہیں کی جائے گی۔ کچھ عالمی طاقتوں کی ضمانتیں بھی فراہم کر دی گئیں۔

وعدے کے مطابق اسے لانڈری سے نہیں گزارا گیا بلکہ صفحہ ہستی ہی سے مٹا دیاگیا۔ خیال یہ تھا کہ اتنی چالاک  اور ضدی سیاستدان کا کچھ نہیں ہو سکتا جس نے اپنے باپ ذولفقار علی بھٹو کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔ بے نظیر بھٹو کی موت کا اس کے چالاک شوہر نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ملک کا صدر بن گیا۔ یہ شخص خاکروبوں کی توقع سے بھی زیادہ چالاک نکلا اور خاکروب چہارم کے خلاف ایسا گھیرا تنگ کیا کہ اسے بھاگتے ہی بن پڑی۔

پسِ پردہ خاکروبوں کو دوسرا دور:

ملک بہت نازک دور سے گزر رہا تھا۔ امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہو چکی تھی۔ گندے سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لئے خاکروب چہارم کو ملاؤں کے ساتھ ہاتھ ملانا پڑا (یا ان کی طرف سے آنکھیں بند کرنا پڑیں) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملا خود ایک عفریت کی شکل اختیار کر گئے۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف اور آصف زرداری جیسے مکار سیاستدانوں کو اکثریت حاصل تھی لہٰذا پس پردہ خاکروب کو بہت سوچنا پڑتا تھا۔ اس لئے اس دور کے خاکروب کو عوام کی طرف سے ’مفکرخاکروب‘ کا خطاب ملا۔بدقسمتی سے اس دور میں ہندوستان میں بھی ایسی حکومت تھی جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی ناپاک خواہش رکھتی تھی۔ اتنے سارے محاذوں پر لڑنا آسان نہیں تھا مگر ’مفکر خاکروب‘ نے یہ چومکھی لڑائی بڑی مہارت سے لڑی۔

اس دوران میں نئے انتخابات کا وقت آگیا اور فیصلہ ہوا کہ نئے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان کو میدان میں اتارا جائے۔ بہت سے گندے سیاستدانوں کو دھو دھو کر اس کی پارٹی میں شامل کروایا گیا۔ خاکروب چہارم کے دور میں دھلنے والے اکثر سیاستدان جیسے شیخ رشید احمد، خورشید محمود قصوری کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ تاہم کئی سیاستدانوں کو دھونے کے بعد ا س نئی پارٹی میں شامل کر لیا گیا جن میں شاہ محمود قریشی کا نام سر فہرست ہے۔

خاکروبوں کے ٹولے نے اپنے سبق اچھی طرح سیکھ رکھے تھے ۔  اب ڈر یہ تھا کہ اگر اس پاک صاف سیاستدان کو ’صاف شفاف‘انتخابات میں اکثریت دلوا دی تو یہ بھی اپنی اوقات نہ بھول جائے (موصوف یوں بھی اپنی اوقات میں کم ہی رہتے ہیں)۔ لہٰذا اسے اکثریت نہیں دلوائی گئی بلکہ انتخابات میں نوازشریف المعروف پٹواریوں والی سرکار کو پوری طرح دھاندلی کرنے دی گئی تاکہ بعد میں اسی بنیاد پر اس کے گلے میں پھندہ ڈالے رکھیں۔ یہ ترکیب بہت کارگر ثابت ہوئی۔ اب نواز شریف کے گلے میں یہ پھندہ  موجود ہے۔

خدا کی خاص مہربانی ہے کہ اس وقت خدا نے پاکستان کو ایک متحرک خاکروب عطا کر رکھا ہے جو بڑے دھڑلے سے جھاڑو چلا رہا۔ دیکھتے ہیں کہ اس بار میدانِ سیاست کی صفائی کس حد تک ہو پاتی ہے۔

سوال جواب… خدا کو مانتے ہو کہ نہیں؟ عزیر احمد


Kaaba_at_night symbol-of-god-s-love-321905 God-Ram-and-Hanuman-high-definition-hd-wallpapers

کچھ دوست بار بار لالاجی سے سوال کرتے ہیں کہ لالاجی خدا کو مانتے ہیں کہ نہیں۔ یہ سوال اتنا سادہ نہیں۔ ہر کسی کے ذہن میں خدا کا اپنا تصور ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں بتاتا کہ وہ خدا کسے کہتا ہے سو لالاجی کے لئے جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ بھئی  آپ کونسے خدا کو ماننے کی بات کررہے ہیں، اللہ، بھگوان، گاڈ… پیسہ، حکومت، طاقت اختیار… مفاد… خدا تھوڑے تو نہیں ہیں دنیا میں۔۔۔۔

ویسے یہ ایک فضول بحث ہے۔ جس کا ہماری روز مرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سو لالاجی ایسی فضول بحث میں نہیں پڑتے۔ تاہم بار بار کے سوالوں کی وجہ سے ایک بار جواب دے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بھئی بات یہ ہے کہ گر خدا کا کوئی وجود نہیں ہے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی اسے مانتا ہے کہ نہیں… اگر خدا ہے تو بھائی وہ خدا ہے … اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ کوئی اسے مانتا ہے کہ نہیں۔ اگر اسے اس بات سے فرق پڑتا ہے تو پھر وہ خدا تو نہ ہوا (بے نیاز نہیں رہا نا).

ہاں خدا کو ماننے نہ ماننے سے خدا کے خودساختہ ٹھیکیداروں کو ضرور فرق پڑتا ہے کیوں کہ ان کی دکانداری خراب ہوتی ہے۔ اس لئے خود خدا سے زیادہ ان ٹھیکیداروں کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ خدا کو (اور ان ہی کے بیان کردہ خدا کو) مانیں۔ اپنی دکانیں بچانے کے لئے وہ نسلِ انسانی کا خون کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

ویسے خدا (آپ جس بھی خدا کو مانتے ہیں) کے جتنے ٹھیکیدار ہیں وہ خود بھی خدا کی نہیں مانتے۔ وہ سب بھی ان دیگر خداؤں کی مانتے ہیں جن کا ذکر لالاجی نے اوپر کیا ہے ..پیسہ/ڈالر، حکومت، طاقت، اختیار اور سب سے بڑھ کر  مفاد۔۔۔ ورنہ ہر ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اُس کا خدا دنیا میں امن، بھائی چارہ اور خوشیاں چاہتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے… خدا ہے کا نہیں اس سے تو عام آدمی کی زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن بجلی ہے کہ نہیں، گیس ہے کہ نہیں، سڑک ٹوٹی ہوئی ہے کہ اچھی حالت میں ہے، ہسپتال میں دوائی ہے کہ نہیں، گھر میں پکانے کے لئے آٹا ہے کہ نہیں… یہ وہ باتیں ہیں جن سے عام آدمی کو فرق پڑتا ہے اور لالاجی انہی باتوں پر تبصرہ کرنا اہم سمجھتا ہے۔

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری…!


(لکھنے والے کا لالاجی کو پتہ نہیں، لہٰذا نام درج نہیں کر رہا۔ اس کا کریڈٹ لالاجی کو نہیں جاتا۔ ہاں شئیر کرنے کے لئے گالیاں ضرور لالاجی کو دیں۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا، نہ اس دنیا میں اور نہ اُس دنیا میں۔ لالاجی)
————————
…….معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر “وظیفہ زوجیت ” ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔۔ نہ نماز نہ روزہ۔

” غسل جنابت” سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔

فجر ادا کرکے تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا سا ناشتہ جو دو پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے پر مشتمل تھا، کیا۔

دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا ، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہوگیا۔

صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہوگئی تھی۔

رستے میں دو جگہ اشارہ بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔ اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑجاتا۔۔ الحمدللہ۔۔۔

دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگاچکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کےساتھ ڈیلنگ کرنی۔۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے۔۔ یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔

دکان میں داخل ہوتے وقت معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائیں تھیں ، وہ پڑھیں، اور ردّ بلا کے لیےدم کیا۔

فیقا معمول کے مطابق میرےگدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اسکی چائے اچھی نہیں ہوتی۔اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔

حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہوجائے۔

حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہوجاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔

گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔

اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔

اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ ا س سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔
ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔۔

آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔۔ طویل عرصے سے اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ ..اللہ۔۔ …کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔

استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔

ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاو اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔۔۔

کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔
کھانے کے بعد قیلولہ کیا –

عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے ورد اور وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔

واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک بھگتائے ہیں ۔ پوری توجہ سے بل چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟

مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔

مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔

رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے،” قوت باہ” کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔ نظربددُور۔

عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔ انکی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ۔۔” پُتّر ، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔۔۔”

٘میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ “عمرے” سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے “حق زوجیت” کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔….. اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ “کارثواب” پر چوں چرا کرنا”گناہ عظیم ” ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی “خواہشات” پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔

2014 in review


The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2014 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

The concert hall at the Sydney Opera House holds 2,700 people. This blog was viewed about 57,000 times in 2014. If it were a concert at Sydney Opera House, it would take about 21 sold-out performances for that many people to see it.

Click here to see the complete report.

جون ایلیا کا جنرل ایوب خان کے نام ایک خط


(جون ایلیا نے کچھ عرصہ ذہینہ سائیکی کے نام سے کچھ کالم لکھے تھے۔ زیر نظر کالم اپنی بے باکی کے باعث ان کی نثری تحاریر کے مجموعے “فرنود” میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ آئینہ کے قارئین کے لئے یہ نایاب مضمون پیش ہے۔ یہ مضمون فیس بک پر آصف جاوید صاحب نے شائع کیا تھا اور ان کی اجازت سے آئینہ پر شائع کیا گیا…لالاجی)

پاکستان کے صدر محترم! آپ لازماً اس ملک کے مصروف ترین لوگوں میں شامل ہیں اس لیے میں آپ کے قیمتی اوقات میں سے زیادہ وقت لینا نہیں چاہتی لیکن مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ چند نہایت ضروری باتوں کو آپ تک پہچانے کی جرات کر ر4768716075_5494f88139ہی ہوں

جناب والا! آپ کو مجھ سے زیادہ اس بات کا علم ہو گا کہ پاکستان کو ترقی پسندانہ انداز پر چلانے کی راہ میں شروع سے رجعت پسندوں کا ایک طاقت ور طبقہ ہمیشہ آڑے آتا رہا ہے زمین داری کے ختم کرنے کا معاملہ ہو یا ضبط تولید کا مسئلہ، ہماری سوسائٹی کے قدامت پسند اور رجعت پرست طبقے اس کی مخالفت میں شور مچانا اپنا فرض خیال کرتے رہے یہ عقل کے دشمن انسانی راحتوں اور مسرتوں سے نفرت کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ہر اس معقلول تحریک کی مخالفت میں صفحیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں جو اس ملک کو مہذب دنیا کے دوش بدوش لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے

صدر مملکت! میں نے یہ مختصر تمہید اس لیے عرض کی تاکہ اس فتنہ انگیزی کا پس منظر آپ کے سامنے آ سکے جو عورتوں کو ابتدائی حقوق دینے کے خلاف رجعت پسندوں نے شروع کی ہے جو ہر معقول تجویز کی مخالفت کرنے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں جہاں تک چار شادیوں کے اس وحشیانہ حق کا تعلق ہے جو اب تک مرد حضرات اپنے لیے مخصوص کیے رہے اور جس کے حق میں تقدس مآبوں نے لمبی چوڑی دلیلیں گھڑ لیں دنیا کا کوئی مذہب اور شریف شخص اس کی حمایت کرنے کی جرات نہیں کر سکتا

پاکستان کے فاضل صدر محترم! میں آپ سے ایک معقول اور شریف مرد کی حیثیت سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ انسانی مساوات اور سماجی عدل کا نعرہ لگانے کے ساتھ ہی کس قانون کس ضابطے اور کس اصول کی رو سے چار شادیوں کا وہ حق جو مرد اپنے لیے مخصوص کر چکے ہیں جو عورتوں کو دینے سے انکار کیا جاتا ہے کیا عورت اور مرد کے معاملے میں مساوات کا مفہوم کچھ بدل جاتا ہے ؟ کیا سماجی انصاف کے وہ سارے اصول جن کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے صرف مرد سے مخصوص ہیں؟

جناب والا! آپ کی حکومت نے منشور اقوام متحدہ پر دستخط کرتے ہوئے یہ عہد کیا ہے کہ صنف اور نسل کا امتیاز کیے بغیر ہر شخص کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا کیا اس عہد نامے کے بعد چار شادیوں کا باقی رکھنا کھلا ہوا ظلم اور ہٹ دھرمی نہیں ہے اور اگر مرد تعدد زدواج کو اپنا حق سمجھنے پر اڑے ہوئے ہیں تو میں عورتوں کی طرف سے مطالبہ کرتی ہوں کہ انہیں بھی چار شادیوں کا حق دیا جائے

عائلی کیمشن کی سفارشوں کو منظور کر کے آپ کی حکومت نے ایک بڑا اچھا قدم اٹھایا ہے اس کی مخالفت لازماً وہی لوگ کریں گے جو اس سے پہلے پاکستان کے قیام، قائد اعظم کی قیادت، زمین داری کی تنسیخ اور ہر معقول اور شریفانہ تحریک کی مخالفت کر چکے ہیں اور اگر ان کا بس چلے تو یہ آج ہی ان عورتوں کو گولی کا نشانہ بنا دیں بلکہ اپنی ہی زبان میں “سنگ سار” کرا دیں گے جو پردے کے رواج کو توڑنے کی جرات کرتی ہیں

جناب صدر! اسی کے ساتھ مجھے اور پاکستان کے روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں کو آپ سے یہ بھی شکایت ہے کہ آپ نے پردے کو قانوناً جرم قرار دینے کے سلسلے میں اب تک کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جبکہ ترکی اور ایران کی حکومتوں نے عورتوں کو اس ظلم اور زیادتی سے نجات دینے کے لیے باقاعدہ قانون بنا دیا ہے جب تک اس ملک میں پردے کا رواج باقی ہے قوم کی آدھی آبادی عملاً قوم میں شامل قرار نہیں دی جا سکتی اس لیے اگر آپ پاکستان کی عورتوں کو اس ملک میں برابر کا شہری بنانا چاہتے ہیں تو پردے کو قانوناً جرم قرار دینے کا اعلان کر دیجییے

خاندانی اصلاحات کے ذریعے آپ نے عورتوں کے حقوق کا جو تحفظ کیا ہے اس نے دنیا بھر میں ملک کا وقار بڑھا دیا ہے اور دنیا کے ذمہ دار پریس نے آپ کے اس اقدام کو سراہا ہے میرے خیال میں تعدد زدواج کو بلا کسی شرط کے اخلاقی، سماجی، انسانی اور قانونی جرم قرار دینا چاہیئے طلاق کے معاملے میں عورتوں کو مردوں کے برابر یکساں حقوق دینا چاہیں اس سلسلے میں پاکستان کے مولانا صاحبان نے جو شور و غوغا مچایا ہے اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ رجعت پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیے بغیر پاکستان کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا

پاکستان کے صدر محترم! پچھلے چودہ سال میں ہماری قوم نے صرف ایک ہی تجربہ کیا ہے کہ ہر وہ تحریک جو انسانوں کی دشمنی اور سماجی نفرت کے لیے چلی مولوی صاحبان کی تمام ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں پاکستان کے بننے سے لیکر اب تک ہر وہ قدم جو عوام کی مسرت اور خوشحالی کے لیے اٹھایا گیا اسے حرام کہہ کر روکنے کی کوشش کی گئی چناچہ فنون لطیفہ کی ہر قسم مولوی صاحبان نے ناجائز قرار دے رکھی ہے اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو شاعری کو بھی اغوائے شیطانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ایسے بزرگوں کی بھی کمی نہیں جن کے خیال میں “تخلیق” اور خالق کا لفظ فن اور فنکار کے لیے استعمال کرنا کفر اور شرک کا درجہ رکھتا ہے حالاں کہ آج کی کوئی شریف اور مہذب قوم آرٹ کا سرمایا رکھے بغیر وحشی انسانوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی

اگر ان مولوی حضرات کے مشوروں کو مان لیا جائے تو ضبط تولید کی ساری تحریک، ملک کے اول درجے کے تمام ہوٹل، تفریح گاہیں، سینما حال، کلب، بنک، فوٹو اسٹوڈیو، آرٹس کونسلیں، آرٹس کالج اور یونیورسٹیاں جن میں تمام غیر شرعی نظریات، تحقیقات اور ایجادات کی تعلیم دی جاتی ہے ایک دم بند کر دینا پڑیں گے اور پھر جو اس ملک کا حشر ہو گا وہ مولوی صاحبان کے علاوہ تمام لوگوں پر ہویدا ہے جنہیں اللہ نے تھوڑی سی عقل دی ہے

جناب عالی! خاندانی کمیشن کی سفارشوں پر انسانیت کی ترقی سے بیر رکھنے والوں نے جو تحریک چلا رکھی ہے آپ اس سے ذرا متاثر نہ ہوں اس لیے اگر ایسی تحریکوں کا اثر قبول کیا گیا تو پھر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اوندھی عقل رکھنے والے اس ملک کا کیا حال بنا دیں گے عورتوں سے ان لوگوں کی دشمنی تو خیر پرانی ہے ان میں سے تقریباً ہر ایک اپنے حریف مولوی اور اپنے معتقدوں سے جو نفرت رکھتا ہے اگر اس کا اظہار کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس ملک کی ہر مسجد میدان جنگ بن جائے

محترم صدر! میں آخر میں اس ملک کی آزاد خیال، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند خواتین کی طرف سے آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ آپ رجعت پسند ملاؤں سے سمجھوتا کرنے کی کوئی کوشش نہ کیجیے آپ پاکستان کی بہبودی کے لیے جو کام کر رہے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کو ان حضرات کی دشمنی مول لینا پڑے گی سابقہ حکومتوں کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ حضرات علما کو سر پر بیٹھا کر عوام کے مفادات اور مطالبات کو نظر انداز کر دیتی تھیں میں آپ سے عرض کرتی ہوں کہ آپ اس غلطی کا اعادہ نہ ہونے دیں ورنہ نہ تو آپ کا پنج سالہ منصوبہ کامیاب ہو گا اور نہ دوسری اصلاحی کوششیں

امید ہے کہ آپ میری اس جرات اور جسارت کو معاف فرمائیں گے اور میں نے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے جو باتیں آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں ان پر ضرور توجہ کریں گے

کراچی 15 اپریل 1961

میں ہوں ایک ناچیز پاکستانی ذہینہ سائیکی

سفید ہاتھی کی موجیں …. از نعیم حجازی


بادشاہتوں  کے  زمانے  میں  ہاتھیوں  کی  بڑی  قدر  کی  جاتی  تھی۔  ہاتھی  رکھنا  شان وشوکت  کی  علامت  سمجھی  جاتی  تھی۔  انہی  دنوں  سفید  ہاتھی  کی  اصطلاح  نے  جنم  لیا۔  سفید  ہاتھی  سے  مراد  کوئی  ایسی  چیز  لی  جاتی  ہے  جس  کی  دیکھ بھال  پر  اچھا  خاصا  خرچ  آتا  ہو  لیکن  عملی  طور  پر  ا س  چیز  کی  کوئی  افادیت  نہ  ہو۔  مملکت  پاکستانیہ  اوّل  روز  سے  ہی  ایسا  ایک  سفید  ہاتھی  پال  رہی  ہے۔  ابتدائی  دور  ہی  سے  ملکی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کچھ  ایسا  گڈ مڈ  ہوا  کہ  یہ  تفریق  ہی  مٹ  گئی۔  دور  حاضر  میں  قومی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کا  ایک  ہی  مفہوم  سمجھا  جاتا  ہے۔  ملک  ابھی  قائم  بھی  نہیں  ہوا  تھا  کہ  فوجی  دستوں  نے  کشمیر  کا  محاذ  کھول  دیا  اور  اسلحے  کے  علاوہ  بہت  سا  قومی  سرمایہ  بھی  اس  دلدل  میں  ضائع  ہوا۔ملک  کے  پہلے  بجٹ  میں  فوجی  اخراجات  کو  تمام تر   اخراجات  میں سے   ستر  فیصد  حصہ  ملا۔مارچ  1951 ء  میں  وزیر خزانہ  غلام  محمد  نے  بجٹ  پیش  کرتے  ہوئے  کہا  تھا  کہ  دفاعی  اخراجات  ہمارے  ملک  کے  رقبے  اور  استعداد  کے  لحاظ  سے  بہت  زیادہ  ہیں۔ بعد ازاں  بھارت  سے  لڑنے  کیلئے  فوج  نے  امریکہ  کے  آگے  کشکول  لہرایا  اور  65ء  کی  جنگ  تک  خوب  ڈالر  کمائے۔  اس  کے  بعد  کبھی  چین،  تو  کبھی  روس  اور  آخر کار  عرب  ممالک  نے  ہماری  بہادر  افواج  کی  سرپرستی  کا  ٹھیکا  اٹھایا۔

ستم  یہ  ہے  کہ  فوج  ملکی  خزانے  کا  ایک  بڑا  حصہ  ہڑپ  بھی  کر  لیتی  ہے  اور  اس  لوٹ مار  کے  خلاف  تنقید  بھی  برداشت  نہیں  کرتی۔ اردو  اخبارات  سے  تو  خیر  کیا  شکوہ  کرنا،  انگریزی  اخبارات  بھی  ان  معاملات  میں  پھونک  پھونک  کر  قدم  رکھتے  ہیں،  کہ  آخر  اپنی  جان  تو  سب  کو  پیاری  ہوتی  ہے۔ ڈاکٹر  عائشہ  صدیقہ  نے  2007ء  میں  فوجی  اداروں  کو  ایک  کاروبار  کا  نام  دیا  تھا  کہ  جس  طرح  فوج  اپنے  معاشی  مفادات  کا  خیال  رکھتی  ہے،  اس  طرح  کے  اقدام  سرکاری  ادارے  نہیں  بلکہ  کاروبار  والے  اٹھاتے  ہیں۔  ڈاکٹر  عائشہ  کی  کتاب  تو  اب  پاکستان  میں  دستیاب  نہیں  لیکن  اس  کے  خلاف  باز گشت  ابھی  تک  فوجی  رسائل  میں  موجود  ہے۔ اس  کتاب  کی  تصنیف  کے  بعد  فوج  نے  اپنے  اعمال  سے  توبہ  کرنے  کی

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

  بجائے  کام  جاری  رکھا۔  پاکستان  کی  بری،  بحری  اور  فضائی  افواج  کے  کاروبار  پر  ایک   طائرانہ  نگاہ  ڈالتے  ہیں۔

سنہ  2001ء  میں  مشرف  صاحب  نے  فوجیوں  کی  پنشن  کو  فوجی  بجٹ  کی  بجائے  سویلین  بجٹ  میں  شمار  کرنے  کی  ہدایت  کی۔  سال  2010ء   میں  تیس  لاکھ  سابقہ  فوجی  ملازموں  کی  پنشن  کی  مد  میں  چھہتر(76)  ارب  روپے  مختص  کئے  گئے۔اسکے  علاوہ  فوج  ترقیاتی  کاموں  کیلئے  مختص  شدہ  فنڈ  سے  بھی  پیسے  حاصل  کرتی  ہے۔ہمارے  سالانہ  بجٹ  کا  بیشتر  حصہ  بیرونی  قرض  ادا  کرنے  پر  صرف  ہوتا  ہے  اور  یہ  قرض  بھی  دراصل  فوجی  ضروریات  کو  پورا  کرنے  کیلئے  ہی  تو  لیا  جاتا  رہا  ہے۔

رواں  سال  فروری  کے  مہینے  میں  لاہور  ہائی  کورٹ  نے  فوج  سے  پوچھا  کہ  فورٹریس  سٹیڈیم  کے  علاقے  میں  تعمیر  کیا  جانے  والا  شاپنگ  سینٹر  قانون  کی  خلاف ورزی  کرتا  ہے  یا  نہیں، کیونکہ  یہ  زمین  وفاقی  حکومت  کی  طرف  سے  فوج  کو  دفاعی  ضروریات  یا  عمارات  بنانے  کیلئے  دی  گئی  تھی  لیکن   فوج  نے  اس  زمین  کو  نجی  کمپنی  کے  ہاتھ  فروخت  کر  دیا۔ فوج  کی  جانب  سے  جواب  داخل  کروایا  گیا  کہ  وہ  زمین  ابھی  تک  ’دفاعی  اور  عسکری   ضروریات‘  کے  ضمن  میں  استعمال  کی  جا  رہی  ہے۔  شاپنگ  سینٹر  کے  ذریعے  کون  کون  سے  دفاعی  مقاصد  پورے  کیے  جا  سکتے  ہیں،  اس  امر  پر  نیشنل  ڈیفنس  یونیورسٹی  میں  تحقیق  جاری  ہے۔

پاک  بحریہ  نے  1995ء  میں  کیپٹل  ڈویلپمنٹ  اتھارٹی(CDA)  سے  اپنے  افسران  کی  رہائش گاہیں  قائم  کرنے  کیلئے  اونے  پونے  داموں  زمین  حاصل  کی۔ اب  اس  زمین  پر  قوانین  کی  خلاف ورزی  کرتے  ہوئے  نیول  ہاؤسنگ  سوسائٹی  تعمیر  کی  جا  چکی  ہے  جہاں  پلاٹ  عام  شہریوں  کو  مہنگے  داموں  بیچے  جا  چکے  ہیں۔پاکستانی  سمندروں  کی  محافظ  بحریہ  کے  اس  اقدام  کے  باعث  سرکاری  خزانے  کو  کئی  کروڑ  روپے  کا  نقصان  پہنچا  ہے۔ اسلام آباد  میں  موجود  نیول  ہیڈ کوارٹر  براہ راست  شاپنگ  پلازے  چلا  رہا  ہے  لیکن  کم ازکم  ہمارے  سمندر  تو  دشمن  کی  یلغار  سے  محفوظ  ہیں۔

اکتوبر  2014 ء  میں  آڈیٹر  جنرل  پاکستان  نے  انکشاف  کیا  کہ  پچھلے  مالی  سال  میں  پاکستان  کے  خزانے  کو  فوجی  اداروں  کی  کرتوت  کے  باعث  ایک سو تہتر (173)  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔  موازنے  کی  رو  سے  اتنی  رقم  میں  پاکستان  کے  ہر  بڑے  شہر  میں  میٹرو  بس  بنائی  جا  سکتی  ہے۔ پچھلے  بیس  سال  میں  قومی  اسمبلی  کی  پبلک  اکاؤنٹس  کمیٹی  نے  فوجی  اداروں  کی  مالی  بے ضابطگیوں  پر  تین  ہزار  سے  زائد  نوٹس  جاری  کیے  جن  میں  سے  صرف  ڈیڑھ  سو  کا  جواب  میسر  آیا۔

آڈیٹر  جنرل  نے  پاک  فضائیہ  کی  کراچی  میں  واقع  فیصل  بیس  کے  سربراہ  سے  درخواست  کی  کہ  سرکاری  جہاز وں  C-130  پر  فوجی  اداروں  کے  کارکنان  اور  انکے  خاندانوں  کو  سوار  کر  کے  ہر  ہفتے  اسلام آباد  لے  جانے  کا  سلسلہ  بند  کیا  جائے  کیونکہ  اس  وجہ  سے  رواں  سال   قومی  خزانے  کو  چوالیس(44)  کروڑ  روپے  کا  نقصان  اٹھانا  پڑا  ہے۔  اسی  ضمن  میں  یہ  امر  قابل ذکر  ہے  کہ  فوجی  تعمیراتی  ادارے    FWO   کو  نجی  تعمیراتی  اداروں  کے  برعکس  ٹیکس  چھوٹ  حاصل  ہے۔

کراچی  کے  علاقے  قیوم آباد  میں  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  کے  ملازم  مقامی  لوگوں  کو  وہاں  موجود  قدیم  قبرستان  میں  مردے  دفن  کرنے  سے  روک  رہے  ہیں  کیونکہ  اس  جگہ  کو  ہتھیانے  کا  منصوبہ  بنایا  جا  چکا  ہے۔  کراچی  ہی  کے  علاقے  غازی  کریک  میں  ڈیفنس  فیز  سیون(7)  اور  ایٹ(8)  سے  ملحقہ  علاقہ  پر  قبضہ  جاری  ہے  اور  اگر  یہ  منصوبہ  جاری  رہے  تو  اس  کریک  کے  اردگرد  490  ایکڑ  رقبے  پر  پھیلے  چمرنگ(Mangroves)  کا  صفایا  ہو  جائے  گا۔  لاہور  میں  واقع  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  اب  گوجرانوالہ،  ملتان  اور  بہاولپور  میں  اپنی  شاخیں  قائم  کر  رہی  ہے۔  

 فوج  کے  پچھلے  کمانڈر  کے  برادر  محترم  پراپرٹی  کے  کاروبار  میں  ملوث  تھے  اور  آئی  ایس  آئی  کے  نئے  سربراہ  کے  بھائی  کو  پی آئی اے  میں  کروڑوں  روپے  ماہانہ  کی  تنخواہ  پر  تقرر  کیا  گیا  ہے۔  برطانوی  راج  کے  دور  میں  سرکار  فوجیوں  میں  زمین  بانٹتی  تھی  تاکہ  انکی  اور  انکے  خاندانوں  کی  وفاداری  حاصل  کی  جائے۔ سامراجی  دور  میں  قانون  بنا  کہ  حکومت  ملک  کے  کسی  بھی  علاقے  کو  ’قومی  مفاد‘  کے  نام  پر  شہریوں  سے  خالی  کرا  سکتی  ہے۔  یہ  قانون  ابھی  تک  ہمارے  ملک  میں  رائج   ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

ایوب  خان  کے  دور  میں  فوجی  افسران  کو  زمین  بانٹنے  کا  سلسلہ  شروع  ہوا۔پہلے  پہل  اس  ضمن  میں  سرحدی  علاقوں  کے  قریب  زمین  حاضر  سروس  یا  ریٹائر  فوجی  اہلکاروں  کے  نام  لگائی  جاتی  تھی  تاکہ  بھارت  کی  جانب  سے  جارحیت  کی  شکل  میں  ابتدائی  مدافعت  کی  جا  سکے۔اس  دور  میں  ایک  مارشل  لاء  حکم  کے  تحت  سرکاری  ملازمین  پر  ایک  سو  ایکڑ  سے  زیادہ  زمین  رکھنے  پر  پابندی  عائد  کر  دی  گئی  البتہ  فوج  کے  ملازمین  پر  یہ  حکم  لاگو  نہیں  تھا۔لیہّ  کے  علاقے  چوبارہ  میں  بیس  ہزار  ایکڑ  زمین،  ایک  سو  چھیالیس (146)  روپے  فی  ایکڑ  کے  حساب  سے   فوجی  ملازمین  کو  سنہ 1982ء  میں  عطا  کی  گئی۔  اسی  تحصیل  کے  علاقے  رکھ  جدید  میں  چالیس  ہزار  ایکڑ  زمین  ملتے  جلتے   داموں  2007 ء  میں   فوجی  ملازمین  کے  نام  کی  گئی۔ پنجاب  ریونیو  بورڈ  کی  دستاویزات  کے  مطابق  1990ء  سے  2010ء  کے  دوران  صوبے  کے  تین  اضلاع (اوکاڑہ،  بہاولپور  اور  خانیوال)  میں  ایک  لاکھ  ایکڑ  زمین  فوج  کے  حوالے  کی  گئی۔ راجن پور  میں  فرید  ایئر  بیس  سے  ملحقہ  335  ایکڑ  زمین  پاک  فضائیہ  نے  ہتھیا  رکھی  ہے  اور  اس  زمین  پر  استعمال  کیا  جانے  والا  پانی  فتح پور  نہر  سے  چرایا  جاتا  ہے۔

پنجاب  حکومت  نے  سنہ 1913ء  میں  نو  مختلف  اضلاع(ملتان، خانیوال، جھنگ، سرگودھا، پا ک پتن، ساہیوال، وہاڑی، فیصل آباد  اور  لاہور)  میں  اڑسٹھ(68)  ہزار  ایکڑ  رقبہ  مختلف  سرکاری  محکموں  کو  کرائے  پر  دیا  جس  میں  سے  چالیس  فیصد  رقبہ  فوج  کے  پاس  تھا۔سنہ 1943ء  کے  بعد  سے  پنجاب  حکومت  کو  اس  زمین  کی  مد  میں  ایک  پیسہ  بھی  کرایہ  نہیں  ملا۔ 

 پاکستان  ریلوے  سے  فوج  کی  یاد اللہ پرانی  ہے۔ سنہ 1978ء  میں  کراچی  بندرگاہ  پر  فوج  کو  مقامی  انتظامیہ  کی  مدد کیلئے  تعینات  کیا  گیا  لیکن  کچھ  ماہ  بعد  یہ  بندوبست  ختم  ہو  گیا۔  اس  دوران  فوج  نے  نیشنل  لاجسٹک  سیل (NLC)  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  کے  بعد  سے  ملک  میں  سامان  کی  ترسیل  کا  کام  ریلوے  کی  بجائے  فوج  کے  ادارے  نے  شروع  کر  دیا  اور  بہت  جلد  ریلوے  کا  دیوالیہ  نکل  گیا۔ صرف  مالیاتی  سطح  پر  ہی  نہیں،  فوجی  اداروں  نے  ریلوے  کی  کئی  ہزار  ایکڑ  زمین  بھی  ہتھیا  لی،  جس  میں  سے  ایک  ہزار  ایکڑ  پاک  فوج  جبکہ  پانچ  سو  ایکڑ  زمین  رینجرز  سے  سپریم  کورٹ  کے  حکم  کے  بعد  واپس  لی  گئی۔  البتہ  اب  بھی  کم از کم  دو  ہزار  ایکڑ  زمین  ان  اداروں  کے  قبضے  میں  ہے۔  کچھ  عرصہ  قبل  NLC  نے  ریلوے  کی  نجکاری  کیلئے  مہم  شروع  کی  اور  اس  سلسلے  میں  کوریا  سے  کچھ  سامان  بھی  منگوا  لیا  لیکن  ریلوے  ملازمین  کی  مزاحمت  کے  باعث  ابھی  تک  یہ  سلسلہ  شروع  نہیں  ہو  سکا۔  سنہ  2012 ء  میں  قومی  اسمبلی  کی  خصوص  کمیٹی  نے  لاہور  میں  ریلوے  کی  ایک سو چالیس  ایکڑ  زمین  پر  غیر قانونی  طور  پر   قائم شدہ  گالف  کلب  کے  مسئلے  میں  تین  جرنیلوں  کو  مورد  الزام  ٹھہرایا۔  کمیٹی  کی  تحقیقات  کے  مطابق  اس  عمل  سے  ملکی  خزانے  کو  پچیس  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔     

فوج  کے  ماتحت  ایک  ادارہ  رینجرز  نام  کا  بھی  ہے  جس  کی  بے ظابطگیاں  اور  کرپشن  کی  داستانیں  عوام  تک  بہت  کم  پہنچتی  ہیں۔ رینجرز  کی  بنیادی  ذمہ داری  پاکستان  اور  بھارت  کے  مابین  عالمی  سرحد  کی  نگرانی  کرنا  ہے۔ تحصیل  سیالکوٹ  میں  کسی  کسان  یا  زمیندار  کو  نالوں  کے  کناروں  سے  مٹی  چاہئے  تو  ہر  ٹرالی  پر  سو  روپیہ  ’کرایہ‘  رینجر ز  کو  دینا  ہوتا  ہے۔ شیخوپورہ  میں  رینجرز  اہلکار  مٹی  کی  ایک  ٹرالی  چار  سو  روپے  کے  عوض  بیچتے  ہیں۔بہاول نگر، شیخوپورہ  اور  سیالکوٹ  میں  شکار  کیلئے  رینجرز  کی  گاڑیاں  استعمال  ہوتی  ہیں  اور  شکار  پارٹیوں  کا  بندوبست  بھی  رینجرز  اہلکار  کرتے  ہیں۔ شکر گڑھ  میں  رینجرز  اہلکار  ایک  شادی  ہال  چلا  رہے  ہیں۔ رحیم یار  خان  میں  ان  شہزادوں  نے  شاپنگ  مال (جسکا  نام  روہی  مارٹ  ہے)  کھول  رکھا  ہے۔ 

بہاول نگر  اور  بہت  سے  سرحدی  علاقوں  میں  رینجرز  کئی  سال  تک  پیپسی  جیسا  ایک  مشروب  بیچتے  رہے  اور  کچھ  عرصہ  قبل  اس  کے  خلاف  کارروائی  ہوئی۔ بدین  اور  ٹھٹھہ  کے  مچھیروں  پر  رینجرز  نے  اپنی   مرضی  کے  ٹھیکے دار  مسلط  کرنے  کی  کوشش  کی  جسکے  خلاف  مقامی  آبادی  میں  احتجاجی  تحریک  کا  آغاز  ہوا۔      

ظلم  کی  انتہا  ہے  کہ  فوجی  بھائی  اور  انکے  خاندان  تو  چھٹیاں  بھی  سرکاری  خرچ  پر  فوج  کے  میس  اور  گیسٹ ہاؤسوں  میں  گزارتے  ہیں  اور  ریٹائر شدہ  فوجیوں  کی  تنخواہ  سویلین  بجٹ  سے  کٹتی  ہے۔  تیرے  دیوانے  جائیں  تو  کدھر  جائیں؟  فوجی  اہلکاروں  سے  پوچھا  جائے  تو  فوری  طور  پر  قومی  مفاد  کی  لال  جھنڈی  لہرانا  شروع  ہو  جاتے  ہیں،  کیونکہ  آخرکار  قوم  کا  مفاد  فوج  کے  مفاد  میں  ہی  تو  پنہاں  ہے۔  پاکستان  کی  ساٹھ  فیصد  آبادی  شدید  غربت  میں  زندگی  گزار  رہی  ہے،  اسّی  فیصد  آبادی  کو  صاف  پانی  میسر  نہیں،  کروڑوں  بچے  تعلیم  کی  نعمت  سے  محروم  ہیں،  پبلک  ٹرانسپورٹ  نامی  کوئی  چیز  ہمارے  ہاں  موجود  نہیں  لیکن  فوج  کے  پاس  اعلیٰ  ترین  ہتھیار  تو  ہیں،  ایٹم  بم  تو  ہے،  میزائل  تو  موجود  ہیں،  تنخواہ  تو  مل   رہی  ہے۔ استاد  دامن  نے  یونہی  تو  نہیں  کہا  کہ  پاکستان  وچ  موجاں  ای  موجاں،  جدھر  ویکھو  فوجاں  ای  فوجاں۔

کچھ  دوستوں  کو  اعتراض  ہے  کہ  سیاست دان  فوج  سے  زیادہ  کرپٹ  ہیں  اور  یہ  کہ  دیگر  ممالک  جیسے  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  بھی  فوج  کے  اخراجات  بہت  زیادہ  ہوتے  ہیں۔  لیکن  عرض  ہے  کہ  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  افواج  سیاست دانوں  کی  کنپٹیوں  پر  ہمہ وقت  بندوق  تانے  موجود  نہیں  ہوتیں اور  نہ  ہی  وہاں  جرنیل  ریٹائر  ہونے  کے  بعد  ملکی  مفاد  کے  مامے  بن  کر  سرعت  سے  ٹی وی  سکرینوں  پر  نمودار  ہوتے  ہیں۔ چین  یا  امریکہ  کے  جرنیلوں  نے  پچھلے  ستر  سالوں  میں  اپنی  حکومتوں  کے  خلاف  گیارہ  تختہ  الٹنے  کی  سازشوں  میں  حصہ  نہیں  لیا  اور  اگر  وہاں  فوج  کے  اخراجات  پر  خرچ  ہوتا  ہے  تو  ان  ممالک  کی  معیشت  اس  قابل  ہے۔  ہماری  معیشت  کے  بارے  میں  مثل  مشہور  ہے  کہ  ننگی  کیا  نہائے  گی  اور  کیا  نچوڑے  گی۔

 رہی  بات  کرپشن  کی  تو  سیاست دانوں  کو  تو  سنہ 58ء  سے  کرپشن  کے  الزامات  میں  ملوث  کر  کے  سیاست  سے  دور  کرنے  کی  کوششیں  کی  جاتی  رہی  ہیں،  آج  تک  کوئی  حاضر  سرو س  تو  کیا،  ریٹائر  جرنیل  بھی  کرپشن  کے  الزام  میں  جیل  گیا  ہے؟  مہران  بنک  سکینڈل  میں  عدالت  اپنا  فیصلہ  سنا  چکی  ہے،  کیا  ان  ریٹائر  جرنیلوں  کو  جیل  بھیجا  جا  سکتا  ہے؟  ایف  سی  کے  سربراہ  کو  عدالت  نے  طلب  کیا  تھا  تو  عارضہ ء  دل  کا  بہانہ  بنا  کر  رخصت  لے  لی  گئی  تھی،  ان  کے  خلاف  انصاف  اسلام آباد  کے  محلہ  کنٹینر پورہ  میں  کیوں  نہیں  مانگا  جاتا؟  تبدیلی  کے  متوالے  سیاسی  کرپشن  کے  ہی  درپے  کیوں  ہیں؟  فوج  کی  بے پناہ  کرپشن  کے  بارے  میں  تحریک  انصاف  کے  کسی  محلے  لیول  کے  کارکن  کی  جانب  سے  بھی  کبھی  بیان  جاری  نہیں  ہوا۔