سوال جواب… خدا کو مانتے ہو کہ نہیں؟ عزیر احمد


Kaaba_at_night symbol-of-god-s-love-321905 God-Ram-and-Hanuman-high-definition-hd-wallpapers

کچھ دوست بار بار لالاجی سے سوال کرتے ہیں کہ لالاجی خدا کو مانتے ہیں کہ نہیں۔ یہ سوال اتنا سادہ نہیں۔ ہر کسی کے ذہن میں خدا کا اپنا تصور ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں بتاتا کہ وہ خدا کسے کہتا ہے سو لالاجی کے لئے جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ بھئی  آپ کونسے خدا کو ماننے کی بات کررہے ہیں، اللہ، بھگوان، گاڈ… پیسہ، حکومت، طاقت اختیار… مفاد… خدا تھوڑے تو نہیں ہیں دنیا میں۔۔۔۔

ویسے یہ ایک فضول بحث ہے۔ جس کا ہماری روز مرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سو لالاجی ایسی فضول بحث میں نہیں پڑتے۔ تاہم بار بار کے سوالوں کی وجہ سے ایک بار جواب دے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بھئی بات یہ ہے کہ گر خدا کا کوئی وجود نہیں ہے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی اسے مانتا ہے کہ نہیں… اگر خدا ہے تو بھائی وہ خدا ہے … اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ کوئی اسے مانتا ہے کہ نہیں۔ اگر اسے اس بات سے فرق پڑتا ہے تو پھر وہ خدا تو نہ ہوا (بے نیاز نہیں رہا نا).

ہاں خدا کو ماننے نہ ماننے سے خدا کے خودساختہ ٹھیکیداروں کو ضرور فرق پڑتا ہے کیوں کہ ان کی دکانداری خراب ہوتی ہے۔ اس لئے خود خدا سے زیادہ ان ٹھیکیداروں کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ خدا کو (اور ان ہی کے بیان کردہ خدا کو) مانیں۔ اپنی دکانیں بچانے کے لئے وہ نسلِ انسانی کا خون کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

ویسے خدا (آپ جس بھی خدا کو مانتے ہیں) کے جتنے ٹھیکیدار ہیں وہ خود بھی خدا کی نہیں مانتے۔ وہ سب بھی ان دیگر خداؤں کی مانتے ہیں جن کا ذکر لالاجی نے اوپر کیا ہے ..پیسہ/ڈالر، حکومت، طاقت، اختیار اور سب سے بڑھ کر  مفاد۔۔۔ ورنہ ہر ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اُس کا خدا دنیا میں امن، بھائی چارہ اور خوشیاں چاہتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے… خدا ہے کا نہیں اس سے تو عام آدمی کی زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن بجلی ہے کہ نہیں، گیس ہے کہ نہیں، سڑک ٹوٹی ہوئی ہے کہ اچھی حالت میں ہے، ہسپتال میں دوائی ہے کہ نہیں، گھر میں پکانے کے لئے آٹا ہے کہ نہیں… یہ وہ باتیں ہیں جن سے عام آدمی کو فرق پڑتا ہے اور لالاجی انہی باتوں پر تبصرہ کرنا اہم سمجھتا ہے۔

Advertisements

دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری…!


(لکھنے والے کا لالاجی کو پتہ نہیں، لہٰذا نام درج نہیں کر رہا۔ اس کا کریڈٹ لالاجی کو نہیں جاتا۔ ہاں شئیر کرنے کے لئے گالیاں ضرور لالاجی کو دیں۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا، نہ اس دنیا میں اور نہ اُس دنیا میں۔ لالاجی)
————————
…….معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر "وظیفہ زوجیت ” ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔۔ نہ نماز نہ روزہ۔

” غسل جنابت” سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔

فجر ادا کرکے تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا سا ناشتہ جو دو پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے پر مشتمل تھا، کیا۔

دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا ، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہوگیا۔

صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہوگئی تھی۔

رستے میں دو جگہ اشارہ بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔ اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑجاتا۔۔ الحمدللہ۔۔۔

دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگاچکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کےساتھ ڈیلنگ کرنی۔۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے۔۔ یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔

دکان میں داخل ہوتے وقت معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائیں تھیں ، وہ پڑھیں، اور ردّ بلا کے لیےدم کیا۔

فیقا معمول کے مطابق میرےگدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اسکی چائے اچھی نہیں ہوتی۔اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔

حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہوجائے۔

حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہوجاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔

گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔

اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔

اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ ا س سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔
ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔۔

آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔۔ طویل عرصے سے اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ ..اللہ۔۔ …کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔

استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔

ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاو اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔۔۔

کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔
کھانے کے بعد قیلولہ کیا –

عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے ورد اور وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔

واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک بھگتائے ہیں ۔ پوری توجہ سے بل چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟

مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔

مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔

رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے،” قوت باہ” کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔ نظربددُور۔

عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔ انکی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ۔۔” پُتّر ، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔۔۔”

٘میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ "عمرے” سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے "حق زوجیت” کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔….. اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ "کارثواب” پر چوں چرا کرنا”گناہ عظیم ” ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی "خواہشات” پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔

2014 in review


The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2014 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

The concert hall at the Sydney Opera House holds 2,700 people. This blog was viewed about 57,000 times in 2014. If it were a concert at Sydney Opera House, it would take about 21 sold-out performances for that many people to see it.

Click here to see the complete report.

جون ایلیا کا جنرل ایوب خان کے نام ایک خط


(جون ایلیا نے کچھ عرصہ ذہینہ سائیکی کے نام سے کچھ کالم لکھے تھے۔ زیر نظر کالم اپنی بے باکی کے باعث ان کی نثری تحاریر کے مجموعے "فرنود” میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ آئینہ کے قارئین کے لئے یہ نایاب مضمون پیش ہے۔ یہ مضمون فیس بک پر آصف جاوید صاحب نے شائع کیا تھا اور ان کی اجازت سے آئینہ پر شائع کیا گیا…لالاجی)

پاکستان کے صدر محترم! آپ لازماً اس ملک کے مصروف ترین لوگوں میں شامل ہیں اس لیے میں آپ کے قیمتی اوقات میں سے زیادہ وقت لینا نہیں چاہتی لیکن مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ چند نہایت ضروری باتوں کو آپ تک پہچانے کی جرات کر ر4768716075_5494f88139ہی ہوں

جناب والا! آپ کو مجھ سے زیادہ اس بات کا علم ہو گا کہ پاکستان کو ترقی پسندانہ انداز پر چلانے کی راہ میں شروع سے رجعت پسندوں کا ایک طاقت ور طبقہ ہمیشہ آڑے آتا رہا ہے زمین داری کے ختم کرنے کا معاملہ ہو یا ضبط تولید کا مسئلہ، ہماری سوسائٹی کے قدامت پسند اور رجعت پرست طبقے اس کی مخالفت میں شور مچانا اپنا فرض خیال کرتے رہے یہ عقل کے دشمن انسانی راحتوں اور مسرتوں سے نفرت کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ہر اس معقلول تحریک کی مخالفت میں صفحیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں جو اس ملک کو مہذب دنیا کے دوش بدوش لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے

صدر مملکت! میں نے یہ مختصر تمہید اس لیے عرض کی تاکہ اس فتنہ انگیزی کا پس منظر آپ کے سامنے آ سکے جو عورتوں کو ابتدائی حقوق دینے کے خلاف رجعت پسندوں نے شروع کی ہے جو ہر معقول تجویز کی مخالفت کرنے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں جہاں تک چار شادیوں کے اس وحشیانہ حق کا تعلق ہے جو اب تک مرد حضرات اپنے لیے مخصوص کیے رہے اور جس کے حق میں تقدس مآبوں نے لمبی چوڑی دلیلیں گھڑ لیں دنیا کا کوئی مذہب اور شریف شخص اس کی حمایت کرنے کی جرات نہیں کر سکتا

پاکستان کے فاضل صدر محترم! میں آپ سے ایک معقول اور شریف مرد کی حیثیت سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ انسانی مساوات اور سماجی عدل کا نعرہ لگانے کے ساتھ ہی کس قانون کس ضابطے اور کس اصول کی رو سے چار شادیوں کا وہ حق جو مرد اپنے لیے مخصوص کر چکے ہیں جو عورتوں کو دینے سے انکار کیا جاتا ہے کیا عورت اور مرد کے معاملے میں مساوات کا مفہوم کچھ بدل جاتا ہے ؟ کیا سماجی انصاف کے وہ سارے اصول جن کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے صرف مرد سے مخصوص ہیں؟

جناب والا! آپ کی حکومت نے منشور اقوام متحدہ پر دستخط کرتے ہوئے یہ عہد کیا ہے کہ صنف اور نسل کا امتیاز کیے بغیر ہر شخص کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا کیا اس عہد نامے کے بعد چار شادیوں کا باقی رکھنا کھلا ہوا ظلم اور ہٹ دھرمی نہیں ہے اور اگر مرد تعدد زدواج کو اپنا حق سمجھنے پر اڑے ہوئے ہیں تو میں عورتوں کی طرف سے مطالبہ کرتی ہوں کہ انہیں بھی چار شادیوں کا حق دیا جائے

عائلی کیمشن کی سفارشوں کو منظور کر کے آپ کی حکومت نے ایک بڑا اچھا قدم اٹھایا ہے اس کی مخالفت لازماً وہی لوگ کریں گے جو اس سے پہلے پاکستان کے قیام، قائد اعظم کی قیادت، زمین داری کی تنسیخ اور ہر معقول اور شریفانہ تحریک کی مخالفت کر چکے ہیں اور اگر ان کا بس چلے تو یہ آج ہی ان عورتوں کو گولی کا نشانہ بنا دیں بلکہ اپنی ہی زبان میں "سنگ سار” کرا دیں گے جو پردے کے رواج کو توڑنے کی جرات کرتی ہیں

جناب صدر! اسی کے ساتھ مجھے اور پاکستان کے روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں کو آپ سے یہ بھی شکایت ہے کہ آپ نے پردے کو قانوناً جرم قرار دینے کے سلسلے میں اب تک کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جبکہ ترکی اور ایران کی حکومتوں نے عورتوں کو اس ظلم اور زیادتی سے نجات دینے کے لیے باقاعدہ قانون بنا دیا ہے جب تک اس ملک میں پردے کا رواج باقی ہے قوم کی آدھی آبادی عملاً قوم میں شامل قرار نہیں دی جا سکتی اس لیے اگر آپ پاکستان کی عورتوں کو اس ملک میں برابر کا شہری بنانا چاہتے ہیں تو پردے کو قانوناً جرم قرار دینے کا اعلان کر دیجییے

خاندانی اصلاحات کے ذریعے آپ نے عورتوں کے حقوق کا جو تحفظ کیا ہے اس نے دنیا بھر میں ملک کا وقار بڑھا دیا ہے اور دنیا کے ذمہ دار پریس نے آپ کے اس اقدام کو سراہا ہے میرے خیال میں تعدد زدواج کو بلا کسی شرط کے اخلاقی، سماجی، انسانی اور قانونی جرم قرار دینا چاہیئے طلاق کے معاملے میں عورتوں کو مردوں کے برابر یکساں حقوق دینا چاہیں اس سلسلے میں پاکستان کے مولانا صاحبان نے جو شور و غوغا مچایا ہے اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ رجعت پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیے بغیر پاکستان کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا

پاکستان کے صدر محترم! پچھلے چودہ سال میں ہماری قوم نے صرف ایک ہی تجربہ کیا ہے کہ ہر وہ تحریک جو انسانوں کی دشمنی اور سماجی نفرت کے لیے چلی مولوی صاحبان کی تمام ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں پاکستان کے بننے سے لیکر اب تک ہر وہ قدم جو عوام کی مسرت اور خوشحالی کے لیے اٹھایا گیا اسے حرام کہہ کر روکنے کی کوشش کی گئی چناچہ فنون لطیفہ کی ہر قسم مولوی صاحبان نے ناجائز قرار دے رکھی ہے اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو شاعری کو بھی اغوائے شیطانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ایسے بزرگوں کی بھی کمی نہیں جن کے خیال میں "تخلیق” اور خالق کا لفظ فن اور فنکار کے لیے استعمال کرنا کفر اور شرک کا درجہ رکھتا ہے حالاں کہ آج کی کوئی شریف اور مہذب قوم آرٹ کا سرمایا رکھے بغیر وحشی انسانوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی

اگر ان مولوی حضرات کے مشوروں کو مان لیا جائے تو ضبط تولید کی ساری تحریک، ملک کے اول درجے کے تمام ہوٹل، تفریح گاہیں، سینما حال، کلب، بنک، فوٹو اسٹوڈیو، آرٹس کونسلیں، آرٹس کالج اور یونیورسٹیاں جن میں تمام غیر شرعی نظریات، تحقیقات اور ایجادات کی تعلیم دی جاتی ہے ایک دم بند کر دینا پڑیں گے اور پھر جو اس ملک کا حشر ہو گا وہ مولوی صاحبان کے علاوہ تمام لوگوں پر ہویدا ہے جنہیں اللہ نے تھوڑی سی عقل دی ہے

جناب عالی! خاندانی کمیشن کی سفارشوں پر انسانیت کی ترقی سے بیر رکھنے والوں نے جو تحریک چلا رکھی ہے آپ اس سے ذرا متاثر نہ ہوں اس لیے اگر ایسی تحریکوں کا اثر قبول کیا گیا تو پھر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اوندھی عقل رکھنے والے اس ملک کا کیا حال بنا دیں گے عورتوں سے ان لوگوں کی دشمنی تو خیر پرانی ہے ان میں سے تقریباً ہر ایک اپنے حریف مولوی اور اپنے معتقدوں سے جو نفرت رکھتا ہے اگر اس کا اظہار کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس ملک کی ہر مسجد میدان جنگ بن جائے

محترم صدر! میں آخر میں اس ملک کی آزاد خیال، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند خواتین کی طرف سے آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ آپ رجعت پسند ملاؤں سے سمجھوتا کرنے کی کوئی کوشش نہ کیجیے آپ پاکستان کی بہبودی کے لیے جو کام کر رہے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کو ان حضرات کی دشمنی مول لینا پڑے گی سابقہ حکومتوں کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ حضرات علما کو سر پر بیٹھا کر عوام کے مفادات اور مطالبات کو نظر انداز کر دیتی تھیں میں آپ سے عرض کرتی ہوں کہ آپ اس غلطی کا اعادہ نہ ہونے دیں ورنہ نہ تو آپ کا پنج سالہ منصوبہ کامیاب ہو گا اور نہ دوسری اصلاحی کوششیں

امید ہے کہ آپ میری اس جرات اور جسارت کو معاف فرمائیں گے اور میں نے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے جو باتیں آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں ان پر ضرور توجہ کریں گے

کراچی 15 اپریل 1961

میں ہوں ایک ناچیز پاکستانی ذہینہ سائیکی

سفید ہاتھی کی موجیں …. از نعیم حجازی


بادشاہتوں  کے  زمانے  میں  ہاتھیوں  کی  بڑی  قدر  کی  جاتی  تھی۔  ہاتھی  رکھنا  شان وشوکت  کی  علامت  سمجھی  جاتی  تھی۔  انہی  دنوں  سفید  ہاتھی  کی  اصطلاح  نے  جنم  لیا۔  سفید  ہاتھی  سے  مراد  کوئی  ایسی  چیز  لی  جاتی  ہے  جس  کی  دیکھ بھال  پر  اچھا  خاصا  خرچ  آتا  ہو  لیکن  عملی  طور  پر  ا س  چیز  کی  کوئی  افادیت  نہ  ہو۔  مملکت  پاکستانیہ  اوّل  روز  سے  ہی  ایسا  ایک  سفید  ہاتھی  پال  رہی  ہے۔  ابتدائی  دور  ہی  سے  ملکی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کچھ  ایسا  گڈ مڈ  ہوا  کہ  یہ  تفریق  ہی  مٹ  گئی۔  دور  حاضر  میں  قومی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کا  ایک  ہی  مفہوم  سمجھا  جاتا  ہے۔  ملک  ابھی  قائم  بھی  نہیں  ہوا  تھا  کہ  فوجی  دستوں  نے  کشمیر  کا  محاذ  کھول  دیا  اور  اسلحے  کے  علاوہ  بہت  سا  قومی  سرمایہ  بھی  اس  دلدل  میں  ضائع  ہوا۔ملک  کے  پہلے  بجٹ  میں  فوجی  اخراجات  کو  تمام تر   اخراجات  میں سے   ستر  فیصد  حصہ  ملا۔مارچ  1951 ء  میں  وزیر خزانہ  غلام  محمد  نے  بجٹ  پیش  کرتے  ہوئے  کہا  تھا  کہ  دفاعی  اخراجات  ہمارے  ملک  کے  رقبے  اور  استعداد  کے  لحاظ  سے  بہت  زیادہ  ہیں۔ بعد ازاں  بھارت  سے  لڑنے  کیلئے  فوج  نے  امریکہ  کے  آگے  کشکول  لہرایا  اور  65ء  کی  جنگ  تک  خوب  ڈالر  کمائے۔  اس  کے  بعد  کبھی  چین،  تو  کبھی  روس  اور  آخر کار  عرب  ممالک  نے  ہماری  بہادر  افواج  کی  سرپرستی  کا  ٹھیکا  اٹھایا۔

ستم  یہ  ہے  کہ  فوج  ملکی  خزانے  کا  ایک  بڑا  حصہ  ہڑپ  بھی  کر  لیتی  ہے  اور  اس  لوٹ مار  کے  خلاف  تنقید  بھی  برداشت  نہیں  کرتی۔ اردو  اخبارات  سے  تو  خیر  کیا  شکوہ  کرنا،  انگریزی  اخبارات  بھی  ان  معاملات  میں  پھونک  پھونک  کر  قدم  رکھتے  ہیں،  کہ  آخر  اپنی  جان  تو  سب  کو  پیاری  ہوتی  ہے۔ ڈاکٹر  عائشہ  صدیقہ  نے  2007ء  میں  فوجی  اداروں  کو  ایک  کاروبار  کا  نام  دیا  تھا  کہ  جس  طرح  فوج  اپنے  معاشی  مفادات  کا  خیال  رکھتی  ہے،  اس  طرح  کے  اقدام  سرکاری  ادارے  نہیں  بلکہ  کاروبار  والے  اٹھاتے  ہیں۔  ڈاکٹر  عائشہ  کی  کتاب  تو  اب  پاکستان  میں  دستیاب  نہیں  لیکن  اس  کے  خلاف  باز گشت  ابھی  تک  فوجی  رسائل  میں  موجود  ہے۔ اس  کتاب  کی  تصنیف  کے  بعد  فوج  نے  اپنے  اعمال  سے  توبہ  کرنے  کی

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

  بجائے  کام  جاری  رکھا۔  پاکستان  کی  بری،  بحری  اور  فضائی  افواج  کے  کاروبار  پر  ایک   طائرانہ  نگاہ  ڈالتے  ہیں۔

سنہ  2001ء  میں  مشرف  صاحب  نے  فوجیوں  کی  پنشن  کو  فوجی  بجٹ  کی  بجائے  سویلین  بجٹ  میں  شمار  کرنے  کی  ہدایت  کی۔  سال  2010ء   میں  تیس  لاکھ  سابقہ  فوجی  ملازموں  کی  پنشن  کی  مد  میں  چھہتر(76)  ارب  روپے  مختص  کئے  گئے۔اسکے  علاوہ  فوج  ترقیاتی  کاموں  کیلئے  مختص  شدہ  فنڈ  سے  بھی  پیسے  حاصل  کرتی  ہے۔ہمارے  سالانہ  بجٹ  کا  بیشتر  حصہ  بیرونی  قرض  ادا  کرنے  پر  صرف  ہوتا  ہے  اور  یہ  قرض  بھی  دراصل  فوجی  ضروریات  کو  پورا  کرنے  کیلئے  ہی  تو  لیا  جاتا  رہا  ہے۔

رواں  سال  فروری  کے  مہینے  میں  لاہور  ہائی  کورٹ  نے  فوج  سے  پوچھا  کہ  فورٹریس  سٹیڈیم  کے  علاقے  میں  تعمیر  کیا  جانے  والا  شاپنگ  سینٹر  قانون  کی  خلاف ورزی  کرتا  ہے  یا  نہیں، کیونکہ  یہ  زمین  وفاقی  حکومت  کی  طرف  سے  فوج  کو  دفاعی  ضروریات  یا  عمارات  بنانے  کیلئے  دی  گئی  تھی  لیکن   فوج  نے  اس  زمین  کو  نجی  کمپنی  کے  ہاتھ  فروخت  کر  دیا۔ فوج  کی  جانب  سے  جواب  داخل  کروایا  گیا  کہ  وہ  زمین  ابھی  تک  ’دفاعی  اور  عسکری   ضروریات‘  کے  ضمن  میں  استعمال  کی  جا  رہی  ہے۔  شاپنگ  سینٹر  کے  ذریعے  کون  کون  سے  دفاعی  مقاصد  پورے  کیے  جا  سکتے  ہیں،  اس  امر  پر  نیشنل  ڈیفنس  یونیورسٹی  میں  تحقیق  جاری  ہے۔

پاک  بحریہ  نے  1995ء  میں  کیپٹل  ڈویلپمنٹ  اتھارٹی(CDA)  سے  اپنے  افسران  کی  رہائش گاہیں  قائم  کرنے  کیلئے  اونے  پونے  داموں  زمین  حاصل  کی۔ اب  اس  زمین  پر  قوانین  کی  خلاف ورزی  کرتے  ہوئے  نیول  ہاؤسنگ  سوسائٹی  تعمیر  کی  جا  چکی  ہے  جہاں  پلاٹ  عام  شہریوں  کو  مہنگے  داموں  بیچے  جا  چکے  ہیں۔پاکستانی  سمندروں  کی  محافظ  بحریہ  کے  اس  اقدام  کے  باعث  سرکاری  خزانے  کو  کئی  کروڑ  روپے  کا  نقصان  پہنچا  ہے۔ اسلام آباد  میں  موجود  نیول  ہیڈ کوارٹر  براہ راست  شاپنگ  پلازے  چلا  رہا  ہے  لیکن  کم ازکم  ہمارے  سمندر  تو  دشمن  کی  یلغار  سے  محفوظ  ہیں۔

اکتوبر  2014 ء  میں  آڈیٹر  جنرل  پاکستان  نے  انکشاف  کیا  کہ  پچھلے  مالی  سال  میں  پاکستان  کے  خزانے  کو  فوجی  اداروں  کی  کرتوت  کے  باعث  ایک سو تہتر (173)  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔  موازنے  کی  رو  سے  اتنی  رقم  میں  پاکستان  کے  ہر  بڑے  شہر  میں  میٹرو  بس  بنائی  جا  سکتی  ہے۔ پچھلے  بیس  سال  میں  قومی  اسمبلی  کی  پبلک  اکاؤنٹس  کمیٹی  نے  فوجی  اداروں  کی  مالی  بے ضابطگیوں  پر  تین  ہزار  سے  زائد  نوٹس  جاری  کیے  جن  میں  سے  صرف  ڈیڑھ  سو  کا  جواب  میسر  آیا۔

آڈیٹر  جنرل  نے  پاک  فضائیہ  کی  کراچی  میں  واقع  فیصل  بیس  کے  سربراہ  سے  درخواست  کی  کہ  سرکاری  جہاز وں  C-130  پر  فوجی  اداروں  کے  کارکنان  اور  انکے  خاندانوں  کو  سوار  کر  کے  ہر  ہفتے  اسلام آباد  لے  جانے  کا  سلسلہ  بند  کیا  جائے  کیونکہ  اس  وجہ  سے  رواں  سال   قومی  خزانے  کو  چوالیس(44)  کروڑ  روپے  کا  نقصان  اٹھانا  پڑا  ہے۔  اسی  ضمن  میں  یہ  امر  قابل ذکر  ہے  کہ  فوجی  تعمیراتی  ادارے    FWO   کو  نجی  تعمیراتی  اداروں  کے  برعکس  ٹیکس  چھوٹ  حاصل  ہے۔

کراچی  کے  علاقے  قیوم آباد  میں  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  کے  ملازم  مقامی  لوگوں  کو  وہاں  موجود  قدیم  قبرستان  میں  مردے  دفن  کرنے  سے  روک  رہے  ہیں  کیونکہ  اس  جگہ  کو  ہتھیانے  کا  منصوبہ  بنایا  جا  چکا  ہے۔  کراچی  ہی  کے  علاقے  غازی  کریک  میں  ڈیفنس  فیز  سیون(7)  اور  ایٹ(8)  سے  ملحقہ  علاقہ  پر  قبضہ  جاری  ہے  اور  اگر  یہ  منصوبہ  جاری  رہے  تو  اس  کریک  کے  اردگرد  490  ایکڑ  رقبے  پر  پھیلے  چمرنگ(Mangroves)  کا  صفایا  ہو  جائے  گا۔  لاہور  میں  واقع  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  اب  گوجرانوالہ،  ملتان  اور  بہاولپور  میں  اپنی  شاخیں  قائم  کر  رہی  ہے۔  

 فوج  کے  پچھلے  کمانڈر  کے  برادر  محترم  پراپرٹی  کے  کاروبار  میں  ملوث  تھے  اور  آئی  ایس  آئی  کے  نئے  سربراہ  کے  بھائی  کو  پی آئی اے  میں  کروڑوں  روپے  ماہانہ  کی  تنخواہ  پر  تقرر  کیا  گیا  ہے۔  برطانوی  راج  کے  دور  میں  سرکار  فوجیوں  میں  زمین  بانٹتی  تھی  تاکہ  انکی  اور  انکے  خاندانوں  کی  وفاداری  حاصل  کی  جائے۔ سامراجی  دور  میں  قانون  بنا  کہ  حکومت  ملک  کے  کسی  بھی  علاقے  کو  ’قومی  مفاد‘  کے  نام  پر  شہریوں  سے  خالی  کرا  سکتی  ہے۔  یہ  قانون  ابھی  تک  ہمارے  ملک  میں  رائج   ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

ایوب  خان  کے  دور  میں  فوجی  افسران  کو  زمین  بانٹنے  کا  سلسلہ  شروع  ہوا۔پہلے  پہل  اس  ضمن  میں  سرحدی  علاقوں  کے  قریب  زمین  حاضر  سروس  یا  ریٹائر  فوجی  اہلکاروں  کے  نام  لگائی  جاتی  تھی  تاکہ  بھارت  کی  جانب  سے  جارحیت  کی  شکل  میں  ابتدائی  مدافعت  کی  جا  سکے۔اس  دور  میں  ایک  مارشل  لاء  حکم  کے  تحت  سرکاری  ملازمین  پر  ایک  سو  ایکڑ  سے  زیادہ  زمین  رکھنے  پر  پابندی  عائد  کر  دی  گئی  البتہ  فوج  کے  ملازمین  پر  یہ  حکم  لاگو  نہیں  تھا۔لیہّ  کے  علاقے  چوبارہ  میں  بیس  ہزار  ایکڑ  زمین،  ایک  سو  چھیالیس (146)  روپے  فی  ایکڑ  کے  حساب  سے   فوجی  ملازمین  کو  سنہ 1982ء  میں  عطا  کی  گئی۔  اسی  تحصیل  کے  علاقے  رکھ  جدید  میں  چالیس  ہزار  ایکڑ  زمین  ملتے  جلتے   داموں  2007 ء  میں   فوجی  ملازمین  کے  نام  کی  گئی۔ پنجاب  ریونیو  بورڈ  کی  دستاویزات  کے  مطابق  1990ء  سے  2010ء  کے  دوران  صوبے  کے  تین  اضلاع (اوکاڑہ،  بہاولپور  اور  خانیوال)  میں  ایک  لاکھ  ایکڑ  زمین  فوج  کے  حوالے  کی  گئی۔ راجن پور  میں  فرید  ایئر  بیس  سے  ملحقہ  335  ایکڑ  زمین  پاک  فضائیہ  نے  ہتھیا  رکھی  ہے  اور  اس  زمین  پر  استعمال  کیا  جانے  والا  پانی  فتح پور  نہر  سے  چرایا  جاتا  ہے۔

پنجاب  حکومت  نے  سنہ 1913ء  میں  نو  مختلف  اضلاع(ملتان، خانیوال، جھنگ، سرگودھا، پا ک پتن، ساہیوال، وہاڑی، فیصل آباد  اور  لاہور)  میں  اڑسٹھ(68)  ہزار  ایکڑ  رقبہ  مختلف  سرکاری  محکموں  کو  کرائے  پر  دیا  جس  میں  سے  چالیس  فیصد  رقبہ  فوج  کے  پاس  تھا۔سنہ 1943ء  کے  بعد  سے  پنجاب  حکومت  کو  اس  زمین  کی  مد  میں  ایک  پیسہ  بھی  کرایہ  نہیں  ملا۔ 

 پاکستان  ریلوے  سے  فوج  کی  یاد اللہ پرانی  ہے۔ سنہ 1978ء  میں  کراچی  بندرگاہ  پر  فوج  کو  مقامی  انتظامیہ  کی  مدد کیلئے  تعینات  کیا  گیا  لیکن  کچھ  ماہ  بعد  یہ  بندوبست  ختم  ہو  گیا۔  اس  دوران  فوج  نے  نیشنل  لاجسٹک  سیل (NLC)  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  کے  بعد  سے  ملک  میں  سامان  کی  ترسیل  کا  کام  ریلوے  کی  بجائے  فوج  کے  ادارے  نے  شروع  کر  دیا  اور  بہت  جلد  ریلوے  کا  دیوالیہ  نکل  گیا۔ صرف  مالیاتی  سطح  پر  ہی  نہیں،  فوجی  اداروں  نے  ریلوے  کی  کئی  ہزار  ایکڑ  زمین  بھی  ہتھیا  لی،  جس  میں  سے  ایک  ہزار  ایکڑ  پاک  فوج  جبکہ  پانچ  سو  ایکڑ  زمین  رینجرز  سے  سپریم  کورٹ  کے  حکم  کے  بعد  واپس  لی  گئی۔  البتہ  اب  بھی  کم از کم  دو  ہزار  ایکڑ  زمین  ان  اداروں  کے  قبضے  میں  ہے۔  کچھ  عرصہ  قبل  NLC  نے  ریلوے  کی  نجکاری  کیلئے  مہم  شروع  کی  اور  اس  سلسلے  میں  کوریا  سے  کچھ  سامان  بھی  منگوا  لیا  لیکن  ریلوے  ملازمین  کی  مزاحمت  کے  باعث  ابھی  تک  یہ  سلسلہ  شروع  نہیں  ہو  سکا۔  سنہ  2012 ء  میں  قومی  اسمبلی  کی  خصوص  کمیٹی  نے  لاہور  میں  ریلوے  کی  ایک سو چالیس  ایکڑ  زمین  پر  غیر قانونی  طور  پر   قائم شدہ  گالف  کلب  کے  مسئلے  میں  تین  جرنیلوں  کو  مورد  الزام  ٹھہرایا۔  کمیٹی  کی  تحقیقات  کے  مطابق  اس  عمل  سے  ملکی  خزانے  کو  پچیس  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔     

فوج  کے  ماتحت  ایک  ادارہ  رینجرز  نام  کا  بھی  ہے  جس  کی  بے ظابطگیاں  اور  کرپشن  کی  داستانیں  عوام  تک  بہت  کم  پہنچتی  ہیں۔ رینجرز  کی  بنیادی  ذمہ داری  پاکستان  اور  بھارت  کے  مابین  عالمی  سرحد  کی  نگرانی  کرنا  ہے۔ تحصیل  سیالکوٹ  میں  کسی  کسان  یا  زمیندار  کو  نالوں  کے  کناروں  سے  مٹی  چاہئے  تو  ہر  ٹرالی  پر  سو  روپیہ  ’کرایہ‘  رینجر ز  کو  دینا  ہوتا  ہے۔ شیخوپورہ  میں  رینجرز  اہلکار  مٹی  کی  ایک  ٹرالی  چار  سو  روپے  کے  عوض  بیچتے  ہیں۔بہاول نگر، شیخوپورہ  اور  سیالکوٹ  میں  شکار  کیلئے  رینجرز  کی  گاڑیاں  استعمال  ہوتی  ہیں  اور  شکار  پارٹیوں  کا  بندوبست  بھی  رینجرز  اہلکار  کرتے  ہیں۔ شکر گڑھ  میں  رینجرز  اہلکار  ایک  شادی  ہال  چلا  رہے  ہیں۔ رحیم یار  خان  میں  ان  شہزادوں  نے  شاپنگ  مال (جسکا  نام  روہی  مارٹ  ہے)  کھول  رکھا  ہے۔ 

بہاول نگر  اور  بہت  سے  سرحدی  علاقوں  میں  رینجرز  کئی  سال  تک  پیپسی  جیسا  ایک  مشروب  بیچتے  رہے  اور  کچھ  عرصہ  قبل  اس  کے  خلاف  کارروائی  ہوئی۔ بدین  اور  ٹھٹھہ  کے  مچھیروں  پر  رینجرز  نے  اپنی   مرضی  کے  ٹھیکے دار  مسلط  کرنے  کی  کوشش  کی  جسکے  خلاف  مقامی  آبادی  میں  احتجاجی  تحریک  کا  آغاز  ہوا۔      

ظلم  کی  انتہا  ہے  کہ  فوجی  بھائی  اور  انکے  خاندان  تو  چھٹیاں  بھی  سرکاری  خرچ  پر  فوج  کے  میس  اور  گیسٹ ہاؤسوں  میں  گزارتے  ہیں  اور  ریٹائر شدہ  فوجیوں  کی  تنخواہ  سویلین  بجٹ  سے  کٹتی  ہے۔  تیرے  دیوانے  جائیں  تو  کدھر  جائیں؟  فوجی  اہلکاروں  سے  پوچھا  جائے  تو  فوری  طور  پر  قومی  مفاد  کی  لال  جھنڈی  لہرانا  شروع  ہو  جاتے  ہیں،  کیونکہ  آخرکار  قوم  کا  مفاد  فوج  کے  مفاد  میں  ہی  تو  پنہاں  ہے۔  پاکستان  کی  ساٹھ  فیصد  آبادی  شدید  غربت  میں  زندگی  گزار  رہی  ہے،  اسّی  فیصد  آبادی  کو  صاف  پانی  میسر  نہیں،  کروڑوں  بچے  تعلیم  کی  نعمت  سے  محروم  ہیں،  پبلک  ٹرانسپورٹ  نامی  کوئی  چیز  ہمارے  ہاں  موجود  نہیں  لیکن  فوج  کے  پاس  اعلیٰ  ترین  ہتھیار  تو  ہیں،  ایٹم  بم  تو  ہے،  میزائل  تو  موجود  ہیں،  تنخواہ  تو  مل   رہی  ہے۔ استاد  دامن  نے  یونہی  تو  نہیں  کہا  کہ  پاکستان  وچ  موجاں  ای  موجاں،  جدھر  ویکھو  فوجاں  ای  فوجاں۔

کچھ  دوستوں  کو  اعتراض  ہے  کہ  سیاست دان  فوج  سے  زیادہ  کرپٹ  ہیں  اور  یہ  کہ  دیگر  ممالک  جیسے  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  بھی  فوج  کے  اخراجات  بہت  زیادہ  ہوتے  ہیں۔  لیکن  عرض  ہے  کہ  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  افواج  سیاست دانوں  کی  کنپٹیوں  پر  ہمہ وقت  بندوق  تانے  موجود  نہیں  ہوتیں اور  نہ  ہی  وہاں  جرنیل  ریٹائر  ہونے  کے  بعد  ملکی  مفاد  کے  مامے  بن  کر  سرعت  سے  ٹی وی  سکرینوں  پر  نمودار  ہوتے  ہیں۔ چین  یا  امریکہ  کے  جرنیلوں  نے  پچھلے  ستر  سالوں  میں  اپنی  حکومتوں  کے  خلاف  گیارہ  تختہ  الٹنے  کی  سازشوں  میں  حصہ  نہیں  لیا  اور  اگر  وہاں  فوج  کے  اخراجات  پر  خرچ  ہوتا  ہے  تو  ان  ممالک  کی  معیشت  اس  قابل  ہے۔  ہماری  معیشت  کے  بارے  میں  مثل  مشہور  ہے  کہ  ننگی  کیا  نہائے  گی  اور  کیا  نچوڑے  گی۔

 رہی  بات  کرپشن  کی  تو  سیاست دانوں  کو  تو  سنہ 58ء  سے  کرپشن  کے  الزامات  میں  ملوث  کر  کے  سیاست  سے  دور  کرنے  کی  کوششیں  کی  جاتی  رہی  ہیں،  آج  تک  کوئی  حاضر  سرو س  تو  کیا،  ریٹائر  جرنیل  بھی  کرپشن  کے  الزام  میں  جیل  گیا  ہے؟  مہران  بنک  سکینڈل  میں  عدالت  اپنا  فیصلہ  سنا  چکی  ہے،  کیا  ان  ریٹائر  جرنیلوں  کو  جیل  بھیجا  جا  سکتا  ہے؟  ایف  سی  کے  سربراہ  کو  عدالت  نے  طلب  کیا  تھا  تو  عارضہ ء  دل  کا  بہانہ  بنا  کر  رخصت  لے  لی  گئی  تھی،  ان  کے  خلاف  انصاف  اسلام آباد  کے  محلہ  کنٹینر پورہ  میں  کیوں  نہیں  مانگا  جاتا؟  تبدیلی  کے  متوالے  سیاسی  کرپشن  کے  ہی  درپے  کیوں  ہیں؟  فوج  کی  بے پناہ  کرپشن  کے  بارے  میں  تحریک  انصاف  کے  کسی  محلے  لیول  کے  کارکن  کی  جانب  سے  بھی  کبھی  بیان  جاری  نہیں  ہوا۔

آبی جارحیت کا چورن


hafiz-saeed-share-pakistanمنافقت کی دنیا میں حقائق اکثر مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ہی آج کل ہمارے ایک مہربان ہر وقت بھارت کی آبی جارحیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ حافظ سعید صاحب کا تعلق پہلے لشکرِ طیبہ سے تھا ، جب لشکرِ طیبہ کو عالمی سطح پر دہشت گرد جماعت قرار دے دیا گیا تو حضرت نے چولا بدلا اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ بن گئے اور یہ معجزہ ہمارے بہت سے لبرل دوستوں کی آنکھوں کے تارے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے ہر دلعزیز جرنیل جناب پرویز مشرف کے دور میں پیش آیا۔ پھر جماعت الدوۃ پر بھی پابندی لگ گئی تو موصوف نے ایک بار پھر چولا بدلا اور فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربرا ہ بن گئے۔

لشکرِ طیبہ/جماعت الدعوۃ /فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کا دانہ پانی کشمیر میں نام نہاد آزادی کی جدو جہد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ چنانچہ موصوف کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان سے غداری نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے باقاعدہ بجٹ میں ان کے ادارے کے لئے ہر سال لگ بھگ دو کروڑ روپیہ مختص ہونے کے باوجود نواز شریف کے ہندوستان سے دوستی کے سپنے کو ڈراؤنا خواب بنا دینے کی پوری کوشش کر تے رہتے ہیں۔

ان کے آقا بھی وہی ہیں جو حکومت کی واضح پالیسی کے باوجود جیو نیوز کو کیبل پر نہیں چلنے دے رہے۔ اور ان کے آقا بھی اس قدر طاقتور ہیں کہ پرویز مشرف کا دور ہو، آصف زرداری کا دور ہو یا اب نواز شریف کا ، امریکہ کا دباؤ ہونے کے باوجود ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ موصوف کو پرائیویٹ ٹی وی چینل (بشمول جیو) پرائم ٹائم میں پروجیکشن بھی دیتے ہیں۔

حضرت صاحب کافی عرصے سےبھارت کی طرف سے  آبی جارحیت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ آج کل کے سیلاب کے بعد یہ چورن انہوں نے زیادہ ہی زور و شور سے بیچنا شروع کر دیا ہے ۔Hafiz-Saeed-GEO2

دوستو!…بات یہ ہے کہ  اگر ہم موجودہ سیلاب کو ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت تسلیم کر لیں تو پھر ضلع جھنگ کو ضلع سیالکوٹ کے خلاف بھی رپٹ درج کرادینی چاہئے کہ سیالکوٹ نے آبی جارحیت کر دی؟ صوبہ سندھ کو جلد ہی پنجاب کے خلاف مقدمہ کر دینا ہوگا کہ پنجاب نے سندھ کے خلاف آبی جارحیت کر ڈالی؟ ۲۰۱۰ میں پختونخواہ نے پنجاب اور سندھ کو ڈبو دیا تھا؟  

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بھارت آبی جارحیت کربھی رہا  ہے  تو کیا ہم بھارت کے خلاف جنگ کرکے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟ یہ بات تو ہمارے بزرگوں کو پاکستان بناتے وقت سوچنی چاہئے تھی کہ اسلام کے قلعے کو پانی کہاں سے فراہم کریں گے؟ اگر اسلام کے قلعے کے سارے دریا سیکولر بھارت سے آتے ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات درست رکھنے ہوں گے کہ نہیں؟ (ویسے ایک سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ بھارت سے آنے والا ہندو پانی  ہمیں اپنی مسلمان فصلوں کو دینا چاہئے بھی کہ نہیں؟ کیا اس ہندو پانی سے سیراب ہونے والی فصلیں مسلمانوں کے لئے حلال ہیں کہ نہیں؟)کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ بھارت سے اپنی شرائط منوا سکیں؟ کیا یہ مذہبی جماعتوں والے مل کر باجماعت دعائیں کر کے دریاؤں کے رُخ موڑ سکتے ہیں؟

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوجائیں تواس سے بر صغیر کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کوفائدہ ہوگا۔ ہاں اُن لوگوں کے لئے یقیناً بڑی مشکل ہوگی جن کا دانہ پانی ہندوستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے اور حافظ صاحب یقیناً انہی لوگوں میں سے ہیں۔ سو جب حافظ صاحب ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو پاکستان کے ساتھ غداری کہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے وہ بس اپنے آپ  ہی کو پاکستان سمجھتے ہیں۔