مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر


IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s