خاندانِ خاکروباں اور گندے سیاستدان

Untitled

برصغیر میں جب مسلمانوں کی حکومت قائم ہو ئی تو سب سے پہلے خاندانِ غلاماں نے حکومت کی۔ جب مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کر لیا تو پاکستان میں خاندانِ خاکروباں کی حکومت قائم ہو گئی اور ان ہی کی حکومت قائم چلی آرہی ہے بس کبھی پردے کے پیچھے سے حکومت کرتے ہیں، کبھی پردے کے آگے آ جاتے ہیں۔ خدا کے فضل سے پاکستان خاکروبوں کے معاملے میں خود کفیل ہے۔

ہر بار حکومت کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ملک میں بہت گندگی پھیل گئی ہے وہ صاف کرنے آئے ہیں۔ تاہم دس دس سال تک گندگی صاف نہیں ہو پاتی۔ جاتے ہیں تو پہلے سے زیادہ گندگی چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں بار بار یہی بتاتے ہیں کہ سیاستدان گندے ہیں مگر کبھی بھی گندے سیاستدانوں پر ان کی گندگی کی بنیاد پر مقدمے نہیں بناتے۔ بناتے بھی ہیں تو ان مقدمات میں انہیں سزائیں نہیں دلوا پاتے ( یا پھر دلوانا ہی نہیں چاہتے ،یعنی گندگی صاف کرنا ہی نہیں چاہتے)۔

ہیں؟ آئیے ذرا دیکھیں تو سہی کہ ان خودساختہ خاکروبوں نے میدانِ سیاست کی گندگی کیسے صاف کی:

خاکروبِ اوّل جنرل ایوب خان :

خود ساختہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کو پاک فوج کے پہلے مقامی سربراہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایوب خان سے پہلے پاک فوج کی سربراہی (پاکستان بننے کے بعد بھی) انگریز جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی۔ جب جنرل صاحب نے فوج کی سربراہی کی بھاری ذمہ داری اٹھائی تو میدانِ سیاست گندگی سے اٹا پڑا تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل کا مقدمہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہا تھا۔ ملک کئی سال گزرنے کے باوجود آئین سے محروم تھا ، نہرو کہتا پھر رہا تھا کہ اتنی جلدی میں اپنی شیروانی نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان وزیر اعظم بدل لیتا ہے (پاکستان میں 1951سے 1958تک سات سال کے عرصے میں سات وزیر اعظم بدلے گئے) ۔

ایسے میں پاکستان کو ایک عظیم خاکروب کی ضرورت تھی۔ جنرل صاحب کو پتہ تھا (اور جنرل صاحب اس خیال کا برملا اظہار بھی کرتے تھے) کہ پاکستان کے عوام جاہل ہیں چنانچہ اس گندگی کی صفائی پاکستان کے عوام پر چھوڑنے کی حماقت کرنے کی بجائے انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ حماقت وہ خود کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مارشل لا ء لگا دیا۔ چن چن کر صاف ستھرے سیاستدان اکٹھے کئے ۔ کسی گندے سیاستدان کو پھڑکنے نہیں دیا حتیٰ کہ فاطمہ جناح  کو بھی نہیں۔ اس قوم کی ماں پر بھی انہیں بھروسہ نہیں تھا کہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور اس قوم کی رہنمائی کے قابل نہیں رہی تھی۔

ان کے چنیدہ صاف ستھرے سیاستدانوں میں ایک نوجوان ذولفقار علی بھٹو بھی تھا۔بھٹو کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کیوں کہ موصوف کا تعلق ایک غدار صوبے سے تھا اور قوی امکان یہ تھا کہ غدار صوبے سے ایک صاف ستھرے سیاستدان کے چناؤ سے اس صوبے کو واپس قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔   یہ نوجوان سیاست کی آلائشوں سے پاک تھا۔ ہمارے عظیم خاکروب نے اس صاف ستھرے اور انتہائی باصلاحیت نوجوان کو اپنی اولاد کا درجہ دیا ، اس کی سیاسی تربیت کی، اسے ملکوں ملکوں گھومنے اور دنیا کے دیگر عظیم سیاسی لیڈروں سے ملنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے خارجہ امور کا وزیر مقرر کردیا۔ یہ تربیت لگ بھگ آٹھ سال جاری رہی۔ اس صاف شفاف سیاستدان نے جنرل صاحب کی کشتی ڈوبنے سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دی ۔

اب خاکروب اول اور دوئم کے درمیان کیا بیتی یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ بتانے والے کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا۔

خاکروبِ دوئم، جنرل یحیٰ خان:

جب خاکروبِ دوئم نے جھاڑو سنبھالا تو میدانِ سیاست (اگرچہ سیاست کے میدان میں گزشتہ گیارہ سال سے  خاکروبِ اوّ ل کے علاوہ کوئی نہیں تھا) میں بہت گندگی پائی جاتی تھی۔ خاکروبِ اوّل جب صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیت میں مشغول تھے تو ان کا دھیان نہیں رہا اور ملک میں قسم قسم کے گندے سیاستدان نشونما پاگئے خاص طور پر مشرقی حصے میں۔یہ حصہ  صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیتی اکیڈمی واقع اسلام آباد سے کافی دور  تھا اس لئے اس پر نظر رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ مشرقی پاکستان  کو گندے سیاستدان پیدا کرنے میں ایک عجیب ملکہ حاصل تھا۔ پھر وہاں کے لوگ گندے سیاستدانوں کے ایسے مرید ہو گئے تھے کہ گولی سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔  خیر خاکروبِ دوئم کو بھی گند صاف کرنے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے لاکھوں گندے لوگوں کو مار ڈالا، ان کے جمعدار جنرل ٹائیگر نیازی نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی نسل بدلنے کی بھی بھرپور کوشش کی تاہم گندگی پر قابو پانا مشکل ہوگیا تو فیصلہ ہوا کہ مشرقی پاکستان ہی سے جان چھڑا لی جائے۔ اس غلاظت کو صاف کرنے میں ہمیں ہمارے دشمن ملک بھارک کا بھی بھرپور تعاون حاصل رہا۔

خاکروبِ دوئم نے فوری ایکشن کر کے مشرقی پاکستان کا گند صاف کر دیا تاہم انہیں ملک کو ایک اچھا سیاستدان دینے کا موقع نہیں ملا۔ خیر اس کی ایسی کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ خاکروبِ اوّل کے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان جناب ذولفقار علی بھٹو کو تب تک آزمانے کا موقع نہیں ملاتھا۔ چنانچہ خاکروبِ دوئم نے کمال دریا دلی کا مظاہر کرتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور بھٹو صاحب کو تھمائی اور خود بن باس لے لیا۔ اقتدار کی ہوس سے پاک ایسا خاکروب پاکستان کو دوبارہ نصیب نہیں ہوا۔

خاکروب ِ سوئم، جناب جنرل ضیاع الحق:

ذولفقار علی بھٹو پر آٹھ سال کی محنت اگرچہ پوری طرح تو ضائع نہیں ہوئی مگر ملک اور قوم کے زیادہ کام بھی نہیں آئی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو داخل دفتر کر دیا گیا۔ تاہم ملک کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے۔ کچھ گندے سیاستدانوں  جنھوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے نیشنل عوامی پارٹی کا نام دے رکھا تھا کو غداری کے مقدمے میں جیلوں میں ڈالا گیا مگر یہ مقدمہ کسی کنارے نہیں لگ رہا تھا۔ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی جس پر قوم سراپا احتجاج بن گئی۔ سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرنا معمول بن گیا۔ ادھر افغانستان میں کمیونسٹ آدھمکے تھے اور بہت خطرہ تھا کہ ملک پر لادین قوتوں کا سایہ پڑے گا اور بہت گند مچے گا۔ چنانچہ ضروری ہو گیا تھا کہ میدانِ سیاست کو صاف کیا جائے۔ چنانچہ اس بار ایک پاک صاف پابند ِ صوم وصلوٰۃ خاکروبِ سوئم جناب جنرل ضیاع الحق نے جھاڑو سنبھالا اور جھُرلُو پھیر دیا۔

جناب کو بھٹو پر ملک و قوم سے غداری کا اتنا قلق تھا اور خاکروبِ اوّل اور دوئم کے کئے کرائے پر پانی پھرجانے پر اتنا غم و غصہ تھا کہ انہوں نے بھٹو کو گندے سیاستدانوں کو سبق سکھانے کے لئے مثال بنانے کا عہد کیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ تاہم بھٹو مرا نہیں، کہتے ہیں بھٹو اب بھی زندہ ہے۔ واللہ اعلم باالصواب…!!!

اس بار فیصلہ ہو اکہ پاک صاف سیاستدان کسی غدار صوبے سے نہ لیا جائے بلکہ پنجاب جیسے محب وطن صوبے سے لیا جائے۔ اس مومن خاکروب کے ایک ساتھی کی نظر ایک لاہور کے ایک نہایت ہی شریف اور گناہوں سے پاک معصوم نوجوان پر پڑی اور اس نے سوچا کہ اس سے بہتر شخص پاکستانیوں کی رہنمائی کے لئے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس نے اس معصوم شخص کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔ اسے چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے الیکشن لڑوا کر صوبائی وزیر خزانہ اور پھر صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے تک کا سفر کروا دیا۔

اگرچہ بھٹو عوام میں مقبول ہر گز نہیں تھا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ موصوف کے جنازے میں مشکل سے چار لوگ ہوں گے مگر سندھ میں بھٹو کے زندہ ہونے کی افواہیں تاحال گونجتی رہتی ہیں۔ چنانچہ سندھ میں بھٹو کو مارنے کے لئے مہاجر وں کو زندہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے الطاف حسین جیسا مہاجروں کے دردکو محسوس کرنے والا نوجوان مل گیا تھا۔ اس کی سیاسی تربیت پر بھی پوری توجہ دی گئی ۔

پسِ پردہ خاکروبوں کادور:

1988میں مومن خاکروب کی ناگہانی موت کے بعد اس کے ساتھیوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ ڈر یہ تھا کہ ملک کے بھولے بھالے عوام نے ایک گندی سیاست دان جو کہ اس ملک کے لئے سکیورٹی رسک کا درجہ رکھتی تھی کو ووٹ دے دینا ہے ۔ لہٰذا مہران بنک وغیرہ سے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکال کر اچھے سیاستدانوں میں بانٹے گئے۔ عظیم تر قومی مفاد میں کے لئے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکالنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ خیر بے نظیر بھٹو جیسی غلیظ سیاست دان کی حکومت کو جلد ہی لپیٹ دیا گیا اور اچھے سیاستدانوں کی حکومت قائم کر دی گئی۔

مگر کیا کہیں صاحب… طاقت اور اختیار اچھے اچھوں کو خراب کر دیتا ہے۔ چنانچہ نواز شریف بھی طاقت اور اختیار ملتے ہی بے قابو ہو گیا اور گندا سیاست دان بن گیا۔ اس سے بھی پیچھا چھڑانا پڑا۔ بڑی لے دے ہوئی ، ساری محنت پر پانی پھر گیا ۔انتخابات ہوئے  اورپھر سے اسی گندی سیاست دان عورت کی حکومت قائم ہو گئی۔ چار و ناچار اسے دو تین سال مزید  برداشت کرنا پڑا۔ پھر سوچا کہ نواز شریف کو عقل آگئی ہو گی  چنانچہ اس کی حکومت دوبارہ قائم کروائی گئی (اس سلسلے میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں کی گئی)۔ مگر نوازشریف کی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی۔

اس دور میں ایک اور صاف ستھرے ، ایمان دار اور نیک شخص کو تلاش کیا گیا اور اس کی سیاسی تربیت کے لئے خصوصی اہتمام کیا گیا۔ یہ فریضہ جناب قاضی حسین احمد اور حمید گل کو سوپنا گیا جو ایک عرصے تک مشرقی پاکستان کے الگ ہونے  کے درد کو مٹانے کے لئے افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لئے سرگرداں رہے مگر بے نظیر بھٹو جیسی غدارِ وطن سیاستدان جسے اس ملک کے جاہل مزدوروں اور کسانوں نے ووٹ دیے تھے نے حمید گل کے اس  عظیم منصوبے پر پانی پھیر دیاتھا  اور حمید گل کو خاکروبی عہدے سےبھی ہاتھ دھونا پڑ گیا۔

کہتے  ہیں کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہوتا ہے۔ بھٹو ہو یا نواز شریف جو بھی سیاست کے آلودہ میدان میں اترا، خود بھی گندا ہو گیا۔ محب وطن خاکروبوں کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ نواز شریف بھی گردن تک سیاست کی آلودگیوں میں دھنس چکا تھا۔ پٹواریوں کی مدد سے انتخابات جیتنا،وکیل کی بجائے جج کر لینا،اپنا سریا بیچنے کے لئے بڑے بڑے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنا، ہندوستان سے تعلقات ٹھیک کرنے کی خواہش، خاکروب یونین کواپنے ماتحت کرنے کی غدارانہ کاوشیں اور خاکروبانہ اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہونا … یہ سب کچھ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہا تھا۔  میدانِ سیاست کی گندگی ناقابلِ برداشت ہو گئی۔

خاکروبِ چہارم، پرویز مشرف روشن خیال:

میدانِ سیاست ایک بار پھر گندگی سے اٹ چکا تھا۔ بھولے بھالے عوام کو تو سمجھ بوجھ تھی نہیں۔ انہوں نے پھر انہی گندے سیاستدانوں کو ووٹ دے دینے تھے۔ لہٰذا ایک بار پھر اس گندگی کو صاف کرنے کے لئے ضرور ی ہو گیا تھا کہ ایک نیا خاکروب میدان میں آئے۔

مومن خاکروب کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد جو نیا خاکروب آیا اس نے سوچا کہ کوئی نیا طریقہ کار اپنا یا جائے۔ چنانچہ اس بار اعتدال اور روشن خیالی کا جھاڑو چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ زیادہ مارا ماری نہیں کی گئی۔ نواز شریف کو اٹک کے قلعے میں قید کیا گیا مگر پھانسی نہیں دی گئی مبادا یہ بھی ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائے۔ نواز شریف جیسے گندے سیاستدان کو ابدی زندگی سے محروم کرنے کے بعد خاکروبِ چہارم جناب پرویز مشرف نے گندگی صاف کرنے کے لئے گندے سیاستدانوں کو دھونا شروع کر دیا۔ چھوٹے موٹے سیاستدانوں کو تو مقامی طور پر ہی دھو لیا گیا اور جھاڑ پھٹک کر استعمال کے قابل بنا لیا گیا۔ ان سیاستدانوں میں چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہیٰ، آفتاب شیرپاؤ، فیصل صالح حیات اور شیخ رشید احمد قابلِ ذکر ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف میں گندگی بہت زیادہ تھی جو اٹک کے قلعے میں بھی صاف نہیں کی جاسکی تو آخر کار ان دونوں بھائیوں کو خاندان اور نوکر چاکر سمیت جدہ بھجوا دیا گیا ۔ امید کی جارہی تھی کہ  مکہ مدینہ کے قریب رہنے سے ان کے اندر کی غلاظت صاف ہو جائے گی۔

بے نظیر بھٹو اس دور کی ایک اور گندی سیاست دان تھی مگر وہ پرویز مشرف کے جھاڑو اٹھانے سے پہلے ہی ملک سے بھاگ چکی تھی اس لئے اس کی دھلائی کا خاطر خواہ موقع خاکروب چہارم کو نہیں مل سکا۔ اگرچہ موصوفہ کے شوہر نامدار جو کہ اپنی بیگم سے بھی زیادہ غلیظ واقع ہو ئے تھے جیل میں تھے  اور ان کی دھلائی کی پوری کوشش کی گئی۔ ان کی تسلی بخش دھلائی کے بعد کوشش کی گئی کہ انہیں ملک سے باہر بھیج کر ان کے بدلے میں ان کی بیگم کو واپس لایا جائے تاکہ ان کی دھلائی بھی ہو سکے مگر یہ حربہ ناکام رہا۔ بے نظیر بھٹو واپس نہ آئیں۔

بے نظیر بھٹو بہت چالاک اور مکار سیاستدان تھی۔ اس کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ اعتدال اور روشن خیالی جیسی بے کار باتوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔ چنانچہ اسے پاکستان کی لانڈری سے گزارنے کے لئےیہ وعدہ کرنا پڑا کہ اس کی دھلائی نہیں کی جائے گی۔ کچھ عالمی طاقتوں کی ضمانتیں بھی فراہم کر دی گئیں۔

وعدے کے مطابق اسے لانڈری سے نہیں گزارا گیا بلکہ صفحہ ہستی ہی سے مٹا دیاگیا۔ خیال یہ تھا کہ اتنی چالاک  اور ضدی سیاستدان کا کچھ نہیں ہو سکتا جس نے اپنے باپ ذولفقار علی بھٹو کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔ بے نظیر بھٹو کی موت کا اس کے چالاک شوہر نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ملک کا صدر بن گیا۔ یہ شخص خاکروبوں کی توقع سے بھی زیادہ چالاک نکلا اور خاکروب چہارم کے خلاف ایسا گھیرا تنگ کیا کہ اسے بھاگتے ہی بن پڑی۔

پسِ پردہ خاکروبوں کو دوسرا دور:

ملک بہت نازک دور سے گزر رہا تھا۔ امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہو چکی تھی۔ گندے سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لئے خاکروب چہارم کو ملاؤں کے ساتھ ہاتھ ملانا پڑا (یا ان کی طرف سے آنکھیں بند کرنا پڑیں) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملا خود ایک عفریت کی شکل اختیار کر گئے۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف اور آصف زرداری جیسے مکار سیاستدانوں کو اکثریت حاصل تھی لہٰذا پس پردہ خاکروب کو بہت سوچنا پڑتا تھا۔ اس لئے اس دور کے خاکروب کو عوام کی طرف سے ’مفکرخاکروب‘ کا خطاب ملا۔بدقسمتی سے اس دور میں ہندوستان میں بھی ایسی حکومت تھی جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی ناپاک خواہش رکھتی تھی۔ اتنے سارے محاذوں پر لڑنا آسان نہیں تھا مگر ’مفکر خاکروب‘ نے یہ چومکھی لڑائی بڑی مہارت سے لڑی۔

اس دوران میں نئے انتخابات کا وقت آگیا اور فیصلہ ہوا کہ نئے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان کو میدان میں اتارا جائے۔ بہت سے گندے سیاستدانوں کو دھو دھو کر اس کی پارٹی میں شامل کروایا گیا۔ خاکروب چہارم کے دور میں دھلنے والے اکثر سیاستدان جیسے شیخ رشید احمد، خورشید محمود قصوری کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ تاہم کئی سیاستدانوں کو دھونے کے بعد ا س نئی پارٹی میں شامل کر لیا گیا جن میں شاہ محمود قریشی کا نام سر فہرست ہے۔

خاکروبوں کے ٹولے نے اپنے سبق اچھی طرح سیکھ رکھے تھے ۔  اب ڈر یہ تھا کہ اگر اس پاک صاف سیاستدان کو ’صاف شفاف‘انتخابات میں اکثریت دلوا دی تو یہ بھی اپنی اوقات نہ بھول جائے (موصوف یوں بھی اپنی اوقات میں کم ہی رہتے ہیں)۔ لہٰذا اسے اکثریت نہیں دلوائی گئی بلکہ انتخابات میں نوازشریف المعروف پٹواریوں والی سرکار کو پوری طرح دھاندلی کرنے دی گئی تاکہ بعد میں اسی بنیاد پر اس کے گلے میں پھندہ ڈالے رکھیں۔ یہ ترکیب بہت کارگر ثابت ہوئی۔ اب نواز شریف کے گلے میں یہ پھندہ  موجود ہے۔

خدا کی خاص مہربانی ہے کہ اس وقت خدا نے پاکستان کو ایک متحرک خاکروب عطا کر رکھا ہے جو بڑے دھڑلے سے جھاڑو چلا رہا۔ دیکھتے ہیں کہ اس بار میدانِ سیاست کی صفائی کس حد تک ہو پاتی ہے۔

Advertisements

4 خیالات “خاندانِ خاکروباں اور گندے سیاستدان” پہ

  1. لالاجی ، یہ روز روز کا رونا بند کرو بہت بور کرتے ہو ۔ سیاستدان اگر ملک کا ستیا ناس نا ماریں تو فوج کو کبھی اقتدار میں آنے کا موقع نا ملے گا۔ رہی بات آپکی تو آپکے خیال میں خود زرداری اور نواز شریف دھاندلی کرتے ہیں تو پھر بچا کون ۔

    • یہی تو جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ زرداری اور نواز شریف کہاں سے آتے ہیں۔ یہ سیاستدان بھی تو خود فوج ہمیں فراہم کرتی ہے۔ خود ہی گندے لوگوں کو ہمارے لیڈر بناتی ہے …. ذولفقار علی بھٹو، نوازشریف، الطاف حسین، عمران خان … یہ سب ہمیں کس نے دئے ہیں؟ فوج کے تربیت یافتہ لوگ ہی ہیں نا… فوج ان کےعلاوہ کسی کو سیاست میں گھسنے ہی نہیں دیتی۔پھر کہتی ہے یہ سیاستدان گندے ہیں، جمہوریت ٹھیک نہیں ہے اس ملک کے لئے۔۔۔۔
      ولی خان، بزنجو، جی ایم سید اور فاطمہ جناح… ان سب لوگوں کو کس نے سائیڈ لائن کیا؟ کیا یہ لوگ آزادانہ انتخابات ہار گئے تھے؟ کیا انہیں عوام نے مسترد کر دیا تھا؟

  2. بہت خوب ! سیاستدان کسی اور ملک سے ” امپورٹ ” نہیں ہوتے اپنے ملک کی پیداوار ہوتے ہیں پر جب سیاسی فصل کو ” چتکبری سنڈی” کا روگ لگ جاۓ تو بھلا اچھا ، پکا ،سچا ، ذہین ، خودار سیاستدان کیسے پیدا ہو ؟

    • بات یہ ہے کہ سیاسی فصل کو چتکبری سنڈی لگ جاتی ہے، لیکن خاکی فصل کون سا سنڈیوں سے پاک صاف ہو تی ہے۔ کیا پاکستان کو کبھی بھلے اچھے، پکے سچے، ذہین اور خود دار سیاستدان کبھی نہیں ملے؟ اگر ملے تھے تو وہ کہاں گئے؟ ان کا راستہ کس نے روکا تھا؟

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s