قصور کا سانحہ اور ہم


rtx1nprjاس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قصور کا سانحہ بہت تکلیف دہ ہے اور ہر کوئی اس کی مذمت کر رہا ہے۔ تاہم ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ محض مذمت سے کام نہیں چلے گا اور ہمیں بحیثیت قوم کچھ سوچنا ہوگا، کچھ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ قصور کا واقعہ محض ایک اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک میں ہونے والے بچوں کے جنسی استحصال کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں۔ 

سب سے پہلے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور یہ سوچیں کہ گزشتہ تیس سے چالیس سال کی مذہبیت نے ہمیں کیا دیا ہے۔ اسلامیات کا مضمون لازمی قرار دیے جانے ، مدرسوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے، اور تبلیغ کے اجتماعات میں بے پناہ شرکت کے باجود ایسا کیا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اور قوم ذلالت کی گہرائیوں میں گرتے چلے جا رہےہیں؟ لالاجی ان وجوہات کا یہاں احاطہ کرنے نہیں جا رہے، بلکہ یہ سوال پوری قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ یہ کام اکیلے لالاجی کے یا کسی بھی فرد کے اکیلے کرنے کا نہیں۔ 

ہم عام طور پر لوگوں سے سنتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جی اپنے بچوں کے لئے کر رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے بچوں کو بہتر زندگی اور بہتر مستقبل دینے کے لئے جدو جہد کر رہا ہے۔ تاہم ہم نے کبھی بھی بحیثیت قوم اور ریاست یہ نہیں سوچا کہ ہم اپنے بچوں کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے (لالاجی میرے یا آپ کے بچوں کی نہیں، سارے پاکستانی بچوں کی بات کررہے ہیں) گلیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بسوں کے اڈوں، مدرسوں، ریلوے اسٹیشنوں اور پبلک پارکوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ 

آخر ہم یہ میٹرو کیوں بنا رہے ہیں؟ ہم نے ایٹم بم کیوں بنایا؟ ہم ہندوستان کے ساتھ کیا مقابلہ کر رہے ہیں؟ ہم روز نت نئے میزائلوں کے تجربات کیوں کیے جارہےہیں؟ کیا ہم یہ سب اپنے بچوں کو تحفظ ، اچھی زندگی اور خوشگوار مستقبل دینے کے لئے کر رہےہیں؟آخر ان بڑے بڑے منصوبوں کا کیا فائدہ اگر ہمارے بچے محفوظ نہیں؟ 

کیا ہم بحیثیت قوم بھی اپنے بچوں کے لئےوہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم انفرادی حیثیت میں کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ یا اپنے بچوں کے لئے کچھ کرنا محض اپنی انفرادی حیثیت میں صرف اپنے بچوں کےلئے کرتے ہیں؟  ہمیں ایک بات اچھی طرح پلے باندھ لینی چاہئے اور وہ یہ کہ اگر ہم اجتماعی طور پر اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کر رہے تو جو کچھ ہم انفرادی طور پر کر رہے ہیں وہ ہمارے بچوں کے تحفظ کے لئے کافی نہیں کیوں کہ ہمارے بچے چھوٹے چھوٹے انفرادی جزیروں پر نہیں اس معاشرے کے سمندر میں رہتے ہیں۔ 

اس واقعہ نے ایک بار ہمارے اس جھوٹ کا پول کھول دیا ہے کہ ہم بہت شرم و حیا والے لوگ ہیں اور ہماری اخلاقیات مغرب سے بہت برتر ہیں۔ لالاجی کو تو بس ساحر لدھیانوی کی نظم یاد آرہی ہے: 

ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟ 

ثناء خوان، تقدیسِ مشرق کو لاؤ

یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منطر دکھاؤ

کیا ہم ایک بار پھر ریت میں سر دے کر یہ کہیں کہ ’نہیں یہ کسی مسلمان کا کام ہو ہی نہیں سکتا‘، ’یہ ہمارے خلاف سازش ہے‘، ’یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے‘۔ ہمارے پاس یہ ایک موقع ہے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا۔ اپنی جھوٹی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر صورت حال کا جائزہ لینے کا اور یہ فیصلہ کرنے کا ہم خود سے بھی اور دنیا سے بھی جھوٹ بولنا بند کر دیں گے۔

ہمیں ایک طرف ملا کو اپنے سر سے اتار پھینکنا ہے جو اس قسم کے جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے یا اس قسم کے جرائم کو چھپانے کی تلقین کرتا ہے (جیسا کہ منور حسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر عورت کے پاس چار گواہ نہیں ہیں تو اسے خاموش رہنا چاہئے)۔ اس واقعہ میں بھی اگر پہلے بچے کے والدین ہی پولیس یا میڈیا کے پاس چلے جاتے تو یہ گروہ اتنی مدت تک سینکڑوں بچوں کو ذلیل نہ کر پاتا۔ جرم کو چھپانا جرم کو ہوا دینا ہے۔ 

ہم بحیثیت قوم جرم کی روک تھام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ جرائم کے لئے سخت سزاؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی بہت سے لوگ مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں کوئی بھی اس بات پر غور کرنے کو تیار نہیں کہ وہ کیا حالات تھے جنہوں نے اس گھناؤنے کھیل کے اتنی لمبی مدت تک جاری رہنے میں مدد دی۔ ایسا کیا کیا جائے کہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔ 

سیکس ایجوکیشن ایک اور اہم چیز ہے جس کے بارے میں کچھ بھی جانے بغیر ہم اس کے سخت خلاف ہیں۔ لالاجی اس حوالے سے پہلے ہی ایک بلاگ "ہمارے مغالطے: سیکس ایجوکیشن میں سیکس کے طریقے سکھائے جاتے ہیں” کے عنوان سے لکھ چکے ہیں (اور یہ بلاگ آئینہ کا سب سے زیادہ پاپولر بلاگ ہے)۔ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ جنس کے موضوع پر بات کرنی ہوگی۔ چنانچہ مہنگے انگریزی میڈیم سکول ہوں یا سرکاری سکول کہیں بھی جنسی تعلیم دینے کی بات کی جائے تو ہمارے کان سرخ ہو جاتے ہیں اور پھر ہم غصے سے پاگل ہو کر بات کرنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں سیکس کے حوالے سے بات کرنا اتنا معیوب نہ سمجھا جاتا، جنسی تعلیم عام ہوتی تو یہ ہمیں یہ صورت حال درپیش نہ ہوتی۔ یہ بچے خودکشیاں کرنے کا نہ سوچ رہے ہوتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اتنی گھٹن نہ ہوتی تو اس طرح کی ویڈیوز بنانے اور انہیں فروخت کرنے کا کاروبار اتنا منافع بخش ہی نہ ہوتا اور لوگ اس کاروبار کی طرف نہ جاتے۔ 

آج بھی اس واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے والوں کی تعداد دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہماری قوم کو اپنے بچوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اس واقعے کے خلاف سخت احتجاج کرے۔ بچوں کی زندگیاں بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ کرے۔ اس صورت حال میں لالاجی کو مستقبل قریب میں پاکستان کے بچوں کے حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے۔ 

Advertisements

مرکزی جامعہ مسجد….از سلیقہ وڑائچ


ہمارے گاؤں کی مرکزی مسجد گاؤں میں امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ جس کا ایک ثبوت مسجد سے ملحقہ ہندؤں کے گھر تھے جو کہ تقسیم کے وقت بھی مسمار نہیں کئے گئے۔اورہندو برادری کے جو لوگ ہندوستان اپنے پیاروں سے جا ملے ان کے گھر نہ صرف صحیح سلامت تھے بلکہ دروازوں پر لگے تالوں کی چابیاں ہمسایوں کے پاس موجود تھیں۔ جو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے تھے ان گھروں میں ہندوستان سے آئے مسلمانوں نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔

گاؤں میں یوں تو سبھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجو550557724_abe3eee570_zد تھے۔ لیکن دو بڑے مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعد میں جن کی تخصیص لمبی داڑھی اور اونچی شلواروں اور سبز پگڑی یا رنگ برنگے چولوں سے کی جا سکتی تھی۔

ان سب کے درمیان بھائی چارے اور یگانگت کا راز مسجد کے امام مولوی ابراہیم تھے۔ وہ اپنے زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جانے مانے طبیب بھی تھے۔ دوردراز سے لوگ ان سےعلاج کروانے آتے تھے۔ اپنےبچوں کو بھی انھوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے بچے مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

میرے  دادا کی مولوی صاحب سے بہت دوستی تھی۔ دادا گھر میں ٹی وی لائے تو مولوی ابراہیم ان کے ساتھ بیٹھ کر خبرنامہ سنتے  تھے۔ ضرورت کے مطابق ٹی وی کبھی مردان خانے یا دالان میں رکھا جاتا تو کبھی خواتین کے لئے برآمدے یا گھر کے اندر۔ اور کبھی صفیں بچھا دی جاتیں اور آگے مرد اور پیچھے خواتین بیٹھ کر پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتے۔ ڈرامہ دیکھتے کسی سین پر خواتین کی سسکیوں کی آواز آتی تو مرد حضرات ہنسنے لگتے اور دادا ڈانٹتے ہو ئے کہتے "کیوں کملیاں ہوئی جاندیاں او، ڈرامہ جے”) کیوں پاگل بن ہی ہو یہ تو ڈرامہ ہے(۔

عبادات کے لئےسختی نہیں تھی لیکن مسجدوں میں صفیں بھری ہوتی تھیں۔البتہ جمعہ کی نماز نہ پڑھنے پر لعن طعن ضرور ہوتی تھی۔ بڑے تایا سست واقع ہوئے ہیں جمعہ کے دن تیاری میں دیر ہو جاتی تو وہ”شاہنی مسجد” میں اہلِ تشیع کے ساتھ نماز ادا کر لیتےکیوں کہ وہاں کچھ تاخیر کےساتھ نماز ادا کی جاتی تھی۔عورتیں بھی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز پڑھتی تھیں۔ پھوپھو سکول میں پڑھاتی تھیں لیکن انھوں نے قرآن کی بہت سی سورتیں حفظ کر رکھی تھیں۔ رمضان اور عبادات کی مخصوص راتوں میں موسم کی مناسبت سے گھر کی چھت پر، صحن میں یا برآمدوں میں گاؤں کی عورتیں ان کی معیت میں ساری ساری رات  عبادت کرتیں۔ ساتھ میں کھانا پینا چلتا رہتا اور عبادت بھی ہو جاتی۔

1986 میں مولوی صاحب کی وفات ہوگئی۔ اُن کے بعد  گاؤں کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کی امامت کا مسئلہ ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گیا۔ مسالک کے لحاظ سے دونوں اکثریتی دھڑے کسی ایک امام پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔ کچھ عرصہ ایک امام آتا اور پھر دوسرا۔ حتیٰ کہ امام پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس نے فلاں آیت کی تشریح غلط کی ہے، ضعیف حدیثوں کی مدد سے ترجمہ بدل دیا ہے یا اس کا نماز پڑھنے کا طریقہ صحیح نہیں، تلاوت ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو بھی امام آتا ذلیل کر کے نکال دیا جاتا۔

پھر اونچی شلواروں اور سیاہ داڑھیوں والے لوگ تین تین دن آکر مسجدوں میں قیام کرنے لگے۔ پھوپھو کو انھوں نے ایک پرچی بھیجی کہ آپ "ثواب کے نام پر گناہ کما رہی ہیں۔ یہ سب روایتیں ہیں عبادت کا یہ طریقہ سراسر غلط ہے”۔ پھوپھو نے اپنی روش نہ چھوڑی لیکن عورتوں نے نماز کے لئے آنا بند کر دیا۔  جمعہ کی نماز کے لئے بھی کوئی خاتون مسجد کا رخ نہیں کرتی تھی۔ عبادت کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا کلچر بھی ختم ہو رہا تھا۔

 لمبی داڑھیوں والوں کا غلبہ دیکھ کر دوسرے مسلک کے لوگ بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے پاکپتن سے کچھ لوگوں کو بلایا اور یوں سبز پگڑی کو تقویت دینے کے لئے تواتر سے مسجد میں گیارہویں کا جلسہ کروایا جانے لگا۔ جس میں مخصوص درود ایسے پڑھا جاتا جیسے اعلانِ جنگ کیا جا رہا ہو۔ دونوں مکتبِ فکر کے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔

 پھر مقامی انتخابات نے جیسےان تنازعات میں نئی روح پھونک دی ۔ ووٹ کی بنیاد بھی مسلک بن گیا۔ قادیانیوں کو گاؤں سے نکال دیا گیا۔ انھوں نے گاؤں سے باہر اپنی زمینوں میں گھر بنا ئے۔ یا کچھ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ شاہنی مسجد کے سپیکر کو بند کروادیا گیا، ذوالجناح کے جلوس کا گاؤں میں داخلہ بند ہو گیا۔ گیارہویں کے ختم والی چیزیں کھانا حرام قرار دے دیا گیا۔

گاؤں میں  ہر فرقہ اپنی بقا کی فکر میں تھا اور اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کر رہا تھا۔ یہ مزاحمت دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ اور نوبت لڑائی جھگڑوں اور مسلح مدافعت کو جا پہنچی۔ یہاں تک کہ کہ گاؤں میں اکا دکا پر اسرار قتل ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ سعودی عرب سے چھٹیاں گزارنے آئے گاؤں کے ایک آدمی نے اپنی زمیں پرسعودی کفیل کے بھیجے پیسوں کی بدولت ایک فرقے کے لئے بہت بڑی جامعہ مسجد اور مدرسہ بنا دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئی بھی فرقہ مرکزی مسجد سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ مرکزی جامع مسجد میں کوئی امام بھی موجود نہ تھا۔ دونوں فرقوں کے لوگ خود جا کر اذان دیتے اور جو پہلے جاتا وہی نماز پڑھواتا۔

سکولوں میں جہادِ کشمیر اور افغانستان کے شہیدوں کی عظمت بیان کی جاتی، خود جہاد سے واپس آئے لوگ وہاں کے رہنے والون کی حالتِ زار بیان کرتے اور جہاد اور جہادیوں  کے لئے چندہ مانگا جاتا ۔ ٹی وی، وی سی آر حرام قرار دے دیا گیا یہاں تک کہ بچوں کے درسی نصاب اورتفریحی رسائل و جرائد میں بھی داڑھی، نماز، جہاد اور شہادت کی ترغیب دی جاتی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم گاؤں آئے ہوئے تھے۔ایک دن عصر کے وقت  چاچو اور ان کا ایک ساتھی تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے، جلدی جلدی ادھر اُدھر دیکھا۔ اور کچھ نظر نہ آیا تو چولہے سے جلتی ہوئی لکڑی اُٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ کے آدمی نے جس کے ہاتھ میں ہاکی تھی امی کو جلدی میں اتنا بتا یا کہ "وہ مار رہے ہیں ہمیں مسجد میں” اور چاچو کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے پہلی بار اپنے پڑھے لکھے چچا کا یہ روپ دیکھا تھا۔ میں خوف سے چیخنے لگی۔ چھوٹے چاچو کو پتا لگا تو وہ بھی اپنی بندوق کندھے پر ڈالے مسجد کو دوڑے۔ امی اور پھوپھو روکتی رہ گئیں۔ لیکن انھوں نے پھوپھو کو دھکا دیا اور باہر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔

 مسلسل لڑائی جھگڑے اور تنازعات کی وجہ سے مرکزی مسجد کو پولیس نے ہمیشہ کے لئے تا لا لگا دیا۔ چھوٹے چاچو کو کندھے میں گولی لگی ۔بڑےچاچو بھی زخمی تھے ان کو بھی گہری چوٹیں آئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمے درج کروائے۔ بہت عرصہ مقدمے چلتے رہے اور بالآخر فریقین میں صلح ہوگئی ۔لیکن گاؤں کا امن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گیا۔ جس کے مالی حالات اجازت دیتے تھے وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کی غرض سے گئے اور ہمیشہ کے لئے زمینیں بیچ ، گاؤں چھوڑ گئے۔ پرائمری ، مڈل سطح کےسکول ہیں تو سہی لیکن استاد ندارد اور کسی کو فکر بھی نہیں۔

 وہاں اب بھانت بھانت کی مسجدیں ہیں اور کئی طرح کے عقیدے۔ بھوک ہے،غربت،افلاس اور بوسیدہ عمارتیں۔ اماں کا گیتوں میں گایا،سراہے جانے والا، میلوں کے لئے سجایا جانے والا گاؤں اجڑ گیا ہے۔ اب وہاں گلیاں اتنی سنسان اور اتنی خاموشی ہے کہ قبرستان کا گماں ہوتا ہے۔ ہم تو کیا ہمارے بڑے وہاں جا کر رہنے کو تیار نہیں۔ اماں زکوٰۃ ،فطرانہ یا قربانی کا گوشت دینے جاتی ہیں اور واپس آ کر دیر تک گئے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔

عورتوں کو دیکھنا!… باپ کی بیٹے کو نصیحت


father-sonاردو ترجمہ: سلیقہ وڑائچ

اصل متن

کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے بیٹے سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی شہوت بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی شہوت کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے بیٹے سے یہ باتیں کرناہی ہوں گی۔

***********

بیٹا یہاں آؤ بات سنو۔ دیکھو میرا مقصد تمھاری اہانت ہے نہ میں ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ تم کن نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو۔مجھے یہ بھی پتا ہے تم نے ایسا کیوں کیا ۔ لیکن دیکھو کسی عورت کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔

بیٹا بہت سے لوگ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ عورت کو اپنے لباس کا دھیان رکھنا چاہئے اور ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے کہ تم اُسے غلط نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاؤ۔ لیکن پتا ہے میں تمھیں کیا کہوں گا۔” یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ صبح کیسا لباس پہن کر نکلتی ہے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُسے انسان سمجھیں چاہے وہ جیسا بھی لباس پہن کر نکلی ہو”۔

تمہارا دل چاہے گا کہ اس کے جسم کا طواف کرتی اپنی نگاہوں کا الزام تم اس پر دھر دو کہ اُس نے کیا پہنا ہوا ہے یا نہیں پہنا ہوا۔  لیکن ایسا مت کرنا۔ مظلوم بننے کی کوشش مت کرنا۔ یہ آنکھیں تمہاری ہیں ، تم ان کے معاملے میں مجبور اور بے بس نہیں ہو۔ تمہیں اپنی آنکھوں پر پورا اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرو۔ اپنی آنکھوں کی تربیت کرو کہ وہ اُس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھیں۔ خودتہذیبی کا ثبوت دو اور اُس لڑکی کو دیکھنا سیکھو، نہ کہ اُس کے لباس یا جسم کو۔ یاد رکھو جس لمحے تم نے اس معاملے میں خود کو مجبور اور بے بس تسلیم کر لیا تو تم اس خود فریبی میں مبتلا ہو جاؤ گے کہ تمہارا یہ فعل محض ایک بیرونی تحریک کا قدرتی رد عمل ہے جس پر تمہارا کوئی قابو نہیں، تم صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر سکتے، گوشت پوست کے جسم اور انسان میں فرق نہیں کر سکتے۔

 دیکھو، یہ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔ تم اتنے بےاختیار نہیں ہو اور جس لڑکی کو تم دیکھ رہے ہو وہ اپنے کپڑوں سے سوا بھی بہت کچھ ہے۔وہ اپنے جسم سے سوا بھی کچھ ہے۔ بہت باتیں ہوتی ہیں کہ کیسے مرد عورت کو ایک ’چیز‘ بنا دیتے ہیں اور یہ بہت حد تک سچ بھی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم لوگ جس چیز سے محبت کرتے ہیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تم سچ مچ کسی انسان سے محبت کرتے ہو تو پھر اُسے ’چیز‘ مت سمجھو۔ جس لمحے تم کسی انسان ، چاہے وہ عورت ہو کہ مرد، کو چیز سمجھنا شروع کر دیتے ہو ، تم انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہو۔

 ایک عورت کو کیا پہننا چاہیے یا کیوں پہنتی ہےاس بارے میں تمھیں دو  طرح کی رائے ملے گی۔ ایک یہ کہ وہ لباس اس لئے پہنتی ہے تاکہ مرد کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔  دوسرا خیال یہ ہےکہ عورت اپنا آپ اس لئے ڈھانپے تاکہ مرداُس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ بیٹا ، تم ان دونوں سے بہتر سوچ اپناؤ۔  کسی عورت کو بلکہ کسی بھی انسان کو تمھاری توجہ کیلئے لباس کا سہارا کیوں لینا پڑے۔ تم سب انسانوں کو اپنے ساتھی سمجھو اور لباس سے قطع نظر ان کو وہ توجہ دو جس کے وہ مستحق ہیں۔ اور پھر ایک عورت کو یہ کیوں لگے کہ اسے تمھیں تمھاری حد میں رکھنے کیلئے لباس پہننا پڑے گا۔ تمھارا اپنا آپ تمھارے اپنے اختیار میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور کے۔

بد قسمتی سے جنسِ مخالف سےتعلق کی نوعیت یا رابطے کا تعین اندیشوں کی نظر ہو کر رہ گیا ہے۔ مثلاً مسترد کئے جانے کا خوف، ناشائستہ یا غیر مہذب ہونے کا اندیشہ اور آپے سے باہر ہونے کا ڈر۔ کسی حد تک اس میں مذہب بھی ملوث ہے۔ ہم ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ دوسرا تمہارے لئے خطرہ ہے۔ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ عورت کا جسم مرد کو گناہ پر اکساتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر عورت اپنے جسم کی نمائش کرے گی تو مرد بیہودہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو گا۔ ایک بات واضح طور پر سمجھ لو۔ ۔ ۔ ۔ عورت کا جسم بالکل بھی خطرہ نہیں ہے۔ عورت کا جسم تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم گھٹیا حرکتیں کرتے ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ تم گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو۔ سو عورتوں اور مردوں کے درمیان موجود اس خوف کو تقویت نہ دو۔

عورت کا جسم بے حد پر کشش، پر اسرار اور مرد کے لئے ایک حیرت کدہ ہے۔ اس کے جسم کا احترام کرو۔ یہ احترام تم تب کر پاؤ گے جب تم عورت کی عزت کرو گے۔ عورت کی عزت کرو، اس کے جذبات، احساسات ،خواہشات، امنگوں، خوابوں اور زندگی کے تجربات کی قدر کرو۔ اسے  اعتماددو۔ اس کی حوصلہ افزائی کرو۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اس گمان کو بھی دل میں نہ آنے دینا کہ وہ کسی بھی طرح تم سے کمتر یا کمزور ہے۔ سنو عورت کمزور ہر گز نہیں ہے ۔ وہ صنف ِ نازک نہیں، وہ صنف ِ دیگر ہے۔

میری ان باتوں کابالکل بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم عورتوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دو۔ ہر گز نہیں، بلکہ اس کے برعکس میں تمہیں کہتا ہوں کہ انہیں دیکھو، ضرور دیکھو، انہیں سچ مچ دیکھو، صرف ظاہر آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے ۔ ایسے نہیں کہ وہ تمہارے احساسات کو گد گدائیں، بلکہ اُن کے اندر کے ایک بھرپور انسان کو دیکھو۔

مجھے امید ہے کہ جب تمہارا عورت کو دیکھنے کا انداز بدل جائے گا تو اُس وقت تمہارا رویہ بھی مختلف ہوگا جب تم عورتوں کے آس پاس ہوگے۔ اُن کے آس پاس مت منڈلاؤ، اُن کے ساتھ رہو,۔کیونکہ بہر حال وہ تمہارے ساتھ بلا خوف و خطر رہنا چاہتی ہیں۔ بغیر اس خوف کے کہ اُن کے کردار پر تم انگلی اُٹھاؤ گے، بغیر اس خوف کے کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کی تذلیل کرو گے، بغیر اس خوف کہ تم انہیں ’چیز‘ سمجھو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کو کوئی دوسری صنف سمجھو گے۔ اور یہ صرف عورتیں ہی نہیں چاہتیں، یہ سب انسان چاہتے ہیں۔ بلکہ تم خود بھی دوسروں سے یہی کچھ چاہتےہو۔

خاندانِ خاکروباں اور گندے سیاستدان


Untitled

برصغیر میں جب مسلمانوں کی حکومت قائم ہو ئی تو سب سے پہلے خاندانِ غلاماں نے حکومت کی۔ جب مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کر لیا تو پاکستان میں خاندانِ خاکروباں کی حکومت قائم ہو گئی اور ان ہی کی حکومت قائم چلی آرہی ہے بس کبھی پردے کے پیچھے سے حکومت کرتے ہیں، کبھی پردے کے آگے آ جاتے ہیں۔ خدا کے فضل سے پاکستان خاکروبوں کے معاملے میں خود کفیل ہے۔

ہر بار حکومت کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ملک میں بہت گندگی پھیل گئی ہے وہ صاف کرنے آئے ہیں۔ تاہم دس دس سال تک گندگی صاف نہیں ہو پاتی۔ جاتے ہیں تو پہلے سے زیادہ گندگی چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں بار بار یہی بتاتے ہیں کہ سیاستدان گندے ہیں مگر کبھی بھی گندے سیاستدانوں پر ان کی گندگی کی بنیاد پر مقدمے نہیں بناتے۔ بناتے بھی ہیں تو ان مقدمات میں انہیں سزائیں نہیں دلوا پاتے ( یا پھر دلوانا ہی نہیں چاہتے ،یعنی گندگی صاف کرنا ہی نہیں چاہتے)۔

ہیں؟ آئیے ذرا دیکھیں تو سہی کہ ان خودساختہ خاکروبوں نے میدانِ سیاست کی گندگی کیسے صاف کی:

خاکروبِ اوّل جنرل ایوب خان :

خود ساختہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کو پاک فوج کے پہلے مقامی سربراہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایوب خان سے پہلے پاک فوج کی سربراہی (پاکستان بننے کے بعد بھی) انگریز جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی۔ جب جنرل صاحب نے فوج کی سربراہی کی بھاری ذمہ داری اٹھائی تو میدانِ سیاست گندگی سے اٹا پڑا تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل کا مقدمہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہا تھا۔ ملک کئی سال گزرنے کے باوجود آئین سے محروم تھا ، نہرو کہتا پھر رہا تھا کہ اتنی جلدی میں اپنی شیروانی نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان وزیر اعظم بدل لیتا ہے (پاکستان میں 1951سے 1958تک سات سال کے عرصے میں سات وزیر اعظم بدلے گئے) ۔

ایسے میں پاکستان کو ایک عظیم خاکروب کی ضرورت تھی۔ جنرل صاحب کو پتہ تھا (اور جنرل صاحب اس خیال کا برملا اظہار بھی کرتے تھے) کہ پاکستان کے عوام جاہل ہیں چنانچہ اس گندگی کی صفائی پاکستان کے عوام پر چھوڑنے کی حماقت کرنے کی بجائے انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ حماقت وہ خود کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مارشل لا ء لگا دیا۔ چن چن کر صاف ستھرے سیاستدان اکٹھے کئے ۔ کسی گندے سیاستدان کو پھڑکنے نہیں دیا حتیٰ کہ فاطمہ جناح  کو بھی نہیں۔ اس قوم کی ماں پر بھی انہیں بھروسہ نہیں تھا کہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور اس قوم کی رہنمائی کے قابل نہیں رہی تھی۔

ان کے چنیدہ صاف ستھرے سیاستدانوں میں ایک نوجوان ذولفقار علی بھٹو بھی تھا۔بھٹو کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کیوں کہ موصوف کا تعلق ایک غدار صوبے سے تھا اور قوی امکان یہ تھا کہ غدار صوبے سے ایک صاف ستھرے سیاستدان کے چناؤ سے اس صوبے کو واپس قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔   یہ نوجوان سیاست کی آلائشوں سے پاک تھا۔ ہمارے عظیم خاکروب نے اس صاف ستھرے اور انتہائی باصلاحیت نوجوان کو اپنی اولاد کا درجہ دیا ، اس کی سیاسی تربیت کی، اسے ملکوں ملکوں گھومنے اور دنیا کے دیگر عظیم سیاسی لیڈروں سے ملنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے خارجہ امور کا وزیر مقرر کردیا۔ یہ تربیت لگ بھگ آٹھ سال جاری رہی۔ اس صاف شفاف سیاستدان نے جنرل صاحب کی کشتی ڈوبنے سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دی ۔

اب خاکروب اول اور دوئم کے درمیان کیا بیتی یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ بتانے والے کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا۔

خاکروبِ دوئم، جنرل یحیٰ خان:

جب خاکروبِ دوئم نے جھاڑو سنبھالا تو میدانِ سیاست (اگرچہ سیاست کے میدان میں گزشتہ گیارہ سال سے  خاکروبِ اوّ ل کے علاوہ کوئی نہیں تھا) میں بہت گندگی پائی جاتی تھی۔ خاکروبِ اوّل جب صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیت میں مشغول تھے تو ان کا دھیان نہیں رہا اور ملک میں قسم قسم کے گندے سیاستدان نشونما پاگئے خاص طور پر مشرقی حصے میں۔یہ حصہ  صاف ستھرے سیاستدانوں کی تربیتی اکیڈمی واقع اسلام آباد سے کافی دور  تھا اس لئے اس پر نظر رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ مشرقی پاکستان  کو گندے سیاستدان پیدا کرنے میں ایک عجیب ملکہ حاصل تھا۔ پھر وہاں کے لوگ گندے سیاستدانوں کے ایسے مرید ہو گئے تھے کہ گولی سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔  خیر خاکروبِ دوئم کو بھی گند صاف کرنے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے لاکھوں گندے لوگوں کو مار ڈالا، ان کے جمعدار جنرل ٹائیگر نیازی نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی نسل بدلنے کی بھی بھرپور کوشش کی تاہم گندگی پر قابو پانا مشکل ہوگیا تو فیصلہ ہوا کہ مشرقی پاکستان ہی سے جان چھڑا لی جائے۔ اس غلاظت کو صاف کرنے میں ہمیں ہمارے دشمن ملک بھارک کا بھی بھرپور تعاون حاصل رہا۔

خاکروبِ دوئم نے فوری ایکشن کر کے مشرقی پاکستان کا گند صاف کر دیا تاہم انہیں ملک کو ایک اچھا سیاستدان دینے کا موقع نہیں ملا۔ خیر اس کی ایسی کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ خاکروبِ اوّل کے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان جناب ذولفقار علی بھٹو کو تب تک آزمانے کا موقع نہیں ملاتھا۔ چنانچہ خاکروبِ دوئم نے کمال دریا دلی کا مظاہر کرتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور بھٹو صاحب کو تھمائی اور خود بن باس لے لیا۔ اقتدار کی ہوس سے پاک ایسا خاکروب پاکستان کو دوبارہ نصیب نہیں ہوا۔

خاکروب ِ سوئم، جناب جنرل ضیاع الحق:

ذولفقار علی بھٹو پر آٹھ سال کی محنت اگرچہ پوری طرح تو ضائع نہیں ہوئی مگر ملک اور قوم کے زیادہ کام بھی نہیں آئی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو داخل دفتر کر دیا گیا۔ تاہم ملک کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے۔ کچھ گندے سیاستدانوں  جنھوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے نیشنل عوامی پارٹی کا نام دے رکھا تھا کو غداری کے مقدمے میں جیلوں میں ڈالا گیا مگر یہ مقدمہ کسی کنارے نہیں لگ رہا تھا۔ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی جس پر قوم سراپا احتجاج بن گئی۔ سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرنا معمول بن گیا۔ ادھر افغانستان میں کمیونسٹ آدھمکے تھے اور بہت خطرہ تھا کہ ملک پر لادین قوتوں کا سایہ پڑے گا اور بہت گند مچے گا۔ چنانچہ ضروری ہو گیا تھا کہ میدانِ سیاست کو صاف کیا جائے۔ چنانچہ اس بار ایک پاک صاف پابند ِ صوم وصلوٰۃ خاکروبِ سوئم جناب جنرل ضیاع الحق نے جھاڑو سنبھالا اور جھُرلُو پھیر دیا۔

جناب کو بھٹو پر ملک و قوم سے غداری کا اتنا قلق تھا اور خاکروبِ اوّل اور دوئم کے کئے کرائے پر پانی پھرجانے پر اتنا غم و غصہ تھا کہ انہوں نے بھٹو کو گندے سیاستدانوں کو سبق سکھانے کے لئے مثال بنانے کا عہد کیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ تاہم بھٹو مرا نہیں، کہتے ہیں بھٹو اب بھی زندہ ہے۔ واللہ اعلم باالصواب…!!!

اس بار فیصلہ ہو اکہ پاک صاف سیاستدان کسی غدار صوبے سے نہ لیا جائے بلکہ پنجاب جیسے محب وطن صوبے سے لیا جائے۔ اس مومن خاکروب کے ایک ساتھی کی نظر ایک لاہور کے ایک نہایت ہی شریف اور گناہوں سے پاک معصوم نوجوان پر پڑی اور اس نے سوچا کہ اس سے بہتر شخص پاکستانیوں کی رہنمائی کے لئے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس نے اس معصوم شخص کی سیاسی تربیت شروع کر دی۔ اسے چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے الیکشن لڑوا کر صوبائی وزیر خزانہ اور پھر صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے تک کا سفر کروا دیا۔

اگرچہ بھٹو عوام میں مقبول ہر گز نہیں تھا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ موصوف کے جنازے میں مشکل سے چار لوگ ہوں گے مگر سندھ میں بھٹو کے زندہ ہونے کی افواہیں تاحال گونجتی رہتی ہیں۔ چنانچہ سندھ میں بھٹو کو مارنے کے لئے مہاجر وں کو زندہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے الطاف حسین جیسا مہاجروں کے دردکو محسوس کرنے والا نوجوان مل گیا تھا۔ اس کی سیاسی تربیت پر بھی پوری توجہ دی گئی ۔

پسِ پردہ خاکروبوں کادور:

1988میں مومن خاکروب کی ناگہانی موت کے بعد اس کے ساتھیوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ ڈر یہ تھا کہ ملک کے بھولے بھالے عوام نے ایک گندی سیاست دان جو کہ اس ملک کے لئے سکیورٹی رسک کا درجہ رکھتی تھی کو ووٹ دے دینا ہے ۔ لہٰذا مہران بنک وغیرہ سے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکال کر اچھے سیاستدانوں میں بانٹے گئے۔ عظیم تر قومی مفاد میں کے لئے غیر قانونی طریقے سے پیسے نکالنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ خیر بے نظیر بھٹو جیسی غلیظ سیاست دان کی حکومت کو جلد ہی لپیٹ دیا گیا اور اچھے سیاستدانوں کی حکومت قائم کر دی گئی۔

مگر کیا کہیں صاحب… طاقت اور اختیار اچھے اچھوں کو خراب کر دیتا ہے۔ چنانچہ نواز شریف بھی طاقت اور اختیار ملتے ہی بے قابو ہو گیا اور گندا سیاست دان بن گیا۔ اس سے بھی پیچھا چھڑانا پڑا۔ بڑی لے دے ہوئی ، ساری محنت پر پانی پھر گیا ۔انتخابات ہوئے  اورپھر سے اسی گندی سیاست دان عورت کی حکومت قائم ہو گئی۔ چار و ناچار اسے دو تین سال مزید  برداشت کرنا پڑا۔ پھر سوچا کہ نواز شریف کو عقل آگئی ہو گی  چنانچہ اس کی حکومت دوبارہ قائم کروائی گئی (اس سلسلے میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں کی گئی)۔ مگر نوازشریف کی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی۔

اس دور میں ایک اور صاف ستھرے ، ایمان دار اور نیک شخص کو تلاش کیا گیا اور اس کی سیاسی تربیت کے لئے خصوصی اہتمام کیا گیا۔ یہ فریضہ جناب قاضی حسین احمد اور حمید گل کو سوپنا گیا جو ایک عرصے تک مشرقی پاکستان کے الگ ہونے  کے درد کو مٹانے کے لئے افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لئے سرگرداں رہے مگر بے نظیر بھٹو جیسی غدارِ وطن سیاستدان جسے اس ملک کے جاہل مزدوروں اور کسانوں نے ووٹ دیے تھے نے حمید گل کے اس  عظیم منصوبے پر پانی پھیر دیاتھا  اور حمید گل کو خاکروبی عہدے سےبھی ہاتھ دھونا پڑ گیا۔

کہتے  ہیں کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہوتا ہے۔ بھٹو ہو یا نواز شریف جو بھی سیاست کے آلودہ میدان میں اترا، خود بھی گندا ہو گیا۔ محب وطن خاکروبوں کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ نواز شریف بھی گردن تک سیاست کی آلودگیوں میں دھنس چکا تھا۔ پٹواریوں کی مدد سے انتخابات جیتنا،وکیل کی بجائے جج کر لینا،اپنا سریا بیچنے کے لئے بڑے بڑے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنا، ہندوستان سے تعلقات ٹھیک کرنے کی خواہش، خاکروب یونین کواپنے ماتحت کرنے کی غدارانہ کاوشیں اور خاکروبانہ اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہونا … یہ سب کچھ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہا تھا۔  میدانِ سیاست کی گندگی ناقابلِ برداشت ہو گئی۔

خاکروبِ چہارم، پرویز مشرف روشن خیال:

میدانِ سیاست ایک بار پھر گندگی سے اٹ چکا تھا۔ بھولے بھالے عوام کو تو سمجھ بوجھ تھی نہیں۔ انہوں نے پھر انہی گندے سیاستدانوں کو ووٹ دے دینے تھے۔ لہٰذا ایک بار پھر اس گندگی کو صاف کرنے کے لئے ضرور ی ہو گیا تھا کہ ایک نیا خاکروب میدان میں آئے۔

مومن خاکروب کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد جو نیا خاکروب آیا اس نے سوچا کہ کوئی نیا طریقہ کار اپنا یا جائے۔ چنانچہ اس بار اعتدال اور روشن خیالی کا جھاڑو چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ زیادہ مارا ماری نہیں کی گئی۔ نواز شریف کو اٹک کے قلعے میں قید کیا گیا مگر پھانسی نہیں دی گئی مبادا یہ بھی ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائے۔ نواز شریف جیسے گندے سیاستدان کو ابدی زندگی سے محروم کرنے کے بعد خاکروبِ چہارم جناب پرویز مشرف نے گندگی صاف کرنے کے لئے گندے سیاستدانوں کو دھونا شروع کر دیا۔ چھوٹے موٹے سیاستدانوں کو تو مقامی طور پر ہی دھو لیا گیا اور جھاڑ پھٹک کر استعمال کے قابل بنا لیا گیا۔ ان سیاستدانوں میں چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہیٰ، آفتاب شیرپاؤ، فیصل صالح حیات اور شیخ رشید احمد قابلِ ذکر ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف میں گندگی بہت زیادہ تھی جو اٹک کے قلعے میں بھی صاف نہیں کی جاسکی تو آخر کار ان دونوں بھائیوں کو خاندان اور نوکر چاکر سمیت جدہ بھجوا دیا گیا ۔ امید کی جارہی تھی کہ  مکہ مدینہ کے قریب رہنے سے ان کے اندر کی غلاظت صاف ہو جائے گی۔

بے نظیر بھٹو اس دور کی ایک اور گندی سیاست دان تھی مگر وہ پرویز مشرف کے جھاڑو اٹھانے سے پہلے ہی ملک سے بھاگ چکی تھی اس لئے اس کی دھلائی کا خاطر خواہ موقع خاکروب چہارم کو نہیں مل سکا۔ اگرچہ موصوفہ کے شوہر نامدار جو کہ اپنی بیگم سے بھی زیادہ غلیظ واقع ہو ئے تھے جیل میں تھے  اور ان کی دھلائی کی پوری کوشش کی گئی۔ ان کی تسلی بخش دھلائی کے بعد کوشش کی گئی کہ انہیں ملک سے باہر بھیج کر ان کے بدلے میں ان کی بیگم کو واپس لایا جائے تاکہ ان کی دھلائی بھی ہو سکے مگر یہ حربہ ناکام رہا۔ بے نظیر بھٹو واپس نہ آئیں۔

بے نظیر بھٹو بہت چالاک اور مکار سیاستدان تھی۔ اس کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ اعتدال اور روشن خیالی جیسی بے کار باتوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔ چنانچہ اسے پاکستان کی لانڈری سے گزارنے کے لئےیہ وعدہ کرنا پڑا کہ اس کی دھلائی نہیں کی جائے گی۔ کچھ عالمی طاقتوں کی ضمانتیں بھی فراہم کر دی گئیں۔

وعدے کے مطابق اسے لانڈری سے نہیں گزارا گیا بلکہ صفحہ ہستی ہی سے مٹا دیاگیا۔ خیال یہ تھا کہ اتنی چالاک  اور ضدی سیاستدان کا کچھ نہیں ہو سکتا جس نے اپنے باپ ذولفقار علی بھٹو کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔ بے نظیر بھٹو کی موت کا اس کے چالاک شوہر نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ملک کا صدر بن گیا۔ یہ شخص خاکروبوں کی توقع سے بھی زیادہ چالاک نکلا اور خاکروب چہارم کے خلاف ایسا گھیرا تنگ کیا کہ اسے بھاگتے ہی بن پڑی۔

پسِ پردہ خاکروبوں کو دوسرا دور:

ملک بہت نازک دور سے گزر رہا تھا۔ امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہو چکی تھی۔ گندے سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لئے خاکروب چہارم کو ملاؤں کے ساتھ ہاتھ ملانا پڑا (یا ان کی طرف سے آنکھیں بند کرنا پڑیں) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملا خود ایک عفریت کی شکل اختیار کر گئے۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف اور آصف زرداری جیسے مکار سیاستدانوں کو اکثریت حاصل تھی لہٰذا پس پردہ خاکروب کو بہت سوچنا پڑتا تھا۔ اس لئے اس دور کے خاکروب کو عوام کی طرف سے ’مفکرخاکروب‘ کا خطاب ملا۔بدقسمتی سے اس دور میں ہندوستان میں بھی ایسی حکومت تھی جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی ناپاک خواہش رکھتی تھی۔ اتنے سارے محاذوں پر لڑنا آسان نہیں تھا مگر ’مفکر خاکروب‘ نے یہ چومکھی لڑائی بڑی مہارت سے لڑی۔

اس دوران میں نئے انتخابات کا وقت آگیا اور فیصلہ ہوا کہ نئے تربیت یافتہ صاف ستھرے سیاستدان کو میدان میں اتارا جائے۔ بہت سے گندے سیاستدانوں کو دھو دھو کر اس کی پارٹی میں شامل کروایا گیا۔ خاکروب چہارم کے دور میں دھلنے والے اکثر سیاستدان جیسے شیخ رشید احمد، خورشید محمود قصوری کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ تاہم کئی سیاستدانوں کو دھونے کے بعد ا س نئی پارٹی میں شامل کر لیا گیا جن میں شاہ محمود قریشی کا نام سر فہرست ہے۔

خاکروبوں کے ٹولے نے اپنے سبق اچھی طرح سیکھ رکھے تھے ۔  اب ڈر یہ تھا کہ اگر اس پاک صاف سیاستدان کو ’صاف شفاف‘انتخابات میں اکثریت دلوا دی تو یہ بھی اپنی اوقات نہ بھول جائے (موصوف یوں بھی اپنی اوقات میں کم ہی رہتے ہیں)۔ لہٰذا اسے اکثریت نہیں دلوائی گئی بلکہ انتخابات میں نوازشریف المعروف پٹواریوں والی سرکار کو پوری طرح دھاندلی کرنے دی گئی تاکہ بعد میں اسی بنیاد پر اس کے گلے میں پھندہ ڈالے رکھیں۔ یہ ترکیب بہت کارگر ثابت ہوئی۔ اب نواز شریف کے گلے میں یہ پھندہ  موجود ہے۔

خدا کی خاص مہربانی ہے کہ اس وقت خدا نے پاکستان کو ایک متحرک خاکروب عطا کر رکھا ہے جو بڑے دھڑلے سے جھاڑو چلا رہا۔ دیکھتے ہیں کہ اس بار میدانِ سیاست کی صفائی کس حد تک ہو پاتی ہے۔