اس جنگ میں آپ کس کے ساتھ ہیں۔۔۔از سلمان حیدر


Pakistan-Army

(سلمان حیدر نے قوتِ قاہرہ یا جابرانہ قوت کی اصطلاحات بار بار استعمال کی ہیں۔ سیدھے سے لفظوں میں ان سے مراد پاک فوج ہے اور پاک فوج کےمفادات ہیں: لالاجی)

میرے کچھ دوست موجودہ صورتحال میں ریاست کی قوت قاہرہ خاص طور پر فوج کے کردار پر میری تنقید پڑھ کر مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ریاست کا کردار تبدیل ہو رہا ہے اور ریاست اپنی جابرانہ قوت کو ان طاقتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے جنہیں اس نے خود بنایا تھا اس لیے مجھے ریاست پر تنقید ترک کر دینی چاہئیے۔ کچھ دوستوں کے خیال میں مجھے ریاست پر تنقید ترک ہی نہیں کرنی چاہئیے اس کی حمایت کرنی چاہئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
میرا خیال یہ ہے کہ میرے ان دوستوں کو میرا موقف معلوم نہیں یا میں انہیں سمجھا نہیں پایا۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان دوستوں میں سے اکثریت دہشت گردی یا یوں کہیے کے مذہبی دہشت گردی کو اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہے جبکہ میں مذہبی دہشت گردی کو مسئلے کے ایک ظاہری پہلو کے طور پر دیکھتا ہوں۔
میری رائے میں مسئلہ مذہبی دہشت گردی سے بڑھ کر ریاست کی قوت قاہرہ کی جانب سے اپنے مفادات کے تحفظ اور بڑھوتری کے لیے غیر ریاستی یا نجی مسلح گروہوں کی سرپرستی ہے۔ یہ سرپرستی مذہبی گروہوں کو بھی حاصل رہی ہے اور اس سے نام نہاد لبرل جماعتوں کے مسلح ونگ بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔(12 مئی امید ہے کافی دوستوں کو یاد ہو گا۔) یہ سرپرستی ان مسلح جتھوں کے ذریعے ریاست سے باہر خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے اور ریاست کے اندر ریاست کی قوت قاہرہ کی طاقت پر سوال اٹھانے والوں یا مفادات کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ افغانستان ہو یا ہندوستان کراچی ہو یا فاٹا اور بلوچستان مسلح جتھے بنانا انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا تقسیم کرنا دو یا دو سے زیادہ فریقوں کی ایک ہی وقت میں پشت پناہی کرنا اور یہاں تک کے انہیں آپس میں لڑوا دینا بھی اس ساری سیاست کا حصہ ہے۔
اس مسئلے میں ایک اہم چیز یہ بھی ہے کے یہ جتھے روبوٹس پر مشتمل نہیں ہوتے ان کو چلانے والوں کے اپنے مفادات بھی ہوتے ہیں اور انہیں جس نظریے پر بنایا جاتا ہے ان کے ایکشن میں اس کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مثلا میں یہ نہیں سمجھتا کے فوج شیعوں یا عیسائیوں یا ہندوؤں کے خلاف ہے لیکن جب اس کے مفاد کے لیے کام کرنے والے گروہ اپنے نظریے کے تحت ان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو فوج انہیں نظر انداز کرتی ہے بلکہ کئی بار غیر فوجی ریاستی اداروں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ گروہ اپنے مفادات یا/اور نظریات کی بنیاد پر یہ اپنے بنانے والوں سے الجھ بھی پڑتے ہیں اور ایک بار الجھ پرنے کے باوجود ان کی صلح بھی ہو جاتی ہے۔ منگل باغ سے نیک محمد تک حالیہ مثالیں بھی بہت ہیں اگر آپ افغان جہاد میں نا جانا چاہیں تو۔
بلوچ قوم پرستوں کے خلاف مذہبی گروہ ہوں پاکستانی طالبان کے خلاف لشکر ہوں ایم کیو ایم حقیقی یا غیر حقیقی ہو سپاہ صحابہ ہو یا جماعتہ الدعوہ وغیرہ ان میں سے ہر ایک کو کسی نا کسی وقت فوج کی سرپرستی رہی ہے۔ ان میں سے کسی ایک قسم کے جتھوں کو اس وقت دبایا جا رہا ہے تو اس کے مقابل دوسرے کی سپورٹ کی جارہی ہے۔ کراچی میں متحدہ زیر عتاب ہے تو حقیقی واپس آ رہی ہے اور سپاہ صحابہ بھی موجود ہے۔ فاٹا میں متعدد لشکر بنائے لڑائے توڑے گئے ہیں اور کن کے خلاف جنہیں ان لشکروں سے پہلے بنایا اور لڑایا گیا تھا۔ بلوچستان میں مذہبی گروہ قوم پرستوں یا آزادی چاہنے والوں کے خلاف فوج کے ساتھ ہیں۔ پنجاب میں جماعتہ الدعوہ کو بھرپور سرپرستی حاصل ہے پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے علاقے میں واپس آ چکے ہیں۔
مقصد ان ساری مثالوں اور گفتگو کا یہ کے فوج کے اس وقت اپنے وقتی مفادات کے تحت ایک خاص قسم کے جتھوں کے خلاف ہو جانے کو اس مسئلے کا حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسئلہ حل تب ہو گا جب فوج اپنے مفادات کے تحت مسلح اور غیر مسلح جماعتیں اور جتھے بنانا اور انہیں استعمال کرنا چھوڑ دے گی۔ ورنہ کل ایک اور دشمن ایک اور وجہ ایک اور جنگ سامنے آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
مجھ سے کل ایک دوست نے پوچھا کے میری سمجھ میں نہیں آتا کے آپ فوج کے ساتھ ہیں یا طالبان کے تو میں نے اسے یہی جواب دیا کے اس جنگ اور آپریشن میں کام ہی یہ کیا گیا ہے کہ ایسا گھڑمس مچاؤ کہ اس لڑائی کی صرف دو سائیڈیں نظر آئیں اور اس کے بعد لوگوں کو ایک سائیڈ منتخب کرنے پر مجبور کر دو۔ ایسا نہیں ہے اس جنگ میں مارے جانے والوں کی اکثریت کسی طرف نہیں ہیں۔ میں انکی طرف ہوں۔

Advertisements