اسلامی بنکنگ بمقابلہ غیر اسلامی بنکنگ

[نوٹ: ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ اس مضمون میں دیے گئے اعداد وشمار درست ہوں۔ تاہم اگر کسی قسم کی غلطی پائی جائے تو اُس کے لئے پیشگی معذرت۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگرآپ کسی بنک سے لین دین کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ہمارے دیے گئے اعدادوشمار پر انحصار نہ کریں بلکہ خود متعلقہ بنک کے عملے سے رابطہ کر کے تازہ ترین اعدادو شمار حاصل کریں۔]

اعدادو شمار اکٹھے کرنے لئے پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی کے نعمان نے اہم کردار ادا کیا

پچھلے چند برسوں میں اسلامی بنکنگ کا کافی چرچا سن کر اور حال ہی میں ٹیلی ویژن پر "شریعت میں برکت ہے” کا اشتہار بھی دیکھا تو سوچا کیوں نا عام آدمی کے لئے اسلامی بنک اور غیر اسلامی بنک سے لئے گئے قرضے کی واپسی کا فرق جان لیا جائے تاکہ یہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے کہ عام آدمی کےلئے ان دونوں اقسام کے بنکوں میں کیا فرق ہے۔

چنانچہ میں نے کچھ دوستوں کی مدد سے ایک چھوٹا سا سروے کیا۔ چونکہ بنکوں کے معاملات میں بہت سے اعدادو شمار اکٹھے کرنے پڑتے ہیں اور پھر ان کو سمجھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ چنانچہ عام آدمی ان اعداد وشمار کے ہیر پھیرمیں پھنس جاتا ہے اور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔اسی لئے ہم نے اعدادو شمار کو آسان رکھنے کے لئے یہ کیا کہ ہر بنک سے جا کر یہ  درخواست کی کہ ہم ہونڈا سٹی کار (ماڈل ۲۰۱۱)خریدنا چاہتے ہیں۔ کار کی قیمت تیرا لاکھ ستانوے ہزار پانچ سو روپے ہے۔ ہم ۲۰ فیصد رقم بطور ڈاؤن پیمنٹ ادا کرسکتے ہیں۔ گویا ہمیں بنک سے دراصل گیارہ لاکھ اٹھارہ ہزار روپے قرض درکار ہے۔ ہم قرض کی یہ رقم تین سال میں برابر ماہانہ اقساط میں بنک کو واپس کر دیں گے۔

ہم نے یہ تجویز چار بنکوں (دو اسلامی بنک اور دو غیر اسلامی بنک) کے نمائندوں کے سامنے رکھی اور پوچھا کہ یہ قرض حاصل کرنے کے لئے ہمیں کتنی فیس ادا کرنی ہوگی، دیگر اخراجات کیا کیا ہوں گے اور ماہانہ قسط کتنی دینی پڑے گی تاکہ یہ رقم تین سال میں مکمل طور پر واپس ہو جائے۔

ان بنکوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ہم نے درج ذیل جدول میں پیش کردیا ہے۔ اس کے پہلے  کالم میں بنک کا نام اور دوسرے کالم میں گاڑی کی قیمت درج ہے۔ تیسرے کالم میں بنک کو ادا کی گئی کُل رقم درج کر دی گئی ہے۔ اس رقم میں بنک  فیس، انشورنس کی رقم، ڈاؤن پے منٹ اور تین سالوں میں ادا کی گئی ماہانہ اقساط شامل ہیں۔ چوتھے کالم میں ادا کی گئی کُل رقم میں سے گاڑی کی قیمت تفریق کر کے بنک کو ادا کی جانے والی اضافی رقم درج ہے۔ اس اضافی رقم کے بدلے میں بنک جو خدمات ہمیں فراہم کرتا ہے ان میں گاڑی کی خریداری کے لئے قرض کی رقم، انشورنس کی فیس اور گاڑی نکلوانے کے لئے پروسیسنگ کی خدمات شامل ہیں۔

بنک کا نام

گاڑی کی قیمت

ادا کی گئی کل رقم

ادا کی گئی اضافی رقم

بنک الفلاح

13,97,500

17,94,548

3,97,048

یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ

13,97,500

18,87,828

4,90,328

دبئی اسلامی بنک

13,97,500

18,55,219

4,57,719

میزان بنک

13,97,500

19,73,828

5,76,328

جدول سے ظاہر ہے کہ قرض لینے والے فرد کو اصل زر کے علاوہ کافی بڑی رقم بنک کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ میزان بنک کو تو اصل قیمت کے علاوہ پونے چھ لاکھ روپے اضافی دینے پڑتے ہیں حالانکہ یہ ایک اسلامی بنک ہے۔ اس کے مقابلے میں دبئی اسلامی بنک کو ساڑھے چار لاکھ سے کچھ اوپر اضافی رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ غیر اسلامی بنکوں میں سے یونائیٹڈ بنک چار لاکھ نوے ہزار اور بنک الفلاح لگ بھگ چار لاکھ روپے اضافی وصول کرتے ہیں (دیکھئے چارٹ "اضافی رقم”)۔ 

بنکوں کو ادا کی گئی اضافی رقم کا تقابلی گراف

فرق صرف یہ ہے کہ غیر اسلامی بنک اس اضافی رقم کو سود کہتےہیں جبکہ اسلامی بنک کہتے ہیں کہ وہ گاڑی کا کرایہ وصول کرتے ہیں سود نہیں۔ اسلامی بنکوں کے نمائندوں کے مطابق اسلامی بنک کمپنی سے گاڑی خرید کر گاہک کو دے دیتا ہے۔ چونکہ گاڑی بنک کی ملکیت ہے اس لئے بنک گاہک سے گاڑی کا کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہے۔

میزان بنک کے نمائندے سے گفتگو بڑی دلچسپ رہی۔ جب ہم نے کہا کہ کرایہ ہو یا سود ہو، ہماری جیب سے چار پانچ لاکھ روپے اضافی نکل جاتےہیں۔تو ہمیں کیا پڑی کہ ہم اسلامی بنک سے قرض لیں۔ اس پر میزان بنک کے نمائندے نے بڑی دلچسپ بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسلامی اصولوں کے مطابق کس عورت سے نکاح کر کے جنسی تعلق قائم کریں تو جو بچے پیدا ہوں گے وہ جائز بچے ہوں گے ، انہیں معاشرہ قبول کرے گا۔ لیکن اگر ہم نکاح کے بغیر کسی عورت سے جنسی تعلق قائم کریں تو اُس صورت میں جو بچے پیدا ہوں گے انہیں معاشرہ قبول نہیں کرے گا۔دونوں صورتوں میں عمل ایک ہی ہے یعنی  جنسی  تعلق قائم کرنا اور تنیجہ بھی ایک ہی ہے یعنی بچے پیدا ہونا۔ مگر آپ نکاح کے بغیر بچے پیدا کرنے کو ترجیح نہیں دیں گے۔ 

Advertisements

22 خیالات “اسلامی بنکنگ بمقابلہ غیر اسلامی بنکنگ” پہ

  1. واہ بہت چشم کشا حقائق پیش کیئے آپ نے لطیفہ یہ ھے کہ اسلامی بینکنگ کے نام پر مسلمانوں کا جذباتی استحسال کرکے لاکھوں روپے بٹور لیئے جاتے ھیں

  2. g or agr ap nikah se pehle jinsi taluk qaim kr k fr bad mein nikah kr lein to kia jawab hog kia istrh hone wala bacha jaez hoga agr haram gosht pe halal ka tag lga dein to kia vo halal hua agr sharab ki botal pe grapes extract likh dein to vo halal hogi

  3. Agar banks s tara xiyada paise na lein to kiya s k bagair koi bank chal b sakta he k nahi? I mean k islamic bank apne staff ka harcha or baki expenses kaise pay karen ge?? Islamic banking k name pe to objection ho sakta he, k inhein banking k sath islam ka name nahi lagana chahiya, lekin perfect islamic bank apne ap ko kaise barkarar rakh sakta he??? (financially)

  4. پتہ نہیں کیوں اسلامی بینکنگ کے حوالے سے آپکے لکھے گئے کالموں سے مطمئن نہیں ہو پاتا،ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں کوئی نقظہ ہے جس کو آپ نہیں سمجھ پار ہے۔

    • درویش بھائی، میرا سوال صرف سادہ سا ہے کہ اگر اسلامی بنک اور غیر اسلامی بنک دونوں میری جیب سے ایک جتنی رقم نکال کر لے جاتے ہیں تو پھر اس اسلامی بنک میں کوئی خرابی ہے۔
      رہی بات مطمئن نہ ہونے کی تو صاف سی بات یہ ہے کہ چونکہ میرے کالم میں کہی گئی بات آپ کو آپ کے عقیدےکےبارے میں مشکوک کررہی ہے اس لئےدل کا اطمینان خراب ہو رہا ہے۔
      ویسے میرے لئے یہی کامیابی کافی ہے کہ میرےکالم نے آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صرف ایک غیر مطمئن شخص ہی سچ کی تلاش میں سرگرداں رہےگا۔ اور جو کوشش کرےگا وہ سچ کو پا لے گا۔ سو آپ سچ کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔ میرے لئے یہی کافی ہے۔ شکریہ

  5. اگر اسلامی بنک اور غیر اسلامی بنک دونوں میری جیب سے ایک جتنی رقم نکال کر لے جاتے ہیں تو پھر اس اسلامی بنک میں کوئی خرابی ہے۔
    .
    .
    .
    آپکے اس کمنٹ کے جواب میں کچھ کہنا چاہ رہا ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں اسکو الفاظ کی شکل میں نہیں ڈھال سکتا۔

  6. bank bank hi hota he bhayya, chahey islami naam de do, ya yahoodi, ya christian, bank ka kaam banking karna he, masla banking system mein he, banks are eating us like leaches, . We the workers of this world deserve the good, not these leeches. A very very nice and straight forward slap on the face of wahabi imperialists, who will always support the imperialist america and their system of Capitalismus.

  7. well that is pretty interesting. We have been kept in dark regarding the actual practice that these banks have evolved. ISLAM HAS RUTHLESSLY BEEN EXPLOITED BY EVERYONE. it now the turn of financial mafia to hoodwink the common people

    • جناب معراج خان صاحب،
      آپ کے کہنے پر ہم نے ایک بار پھر جا کر میزان بنک کی ویب سائٹ پر کاراجارہ کی تفصیلات دیکھی ہیں۔ کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔
      تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق کار کی سکیورٹی فیس، پروسیسنگ فیس اور چھتیس اقساط کی کُل رقم اٹھارہ لاکھ پچانوے ہزار پانچ سو اسی روپے بنتی ہے۔ کار کی قیمت انہوں نے کم کر کے تیرہ لاکھ اناسی ہزار درج کر رکھی ہے۔ یوں دونوں میں فرق پانچ لاکھ سولہ ہزار پانچ سو اسی روپے کا بنتا ہے۔چونکہ اس رقم میں انشورنس کی فیس شامل نہیں ہے اس لئے رقم کچھ کم ضرور ہو گئی ہے۔ تاہم ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ کار کی قیمت میں اٹھارہ ہزار روپے کی کمی کیسے ممکن ہوئی۔
      دوسری اور زیادہ اہم بات یہ ہےکہ میرا نکتہ اسلامی بنکنگ کا نعرہ لگانے والوں اور عام بنک کے درمیان فرق تلاش کرنا تھا۔ وہ فرق تازہ ترین اعدادو شمار سے بھی ثابت نہیں ہوا۔

  8. Dear Lala Jee !
    Kindly grant us a few views about so-called "Islamic Insurance Companies” which are called as "Takaful Companies” and doing there practice with a sign board of "Islam”.
    I know there activities in detail because I am badly victim. Please contact me on my Email Address.
    (For fundamental Information, please see my written website).
    Thanks.

  9. جناب سلیم خالد صاحب…
    پوری کوشش کروں گا کہ اس حوالے سے بھی کچھ لکھ سکوں مگر لکھنے سے پہلے کچھ تحقیق کرنی پڑے گی۔ آپ اپنے تجربات مجھے لکھ بھیجئے۔ آپ نے اپنا ای میل ایڈریس نہیں دیا۔ بہر حال آپ مجھ سے اس ای میل ایڈرس پر رابطہ کر سکتے ہیں:
    lala_jie@live.com
    آپ اپنے تجربات تفصیل سے لکھ بھئجیے۔ میں کچھ اور دوستوں سے بھی مشورہ کروں گا اگر ضرورت ہوئی تو کچھ کمپنیوں سے جا کر بات چیت بھی کر لوں گا۔ یوں جو کچھ سامنے آئے گا اُسے منظر عام پر لے آؤں گا۔
    تاہم یاد رہے کہ بہت مصروف زندگی ہے اوراس کام کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا۔ شکریہ

  10. ہاہاہا ۔۔۔۔ آخری پیراگراف اس بحث کا حاصل ہے۔۔۔۔ اب کار کی والدیت کا خانہ تو ٹھیک سے پر ہونا چاہئے نا۔۔۔۔ نہیں تو اس کار سے نکلنے والا دھواں بھی ناجائز ہو گا !!!

  11. There is a major difference between both bankings which you overlooked.
    In conventional banking the risk of the asset, i.e Honda 2011 in your example remains with the customer.
    With Islamic banking it remains with the bank pro-rata, till the end.

  12. آپکی بات یہاں تک تو درست ہے کہ بہت سے نام نہاد اسلامی بینک بھی سودی کاروبار سے بچتے نہیں ہیں۔ شاید منافع کا حصول ایسی چیز نہیں جس سے یہ بینک دستبردار ہو سکیں۔ پھر ان نام نہاد اسلامی بینکوں کے مالکان کی اکثیریت کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے جن کے اسلامی ہونے کا خیال تک مضحکہ خیز ہے ۔ یہ لوگ امریکیوں اور یہودیوں سے زیادہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے مالک ہیں اور منافع کے لیے کسی بھی قسم کی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں۔
    میرے ذہن میں اس قسم کے قرضوں کی ایک ایسی شکل ہے جس سے اسلامی احکام کی روگردانی بھی نہیں ہوتی اور منافع کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں قرضوں کی حوصلہ شکنی کی جائے یا پھر اسے سونے کی مالیت سے مشروط کردیا جائے ۔ قرضہ صرف اور صرف کاروبار کے لیے دیا جائے اور وہ بھی کم سے کم شراکت کی بنیاد پر۔ یعنی بینک اپنا قرضہ وصول ہونے تک ۳۰ یا ۴۰ فیصد منافع کے مالک اور بعد میں ۱۰ یا ۵ فیصد منافع کے مالک بن جائیں۔

  13. میرے خیال سے دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں
    ایک ہے سود
    دوسرا ہے منافع
    اسلامی بینک اور غیر اسلامی بینک میں جو فرق بتایا جاتا ہے وہ ہے سود کا عدم اور وجود۔ اسلامی بینک اس میں کامیاب ہوئے یا نہیں لیکن حتی المقدور انہوں نے ایسے طریقے اپنائے کہ ان کے پورے نظام میں سود نہ ہو
    اور جو طریقہ اسلامی بینک اپناتے ہیں اس کے مطابق لیا جانے والا منافع سود نہیں ہوتا کیوں کہ وہ سود کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔
    بلکہ وہ کرایا یا کسی اور ایسی مد میں ہوتا ہے جس کے لینے پر شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ۔۔

    جہاں تک تعلق ہے منافع کا تو اس میں جو پہلو مد نظر رکھنا ضروری ہے وہ ہے منافع کی مقدار
    ایک سودی بینک بھی 5 لاکھ اضافی لیتا ہے اور ایک اسلامی بینک بھی
    تو اس بنا پر کہ اسلامی بینک بھی اتنا ہی منافع لے رہا ہے اس کو سودی بینک کے مساوی قرار دینا قرین قیاس نہیں

    اور منافع کتنا لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی مقدار زیادہ ہو یا کم اس پر شریعت نے کوئی پابندی نہیں لگائی
    کیوں کہ منافع فریقین کے باہمی رضامندانہ معاہدے سے طے ہوتا ہے۔ جب دونوں راضی ہوں تو پھر تیسرے شخص کا معترض ہونا سمجھ میں آنے والی بات نہیں

    اب یہ ہر کسی کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ 5 لاکھ سودی بینک کو دے گا یا غیر سودی بینک کو

  14. دو سال پہلے اپنے بینک گا تو کاونٹر پر بیٹھی لڑکی نے آفر کی کہ ’’سر آپ اپنا اکاونٹ اسلامی بینکنگ پر منتقل کرانا چاہیں گے، ہم آپ کو اسلامی منافع دیں گے‘‘ میرے انتہائی کراہیت اور سختی سے نہ نہنے پر اس نے حیران ہوکر کہا کہ سر ہمارے نوے فیصد سے زائد کسٹمر اسلامی بینکنگ اختیار کر چکے ہیں اور منع کرنے والے بھی سختی سے منع نہیں کرتے۔

  15. آپ نے ایک آیڈیل صورتحال کے اعداد و شمار حاصل کئے ہیں لیکن آپ نے اس بات پر کوئی تحقیق نہیں کہ اگر کوئی صارف کمرشل بینک کو چند مہینے گاڑی کی قسسط ادا نہ کرسکے تو اسے کس قدر سود در سود کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اسلامی بینک ہر صورت میں صرف وہی رقم لینے کا پابند ہوگا جو کہ سودے کے آغاز میں فریقین کے درمیان اتفاق رائے سے طہ پاچکا ہے۔ جواب کا طالب

  16. Well it is not actually a rent for car. Thing is the bank buys a car for a said money and sells you at a higher price. There is nothing wrong about it. Once the car becomes the property of the bank they can sell it on whatever price they like. Earning profit through business is not prohibited in Islam. The company who sells the car gets the full payment. Now it is upto the buying party (the bank in this case) to sell it at whatever price it wishes, and whether it wishes payment in whole or in installments. The same goes for morgatge. The seller gets the whole amount. It is the bank buying the property and selling it to the customer. I have done full research for it and have asked opinion of many muftis. The only way to make payment through installments is by buyig it and selling it at on a higher price. The same goes for the credit card. We may buy something worth a 1000 pounds and pay it over a year but the shop that we make the purchase at, gets the full payment from our bank.

    • بھائی صاحب۔ میرا سوال اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا نہیں۔ لالاجی کا سوال یہ ہے کہ دونوں بنک ہی لالاجی کی جیب سے پیسے نکلوانے پر لگے ہوئے ہیں۔ جو سود کہ کر وصول کرتا ہے وہ کم اور جو مذہب کا تڑکا لگا کر وصول کر تا ہے وہ زیادہ لے لیتا ہے تو اسلامی بنکنگ میں کیا فائدہ ہے؟؟؟ ایک عام آدمی کو اسلامی بنک زیادہ لوٹتا ہے مگر وہ پھر بھی اچھا کہلاتا ہے اور سود والا غیر شرعی بنک کم لوٹتا ہے مگر برا کہلاتا ہے۔ چنانچہ آج ہم دھڑا دھڑ اسلامی بنک کھول رہے ہیں۔

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s