حسین حقانی، منصور اعجاز اور میمو

پچھلے کچھ عرصے سے میرے ملک میں خفیہ میمو کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر افتخار عارف کے یہ اشعار بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

نئے کردار آتے جارہے ہیں روشنی میں

نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے

کہ پردہ کب گرے گا، کب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

دلِ نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس ہونا

جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s