سوال جواب: کس کی پیروی کریں(داؤد ستی)

سوال:

لالاجی بس آپ ایک بات بتا دیں۔ جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ عمران خان بھی ٹھیک نہیں، نواز شریف بھی ٹھیک نہیں، پی پی اور علماء بھی آپ کی تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور تو اور آپ نے شاعر مشرق اور مفکر پاکستان کو بھی معاف نہیں کیا۔ تو پھر مجھے صرف یہ بتا دیں کہ آپ کی نظر میں کون سا آدمی، یا کونسی پارٹی یا نظریہ صحیح ہے اور ہم سب کو اُس کی پیروی کرنی چاہئے۔ (داؤد ستی)

 جواب:

پہلی بات تو یہ کہ لالاجی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں۔ چنانچہ کسی کو گالی دینا، برا بھلا کہنا لالاجی کا کام نہیں۔ لالاجی لوگوں کی سوچ یا نظریات سے اختلاف کرتے ہیں اور اپنے اختلاف کو کبھی سنجیدگی سے، کبھی مزاح کی شکل میں، کبھی طنز کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ تاہم اگر کہیں لالا جی سے غلطی ہوئی ہے تو دلی معذرت۔

آپ کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کونسی پارٹی، آدمی یا نظریہ صحیح ہے اور ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہئے۔ تو میرے دوست یہیں سے مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پیروی کیوں کرنی چاہئے۔ کیا ہم اپنا رستہ آپ نہیں بنا سکتے۔ ہمیں ہر کسی کی بات سننی چاہئے اور اُسے عقل سے پرکھنا چاہئے۔ اگر عقلی جانچ پڑتال میں اُس کی بات درست ثابت ہو تو قبول کر لیں اور اگر غلط ثابت ہوتو رد کردیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج کوئی بات پوری جانچ پرکھ کے بعد درست ثابت ہو مگر کل کو نئی معلومات سامنے آنے پر غلط ثابت ہو جائے۔ یہی اصول لالاجی کی باتوں پر لاگو ہوتا ہے۔ لالاجی کی باتیں حرفِ آخر نہیں ہیں۔لالاجی کو کئی بار دوستوں نے غلط ثابت کیا ہے۔ "شاعر مشرق” اور "مفکر پاکستان” نے اپنے ایک فارشی شعر میں فرمایا تھا جس کا اردو مفہوم کچھ یوں ہے:

"اگر بزرگوں کی پیروی کوئی اچھا شیوہ ہوتا تو پیغمبر بھی اپنے آباؤاجداد کی پیروی کرتے”

آپ نے لالاجی سے پوچھا ہے کہ کس کی پیروی کریں۔ میرے دوست لالاجی کون ہوتے ہیں آپ کو بتانے والے کہ کس کی پیروی کریں۔ ہاں لالاجی آپ کو یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ جس کی بھی پیروی کریں، اندھا دھند نہ کریں۔ اُسے خدا، ولی اللہ، غلطیوں سے پاک نہ تصور کر لیں۔ شخصیت پرستی سے بچیں۔ تقلید اتنا بڑا مسئلہ نہیں، اندھی تقلید بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سو جس کسی کی بھی پیروی کریں اس کی باتوں اور کاموں کا تجزیہ کرتے رہیں اور جہاں غلط ہو وہاں اُس کی نشاندہی کریں۔ رہنما پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے مگر پیروکاروں پر شاید اُس سے بھی بڑھ کر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اپنے رہنماء کو حقیقتِ حال سے باخبر رکھنا ہوتا ہے تاکہ اُس کے پاؤں زمین ہی پر رہیں۔ ہمارے پیروکار ایسی چاپلوسی اور مکمل وارفتگی کے ساتھ رہنماکے پیچھے چل پڑتے ہیں کہ رہنما کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ (لالاجی)

Advertisements

3 خیالات “سوال جواب: کس کی پیروی کریں(داؤد ستی)” پہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s