بھورو بھیل کی کہانی، اعجاز منگی کی زبانی

1378218_655950074429621_443105088_n

بھورو بھیل کی لاش

سندھی دانشور اعجاز منگی کی تحریرسے اک اقتباس
یہ تحریر نہی بلکہ نوحہ ھے
دھرتی کے بیٹوں کا
دھرتی ماں کی اجڑی کوکھ کانوحہ
اعجاز منگی کی زبانی بھورو بھیل کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خورشید قائم خانی نے ایک کتاب لکھی تھی ’’بھٹکتی ہوئی نسلیں‘‘۔
ان بھٹکتی ہوئی نسلوں سے ہی تعلق تھا اس بھورے بھیل کا جس کے جسد خاکی کا بھٹکنا سندھی میڈیا کا بہت بڑا اشو بن گیا ہے۔وہ شخص جو نہ ہندو تھا اور نہ مسلمان ۔جو نہ سکھ تھا اور نہ عیسائی۔ جو نہ بدھ تھا اور نہ جین۔ اس شخص کو جب مرنے کے بعدمیرپور خاص کے مشہور شہر پنگریو کی سرزمین میں دفن کیا گیا تو بقول اقبال ’’مذہب کی حرارت ‘‘ رکھنے والے چند لوگوں نے ان کی لاش کو قبر سے نکال کر کڑی دھوپ میں پھینک دیا۔اور اس وقت نہ تو میرپور خاص کا وہ شاعر زندہ تھا جو یہ کہتا کہ ’’اسے میرے دل میں دفن کرو‘‘ اور نہ ہی وہ خورشید قائم خانی ہی اس دنیا میں موجود ہے جو اس کی لاش کو لے آتا اواسے اپنے گھر کے آنگن میں اس کی قبر بنالیتا اور جب چیت کا چاند اپنی کرنیں بکھیر دیتا اس دھرتی پر تب وہ خورشید قائم خانی اپنی مخصوص کیفیت میں بھورو بھیل سے مخاطب ہوکر کہتا کہ’’اے خانہ بدوش! بتاؤ کہ خرابی کہاں سے شروع ہوئی؟‘‘

ایک حادثے کا شکار ہوکر مرجانے والا بھورو بھیل جس طرح اس جدید دور میں اپنی قدیم مظلومیت کی علامت بننے کی کوشش کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ’’تاریخ پچھتاتی بھی ہے‘‘ اور تاریخ کو پچھتانا بھی چاہئیے!! تاریخ کو ان انسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے کٹہڑے میں آنا پڑے گا اور اسے بتانا پڑے گا کہ ’’ان لوگوں کاکوئی مذہب نہیں۔ تاریخ کے خط استوی پر اپنی منزل سے بھٹک جانے والے ان لوگوں کا کوئی دیس نہیں۔ اپنے دیس میں پردیسی جیسی زندگی گذارنے والے ان لوگوں کو ایک ملک تو کیا ایک مکان بھی نہیں ہے۔ وہ جہاں کھلی جگہ دیکھتے ہیں وہاں لکڑیاں اور گھاس پھونس جمع کرکے اپنی کٹیائیں بنا لیتے ہیں اور جب کوئی ان سے کہتا ہے کہ ’’یہاں سے دفع ہو جاؤ‘‘ تو وہ کوئی سوال پوچھے بغیر اپنے گدھوں پر وہی لکڑیاں اور گھانس پھونس لاد کر پھر کسی جگہ کے جانب چل پڑتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں دکھ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی آنکھوں سے ایک آنسو تک نہیں گرتا۔ کیوں کہ یہ لوگ صدیوں سے یہی زندگی جیتے آ رہے ہیں۔ وہ ہندؤں کی طرح اپنے جنازے نہیں جلاتے۔ وہ دفن کرتے ہیں۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اب انہیں صرف جینے کے لیے جگہ کی تنگی نہیں بلکہ مرنے کے لیے دفن ہونے کو دو گز زمین نہیں ملتی۔ یہ لوگ جو کبھی کراچی سے لیکر کشمیر تک ایک بہت بڑی سرزمین کے مالک تھے۔ اب انہیں دھرتی کا کوئی ٹکڑا نہیں ملتا جہاں وہ اپنے دل کے ٹکڑوں کو دفن کر آئیں۔ بھورو بھیل اس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ جس قبیلے کو عام لوگ خانہ بدوش کہتے ہیں اور جنہوں نے انگریزی کے دو الفاظ پڑھے ہیں وہ انہیں رومانوی انداز سے ’’جپسی‘‘ بلاتے ہیں۔ بھورو بھیل بھی جپسی تھا۔ بادامی آنکھوں اور تانبے جیسی رنگت رکھنے والے بھورو بھیل کی کہانی اگر ایک حقیقت نہیں بلکہ ایک ناٹک ہوتی تو تاریخ کی روح سفید لباس پہن کر بھورو بھیل کی مذار پر ضرور جاتی اور اس سے مخاطب ہوکر ضرور کہتی کہ ’’میرے بیٹے! مرنے کےبعد تاریخ کے اس بھاری بھرکم صلیب کا بوجھ تم کو اٹھانا تھا اور تم کو بتانا تھا کہ تم ابھی تک خانہ بدوش ہو‘‘
ہاں! وہ خانہ بدوش تھا۔ زندگی میں تو خانہ بدوشی بہت کرتے ہیں مگر اس کے مقدر میں مرنے کے بعد بھی خانہ بدوشی ہی آئی۔ اور اس کے اس المیے کا اظہار کسی نیوز چینل نے نہیں کیا۔آج کل کی حکومتیں اپنے ضمیر کا کم اور میڈیا کا زیادہ سنتی ہیں۔ مگر قومی میڈیا میں اس مظلوم خانہ بدوش کی داستان درد نشر نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ اس ملک کی اکثریت کوکبھی تو معلوم ہوگا کہ ’’ایک تھا بھورو بھیل‘‘ درواڑ نسل کا وہ انسان جس کی بھوری آنکھوں میں ایک فنکار بننے کا خواب تھا۔اسے یقین تھا کہ وہ اپنے فن سے ملک کی میڈیا پر چھا جائے گا۔اس نے اپنے قبیلے بچپن سے یہی سنا تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔ اسے اپنے حسن اور اپنی صلاحیتوں پر ناز تھا۔ مگر کسی چینل نے اسے فن کے مظاہرے کا موقع نہیں دیا۔ وہ مقامی پروگراموں میں اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا اوراس کو اتنا کچھ ملتا جتنا ایک بھیل اور باگڑی کو خیرات میں ملا کرتا ہے۔ مگر وہ زیادہ رقم کا تقاضہ نہیں کرتا اور مسکرا کر دعائیں دیتا ہوا چل پڑتا۔ زندگی کے اس سفر میں وہ کسی منزل پر نہیں پہنچا اور حادثے کا شکار ہوگیا۔ اور مرگیا!! اس کے موت پر میڈیا ماں افسوس کے اظہار والے بیانات شایع نہیں ہوئے۔ کوئی ریفرنس نہیں ہوا۔ وہ ایسے چلا گیا جیسے بنجارے جاتے ہیں۔ بغیر بتائے۔ چپ چاپ اور خاموش!!
اور مرنے کے بعد ان کے ورثاء نے اسے انہیں کپڑوں کے ساتھ ایک رلی میں لپیٹ کر مقامی قبرستان میں دفن کیا مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ دور تبدیل ہوچکا ہے اور بھورو بھیل کی تدفین ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گئی اور اسے گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کی قبر کھود کر اسے کے جسد خاکی کو باہر نکال کر دھوپ میں پھینک دیا۔ اس طرح جن لوگوں سے دھرتی پر جینے کا حق چھینا گیا ان لوگوں سے اب مرنے کے بعد دفن دھرتی میں دفن ہونے کا حق بھی چھینا گیا تو وہ لوگ کہاں جائیں گے؟

اس سوال کا جواب سمۂ کو بھی دینا ہوگا اور اس سرکار کو بھی جس نے ان انسانوں کو اقلیت کی سیاست چمکانے والے ان ہندؤں کے دفتر میں داخل کردیا ہے جو انہیں اپنے مندروں میں آنے نہیں دیتے۔ جو انہیں اپنے شمشان گھاٹوں میں مردے جلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہیں۔وہ کہاں جائیں؟ اگر وہ دولت اور دماغ کے حوالے سے غریں نہ ہوتے تو وہ اپنے قبرستان بناتے ۔ مگر جنہیں جینے کے لیے بستیاں نہیں وہ قبرستان کیا بنائیں گے!!
وہ جو خانہ بدوش ہیں۔ بنجارے ہیں۔ جن کی زندگی نے ہمیشہ پیٹھ پر ڈیرے ڈالے ہیں۔ مگر مرجانے کے بعد تو انسان اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس حوالے سے زمانے کا ضمیر بتائے کہ موت کے بعد ایک خانہ بدوش کہاں جائے!!!!؟؟؟
وہ خانہ بدوش جن کے آباؤ اجداد نے موہن جو داڑو جیسے حیرت انگیز شہر میں دھات کے بھالے بنانے کے بجائے مٹی کے وہ کھلونے بنائے جن کی مالیت آج عالمی منڈی میں کروڑوں ڈالروں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مگر آج ان انسانوں کو مرجانے کے بعد مٹی سے مٹی ہونے کا حق بھی میسر نہیں اور اس المیہ پر کوئی اداس نہیں۔ نہ انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی اور نہ اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے! نہ حزب اقتدار اور نہ حزب اختلاف!!
اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ بھورو بھیل کے ورثاء بھی اس زیادتی کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھ رہے مگر ادب اور فن سے پیوستہ دلوں میں ایسے المیاتی واقعات کے حوالے سے یہ احساسات ضرور جنم لیتے ہیں جن کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اے آسمانوں
نیلے جہانوں
جائیں کہاں یہ
بھٹکتے اور بے گھر۔۔۔۔!!‘

Advertisements

ایک خیال “بھورو بھیل کی کہانی، اعجاز منگی کی زبانی” پہ

  1. پنگ بیک: Wandering Corpse of Humanity’s Soul | Being Humane

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s