سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم 

امت مسلمہ کے لئے مشورہ


فوٹو: رضوان تبسم (اے ایف پی)۔۔۔ پشاور ۱۸ ستمبر ۲۰۱۲

 پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ "ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ "ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

"یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
"آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

"نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

 بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

 جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

 جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

 جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

 خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید  پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

 ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت "ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، "ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

 بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے "ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان "شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔