مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر



IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

ہماری حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، یا ناکام بنائی جاتی ہیں؟


ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کو باقی حالات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ انتخابات کے لئے چلنے والی مہم سے لے کر نئی حکومتوں کے قیام اور ان کے فورًا بعد ہونے والی قتل و غارت میں کافی پیغام ہے ہمارے لئے۔ موجودہ حکومتوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ان کی ناکامی کے حوالے سے فرمان جاری ہو گئے ہیں۔ آخر کون ہے جو عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ناکام کرنے پر تُلا ہوا ہے؟ اس کے لئے کوئی بہت راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے آنے سے کس کا بھلا ہوتا ہے، کون عیاشی کرتا ہے، کون ہمارےوسائل پر بلا شرکتِ غیرے قابض ہو جاتا ہے اور اس کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتا۔

mur

میر مرتضیٰ بھٹو… بے نظیر بھٹو کا بھائی جو بےنظیر بھٹو کے اپنے دورِ اقتدار میں قتل ہوا۔

ہم (بشمول لالاجی) اکثر اپنی تمام برائیوں کی جڑ فوج کو قرار دیتے ہیں (اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے) مگر بنیادی طور پر غلطی سیاسی قوتوں ہی کہ ہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور آپس کی کھینچا تانی کی وجہ سے پہلے پاکستان پر بیورکریسی سوار ہوئی جس کی مثالیں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی موجودگی میں غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کا جناح کے بعد گورنر جنرل بن جانا ہے، اور اس کے بعدایک اور بیورکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل بن گیا۔ یہ سیاستدانوں ہی کی نا اہلی تھی کہ بیوروکریسی سے معاملات اپنے ہاتھ میں واپس لینے میں اس قدر ناکام رہے کہ پھر معاملات فوج کے ہاتھ میں چلے گئے اور ہم نے مشرقی پاکستان تک گنوا دیا۔

بھٹو نے سیاسی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے جرنیلوں کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا موقع فراہم کیا جس کی سزا نہ صرف بھٹو نے بھگتی بلکہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسامہ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر کمیشن بٹھایا اور اُس کمیشن کی رپورٹ دبائے رکھی جو آخر کار الجزیرہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ اب بھی اُس رپورٹ میں ہمیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اسامہ کس کس کی مدد سے ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔

اس مختصر سے وقت میں بھی نواز شریف اور عمران خان کے لئے کافی اسباق موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور آپس میں کھینچا تانی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں۔ اُن قوتوں کو پہچانیں جو ہماری ہر حکومت کو ناکام بناتی آئی ہیں ۔

آصف زرداری نے بھی نئی حکومت بننے کے بعد پہلے پہل نواز شریف کے ساتھ سینگ پھنسائے تھے اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس کے بعد اس نوعیت کی کوئی حرکت نہیں کی گئی حتیٰ کہ شہباز شریف کے ناقابل برداشت بیانات پر بھی زرداری صاحب خاموش رہے۔ آج سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے اور پیپلز پارٹی کو ٹائٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گورنر راج کا بھی دبے لفظوں میں ذکر ہو رہا ہے۔پنجاب کے وزیرِ قانون نے پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں حال ہی میں لشکرِ جھنگوی والے پولیس والوں کو یرغمال بنا کر اُن کے بدلے اپنے بندے چھڑا کر لے گئے ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایجنسیوں نے فوری طور پر یہ خبر تو چلوا دی کہ حملے کی اطلاع پہلے ہی سول انتظامیہ کو دے دی تھی تاہم کوئی بھی یہ تحقیق نہیں کرے گا (عمران خان بھی یہ سوال نہیں اُٹھا رہا) کہ ۱۰۰ دہشت گرد وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور ڈھائی سو لوگوں کو ساتھ لے کر واپس بھی پہنچ گئے۔ وزیرستان میں موجود فوج وہاں کیا کر رہی تھی؟ وہاں کے فوجی کمانڈر کو ڈی ایچ اے میں گھر مل جائے گا اور جب کبھی وہ مرے گا پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا۔

ہماری تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پہلے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور مل کر اُسے زیر کریں۔ اس ملک پر حکمرانی کرنا، اس ملک کی خارجہ پالیسی بنانا، اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے ، یہ سب فیصلے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب کام وہ لوگ کریں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں۔ جنہوں نے اور نہیں تو کم از کم پانچ سال بعد ہمارے سامنے آنا ہوتا ہے، ہم سے ووٹ مانگنا ہوتا ہے۔جنہیں ہم پانچ سال بعد ٹھینگا دکھا سکتے ہیں (جیسا کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کوحالیہ انتخابات میں دکھایا ہے) یہ سارے فیصلے ہم ایسے لوگوں کےہاتھوں میں نہیں رہنے دینا چاہتے جن کی نہ ہم شکلوں سے واقف ہیں نہ کرتوتوں سے۔ جو ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر ہم اُنہیں پانچ سال تو کیا پچاس سال بعد بھی ہٹا نہیں سکتے جب تک کچھ لاشیں نہ گر جائیں، کچھ خون نہ بہ جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آتی ہے۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔۔۔؟


ابھی حال ہی میں میرے حد سے زیادہ مسلمان بھائیوں نے پاکستان میں جو گل کھلا کر اسلام کو زندہ کرنے اور پیغمبردو جہاں کی عزت بحال کرنے اور امریکی یہودیوں کو (اُن میں سے ۹۹ فیصد کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ فلم ایک مصری نژاد عیسائی نے بنائی ہے) سبق سکھانے کا جو عظیم الشان مظاہرہ کیا ہے اُس پر کم از کم لالا جی کا سر توہمیشہ کے لئے ہندوؤں (کراچی میں مندر میں تور پھوڑ کے واقعے پر)، عیسائیوں (مردان میں گرجا گھر جلائے جانے پر) اور عام کمزور ایمان والے مسلمانوں (جن کی املاک جلائی گئیں، گاڑیاں توڑی گئیں، روزگار ختم ہو گئے) کے آگے شرم سے جھکا رہے گا۔

 اس ذہنی صورت حال میں ایک سکھ مذہب کی توہین کے ایک واقعے کی رپورٹ نظر سے گزری تو دل بہت خوش ہوا۔ مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے والوں کو جان سے مار کر تو پتہ نہیں کچھ حاصل ہو کہ نہ ہو، مگر اُن کے ساتھ دوستانہ رویے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔

بلپریت کور کی وہ تصویر جویورپی لڑکے نے بلپریت کو بتائے بغیر بنائی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی۔

 واقعہ بیان کرنے سے پہلے سکھ مذہب کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہمارا جسم خدا (اللہ، بھگوان، جسے بھی آپ خدا مانتے ہیں) کی دین ہے اور ہمیں اِسے ویسا ہی رکھنا چاہئیے جیسا خدا نے عطا کیا ہے۔ اس میں غیر فطری طریقوں سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کی ناشکری کے مترادف ہے۔ اسی حکم کی وجہ سے پختہ عقیدے کے مالک سکھ اپنے جسم کے بال نہیں کٹواتے۔ ہم سکھوں کا اس بات پر مذاق اُڑاتے ہیں اور ایسے میں یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم کسی کے مذہبی عقائد کی توہین کر رہے ہیں۔

 بالکل یہی ایک نوجوان نے ایک راسخ العقیدہ سکھ لڑکی بلپریت کور کے ساتھ کیا۔ بلپریت کور کے چہرے پر بھی بال موجود ہیں اور دیکھنے والا چندلمحوں کے لئے حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یہ عورت ہے یا مرد۔ ایک مغربی نوجوان، جو ریڈٹ نامی ایک ویب سائٹ (فیس بک اور ٹویٹر کی طرح کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ) پر یورپین ڈاؤشبیگ کا نام استعمال کرتا ہے، نے بلپریت کی تصویر (جو کہ بلپریت سے چھپ کر بنائی گئی تھی) ویب سائٹ پر لگا دی اور لکھا "مجھے پتہ نہیں اس کا کیا مطلب ہے”۔ تصویر کا بھر پور مذاق بن گیا، گھٹیا اور گندے تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔

 بلپریت کے کسی دوست کی نظر سے یہ پوسٹ گزری تو اُس نے بلپریت کو بتادیا۔ شکر ہے کہ بلپریت مسلمان نہیں تھی ورنہ اُس کا بھائی  اپنی غیرت کے تحفظ کے لئے اُس لڑکے کو ڈھونڈ کر قتل کر دیتا (اگر پاکستانی ہوتا تو ساتھ بلپریت کو بھی قتل کر دیتا)۔ اسلام کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے سینما ہاؤس جلائے جاتے، بنک لوٹے جاتے، دس پندرہ لوگ مارے گئے ہوتے۔ مگر سکھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سکھوں کو اپنے مذہب سے اتنا زیادہ عشق نہیں ہے جتنا ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کو ہے۔ یہ احمق لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں دنیا سے اُس کی عزت کرانا نہیں جانتے۔ ہم اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے مگر دنیاوالوں سے اپنے مذہب کی عزت کرانا ہمیں خوب آتا ہے۔

 بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ سمجھے خدا کرے کوئی

 واپس آتے ہیں بلپریت کی طرف۔ بلپریت نے نہایت ٹھنڈے دل سے اپنی تصویر اور اُس پر ہونے والے تبصروں کو دیکھا اور پھر ایک جواب لکھا۔ بلپریت کور کا جواب ملاحظہ ہو:

 ہیلو دوستو! ۔۔۔ میں بلپریت کور ہوں اس تصویر والی لڑکی۔ مجھے دراصل اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا؛ مجھے میرے ایک دوست نے فیس بک پر اس بارے میں بتایا۔ اگر ڈائوشبیگ کو تصویر لینی تھی تو مجھے بتا دیتا میں خوشی سے تصویر بنوا تی۔ تاہم مجھے نہ تو شرمندگی ہے اور نہ میں اس تصویر کو ملنے والی توجہ (چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) پر کوئی ذلت محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں جو ہوں سو ہوں۔ ہاں میں ایک سکھ عورت ہوں جس کے چہرے پر بال ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ میری جنس کے بارے میں اکثر غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کیوںکہ میں دوسری عورتوں سے مختلف نظر آتی ہوں۔ تاہم ہم سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے جسم کو مقدس مانتے ہیں اور اسے خدا (جو نہ مذکر ہے نہ مونث) کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ سمجھتے ہیں جسے اپنی فطری حالت میں رکھ کر ہم خدا کی مرضی کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ جیسے بچے اپنے والدین کی طرف سے ملے ہوئے تحائف کو مسترد نہیں کرتے، سکھ خدا کی طرف سے عنایت کردہ جسم کو مسترد نہیں کرتے۔ میں میں کی رٹ لگا کر اور اپنے جسم میں تبدیلیاں لا کر ہم اپنی انا کی غلامی کرتے ہیں اوراپنی ذات اور اپنے خدا کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ معاشرے کی طرف سے دیئے گئے خوبصورتی کے معیارت سے بالا تر ہو کر میں اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دے سکتی ہوں۔ میرے خیالات، عقائد اور اعمال کا حسن میرے جسم کے حسن سے زیادہ اہم ہے کیوںکہ جسم کا کیا ہے یہ تو ایک دن راکھ ہو جائے گا تو میں اُس کے بارے میں کیوں ہلکان ہوتی رہوں۔ جب میں مر جاؤں گی تو کوئی بھی یہ یاد نہیں رکھے گا کہ میں کیسی لگتی تھی، حتیٰ کہ میرے بچے بھی میری آواز تک بھول جائیں گے۔ آہستہ آہستہ تمام جسمانی/طبعی چیزیں مٹ جائیں گی۔ تاہم میری سوچ اور خیالات باقی رہیں گے اور اپنی جسمانی خوب صورتی سے توجہ ہٹانے کی وجہ سے مجھے اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری پر توجہ دینے کے لئے بہت سا وقت مل جاتا ہے ۔ اس طرح میں اس دنیا میں بہتری لانے کے لئے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکتی ہوں۔ لہٰذا میرے لئے میرا چہرا اہم نہیں ہے تاہم وہ مسکراہٹ اور خوشی جو میرے چہرے کےپیچھے چھپی ہیں وہ اہم ہیں۔ چنانچہ اگرآپ میں سے کوئی مجھے یونیورسٹی میں دیکھے تو بے دھڑک آکر مجھ سے بات کرے۔ میں یہاں پوسٹ کئے گئے تمام تبصروں (چاہے وہ مثبت ہوں یا تھوڑے کم مثبت) سے خوش ہوں کیوں کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ویسے یوگا پینٹ جو میں نے پہن رکھی ہے بہت آرام دہ ہے اور یہ شرٹ ایک ایسی تنظیم کی طرف سے ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کافی باتوں کی وضاحت کر دی ہے۔ بہت معذرت کہ میری وجہ سے کچھ غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اُس کے لئے بھی بہت معذرت۔

 یہ جواب یقیناً بہت غیر متوقع تھا۔ تاہم اس جواب کا رد عمل اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ تصویر پوسٹ کرنے والے نوجوان نے اس کے جواب میں لکھا:

 مجھے پتہ ہے کہ یہ کوئی دلچسپ پوسٹ نہیں ہے لیکن میں سکھوں سے بالعموم اور بلپریت سے بالخصوص معا فی چاہتا ہوں کہ میں نے ان کو تکلیف پہنچائی۔ سیدھی سے لفظوں میں یہ ایک احمقانہ حرکت تھی۔ لوگوں کا مذاق اُڑانا کچھ لوگوں کے لئے تفریح کا باعث ہوگا مگر جن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اُن کے لئے یہ یقیناً بہت تذلیل کا باعث ہوتا ہے۔ یہ پوسٹ یقیناً ایک ناقابلِ یقین سی بد تمیزی اور جہالت تھی۔ اس تصویر کو تفریح کے عنوان کے تحت نہیں بلکہ نسلی تعصب یا عدم برداشت کے عنوان کے تحت پوسٹ کیا جانا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔ میں نے سکھ مذہب کے بارے میں کافی مواد پڑھا ہے اور مجھے بہت دلچسپ لگا۔ یہ بات مجھے بہت معقول لگتی ہے کہ ہم اپنے جسمانی حسن کی بجائے اپنے خیالات اور سوچ کو خوبصورت بنائیں۔ وہ تصویر لگانا میری طرف سے انٹرنیٹ کی دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش تھی۔ میں احمق تھا۔خیر بلپریت۔۔۔! مجھے اپنی تنگ نظری پر افسوس ہے۔ آپ مجھ سے بہت بہتر انسان ہو۔ سکھ دوستو۔۔۔! مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہارے طرز زندگی اور ثقافت کا مذاق اُڑایا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی مسلمانوں نے پندرہ سے زیادہ لاشیں گرا دیں اور چھہتر ارب روپے کا نقصان کر کے اپنی ہی جگ ہنسائی کرالی۔ تاہم امریکی فلم ساز کو پھر بھی معافی مانگنے پر مجبور نہ کر سکے۔ بلپریت کور نے سکھ مذہب کی اقدار کا مذاق اڑانے والے کے سر پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کئے بغیر ہی اُسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

 مجھے پتہ ہے کہ اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیدار (جوعموماً علم و فضل کے سمندر ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں) بلپریت کور سے کچھ نہیں سیکھیں گے۔ ویسے بھی جنہوں نے پیغمبرِ دو جہاں کی تعلیمات سے کچھ نہیں سیکھا وہ بلپریت کورسے کیا سیکھیں گے۔ میں یہ بلاگ اُن کے لئے لکھ بھی نہیں رہا۔ یہ بلاگ عام سیدھے سادے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم سیدھے سادے، کم علم، مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے میں نہیں ہچکچائیں گے۔