مرکزی جامعہ مسجد….از سلیقہ وڑائچ


ہمارے گاؤں کی مرکزی مسجد گاؤں میں امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ جس کا ایک ثبوت مسجد سے ملحقہ ہندؤں کے گھر تھے جو کہ تقسیم کے وقت بھی مسمار نہیں کئے گئے۔اورہندو برادری کے جو لوگ ہندوستان اپنے پیاروں سے جا ملے ان کے گھر نہ صرف صحیح سلامت تھے بلکہ دروازوں پر لگے تالوں کی چابیاں ہمسایوں کے پاس موجود تھیں۔ جو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے تھے ان گھروں میں ہندوستان سے آئے مسلمانوں نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔

گاؤں میں یوں تو سبھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجو550557724_abe3eee570_zد تھے۔ لیکن دو بڑے مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعد میں جن کی تخصیص لمبی داڑھی اور اونچی شلواروں اور سبز پگڑی یا رنگ برنگے چولوں سے کی جا سکتی تھی۔

ان سب کے درمیان بھائی چارے اور یگانگت کا راز مسجد کے امام مولوی ابراہیم تھے۔ وہ اپنے زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جانے مانے طبیب بھی تھے۔ دوردراز سے لوگ ان سےعلاج کروانے آتے تھے۔ اپنےبچوں کو بھی انھوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے بچے مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

میرے  دادا کی مولوی صاحب سے بہت دوستی تھی۔ دادا گھر میں ٹی وی لائے تو مولوی ابراہیم ان کے ساتھ بیٹھ کر خبرنامہ سنتے  تھے۔ ضرورت کے مطابق ٹی وی کبھی مردان خانے یا دالان میں رکھا جاتا تو کبھی خواتین کے لئے برآمدے یا گھر کے اندر۔ اور کبھی صفیں بچھا دی جاتیں اور آگے مرد اور پیچھے خواتین بیٹھ کر پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتے۔ ڈرامہ دیکھتے کسی سین پر خواتین کی سسکیوں کی آواز آتی تو مرد حضرات ہنسنے لگتے اور دادا ڈانٹتے ہو ئے کہتے "کیوں کملیاں ہوئی جاندیاں او، ڈرامہ جے”) کیوں پاگل بن ہی ہو یہ تو ڈرامہ ہے(۔

عبادات کے لئےسختی نہیں تھی لیکن مسجدوں میں صفیں بھری ہوتی تھیں۔البتہ جمعہ کی نماز نہ پڑھنے پر لعن طعن ضرور ہوتی تھی۔ بڑے تایا سست واقع ہوئے ہیں جمعہ کے دن تیاری میں دیر ہو جاتی تو وہ”شاہنی مسجد” میں اہلِ تشیع کے ساتھ نماز ادا کر لیتےکیوں کہ وہاں کچھ تاخیر کےساتھ نماز ادا کی جاتی تھی۔عورتیں بھی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز پڑھتی تھیں۔ پھوپھو سکول میں پڑھاتی تھیں لیکن انھوں نے قرآن کی بہت سی سورتیں حفظ کر رکھی تھیں۔ رمضان اور عبادات کی مخصوص راتوں میں موسم کی مناسبت سے گھر کی چھت پر، صحن میں یا برآمدوں میں گاؤں کی عورتیں ان کی معیت میں ساری ساری رات  عبادت کرتیں۔ ساتھ میں کھانا پینا چلتا رہتا اور عبادت بھی ہو جاتی۔

1986 میں مولوی صاحب کی وفات ہوگئی۔ اُن کے بعد  گاؤں کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کی امامت کا مسئلہ ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گیا۔ مسالک کے لحاظ سے دونوں اکثریتی دھڑے کسی ایک امام پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔ کچھ عرصہ ایک امام آتا اور پھر دوسرا۔ حتیٰ کہ امام پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس نے فلاں آیت کی تشریح غلط کی ہے، ضعیف حدیثوں کی مدد سے ترجمہ بدل دیا ہے یا اس کا نماز پڑھنے کا طریقہ صحیح نہیں، تلاوت ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو بھی امام آتا ذلیل کر کے نکال دیا جاتا۔

پھر اونچی شلواروں اور سیاہ داڑھیوں والے لوگ تین تین دن آکر مسجدوں میں قیام کرنے لگے۔ پھوپھو کو انھوں نے ایک پرچی بھیجی کہ آپ "ثواب کے نام پر گناہ کما رہی ہیں۔ یہ سب روایتیں ہیں عبادت کا یہ طریقہ سراسر غلط ہے”۔ پھوپھو نے اپنی روش نہ چھوڑی لیکن عورتوں نے نماز کے لئے آنا بند کر دیا۔  جمعہ کی نماز کے لئے بھی کوئی خاتون مسجد کا رخ نہیں کرتی تھی۔ عبادت کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا کلچر بھی ختم ہو رہا تھا۔

 لمبی داڑھیوں والوں کا غلبہ دیکھ کر دوسرے مسلک کے لوگ بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے پاکپتن سے کچھ لوگوں کو بلایا اور یوں سبز پگڑی کو تقویت دینے کے لئے تواتر سے مسجد میں گیارہویں کا جلسہ کروایا جانے لگا۔ جس میں مخصوص درود ایسے پڑھا جاتا جیسے اعلانِ جنگ کیا جا رہا ہو۔ دونوں مکتبِ فکر کے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔

 پھر مقامی انتخابات نے جیسےان تنازعات میں نئی روح پھونک دی ۔ ووٹ کی بنیاد بھی مسلک بن گیا۔ قادیانیوں کو گاؤں سے نکال دیا گیا۔ انھوں نے گاؤں سے باہر اپنی زمینوں میں گھر بنا ئے۔ یا کچھ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ شاہنی مسجد کے سپیکر کو بند کروادیا گیا، ذوالجناح کے جلوس کا گاؤں میں داخلہ بند ہو گیا۔ گیارہویں کے ختم والی چیزیں کھانا حرام قرار دے دیا گیا۔

گاؤں میں  ہر فرقہ اپنی بقا کی فکر میں تھا اور اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کر رہا تھا۔ یہ مزاحمت دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ اور نوبت لڑائی جھگڑوں اور مسلح مدافعت کو جا پہنچی۔ یہاں تک کہ کہ گاؤں میں اکا دکا پر اسرار قتل ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ سعودی عرب سے چھٹیاں گزارنے آئے گاؤں کے ایک آدمی نے اپنی زمیں پرسعودی کفیل کے بھیجے پیسوں کی بدولت ایک فرقے کے لئے بہت بڑی جامعہ مسجد اور مدرسہ بنا دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئی بھی فرقہ مرکزی مسجد سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ مرکزی جامع مسجد میں کوئی امام بھی موجود نہ تھا۔ دونوں فرقوں کے لوگ خود جا کر اذان دیتے اور جو پہلے جاتا وہی نماز پڑھواتا۔

سکولوں میں جہادِ کشمیر اور افغانستان کے شہیدوں کی عظمت بیان کی جاتی، خود جہاد سے واپس آئے لوگ وہاں کے رہنے والون کی حالتِ زار بیان کرتے اور جہاد اور جہادیوں  کے لئے چندہ مانگا جاتا ۔ ٹی وی، وی سی آر حرام قرار دے دیا گیا یہاں تک کہ بچوں کے درسی نصاب اورتفریحی رسائل و جرائد میں بھی داڑھی، نماز، جہاد اور شہادت کی ترغیب دی جاتی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم گاؤں آئے ہوئے تھے۔ایک دن عصر کے وقت  چاچو اور ان کا ایک ساتھی تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے، جلدی جلدی ادھر اُدھر دیکھا۔ اور کچھ نظر نہ آیا تو چولہے سے جلتی ہوئی لکڑی اُٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ کے آدمی نے جس کے ہاتھ میں ہاکی تھی امی کو جلدی میں اتنا بتا یا کہ "وہ مار رہے ہیں ہمیں مسجد میں” اور چاچو کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے پہلی بار اپنے پڑھے لکھے چچا کا یہ روپ دیکھا تھا۔ میں خوف سے چیخنے لگی۔ چھوٹے چاچو کو پتا لگا تو وہ بھی اپنی بندوق کندھے پر ڈالے مسجد کو دوڑے۔ امی اور پھوپھو روکتی رہ گئیں۔ لیکن انھوں نے پھوپھو کو دھکا دیا اور باہر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔

 مسلسل لڑائی جھگڑے اور تنازعات کی وجہ سے مرکزی مسجد کو پولیس نے ہمیشہ کے لئے تا لا لگا دیا۔ چھوٹے چاچو کو کندھے میں گولی لگی ۔بڑےچاچو بھی زخمی تھے ان کو بھی گہری چوٹیں آئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمے درج کروائے۔ بہت عرصہ مقدمے چلتے رہے اور بالآخر فریقین میں صلح ہوگئی ۔لیکن گاؤں کا امن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گیا۔ جس کے مالی حالات اجازت دیتے تھے وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کی غرض سے گئے اور ہمیشہ کے لئے زمینیں بیچ ، گاؤں چھوڑ گئے۔ پرائمری ، مڈل سطح کےسکول ہیں تو سہی لیکن استاد ندارد اور کسی کو فکر بھی نہیں۔

 وہاں اب بھانت بھانت کی مسجدیں ہیں اور کئی طرح کے عقیدے۔ بھوک ہے،غربت،افلاس اور بوسیدہ عمارتیں۔ اماں کا گیتوں میں گایا،سراہے جانے والا، میلوں کے لئے سجایا جانے والا گاؤں اجڑ گیا ہے۔ اب وہاں گلیاں اتنی سنسان اور اتنی خاموشی ہے کہ قبرستان کا گماں ہوتا ہے۔ ہم تو کیا ہمارے بڑے وہاں جا کر رہنے کو تیار نہیں۔ اماں زکوٰۃ ،فطرانہ یا قربانی کا گوشت دینے جاتی ہیں اور واپس آ کر دیر تک گئے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

جرنیلوں کی جواں راتیں … از وسیم الطاف


 ترجمہ: سلیقہ وڑائچ The-Fall-of-East-Pakistan1-628x372

حمودالرحمن کمیشن کے سامنے بریگیڈمیجر منور خان نے بیان دیا کہ 1971 میں گیارہ اور بارہ دسمبر کی درمیانی شب، جس رات دشمن کی فوج ہمارے فوجیوں پر آگ کے گولے برسارہی تھی، اسی رات کو کمانڈر بریگیڈیئر حیات اللہ اپنے بنکر میں عیاشی کے لئے چند لڑکیوں کو لے کر آیا تھا۔ کمیشن کو بریگیڈیئر عباس بیگ نے بتایا کہ بریگیڈیئر جہانزیب ارباب (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) جو ملتان میونسپل کمیٹی کے چیئرمین تھے نے ایک پی سی ایس افسر سے رشوت کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ افسر نے خودکشی کر لی تھی اور اپنے پیچھے ایک پرچی پر لکھا چھوڑ گیا کہ بریگیڈٰیر جہانزیب ارباب نے اس سے ایک لاکھ کا مطالبہ کیا حالانکہ اس نے صرف پندرہ ہزار روپے کمائے تھے۔ یہی جہانزیب ارباب تھا جس نے بعد ازاں بطورکمانڈر سابق مشرقی پاکستان میں بریگیڈ57 سراج گنج میں نیشنل بینک کے خزانے سے ساڑھے تیرہ کروڑ روپے لوٹےتھے۔

کمیشن کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میجر جنرل خداداد خان ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی کے نہ صرف مشہورِزمانہ جنرل اقلیم اختر رانی کےساتھ ناجائز تعلقات تھےبلکہ اس نے مارشل لاء کے دوران کئی مقدمات دبانے میں جنرل رانی کی معاونت بھی کی۔ مار شل لا کے دوران ہی کئی کاروباری سودوں میں وسیع پیمانے پر رقم کی خرد برد کے الزامات بھی میجر جنرل خداداد خان پر ہیں۔

جنرل اے اے کے نیازی کے لاہور کی سعیدہ بخاری کے ساتھ مراسم تھے جس نے سینوریٹا ہوم کے نام سے گلبرگ میں ایک گھر کو کوٹھا بنایا ہوا تھا۔ یہی سعیدہ بخاری اس وقت لاہور میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور بعد میں کورکمانڈر "ٹائیگر نیازی” کی ٹاؤٹ تھی اور غیرقانونی کاموں اور رشوت ستانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ سیالکوٹ کی بدنامِ زمانہ شمیم فردوس بھی نیازی کے لئے اسی خدمت پر مامور تھی۔ فیلڈ انٹیلیجنس کی 604 یونٹ سے میجر سجادالحق نے کمیشن کو بتایا کہ ڈھاکہ کےایک گھر میں میں جرنیلوں کی عیاشی کے لئے بارہا ناچنے گانے والیاں لائی جاتی تھیں۔ ٹائگر نیازی اپنی تین ستاروں اور کور کی جھنڈے والی سٹاف کار پر بھی ناچنے والیوں کے در کے طواف کرتا تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے کمیشن کو بتایا کہ فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر خود بلاتکاری ہو تو وہ فوجیوں کو بلاتکار(جبری زنا) سے کیسے روک سکتا ہے۔ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے خواتین سے زیادتی و بلاتکار جیسے گھناونے جرم کا دفاع کرتے ہوئی نیازی نے کہا تھا کہ” یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی جوان سے یہ توقع کریں کہ وہ جئے ، لڑے اور مرے مشرقی پاکستان میں اور جنسی بھوک مٹانے کے لئے جہلم جائے”۔

یحیٰی خان شراب اور عورتوں کا رسیا تھا۔ اس کے جن عورتوں سے تعلقات تھےان میں آئی جی پولیس کی بیگم، بیگم شمیم این حسین، بیگم جوناگڑھ، میڈم نور جہاں، اقلیم اختر رانی،کراچی کے تاجر منصور ہیرجی کی بیوی، ایک جونیئر پولیس افسر کی بیوی، نازلی بیگم، میجر جنرل (ر) لطیف خان کی سابقہ بیوی، کراچی کی ایک رکھیل زینب اور اسی کی ہم نام سر خضر حیات ٹوانہ کے سابقہ بیگم، انورہ بیگم، ڈھاکہ سے ایک انڈسٹری کی مالکن،للّی خان اور لیلیٰ مزمل اور اداکاراؤں میں سے شبنم ، شگفتہ ، نغمہ ، ترانہ اور بے شمار دوسروں کے نام شامل تھے۔ ان کے علاوہ لا تعداد آرمی کے افسر اور جرنیل اپنی بیگمات اور دیگر رشتہ دار خواتین کے ہمراہ ایوانِ صدر سدھارتے اور واپسی پر خواتین ان کے ہمراہ نہیں ہوتی تھیں۔

اس رپورٹ میں 500 سے زائد خواتین کے نام شامل ہیں جنہوں نے اس ملک کے سب سے ملعون حاکم کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارا اور بدلے میں سرکاری خزانے سے بیش بہا پیسہ اور دیگر مراعات حاصل کیں۔ جنرل نسیم ، حمید ، لطیف ، خداداد ، شاہد ، یعقوب ، ریاض پیرزادہ ، میاں اور کئی دوسروں کی بیویاں باقاعدگی سے یحیٰ کے حرم کی زینت بنتی رہیں۔

یہاں تک کہ جب ڈھاکہ میں حالات ابتر تھے۔ یحیٰ خان لاہور کا دورہ کرنے آتے اور گورنر ہاوس میں قیام کرتے تھے۔ جہاں ان کے قیام کے دوران دن میں کم از کم تین بار ملکہ ترنم و حسن وعشق نور جہاں مختلف قسم کے لباس، بناو سنگھار اور ہیر سٹائل کے ساتھ ان سے ملاقات کرنے تشریف لے جاتی تھیں۔ اور رات کو نور جہاں کی حاضری یقینی ہوتی تھی۔ جنرل رانی نے سابق آئی جی جیل خانہ جات حافظ قاسم کو بتایا کہ اس نے خود جنرل یحیٰ اور ملکہ ترنم نور جہاں کو بستر پر ننگے بیٹھے اور پھر جنرل کو نور جہاں کے جسم پر شراب بہا تے اور چاٹتے دیکھا تھا۔ اور یہ عین اس وقت کی بات ہے جب مشرقی پاکستان جل رہا تھا۔

بیگم شمیم این حسین رات گئے جنرل یحیٰ کو ملنے آتیں اور صبح واپس جاتیں۔ ان کے شوہر کو سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیجا گیا جبکہ بعد ازاں بیگم شمیم کو آسٹریا کے لئے سفیر مقرر کردیا گیا تھا۔ میاں بیوی کو دونوں سفارت کاری کا کوئی تجربہ تھا نہ ہی امورِخارجہ کے شعبے سےان کا کوئی تعلق تھا۔

بیگم شمیم کے والد ، جسٹس (ر) امین احمد کو ڈائریکٹر نیشنل شپنگ کارپوریشن مقرر کیا گیا تھا اس وقت جب کہ وہ عمر میں ستر برس کے تھے۔ اور اسی زمانے میں نور جہاں ایک موسیقی کے میلے میں شرکت کرنےکے لئے ٹوکیو گئی تھیں تو ان کے ہمراہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد سرکاری خرچ پر جاپان گئے تھے۔

 یحیٰ خان کی ایک رکھیل نازلی بیگم کو جب پی آئی سی آئی سی (بینک) کے ایم ڈی نے قرضہ نہیں دیا تو اس کو عہدے سے زبردستی بر خاست کر دیا گیا تھا۔ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ پر یحیٰ خان نے ایک گھر بنایا جس کی تزئین وآرئش بھی بینک کے پیسے سے کی گئی۔ یحیٰ اور ان کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالحمید خان اس گھر کے احاطے میں فوج کی حفاظت میں طوائفوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔

 ایک غیر معمولی انٹرویو میں جنرل رانی نے انکشاف کیا کہ ایک رات آغا جانی مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کسی حد تک بے چین تھے ۔ آتے ہی مجھ سے پوچھا تمھیں فلم دھی رانی کا گانا ‘چیچی دا چھلا‘ آتا ہے۔ میں نےمسکراتے ہوئے جواب دیا میرے پاس گانے سننے کا وقت کہاں ملتا ہے۔ اسی وقت انھوں نے ملٹری سیکرٹری کو فون کیا اور نغمے کی کاپی لانے کا حکم صادر کر دیا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ بازار بند تھے۔ ملٹری سیکرٹری کو ایک گھنٹے کے اندراندر ایک آڈٰیو البم کی دکان کھلوا کر گانے کی کاپی حاضر کرنا پڑی۔ جس کے بعد آغا جانی خوشی خوشی نغمہ سن رہے تھے۔ اور اس کی اطلاع نور جہاں کو کر دی گئی۔

یحیٰ خان کے دور حکومت میں اداکارہ ترانہ کے بارے میں ایک لطیفہ زبان زدِ عام تھا کہ ایک شام ایک عورت صدارتی محل میں پہنچی اور یہ کہہ کر اندر داخل ہونے کا مطالبہ کیا کہ ‘میں اداکارہ ترانہ ہوں ، سیکورٹی گارڈز نے جواب دیا.کہ تم کیا ہو ہمیں پرواہ نہیں ہے ہر کسی کو اندر جانے کے لئے پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاتون مصر رہیں اور اےڈی سی سے بات کرنے کا مطالبہ کیا جس نے اداکارہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اداکارہ جب دو گھنٹے بعد واپس لوٹی تو گارڈ نے اداکارہ کو سیلیوٹ کیا۔ اداکارہ نے روئیے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو گارڈنے جواب دیا۔ پہلے آپ صرف ترانہ تھیں اب آپ قومی ترانہ بن گئی ہیں۔

 جنرل آغا محمدیحییٰ خان نے اکسٹھ برس تک ایک مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کی وہ اپنے راولپنڈی میں ہارلے سٹریٹ پر موجود اسی گھر میں قیام پذیر رہے جو کہ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے تعمیر کیا گیاتھا۔ اور ان کو بطور سابق صدر اور آرمی چیف کے پنشن اور دیگر مراعات حاصل رہیں۔ اور دس اگست 1980 کو وہ جب وفات پا گئے تو ان کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف


یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: "دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، "تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

تبلیغ میں کیا خرابی ہے؟


تبلیغی جماعت

تبلیغ پر نکلے ہوئے کچھ لوگ

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں ؛ پھر یہ لاکھوں لوگ پورے ملک میں پھیل جاتے ہیں اور نیکی کی تلقین کرتے ہیں۔ گزشتہ پچیس سے تیس برسوں میں یہ تعداد چند ہزار سے بڑھ کر بیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے مگر …..

جی ہاں یہ ایک بہت بڑا مگر ہے۔ مگر  پچھلے پچیس، تیس سال میں تبلیغ کے رجحان میں جتنا اضافہ ہوا ہے ، اُتنا ہی پاکستان میں ظلم، جبر ، بے انصافی اور بدعنوانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب تبلیغ کرنے والوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ (ماسوا اس کے کہ اس کی وجہ  بھی امریکہ اور اسرائیل کی سازش میں تلاش کی جائے)۔

مجھے اُ ن کی تبلیغ میں بنیادی خرابی یہ نظر آتی ہے کہ اُن کا سار زور عبادات کی تلقین پر ہوتا ہے ۔ مسائل کا سامنا کرنے کی بجائے اُن کے پاس ہر مسئلے کا ایک ہی آسان سا جواب ہے :” دین سے دوری” ۔ اور دین سے اُن کی مراد دو،تین باتیں ہیں: نماز پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا، داڑھی رکھنا، شلوار ٹخنوں سے اوپر باندھنا وغیرہ۔ (یہاں یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ مغربی ممالک میں دین سے دوری کے باوجود اتنی رشوت ستانی کیوں نہیں، وہاں یتیموں اور بیواؤں اور غریبوں کی جائیدادوں پر لوگ قبضے کیوں نہیں کرتے؟)

یہ لوگ عام سیدھے سادے آدمی کو پکڑ کر ان ساری ظاہری چیزوں اور عبادات کے بارے  میں تو پڑھا/بتا دیں گے مگر جو لوگ معاشرے میں خرابیاں پھیلا رہے ہیں اُن کے پاس جا کرکوئی تبلیغ نہیں کریں گے۔یہ کبھی کسی ایسے شخص کے پاس وفد لے کر نہیں جائیں گے جس نے کسی یتیم کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہو، نہ کبھی کسی ایسے افسر کے پاس جائیں گے جو بدعنوانی میں ملوث ہو ، یا کسی ایسے شخص کے پاس نہیں جائیں گے جو علاقے میں منشیات کا کاروبار کر رہا ہے۔ پتہ نہیں ایسے سماج دشمن عناصر کو تبلیغ کرنے کی ہمت نہیں یا ضرورت ہی نہیں محسوس کی جاتی۔

لیکن اس سے زیادہ اہم بات  یہ ہے کہ یہ لوگ عام آدمی کو "خصی” بنا دیتے ہیں یعنی اُسے ایسا کر دیتےہیں کہ وہ ملک و قوم کے کسی کام کا نہیں رہتا۔ ہر بندے کے  ہاتھ میں تسبیح دے کر مسجد میں بٹھا دیتے ہیں ۔ اِس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کو چھوڑو، آخرت کی فکر کرو۔  بھائی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میری یہ دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ کیا مذہب ہمیں اس دنیا میں ہونے والے ظلم و جبر سے آنکھیں بند کر لینا سکھاتا ہے۔ اگرنہیں تو اس ملک میں روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی قتل و غارت کے خلاف یہ لاکھوں تبلیغیوں نے کیا کیا (شائد بیس بیس لاکھ کے اجتماعات میں رقت انگیز لہجے میں خدا سے دعائیں کی ہوں، مگر کوئی انہیں بتائے کے معاشرے دعاؤں سے نہیں سدھرتےو رنہ حضرت محمدﷺ بھی غار ِ حرا میں بیٹھ کر دعائیں کرتے رہتے ، وہاں سے نیچے آنے کی کیا ضرورت تھی)۔

تبلیغ نے دراصل عام آدمی کو اپنی دنیاوی ذمہ داریوں سے غافل کر کے اس ملک و قوم کا بیڑہ غرق کر دیا ہےمگر تبلیغیوں کو اپنی تبلیغ میں موجود یہ کھُلا تضاد نظر ہی نہیں آتا۔ یہ لوگ ہر کسی کو اپنے ساتھ تبلیغ پر لے جانے پر بضد ہوتے ہیں۔ خود تو اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتے ہی ہیں، دوسروں کو بھی اس پر مجبور کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا گھر بار، بیوی بچے چھوڑ کر سال بھر، تین ماہ یا چالیس روز کے لئے دوسروں کو سیدھا راستہ دکھانے نکل پڑےاور پیچھے اپنے ہی گھر والے بھٹک جائیں تو آپ نے کیا تیر مارا۔ بیوی بیمار بچے کو لے کرکہاں ماری ماری پھرے گی جسے پتہ ہی نہیں کہ اپنے ہی شہر کا ہسپتال کدھر ہے اور جسے آپ مرد ڈاکٹر سے ملنے بھی نہیں دیتے کہ وہ نامحرم ہے۔ یہ بات کون سمجھے گا اور سمجھائے گا کہ جس شخص پر چار پانچ لاکھ روپے قرضہ ہو وہ اپنی دکان بند کر کے یا نوکری چھوڑ کر تبلیغ پر نہ نکلے بلکہ پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، پھر دوسروں کی اصلاح کرے۔

انضمام الحق اپنے آخری میچ میں آؤٹ ہو کر روتے ہوئے پویلین واپس جا رہے ہیں۔

یہی صورت حال ہم نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں دیکھی۔ جوں جوں کرکٹ ٹیم میں تبلیغ کا رجحان بڑھتا گیا اُن کی کاکردگی کا معیار گرتا چلا گیا۔ کھلاڑیوں نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری یعنی کرکٹ کھیلنا (جس کے لئے وہ بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں) چھوڑ کر تبلیغ شروع کر دی۔ چنانچہ ہمارے ایک سٹار بیٹسمین انضمام الحق کو ویسٹ انڈیز میں ہونے والے عالمی  کپ میں ایک چھوٹی سی ٹیم سے شکست کے بعد روتے ہوئے میدان چھوڑ کر اسٹیڈیم سے باہر آنا پڑا۔کوئی بتائے کہ کھلاڑی کرکٹ کھیلنے کی غرض سے ویسٹ انڈیز گئے تھے، وہاں جا کر لوگوں کو مسلمان کرنا شروع کر دیا اور کرکٹ کو بھول گئے تواُن کی فیسیں، ٹکٹ اور ویسٹ انڈیز میں قیام پر اٹھنے والے سارے اخراجات حرام نہیں ہوگئے۔ مگر اس ملک میں لوگ حج بھی قوم کے خرچے پر کرتے ہیں، تبلیغ بھی قوم کے خرچے پر۔ قوم کا پیسہ مولوی کے لئے بھی اُتنا ہی حلال ہے جتنا فوجی جرنیل، بیوروکریٹ، جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر کے لئے ہے۔ کوئی قوم کے پیسے سے اِس دنیاء میں پلاٹ خریدتا ہے کوئی قوم کے پیسے سے جنت میں مکان بُک کرا لیتا ہے۔

تبلیغیوں سے آخر پر یہی التجاء کروں گا کہ آپ اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے معاشرے میں موجود ناانصافیوں کے خلاف منظم انداز میں جدوجہد کریں ۔ اس سے بڑھ کر نہ تو آپ دین کی کوئی خدمت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس بڑھ کر کوئی اللہ کی عبادت ہو سکتی ہے۔ ورنہ خاموشی سے مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ کر تسبیح گھما گھما کر اپنی جنت پکی کرتے رہیں اور باقی لوگوں کو "خصی” نہ کریں، انہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کر نے دیں۔

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔