مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر



IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

ہماری حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، یا ناکام بنائی جاتی ہیں؟


ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کو باقی حالات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ انتخابات کے لئے چلنے والی مہم سے لے کر نئی حکومتوں کے قیام اور ان کے فورًا بعد ہونے والی قتل و غارت میں کافی پیغام ہے ہمارے لئے۔ موجودہ حکومتوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ان کی ناکامی کے حوالے سے فرمان جاری ہو گئے ہیں۔ آخر کون ہے جو عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ناکام کرنے پر تُلا ہوا ہے؟ اس کے لئے کوئی بہت راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے آنے سے کس کا بھلا ہوتا ہے، کون عیاشی کرتا ہے، کون ہمارےوسائل پر بلا شرکتِ غیرے قابض ہو جاتا ہے اور اس کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتا۔

mur

میر مرتضیٰ بھٹو… بے نظیر بھٹو کا بھائی جو بےنظیر بھٹو کے اپنے دورِ اقتدار میں قتل ہوا۔

ہم (بشمول لالاجی) اکثر اپنی تمام برائیوں کی جڑ فوج کو قرار دیتے ہیں (اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے) مگر بنیادی طور پر غلطی سیاسی قوتوں ہی کہ ہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور آپس کی کھینچا تانی کی وجہ سے پہلے پاکستان پر بیورکریسی سوار ہوئی جس کی مثالیں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی موجودگی میں غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کا جناح کے بعد گورنر جنرل بن جانا ہے، اور اس کے بعدایک اور بیورکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل بن گیا۔ یہ سیاستدانوں ہی کی نا اہلی تھی کہ بیوروکریسی سے معاملات اپنے ہاتھ میں واپس لینے میں اس قدر ناکام رہے کہ پھر معاملات فوج کے ہاتھ میں چلے گئے اور ہم نے مشرقی پاکستان تک گنوا دیا۔

بھٹو نے سیاسی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے جرنیلوں کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا موقع فراہم کیا جس کی سزا نہ صرف بھٹو نے بھگتی بلکہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسامہ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر کمیشن بٹھایا اور اُس کمیشن کی رپورٹ دبائے رکھی جو آخر کار الجزیرہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ اب بھی اُس رپورٹ میں ہمیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اسامہ کس کس کی مدد سے ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔

اس مختصر سے وقت میں بھی نواز شریف اور عمران خان کے لئے کافی اسباق موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور آپس میں کھینچا تانی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں۔ اُن قوتوں کو پہچانیں جو ہماری ہر حکومت کو ناکام بناتی آئی ہیں ۔

آصف زرداری نے بھی نئی حکومت بننے کے بعد پہلے پہل نواز شریف کے ساتھ سینگ پھنسائے تھے اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس کے بعد اس نوعیت کی کوئی حرکت نہیں کی گئی حتیٰ کہ شہباز شریف کے ناقابل برداشت بیانات پر بھی زرداری صاحب خاموش رہے۔ آج سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے اور پیپلز پارٹی کو ٹائٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گورنر راج کا بھی دبے لفظوں میں ذکر ہو رہا ہے۔پنجاب کے وزیرِ قانون نے پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں حال ہی میں لشکرِ جھنگوی والے پولیس والوں کو یرغمال بنا کر اُن کے بدلے اپنے بندے چھڑا کر لے گئے ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایجنسیوں نے فوری طور پر یہ خبر تو چلوا دی کہ حملے کی اطلاع پہلے ہی سول انتظامیہ کو دے دی تھی تاہم کوئی بھی یہ تحقیق نہیں کرے گا (عمران خان بھی یہ سوال نہیں اُٹھا رہا) کہ ۱۰۰ دہشت گرد وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور ڈھائی سو لوگوں کو ساتھ لے کر واپس بھی پہنچ گئے۔ وزیرستان میں موجود فوج وہاں کیا کر رہی تھی؟ وہاں کے فوجی کمانڈر کو ڈی ایچ اے میں گھر مل جائے گا اور جب کبھی وہ مرے گا پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا۔

ہماری تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پہلے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور مل کر اُسے زیر کریں۔ اس ملک پر حکمرانی کرنا، اس ملک کی خارجہ پالیسی بنانا، اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے ، یہ سب فیصلے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب کام وہ لوگ کریں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں۔ جنہوں نے اور نہیں تو کم از کم پانچ سال بعد ہمارے سامنے آنا ہوتا ہے، ہم سے ووٹ مانگنا ہوتا ہے۔جنہیں ہم پانچ سال بعد ٹھینگا دکھا سکتے ہیں (جیسا کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کوحالیہ انتخابات میں دکھایا ہے) یہ سارے فیصلے ہم ایسے لوگوں کےہاتھوں میں نہیں رہنے دینا چاہتے جن کی نہ ہم شکلوں سے واقف ہیں نہ کرتوتوں سے۔ جو ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر ہم اُنہیں پانچ سال تو کیا پچاس سال بعد بھی ہٹا نہیں سکتے جب تک کچھ لاشیں نہ گر جائیں، کچھ خون نہ بہ جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آتی ہے۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف


یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: "دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، "تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم