وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

بس کریں جنرل صاحب بس…


۱۵ مارچ ۲۰۱۲ء کو ہمارے سپہ سالارِ اعظم(بقول ہمارے منصفِ اعظم) نے نہایت شفقت فرمائی اور قوم کو چند نصیحتوں سے فیض یاب فرمایااور کچھ حقائق بھی بیان فرمائے۔ ان کی گفتگو کا لُبِ لباب یہ تھا:

قومی اداروں کے کردار پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ ان اداروں کو بننے میں سالوں کی محنت لگتی ہے۔دوسرے ملکوں میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اتنی شدت سے تنقید نہیں کی جاتی جتنی پاکستان میں ہوتی ہے۔انہوں نے موساد، را اور سی آئی اے کی مثالیں دیں۔ ایسی تنقید سے فوج کا مورال گرتا ہے۔ ہمارے جوان منفی ۲۰ سینٹی گریڈ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مہران بنک کیس کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ یہ تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا "ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہئے ، حال میں زندہ رہنا چاہئے اور مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے”۔

فوج کی سرگرمیوں نے بلوچستان کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں غائب افراد کی تعداد صرف 47 ہے۔

جنرل صاحب سے نہایت مودبانہ طور پر کچھ گزارشات ہیں۔ امید ہے ناگوار نہیں گزریں گی۔

قومی اداروں کی تعمیر:

جناب جنرل صاحب گزارش یہ ہے کہ آپ نے بجا فرمایا کہ ادارے سالوں کی محنت سے بنتے ہیں۔ مگر آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف ایک ادارہ ملک چلانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ بھی ایک ادارہ ہے، عدلیہ بھی ایک ادارہ ہے۔ ہمیں ان اداروں کو بھی بنانا ہے۔ پارلیمنٹ آئی ایس آئی سے ہزار گنا زیادہ اہم ادارہ ہے۔ اگر آپ کا ادارہ مہربانی فرمائے تو ہم ان اداروں کو بھی بنا لیں۔ اگر آپ کی آئی ایس آئی ذرا شفقت فرمائے اور میمو گیٹ جیسے تماشے کھیلنا بند کردے تو عین نوازش ہوگی۔

قومی اداروں پر تنقید:

جو ادارہ اپنے کام کے علاوہ دنیاء کا ہر کام کر رہا ہو اُس پر تنقید نہ ہو تو اور کیا ہو۔ جو ادارہ گالف کلب، کھاد، بنک، شادی ہال اور سامان کی ترسیل جیسے کام تو کرے مگر چند دہشت گرد گروہوں کو قابو کرنے میں ناکام ہو جائے اس کو جھک جھک کر سلام کیسے کیا جائے۔ جس ادارے کو اپنی ہی ٹریننگ اکیڈمی کے پاس ایک قلعہ نما مکان میں رہنے والے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب فرد کا پتہ نہ ہو اُسے ۲۱ توپوں کی سلامی کیسے دی جائے؟جس ادارے کے اپنے ہیڈ کوارٹر پر دہشت گرد حملے کریں اور  پھر بھی وہ ان دہشت گردوں کو قومی اثاثہ قرار دے اس ادارے کو گلے لگا کر چومنے کی ہمت کون کرے۔ موساد، را اور سی آئی اے پر یقیناً اتنی تنقید نہیں ہوتی اور اُن کے کردار پر کھلے عام میڈیا میں بحث نہیں کی جاتی مگر وہ عام معاملات میں ٹانگ بھی تو نہیں اڑاتے۔ اگر آپ کا ادارہ  میرے ووٹ چوری کرے، میرے لئے لیڈر منتخب کرے توپھر بھی میں اُس کے معاملات پر بحث بھی نہ کروں۔

اداروں کا مورال:

رہی بات مورال کی تو حضور دیگر اداروں کا مورال بھی ملحوظ رکھا کریں نا۔ کیا مورال صرف فوج کا ہوتا ہے۔ جب آپ لوگ ہمارے سفیر پر منصور اعجاز جیسے جانوروں کا غول چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے تمام سفارت کاروں کو مورال نہیں گرتا۔ ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ بات ہے کہ مجرم کو سزا دینے سے ایک ادارے کا مورال ہی گر جاتا ہے۔ ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ مجرم کو سزا ملنے سے قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کا مورال بلند ہو جاتا ہے اور دوسرے مجرموں کا مورال گر جاتا ہے۔ اب اس سےزیادہ ہم کچھ نہیں کہتے کہ ایسا نہ ہوغائب افراد کی تعداد اڑتالیس ہو جائے۔

منفی ۲۰ سنٹی گریڈ:

یہ بجا ہے کہ ہمارے جوان منفی ۲۰ سنٹی گریڈ پر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ ہمیں اُن جوانوں پر فخر ہے۔ مگر اُن کی قربانیوں  کے بدلے میں ہمارے ٹیکسوں سےبنے گالف کورس میں گالف کھیلنے والے جرنیلوں کو کیوں کرمعاف کردیں۔ یہ بھی مت بھولیں کہ سیاچن کے میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے کے پیچھے بھی آپ جرنیلوں کی نااہلی تھی جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کو اتنی شدید سردی میں خدمات انجام دینا پڑرہی ہیں۔ اگر ضیاع الحق کے دور میں ہماری فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر حکمرانی کے شوق پورا کرنے میں نہ لگی ہوتی تو سیاچن میدان جنگ بننے سے بچ سکتا تھا۔ آپ کے بزرگ جنرل ضیاع الحق نے فرمایا تھا کہ سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اُگتی۔ اب اُسی مقام پر ہمارے جوانوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔

تاریخ سے لڑنا:

حضور تاریخ سے کون لڑ سکتا ہے۔ مگر کیا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ گناہ پرانا ہو جائے تو گناہ نہیں رہتا؟ جرم کئے دس بیس سال گزر جائیں تو مجرم کو اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہئے؟ اگر ایسا ہی ہے تو برائے مہربانی چیپ جسٹس صاحب کو بھی حکمت کے اس موتی سے نواز دیجئے جو گزشتہ تین چار برس سے صدر صاحب کے خلاف ایک پندرہ سال پرانا مقدمہ کھلوانے پر بضد ہیں۔ اوہو…معاف کیجئے گا میں بھول گیا تھا کہ صدر صاحب تو بلڈی سولین ہیں۔ یہ اصول اُن پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ تو جنرل اسلم بیگ کے لئے ہے نا۔ سوری سر۔۔۔

ماضی سے سبق سیکھنا:

رہی بات ماضی سے سبق سیکھنے کی۔ عالی جاہ، جب ایوب خان اور یحیٰی خان کے لگ بھگ ۱۳ سالہ دور کے بعد مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھوچکے تھے تو ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۹ کا پنگا کیوں لیا۔ چلیں یہ بھی ماضی کا  قصہ سمجھ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر آج تو باز آجائیں نا۔ اب تو آپ جیسا دانش ور آرمی کا چیف ہے (ویسے تو ہر چیف ہی اپنے آپ کو دانشور سمجھتا ہے)۔ مگر حالات و واقعات یہ نہیں بتاتے کہ ماضی سے سبق سیکھ لیا گیا ہے۔ اوہ…سوری… میں بلڈی سولین پھر غلطی کر گیا۔ یہ نصیحت تو سولین کے لئے ہے نا… جرنیلوں کے لئے تو نہیں۔ سوری…بس کیا کروں…ہم کم بخت سولین کبھی سدھر نہیں سکتے۔

بلوچستان کے لوگوں کا معیارِ زندگی:

بلوچستان کے لوگ بھی نا۔ پاک فوج نے اُن کا معیارِ زندگی اتنا بلند کر دیا ہے کہ وہ اونچے اونچے پہاڑوں پر رہنے لگے ہیں۔ نیچے ہی نہیں آتے۔ نیچے صرف اُن کی مسخ شدہ لاشیں ہی آتی ہیں۔ ویسے جناب عالی..!یہ تو بتائیے کہ فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوام کا معیار زندگی کیسے بلند ہوتا ہے۔ کیا چھاؤنیاں بنانے کو ترقیاتی کام سمجھنا چاہئیے۔ پھر تو کیوں نا ہم دفاعی بجٹ کو بھی ترقیاتی بجٹ کا حصہ قرار دے دیں۔ سارے پاکستان کے عوام کا معیارِ زندگی ایک دم سے بہت بلند ہو جائے گا۔ ویسےترقیاتی بجٹ میں اچانک اتنا بڑا اضافہ شاید عوام سے ہضم نہ ہو پائے۔ایک چھوٹی سی بات اور…ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا فوج کا کام نہیں ہوتا۔ فوج کا کام ہوتا ہے ملک کا دفاع کرنا۔ ایک بار پھر سوری سر… 

غائب کئے گئے افراد:

غائب افراد بھی صرف سینتالیس ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہمارے ملک میں غائب کئے گئے افراد کی تعداد اتنی کم ہے۔ سنتالیس افراد کا غائب ہونا تو کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ یہ احتجاج وغیرہ چھوڑ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں۔ ان سینتالیس افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی جلد ہی مل جائیں گی۔ تب اُٹھا کر دفنا دیں گے۔ پہلے سے کیا چیخم دھاڑ کرنا۔

بڑی  مہربانی جنرل صاحب…