وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

تین سپر پاورز کو شکست….کیا واقعی؟؟؟


افغانستان نے تین سپر پاورز کو شکست دی ہے….

ہمارے پاس اپنے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے کے لئے ایک سے ایک بڑا مسخرہ موجود ہے۔ کوئی لال ٹوپی پہن کر ٹی وی پر آ جاتا ہے اور اِس ٹوٹے پھوٹے ملک کے برے حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ اور ہندوستان کے کندھوں پر ڈال کر سوال نہ پوچھنے والے (یعنی اپنا دماغ استعمال نہ کرنے والے) نوجوانوں کو غزوہ ہند کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔

ایک اورمذہبی ماڈل و اداکار جدید ترین ہیئر اسٹائل بنا کر اور منہگے کپڑے پہن کر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے۔ جعلی ڈگری پر نہ وہ شرمندہ ہے، نہ اُس کا چینل، نہ اس کے پرستار۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں کرتا کہ جعلی ڈاکٹر بن کر اُس نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے۔ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔

تاہم ایک اور مذہبی دانشور بنام اوریا مقبول جان ہمارے بچوں کو اُن کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لئے کچھ اور طرح کے جھوٹ بولتا ہے۔ ذیل میں ایک ویڈیو میں اُس کی ایک تقریر ہے جس میں وہ ایک طرف کچھ تاریخی واقعات کو غلط انداز سے بیان کرتا ہے تو دوسری طرف فتح و شکست کے معنی ہی بدل کر دکھ دیتا ہے۔وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ افغانستان نے ایک صدی کے اندر اندر دنیا کی تین سپر پاورز کو شکست دی۔ یہ تقریر وہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے کر رہا ہے اور اُس کی اِس بات پر ناسمجھ لوگ کافی تالیاں بھی بجا دیتے ہیں۔ پہلے تقریر سن لیجئے، پھر باقی بات کرتےہیں۔ 

پہلی بات تو یہ کہ جس جنگ کا حوالہ اوریا مقبول جان صاحب دے رہے ہیں وہ جنگ ۱۹۰۵ء میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس سے لگ بھگ تریسٹھ سال پہلے 1842 میں لڑی گئی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اوریا صاحب اس ساری صورت حال کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جیسے برطانیہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر ناکام رہا۔ برطانیہ کا مقصد افغانستان پر قبضہ ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ برطانیہ اور روس دونوں ہی اس ملک کو پر اپنا اثر و رسوخ ضرور چاہتے تھے مگر قبضے کے خواہشمند نہیں تھے کیوں کہ دونوں بڑی طاقتیں افغانستان پر قبضے کی صورت میں آمنے سامنے آکھڑی ہوتیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال اوریا مقبول جان اور ان کے پرستاروں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد بھی جنگیں ہوتی رہیں اور افغانستان نے ۱۸۹۳ء میں انگریزوں کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدہ کیا اور اپنا بہت سا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ علاقہ موجودہ خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے شمالی اضلاع (جن کی آبادی پختون ہے) پر مشتمل ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان نے ایک سپر پاور کو شکست دی بالکل احمقانہ سی بات ہے۔ فاتح قومیں ڈیورنڈ معاہدے کی طرح کے معاہدے نہیں کرتیں۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ فتح اور شکست کا تصور کیا ہے۔ کیا کسی ایک محاذ پر دشمن کے سارے فوجی مار دینا فتح  ہے یا جنگ میں فتح کوئی زیادہ بڑی چیز ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں یہاں موٹی موٹی کتابوں اور دنیاء کے بڑے بڑے دانشوروں کے حوالے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ نہ ہی میرا ارادہ تمام اینگلو افغان جنگوں میں ہونے والی مارا ماری کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ کیوں کہ میرے نزدیک فتح اور شکست کا معیار یہ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس فاتح اور مفتوح قوموں کا تھوڑا سا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ تینوں سپر پاورز اور افغانستان میں سے فاتح کون تھا اور مفتوح کون۔ 

یہاں کچھ تصویریں افغانستان سے شکست کھانے والی تینوں سپر پاورز کے مختلف شہروں کی کچھ تصاویر پیش کر رہا ہوں :

:اور اب ہمارے فتح مند ہمسائے افغانستان کے کچھ مناظر

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ چند تصاویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس میں افغان قوم زخموں سے چور ہے، اُس کے بچے کوڑے کے ڈھیروں میں خوراک تلاش کرنے پر مجبور ہیں، اُس کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں مہاجرکیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ مفتوح قوموں کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں صحت کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں اور ان کے شہری دو وقت کی روٹی کو نہیں ترس رہے بلکہ کھیلوں، فنون لطیفہ اور سائنس کی دنیاء میں نام کما رہے ہیں۔

اوریا مقبول جان صاحب… ہمارے نوجوانوں پر رحم کیجئے… ایسا ہی جہاد کا شوق ہے تو پاکستان میں اچھی اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے وزیرستان کا رُخ کر لیجئے، یہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔

قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہیں


حال ہی میں میرا واسطہ کیمپ (Community Appraisal and Motivation Network-CAMP)نامی ایک تنظیم سے پڑا۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں بہت کام کیا ہے اور ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بارے  میں سنی سنائی باتوں اورلوگوں کی ذاتی رائے کی بنیاد پر بنی طلسماتی کہانیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کچھ ایسے حقائق آئے ہیں جو سائنسی انداز میں باقاعدہ سروے کر کے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ یہ سروے باقاعدگی سے۲۰۰۸ ، ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ میں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ان سروے کے نتائج کا تقابل کر کے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے رجحانات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں۔

ذیل میں ہم ان کی تازہ ترین رپورٹ )جو ۲۰۱۰ء میں کئے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے( میں سے کچھ دلچسپ انکشافات پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سروے لگ بھگ چار ہزار قبائلی لوگوں سے کیا گیا اور اس میں عورتوں اور مردوں سے سوالات کئے گئے۔ یہ سروے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(FATA) میں بھی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(PATA) میں بھی۔ کیمپ کی اپنی ویب سائٹ پر اس سروے کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے دفتر سے سروے رپورٹس مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ رپورٹس پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

فاٹا کا مستقبل

فاٹا کے لوگوں کے بارے میں پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انداز کے مطابق زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور جیسے ہیں خوش ہیں یا یہ کہ وہ اپنے علاقے میں موجود نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ تاہم کیمپ کے سروے میں جو باتیں سامنے آئیں وہ کچھ یوں ہیں:

  • 31 فیصد لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  • 25 فیصد لوگ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہیں۔
  • صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ایف سی آر کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے

ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) انگریزوں کا بنایا قانون ہے جوآزادی کے بعد چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں کیا گیا۔ اس قانون کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے کچھ یوں ہے:

  •  46فیصد لوگ اس قانون کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں
  • 26 فیصد لوگ اس میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں

یوں لگ بھگ ستر فیصد لوگ اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے چودہ اگست ۲۰۱۱ء کو اس قانون میں بنیادی اصلاحات کر دی ہیں۔ اس بارے میں اسی بلاگ میں دیکھئے …..

سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

لگ بھگ ساٹھ فیصد لوگ یہ چاہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ یہ ذہن میں رکھئے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حال ہی میں موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سر گرمیوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

قبائلی لوگ کس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں

یہ سوال تینوں سالوں میں کئے گئے سروے میں پوچھا گیا اور تینوں سالوں میں ملنے والے جوابات کا تقابلی جائزہ ایک دلچسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قبائلی لوگ سب سے زیادہ بھروسہ ملاؤں یا مذہبی رہنماؤں پر کرتے ہیں۔ تاہم سروے کے تنائج یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۸ میں لگ بھگ 69 فیصد لوگ ملاؤں پر بھروسہ کرتے تھے جو ۲۰۱۰ میں کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئے۔ دوسری طرف پاکستان فوج پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح ایف سی پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح بھی ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی۔ قبائلی بزرگوں پر بھروسے کی شرح ۲۰۰۹ میں ۲ فیصد تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔

فاٹا کے بڑے مسئلے کیا ہیں

عام خیال یہ ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی بندوقوں اور سمگلنگ کے کام میں خوش ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ تقریباً ہر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہےلوگوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو بیان کیا۔لوگوں نے تعلیم کی کمی کو صحت کی سہولیات کی کمی ، امن و امان اور انصاف سے بھی بڑا مسئلہ بتایا ہے۔

فاٹا میں رہنا

۲۰۰۹ میں صرف26 فیصد لوگ فاٹا میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تاہم ۲۰۱۰ میں لگ بھگ 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ فاٹا ہی میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ شرح اس بات کی دلیل ہے کہ فاٹا میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جب یہی سوال کچھ دیر بعد یوں دہرایا گیا کہ کیا آپ کسی اور علاقےمیں رہائش اختیار کرنا پسند کریں گے تو لگ بھگ 58فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور علاقے میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کریں گے۔

فاٹا میں محفوظ ہیں

لگ بھگ 60 فیصدلوگوں کا خیال ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ ہیں۔ اس طرح امن و امان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 51 فیصد لوگوں نےکہا کہ صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم 32فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔

خطرہ کس کس سے ہے؟

سارے پاکستان میں یہ ڈرون حملوں کے حوالےسے بہت شور ہے۔ مگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دہشت گرد تنظیموں کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

  • 41 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑا خطرہ ہیں
  • 15 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ قبائلی جھگڑوں سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
  • 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات سے ان کو خطرہ محسوس ہو تا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو ڈرون حملوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو پاک فوج کی کارروائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

قبائلی لوگوں کے خیال میں خود کش حملہ آور ہندوستان اور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں لگ بھگ 15 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں 21 فیصد قبائلیوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں 7 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور ہندوستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں یہ شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔

 طالبان کون ہیں؟

اس سوال کا جواب یوں ملا

  • 27 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان شرپسند عناصر ہیں
  • 24 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان جاہل لوگ ہیں
  • 18 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان غیر ملکی جنگجو ہیں
  • 5 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان اسلام کے محافظ ہیں
  • 1 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اسی طرح تقریباً 73 فیصد قبائلی لوگ القاعدہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی جہادیوں کا کیا کریں؟

عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

  • 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
  • 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
  • 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
  • 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔

افغان مہاجرین کا کیا کریں؟

89 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین واپس چلے جائیں۔