جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

غم و غصہ …. از سلمان راشد


 یہ  مضمون انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع ہوا۔ انگریزی متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک احمقانہ سے ویڈیو پر غم و غصے کا ڈرامہ کر کے ایک بزدل اور عقل سے پیدل آدمی نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔دہشت گردوں سے عام معافی۔ دہشت گردوں نے اُسے سیکولر نظریات کا مالک ہونے کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ لیکن جہاں اُس کے سیکولر نظریات ایک دھوکہ ہیں وہیں اُس کا مذہبی رجحانات بھی مشکوک ہیں۔

 ذرا غور کریں: اس شخص نے اعلان کیا کہ اگر اُسے موقع ملا تو وہ ویڈیو بنانے والے شخص کو قتل کر دے گا۔ اُس کے اس بیان پر فساد اور لوٹ مار کرنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موصوف کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ ایک (ناکام) ریاست پاکستان کا وفاقی وزیر ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس یقیناً نیلا پاسپورٹ ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ عام پاکستانیوں کو قتل پر اُکساتا جن کے لئے امریکہ جانا ہی ویزے کی مشکلات کے باعث ممکن نہیں ہوگا، اُسے چاہئے تھا کہ وہ خود کیلیفورنیا پہنچ جاتا اور اپنا کام کرگزرتا۔

 امریکہ میں مقیم ایک شخص کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس مذہبی غم و غصے کے مارے شخص کو اس بات کی تو پوری تسلی ہے کہ اُس کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یا تو قتل کرنے والے  کے لئے یہی ممکن نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ویزا حاصل کر سکے اور اگر کوئی ویزا لے کر امریکہ پہنچ بھی جائے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہیں گرفتار ہو جائے گا، مقدمے بھگتے گا، سزا پائے گا اور اتنے لمبے عرصے تک کسی جیل میں پڑا رہے گا کہ واپس آکر انعام کی رقم کا دعویٰ نہیں کر پائے گا۔ یہ سب کچھ محض ایک تماشا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔

 وزیر ریلوے غلام احمد بلور، جس پر ریلوے کو تباہ کرنے کا مقدمہ چلنا چاہئے،دراصل دہشت گردوں کے پیروں میں گر پڑا ہے جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔ اب اسلام کی زبانی کلامی خدمت کر کے اُس کو معافی مل گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ اور جن لوگوں نے اُس کو محض زبانی جمع خرچ پر معاف کر دیا ہے وہ بھی اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ اُن کی طرف سے دی گئی یہ معافی اُن کی مذہب سے محبت کو مشکوک بنا گئی ہے۔ کیا وہ اتنے سیدھے سادے ہیں کہ وہ اس چال کو سمجھ ہی نہیں پائے؟

 لیکن اس میں صرف بلور ہی قصور وار نہیں ہے۔ گرجنا برسنا اس قوم کا شیوہ ہے۔ پورے ملک میں ایسے بینر لگے ہوئے ہیں جن پر فلم بنانے والے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے "اب تمہاری خیر نہیں”۔ میں نے جتنے بھی بینر دیکھے اُن پرنکولا بیسیلے نکولا کو دھمکی دینے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ نہیں، قطعاً کچھ نہیں۔ یہ سب محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پیغمبر کا عظیم نام داغدار ہو گیا ہے مگر یہ لوگ محض بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ ان کا عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یہ لوگ خالی خولی دھمکیاں دینے کی بجائے اب تک امریکہ روانہ ہو چکے ہوتے تاکہ وہاں اُس مصری عیسائی کا قلع قمع کر سکیں۔

 اب آتے ہیں غم و غصے کی طرف۔ سروپ اعجاز نے بجا طور پر "غم و غصہ کی صعنت” کو ایک منافع بخش کاروبار قرار دیا ہے۔ ذرا کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں موجود نوجوانوں کے انٹرویو تو سنیئے۔ ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے تو اُس نے جواب دیا "شغل”۔ ایک اور نوجوان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ سب ویڈیو یوٹیوب سے پابندی ہٹتے ہی آپ دیکھ سکیں گے۔ ایک اور نوجوان کی تصویر دیکھیں۔ یہ پشاور کا منظر ہے اور نوجوان چہرے مہرے سے پختون معلوم ہوتا ہے جنہیں ہم سب پاکستانیوں میں اسلام کے زیادہ قریب سممجھتے ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لوٹ کا مال سمیٹے جا رہا ہے۔ کیا یہ سب توہینِ رسالت پر غم و غصے کا اظہار ہے؟

 ہم کسی کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ اس مذہب کے ساتھ بھی نہیں جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہم جھوٹے، منافق اور بد عنوان لوگ ہیں جومذہب سمیت ہر کسی کو صرف باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم غم و غصے کے اظہار میں آگے رہتے ہیں اور اس میں اپنے ہی ملک کو جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ حقیقی گستاخ جن کو سزا ملنی چاہئے ہمارے درمیان موجود ہیں اور بلور اُن میں سر فہرست ہے۔

کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔۔۔؟


ابھی حال ہی میں میرے حد سے زیادہ مسلمان بھائیوں نے پاکستان میں جو گل کھلا کر اسلام کو زندہ کرنے اور پیغمبردو جہاں کی عزت بحال کرنے اور امریکی یہودیوں کو (اُن میں سے ۹۹ فیصد کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ فلم ایک مصری نژاد عیسائی نے بنائی ہے) سبق سکھانے کا جو عظیم الشان مظاہرہ کیا ہے اُس پر کم از کم لالا جی کا سر توہمیشہ کے لئے ہندوؤں (کراچی میں مندر میں تور پھوڑ کے واقعے پر)، عیسائیوں (مردان میں گرجا گھر جلائے جانے پر) اور عام کمزور ایمان والے مسلمانوں (جن کی املاک جلائی گئیں، گاڑیاں توڑی گئیں، روزگار ختم ہو گئے) کے آگے شرم سے جھکا رہے گا۔

 اس ذہنی صورت حال میں ایک سکھ مذہب کی توہین کے ایک واقعے کی رپورٹ نظر سے گزری تو دل بہت خوش ہوا۔ مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے والوں کو جان سے مار کر تو پتہ نہیں کچھ حاصل ہو کہ نہ ہو، مگر اُن کے ساتھ دوستانہ رویے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔

بلپریت کور کی وہ تصویر جویورپی لڑکے نے بلپریت کو بتائے بغیر بنائی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی۔

 واقعہ بیان کرنے سے پہلے سکھ مذہب کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہمارا جسم خدا (اللہ، بھگوان، جسے بھی آپ خدا مانتے ہیں) کی دین ہے اور ہمیں اِسے ویسا ہی رکھنا چاہئیے جیسا خدا نے عطا کیا ہے۔ اس میں غیر فطری طریقوں سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کی ناشکری کے مترادف ہے۔ اسی حکم کی وجہ سے پختہ عقیدے کے مالک سکھ اپنے جسم کے بال نہیں کٹواتے۔ ہم سکھوں کا اس بات پر مذاق اُڑاتے ہیں اور ایسے میں یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم کسی کے مذہبی عقائد کی توہین کر رہے ہیں۔

 بالکل یہی ایک نوجوان نے ایک راسخ العقیدہ سکھ لڑکی بلپریت کور کے ساتھ کیا۔ بلپریت کور کے چہرے پر بھی بال موجود ہیں اور دیکھنے والا چندلمحوں کے لئے حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یہ عورت ہے یا مرد۔ ایک مغربی نوجوان، جو ریڈٹ نامی ایک ویب سائٹ (فیس بک اور ٹویٹر کی طرح کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ) پر یورپین ڈاؤشبیگ کا نام استعمال کرتا ہے، نے بلپریت کی تصویر (جو کہ بلپریت سے چھپ کر بنائی گئی تھی) ویب سائٹ پر لگا دی اور لکھا "مجھے پتہ نہیں اس کا کیا مطلب ہے”۔ تصویر کا بھر پور مذاق بن گیا، گھٹیا اور گندے تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔

 بلپریت کے کسی دوست کی نظر سے یہ پوسٹ گزری تو اُس نے بلپریت کو بتادیا۔ شکر ہے کہ بلپریت مسلمان نہیں تھی ورنہ اُس کا بھائی  اپنی غیرت کے تحفظ کے لئے اُس لڑکے کو ڈھونڈ کر قتل کر دیتا (اگر پاکستانی ہوتا تو ساتھ بلپریت کو بھی قتل کر دیتا)۔ اسلام کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے سینما ہاؤس جلائے جاتے، بنک لوٹے جاتے، دس پندرہ لوگ مارے گئے ہوتے۔ مگر سکھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سکھوں کو اپنے مذہب سے اتنا زیادہ عشق نہیں ہے جتنا ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کو ہے۔ یہ احمق لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں دنیا سے اُس کی عزت کرانا نہیں جانتے۔ ہم اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے مگر دنیاوالوں سے اپنے مذہب کی عزت کرانا ہمیں خوب آتا ہے۔

 بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ سمجھے خدا کرے کوئی

 واپس آتے ہیں بلپریت کی طرف۔ بلپریت نے نہایت ٹھنڈے دل سے اپنی تصویر اور اُس پر ہونے والے تبصروں کو دیکھا اور پھر ایک جواب لکھا۔ بلپریت کور کا جواب ملاحظہ ہو:

 ہیلو دوستو! ۔۔۔ میں بلپریت کور ہوں اس تصویر والی لڑکی۔ مجھے دراصل اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا؛ مجھے میرے ایک دوست نے فیس بک پر اس بارے میں بتایا۔ اگر ڈائوشبیگ کو تصویر لینی تھی تو مجھے بتا دیتا میں خوشی سے تصویر بنوا تی۔ تاہم مجھے نہ تو شرمندگی ہے اور نہ میں اس تصویر کو ملنے والی توجہ (چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) پر کوئی ذلت محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں جو ہوں سو ہوں۔ ہاں میں ایک سکھ عورت ہوں جس کے چہرے پر بال ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ میری جنس کے بارے میں اکثر غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کیوںکہ میں دوسری عورتوں سے مختلف نظر آتی ہوں۔ تاہم ہم سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے جسم کو مقدس مانتے ہیں اور اسے خدا (جو نہ مذکر ہے نہ مونث) کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ سمجھتے ہیں جسے اپنی فطری حالت میں رکھ کر ہم خدا کی مرضی کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ جیسے بچے اپنے والدین کی طرف سے ملے ہوئے تحائف کو مسترد نہیں کرتے، سکھ خدا کی طرف سے عنایت کردہ جسم کو مسترد نہیں کرتے۔ میں میں کی رٹ لگا کر اور اپنے جسم میں تبدیلیاں لا کر ہم اپنی انا کی غلامی کرتے ہیں اوراپنی ذات اور اپنے خدا کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ معاشرے کی طرف سے دیئے گئے خوبصورتی کے معیارت سے بالا تر ہو کر میں اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دے سکتی ہوں۔ میرے خیالات، عقائد اور اعمال کا حسن میرے جسم کے حسن سے زیادہ اہم ہے کیوںکہ جسم کا کیا ہے یہ تو ایک دن راکھ ہو جائے گا تو میں اُس کے بارے میں کیوں ہلکان ہوتی رہوں۔ جب میں مر جاؤں گی تو کوئی بھی یہ یاد نہیں رکھے گا کہ میں کیسی لگتی تھی، حتیٰ کہ میرے بچے بھی میری آواز تک بھول جائیں گے۔ آہستہ آہستہ تمام جسمانی/طبعی چیزیں مٹ جائیں گی۔ تاہم میری سوچ اور خیالات باقی رہیں گے اور اپنی جسمانی خوب صورتی سے توجہ ہٹانے کی وجہ سے مجھے اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری پر توجہ دینے کے لئے بہت سا وقت مل جاتا ہے ۔ اس طرح میں اس دنیا میں بہتری لانے کے لئے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکتی ہوں۔ لہٰذا میرے لئے میرا چہرا اہم نہیں ہے تاہم وہ مسکراہٹ اور خوشی جو میرے چہرے کےپیچھے چھپی ہیں وہ اہم ہیں۔ چنانچہ اگرآپ میں سے کوئی مجھے یونیورسٹی میں دیکھے تو بے دھڑک آکر مجھ سے بات کرے۔ میں یہاں پوسٹ کئے گئے تمام تبصروں (چاہے وہ مثبت ہوں یا تھوڑے کم مثبت) سے خوش ہوں کیوں کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ویسے یوگا پینٹ جو میں نے پہن رکھی ہے بہت آرام دہ ہے اور یہ شرٹ ایک ایسی تنظیم کی طرف سے ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کافی باتوں کی وضاحت کر دی ہے۔ بہت معذرت کہ میری وجہ سے کچھ غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اُس کے لئے بھی بہت معذرت۔

 یہ جواب یقیناً بہت غیر متوقع تھا۔ تاہم اس جواب کا رد عمل اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ تصویر پوسٹ کرنے والے نوجوان نے اس کے جواب میں لکھا:

 مجھے پتہ ہے کہ یہ کوئی دلچسپ پوسٹ نہیں ہے لیکن میں سکھوں سے بالعموم اور بلپریت سے بالخصوص معا فی چاہتا ہوں کہ میں نے ان کو تکلیف پہنچائی۔ سیدھی سے لفظوں میں یہ ایک احمقانہ حرکت تھی۔ لوگوں کا مذاق اُڑانا کچھ لوگوں کے لئے تفریح کا باعث ہوگا مگر جن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اُن کے لئے یہ یقیناً بہت تذلیل کا باعث ہوتا ہے۔ یہ پوسٹ یقیناً ایک ناقابلِ یقین سی بد تمیزی اور جہالت تھی۔ اس تصویر کو تفریح کے عنوان کے تحت نہیں بلکہ نسلی تعصب یا عدم برداشت کے عنوان کے تحت پوسٹ کیا جانا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔ میں نے سکھ مذہب کے بارے میں کافی مواد پڑھا ہے اور مجھے بہت دلچسپ لگا۔ یہ بات مجھے بہت معقول لگتی ہے کہ ہم اپنے جسمانی حسن کی بجائے اپنے خیالات اور سوچ کو خوبصورت بنائیں۔ وہ تصویر لگانا میری طرف سے انٹرنیٹ کی دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش تھی۔ میں احمق تھا۔خیر بلپریت۔۔۔! مجھے اپنی تنگ نظری پر افسوس ہے۔ آپ مجھ سے بہت بہتر انسان ہو۔ سکھ دوستو۔۔۔! مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہارے طرز زندگی اور ثقافت کا مذاق اُڑایا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی مسلمانوں نے پندرہ سے زیادہ لاشیں گرا دیں اور چھہتر ارب روپے کا نقصان کر کے اپنی ہی جگ ہنسائی کرالی۔ تاہم امریکی فلم ساز کو پھر بھی معافی مانگنے پر مجبور نہ کر سکے۔ بلپریت کور نے سکھ مذہب کی اقدار کا مذاق اڑانے والے کے سر پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کئے بغیر ہی اُسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

 مجھے پتہ ہے کہ اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیدار (جوعموماً علم و فضل کے سمندر ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں) بلپریت کور سے کچھ نہیں سیکھیں گے۔ ویسے بھی جنہوں نے پیغمبرِ دو جہاں کی تعلیمات سے کچھ نہیں سیکھا وہ بلپریت کورسے کیا سیکھیں گے۔ میں یہ بلاگ اُن کے لئے لکھ بھی نہیں رہا۔ یہ بلاگ عام سیدھے سادے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم سیدھے سادے، کم علم، مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے میں نہیں ہچکچائیں گے۔

سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم 

امت مسلمہ کے لئے مشورہ


فوٹو: رضوان تبسم (اے ایف پی)۔۔۔ پشاور ۱۸ ستمبر ۲۰۱۲

 پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ "ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ "ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

"یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
"آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

"نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

 بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

 جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

 جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

 جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

 خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید  پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

 ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت "ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، "ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

 بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے "ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان "شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

پیغمبر اسلام کے نام ایک خط


اے رحمت اللعالمین !

السلامُ علیکم….

میں آج بہت پریشان ہوں۔ یوں تو میں پیدائشی مسلمان ہوں مگر پیدائشی مسلمان ہونے کو کوئی کمال نہیں سمجھتا۔ بلکہ اُن لوگوں کوذیادہ بہتر مسلمان سمجھتا ہوں جو سوچ سمجھ کر، آپ کی تعلیمات کو پڑھ کر، انہیں سمجھ کر مسلمان ہوئے یا جنہوں نے پیدائشی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات کو پڑھا، سمجھا اور اُ ن پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے بھی آپ کی تعلیمات کو پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ آج میں بہت پریشان ہوں۔ میں طائف کے واقعے کو سنتا ہوں، مختلف غزوات خاص طور پر فتح مکہ کے بارے میں پڑھتا ہوں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتامگر جب آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والوں کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر سکتہ سا طاری ہو جاتا ہے۔

آپ نے علم حاصل کرنے کو سب سے افضل قرار دیا؛ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے۔ مگر آج آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والے بچیوں کو چین جانے کی اجازت تو کیا دیں گے ساتھ والی گلی میں قائم سکول جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے، بلکہ سکولوں کو بموں سے اُڑا دیتے ہیں اور عالموں کو محض اس لئے مار ڈالتے ہیں کہ وہ ان سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔

ہماری اس مملکت خداداد میں کئی لوگ یتیموں اور بیواؤں کا حق کھا جاتے ہیں۔ کئی لوگ تنخواہ لیتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، بہت سے لوگ رشوت دیتے اورلیتے ہیں۔ مگر آپ کے عشاق کو یہ سب حرکتیں آپ کی توہین نہیں لگتیں۔ آپ نے فرمایا جب کوئی بات سنو تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہ وہ درست ہے کہ نہیں۔ مگر آپ کے سچے عاشقوں کی نظر سے شاید آپ کا یہ فرمان نہیں گزرا، سو وہ بغیر تحقیق کے ہر بات آگے پھیلا دیتے ہیں اور انہی افواہوں کی وجہ سے کئی معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر آپ کے سچے عاشق اس نقصان پر رتی بھربھی شرمسار نہیں ہوتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ ندامت ، شرم اور معافی …وہ کیوں معافی مانگیں وہ بھی کسی ایسے شخص سے جو آپ پر ایمان لانے کا دعوٰی تو کرتا ہے مگر آپ کا سچا عاشق نہیں بن پایا۔

آپ کے ماننے والے اس ملک میں رہنے والے کالے عیسائیوں کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر پینا پسند نہیں کرتے، اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ہندوؤں کے مذہب کا اس بات پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ذات پات کے نظام پر مبنی ہے۔ کوئی عالم دین ان سچے عاشقوں کو یہ نہیں سمجھاتا کہ یہ کالے عیسائی جو ہماری نالیاں صاف کرتے ہیں یہ بھی انسان ہیں۔ کئی علمائے دین تو خود بھی اِن کالے عیسائیوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ سے جھاڑو لگا دیا کرتے تھے مگر آپ کے سچے عاشق یہی کام کرنے والوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہاں اگر کوئی گورا عیسائی آجائے تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آپ تو شدید ترین مظالم پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھےبلکہ برے سے برے لوگوں کو بھی معاف کردیتے تھے۔ مگر آپ کے عشق کے دعوے دار تو بندے کو مار ڈالتے ہیں، پھر اس کے جنازے میں بم چلا دیتے ہیں اور آخر اس کی قبر میں بھی بم رکھ آتے ہیں۔ کسی پر آپ کی توہین کا الزام لگ جائے تو اِن سے اتنا بھی صبر نہیں ہوتا کہ الزام کی صحت کے بارے میں تحقیق ہی کر لیں اور سچ جھوٹ کو پرکھ لیں… اس سے پہلے ہی جا کر ملز م کے سینے میں گولیاں اُتار آتے ہیں۔

یہ سب دیکھ کر میں بہت پریشان ہوں۔ آپ کا سچا عاشق ہونے کا معیار بہت سخت ہے۔ مجھ ایسے کمزور شخص سے یہ سب نہیں ہو سکے گا۔ آپ کے عشاق شاید میری اس کمزوری کو کبھی معاف نہ کر پائیں۔ مگر آپ تو رحمت اللعالمین ہیں، امید ہے آپ میری اس کمزوری پر درگزر فرمائیں گے۔

فقط آپ کا ایک کمزور (امن پسند) پیروکار

لالا جی