دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

بھورو بھیل کی کہانی، اعجاز منگی کی زبانی


1378218_655950074429621_443105088_n

بھورو بھیل کی لاش

سندھی دانشور اعجاز منگی کی تحریرسے اک اقتباس
یہ تحریر نہی بلکہ نوحہ ھے
دھرتی کے بیٹوں کا
دھرتی ماں کی اجڑی کوکھ کانوحہ
اعجاز منگی کی زبانی بھورو بھیل کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خورشید قائم خانی نے ایک کتاب لکھی تھی ’’بھٹکتی ہوئی نسلیں‘‘۔
ان بھٹکتی ہوئی نسلوں سے ہی تعلق تھا اس بھورے بھیل کا جس کے جسد خاکی کا بھٹکنا سندھی میڈیا کا بہت بڑا اشو بن گیا ہے۔وہ شخص جو نہ ہندو تھا اور نہ مسلمان ۔جو نہ سکھ تھا اور نہ عیسائی۔ جو نہ بدھ تھا اور نہ جین۔ اس شخص کو جب مرنے کے بعدمیرپور خاص کے مشہور شہر پنگریو کی سرزمین میں دفن کیا گیا تو بقول اقبال ’’مذہب کی حرارت ‘‘ رکھنے والے چند لوگوں نے ان کی لاش کو قبر سے نکال کر کڑی دھوپ میں پھینک دیا۔اور اس وقت نہ تو میرپور خاص کا وہ شاعر زندہ تھا جو یہ کہتا کہ ’’اسے میرے دل میں دفن کرو‘‘ اور نہ ہی وہ خورشید قائم خانی ہی اس دنیا میں موجود ہے جو اس کی لاش کو لے آتا اواسے اپنے گھر کے آنگن میں اس کی قبر بنالیتا اور جب چیت کا چاند اپنی کرنیں بکھیر دیتا اس دھرتی پر تب وہ خورشید قائم خانی اپنی مخصوص کیفیت میں بھورو بھیل سے مخاطب ہوکر کہتا کہ’’اے خانہ بدوش! بتاؤ کہ خرابی کہاں سے شروع ہوئی؟‘‘

ایک حادثے کا شکار ہوکر مرجانے والا بھورو بھیل جس طرح اس جدید دور میں اپنی قدیم مظلومیت کی علامت بننے کی کوشش کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ’’تاریخ پچھتاتی بھی ہے‘‘ اور تاریخ کو پچھتانا بھی چاہئیے!! تاریخ کو ان انسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے کٹہڑے میں آنا پڑے گا اور اسے بتانا پڑے گا کہ ’’ان لوگوں کاکوئی مذہب نہیں۔ تاریخ کے خط استوی پر اپنی منزل سے بھٹک جانے والے ان لوگوں کا کوئی دیس نہیں۔ اپنے دیس میں پردیسی جیسی زندگی گذارنے والے ان لوگوں کو ایک ملک تو کیا ایک مکان بھی نہیں ہے۔ وہ جہاں کھلی جگہ دیکھتے ہیں وہاں لکڑیاں اور گھاس پھونس جمع کرکے اپنی کٹیائیں بنا لیتے ہیں اور جب کوئی ان سے کہتا ہے کہ ’’یہاں سے دفع ہو جاؤ‘‘ تو وہ کوئی سوال پوچھے بغیر اپنے گدھوں پر وہی لکڑیاں اور گھانس پھونس لاد کر پھر کسی جگہ کے جانب چل پڑتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں دکھ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی آنکھوں سے ایک آنسو تک نہیں گرتا۔ کیوں کہ یہ لوگ صدیوں سے یہی زندگی جیتے آ رہے ہیں۔ وہ ہندؤں کی طرح اپنے جنازے نہیں جلاتے۔ وہ دفن کرتے ہیں۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اب انہیں صرف جینے کے لیے جگہ کی تنگی نہیں بلکہ مرنے کے لیے دفن ہونے کو دو گز زمین نہیں ملتی۔ یہ لوگ جو کبھی کراچی سے لیکر کشمیر تک ایک بہت بڑی سرزمین کے مالک تھے۔ اب انہیں دھرتی کا کوئی ٹکڑا نہیں ملتا جہاں وہ اپنے دل کے ٹکڑوں کو دفن کر آئیں۔ بھورو بھیل اس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ جس قبیلے کو عام لوگ خانہ بدوش کہتے ہیں اور جنہوں نے انگریزی کے دو الفاظ پڑھے ہیں وہ انہیں رومانوی انداز سے ’’جپسی‘‘ بلاتے ہیں۔ بھورو بھیل بھی جپسی تھا۔ بادامی آنکھوں اور تانبے جیسی رنگت رکھنے والے بھورو بھیل کی کہانی اگر ایک حقیقت نہیں بلکہ ایک ناٹک ہوتی تو تاریخ کی روح سفید لباس پہن کر بھورو بھیل کی مذار پر ضرور جاتی اور اس سے مخاطب ہوکر ضرور کہتی کہ ’’میرے بیٹے! مرنے کےبعد تاریخ کے اس بھاری بھرکم صلیب کا بوجھ تم کو اٹھانا تھا اور تم کو بتانا تھا کہ تم ابھی تک خانہ بدوش ہو‘‘
ہاں! وہ خانہ بدوش تھا۔ زندگی میں تو خانہ بدوشی بہت کرتے ہیں مگر اس کے مقدر میں مرنے کے بعد بھی خانہ بدوشی ہی آئی۔ اور اس کے اس المیے کا اظہار کسی نیوز چینل نے نہیں کیا۔آج کل کی حکومتیں اپنے ضمیر کا کم اور میڈیا کا زیادہ سنتی ہیں۔ مگر قومی میڈیا میں اس مظلوم خانہ بدوش کی داستان درد نشر نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ اس ملک کی اکثریت کوکبھی تو معلوم ہوگا کہ ’’ایک تھا بھورو بھیل‘‘ درواڑ نسل کا وہ انسان جس کی بھوری آنکھوں میں ایک فنکار بننے کا خواب تھا۔اسے یقین تھا کہ وہ اپنے فن سے ملک کی میڈیا پر چھا جائے گا۔اس نے اپنے قبیلے بچپن سے یہی سنا تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔ اسے اپنے حسن اور اپنی صلاحیتوں پر ناز تھا۔ مگر کسی چینل نے اسے فن کے مظاہرے کا موقع نہیں دیا۔ وہ مقامی پروگراموں میں اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا اوراس کو اتنا کچھ ملتا جتنا ایک بھیل اور باگڑی کو خیرات میں ملا کرتا ہے۔ مگر وہ زیادہ رقم کا تقاضہ نہیں کرتا اور مسکرا کر دعائیں دیتا ہوا چل پڑتا۔ زندگی کے اس سفر میں وہ کسی منزل پر نہیں پہنچا اور حادثے کا شکار ہوگیا۔ اور مرگیا!! اس کے موت پر میڈیا ماں افسوس کے اظہار والے بیانات شایع نہیں ہوئے۔ کوئی ریفرنس نہیں ہوا۔ وہ ایسے چلا گیا جیسے بنجارے جاتے ہیں۔ بغیر بتائے۔ چپ چاپ اور خاموش!!
اور مرنے کے بعد ان کے ورثاء نے اسے انہیں کپڑوں کے ساتھ ایک رلی میں لپیٹ کر مقامی قبرستان میں دفن کیا مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ دور تبدیل ہوچکا ہے اور بھورو بھیل کی تدفین ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گئی اور اسے گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کی قبر کھود کر اسے کے جسد خاکی کو باہر نکال کر دھوپ میں پھینک دیا۔ اس طرح جن لوگوں سے دھرتی پر جینے کا حق چھینا گیا ان لوگوں سے اب مرنے کے بعد دفن دھرتی میں دفن ہونے کا حق بھی چھینا گیا تو وہ لوگ کہاں جائیں گے؟

اس سوال کا جواب سمۂ کو بھی دینا ہوگا اور اس سرکار کو بھی جس نے ان انسانوں کو اقلیت کی سیاست چمکانے والے ان ہندؤں کے دفتر میں داخل کردیا ہے جو انہیں اپنے مندروں میں آنے نہیں دیتے۔ جو انہیں اپنے شمشان گھاٹوں میں مردے جلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہیں۔وہ کہاں جائیں؟ اگر وہ دولت اور دماغ کے حوالے سے غریں نہ ہوتے تو وہ اپنے قبرستان بناتے ۔ مگر جنہیں جینے کے لیے بستیاں نہیں وہ قبرستان کیا بنائیں گے!!
وہ جو خانہ بدوش ہیں۔ بنجارے ہیں۔ جن کی زندگی نے ہمیشہ پیٹھ پر ڈیرے ڈالے ہیں۔ مگر مرجانے کے بعد تو انسان اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس حوالے سے زمانے کا ضمیر بتائے کہ موت کے بعد ایک خانہ بدوش کہاں جائے!!!!؟؟؟
وہ خانہ بدوش جن کے آباؤ اجداد نے موہن جو داڑو جیسے حیرت انگیز شہر میں دھات کے بھالے بنانے کے بجائے مٹی کے وہ کھلونے بنائے جن کی مالیت آج عالمی منڈی میں کروڑوں ڈالروں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مگر آج ان انسانوں کو مرجانے کے بعد مٹی سے مٹی ہونے کا حق بھی میسر نہیں اور اس المیہ پر کوئی اداس نہیں۔ نہ انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی اور نہ اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے! نہ حزب اقتدار اور نہ حزب اختلاف!!
اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ بھورو بھیل کے ورثاء بھی اس زیادتی کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھ رہے مگر ادب اور فن سے پیوستہ دلوں میں ایسے المیاتی واقعات کے حوالے سے یہ احساسات ضرور جنم لیتے ہیں جن کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اے آسمانوں
نیلے جہانوں
جائیں کہاں یہ
بھٹکتے اور بے گھر۔۔۔۔!!‘

جشنِ آزادی مبارک


کارٹون صابر نظر سے بغیر اجازت لئے استعمال کر لیا ہے۔

اس ملک میں آپ آزاد ہیں۔ جو چاہیں وہ کریں:

  • چاہیں تو موٹر سائیکل سے سائلنسر نکال کر سڑک پر دوڑائیں۔
  • چاہیں تو لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کے اندر پٹاخے چھوڑیں
  • چاہیں تو سپیکر پر ساری رات وعظ کر کے یا قرآن پڑھ کے سارے شہر کو زبردستی ثواب پہنچائیں۔
  • چاہیں تو جب مرضی گلی میں قنات لگا کر راستہ بند کر کے اپنے مہمانوں کی دعوت کر لیں۔
  • چاہیں تو جتنا مرضی اونچی آواز میں گانے بجا کر سارے محلے کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں
  • چاہیں تو کسی کو بھی کافر یا غدار قرار دے دیں
  • چاہیں تو جتنے مرضی شیعوں کو بسوں سے اتار کر،باقاعدہ شناختی کارڈ دیکھ کر ماریں،
  • چاہیں تو عیسائیوں کی پوری پوری بستیاں جلا دیں ،ہندوؤں کی لڑکیاں اغوا کر لیں،
  • چاہیں تو احمدیوں کی عبادت گاہوں میں گھُس کر جتنے مرضی احمدیوں کو مار ڈالیں
  • چاہیں توکسی بھی شخص پر توہینِ رسالت/قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگا کر اُسے آگ لگا دیں۔
  • چاہیں تو قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولیں (اس پر قرآن کی بے حرمتی کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوگا)
  • چاہیں تو کسی بھی عورت پر تیزاب پھینک دیں، اُس کی ناک کاٹ دیں، غیرت کے نام پر قتل کر دیں۔
  • چاہیں تو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیں (پھانسی لگانے پر بھی پابندی نہیں ہے)
  • چاہیں توناقابلِ تردید حقائق سے صاف مکر جائیں۔
  • چاہیں تو یوُ ٹرن لے لیں۔
  • چاہیں تو اپنی سارے مسائل کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔
  • چاہیں تو جیسی مرضی پٹیشن لے کر سیدھے سپریم کورٹ چلے جائیں۔
  • چاہیں تو کسی بھی مقدمے میں سٹے آرڈر لے لیں اور باقی ساری زندگی مزے کریں۔

اور حد تو یہ ہے کہ:

  • چاہیں تو چیف جسٹس ہاؤس میں کمپنی کھول لیں۔