آبی جارحیت کا چورن


hafiz-saeed-share-pakistanمنافقت کی دنیا میں حقائق اکثر مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ہی آج کل ہمارے ایک مہربان ہر وقت بھارت کی آبی جارحیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ حافظ سعید صاحب کا تعلق پہلے لشکرِ طیبہ سے تھا ، جب لشکرِ طیبہ کو عالمی سطح پر دہشت گرد جماعت قرار دے دیا گیا تو حضرت نے چولا بدلا اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ بن گئے اور یہ معجزہ ہمارے بہت سے لبرل دوستوں کی آنکھوں کے تارے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے ہر دلعزیز جرنیل جناب پرویز مشرف کے دور میں پیش آیا۔ پھر جماعت الدوۃ پر بھی پابندی لگ گئی تو موصوف نے ایک بار پھر چولا بدلا اور فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربرا ہ بن گئے۔

لشکرِ طیبہ/جماعت الدعوۃ /فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کا دانہ پانی کشمیر میں نام نہاد آزادی کی جدو جہد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ چنانچہ موصوف کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان سے غداری نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے باقاعدہ بجٹ میں ان کے ادارے کے لئے ہر سال لگ بھگ دو کروڑ روپیہ مختص ہونے کے باوجود نواز شریف کے ہندوستان سے دوستی کے سپنے کو ڈراؤنا خواب بنا دینے کی پوری کوشش کر تے رہتے ہیں۔

ان کے آقا بھی وہی ہیں جو حکومت کی واضح پالیسی کے باوجود جیو نیوز کو کیبل پر نہیں چلنے دے رہے۔ اور ان کے آقا بھی اس قدر طاقتور ہیں کہ پرویز مشرف کا دور ہو، آصف زرداری کا دور ہو یا اب نواز شریف کا ، امریکہ کا دباؤ ہونے کے باوجود ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ موصوف کو پرائیویٹ ٹی وی چینل (بشمول جیو) پرائم ٹائم میں پروجیکشن بھی دیتے ہیں۔

حضرت صاحب کافی عرصے سےبھارت کی طرف سے  آبی جارحیت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ آج کل کے سیلاب کے بعد یہ چورن انہوں نے زیادہ ہی زور و شور سے بیچنا شروع کر دیا ہے ۔Hafiz-Saeed-GEO2

دوستو!…بات یہ ہے کہ  اگر ہم موجودہ سیلاب کو ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت تسلیم کر لیں تو پھر ضلع جھنگ کو ضلع سیالکوٹ کے خلاف بھی رپٹ درج کرادینی چاہئے کہ سیالکوٹ نے آبی جارحیت کر دی؟ صوبہ سندھ کو جلد ہی پنجاب کے خلاف مقدمہ کر دینا ہوگا کہ پنجاب نے سندھ کے خلاف آبی جارحیت کر ڈالی؟ ۲۰۱۰ میں پختونخواہ نے پنجاب اور سندھ کو ڈبو دیا تھا؟  

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بھارت آبی جارحیت کربھی رہا  ہے  تو کیا ہم بھارت کے خلاف جنگ کرکے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟ یہ بات تو ہمارے بزرگوں کو پاکستان بناتے وقت سوچنی چاہئے تھی کہ اسلام کے قلعے کو پانی کہاں سے فراہم کریں گے؟ اگر اسلام کے قلعے کے سارے دریا سیکولر بھارت سے آتے ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات درست رکھنے ہوں گے کہ نہیں؟ (ویسے ایک سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ بھارت سے آنے والا ہندو پانی  ہمیں اپنی مسلمان فصلوں کو دینا چاہئے بھی کہ نہیں؟ کیا اس ہندو پانی سے سیراب ہونے والی فصلیں مسلمانوں کے لئے حلال ہیں کہ نہیں؟)کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ بھارت سے اپنی شرائط منوا سکیں؟ کیا یہ مذہبی جماعتوں والے مل کر باجماعت دعائیں کر کے دریاؤں کے رُخ موڑ سکتے ہیں؟

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوجائیں تواس سے بر صغیر کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کوفائدہ ہوگا۔ ہاں اُن لوگوں کے لئے یقیناً بڑی مشکل ہوگی جن کا دانہ پانی ہندوستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے اور حافظ صاحب یقیناً انہی لوگوں میں سے ہیں۔ سو جب حافظ صاحب ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو پاکستان کے ساتھ غداری کہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے وہ بس اپنے آپ  ہی کو پاکستان سمجھتے ہیں۔

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا "کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ "آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو "کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔