مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر



IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

اس جنگ میں آپ کس کے ساتھ ہیں۔۔۔از سلمان حیدر


Pakistan-Army

(سلمان حیدر نے قوتِ قاہرہ یا جابرانہ قوت کی اصطلاحات بار بار استعمال کی ہیں۔ سیدھے سے لفظوں میں ان سے مراد پاک فوج ہے اور پاک فوج کےمفادات ہیں: لالاجی)

میرے کچھ دوست موجودہ صورتحال میں ریاست کی قوت قاہرہ خاص طور پر فوج کے کردار پر میری تنقید پڑھ کر مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ریاست کا کردار تبدیل ہو رہا ہے اور ریاست اپنی جابرانہ قوت کو ان طاقتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے جنہیں اس نے خود بنایا تھا اس لیے مجھے ریاست پر تنقید ترک کر دینی چاہئیے۔ کچھ دوستوں کے خیال میں مجھے ریاست پر تنقید ترک ہی نہیں کرنی چاہئیے اس کی حمایت کرنی چاہئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
میرا خیال یہ ہے کہ میرے ان دوستوں کو میرا موقف معلوم نہیں یا میں انہیں سمجھا نہیں پایا۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان دوستوں میں سے اکثریت دہشت گردی یا یوں کہیے کے مذہبی دہشت گردی کو اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہے جبکہ میں مذہبی دہشت گردی کو مسئلے کے ایک ظاہری پہلو کے طور پر دیکھتا ہوں۔
میری رائے میں مسئلہ مذہبی دہشت گردی سے بڑھ کر ریاست کی قوت قاہرہ کی جانب سے اپنے مفادات کے تحفظ اور بڑھوتری کے لیے غیر ریاستی یا نجی مسلح گروہوں کی سرپرستی ہے۔ یہ سرپرستی مذہبی گروہوں کو بھی حاصل رہی ہے اور اس سے نام نہاد لبرل جماعتوں کے مسلح ونگ بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔(12 مئی امید ہے کافی دوستوں کو یاد ہو گا۔) یہ سرپرستی ان مسلح جتھوں کے ذریعے ریاست سے باہر خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے اور ریاست کے اندر ریاست کی قوت قاہرہ کی طاقت پر سوال اٹھانے والوں یا مفادات کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ افغانستان ہو یا ہندوستان کراچی ہو یا فاٹا اور بلوچستان مسلح جتھے بنانا انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا تقسیم کرنا دو یا دو سے زیادہ فریقوں کی ایک ہی وقت میں پشت پناہی کرنا اور یہاں تک کے انہیں آپس میں لڑوا دینا بھی اس ساری سیاست کا حصہ ہے۔
اس مسئلے میں ایک اہم چیز یہ بھی ہے کے یہ جتھے روبوٹس پر مشتمل نہیں ہوتے ان کو چلانے والوں کے اپنے مفادات بھی ہوتے ہیں اور انہیں جس نظریے پر بنایا جاتا ہے ان کے ایکشن میں اس کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مثلا میں یہ نہیں سمجھتا کے فوج شیعوں یا عیسائیوں یا ہندوؤں کے خلاف ہے لیکن جب اس کے مفاد کے لیے کام کرنے والے گروہ اپنے نظریے کے تحت ان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو فوج انہیں نظر انداز کرتی ہے بلکہ کئی بار غیر فوجی ریاستی اداروں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ گروہ اپنے مفادات یا/اور نظریات کی بنیاد پر یہ اپنے بنانے والوں سے الجھ بھی پڑتے ہیں اور ایک بار الجھ پرنے کے باوجود ان کی صلح بھی ہو جاتی ہے۔ منگل باغ سے نیک محمد تک حالیہ مثالیں بھی بہت ہیں اگر آپ افغان جہاد میں نا جانا چاہیں تو۔
بلوچ قوم پرستوں کے خلاف مذہبی گروہ ہوں پاکستانی طالبان کے خلاف لشکر ہوں ایم کیو ایم حقیقی یا غیر حقیقی ہو سپاہ صحابہ ہو یا جماعتہ الدعوہ وغیرہ ان میں سے ہر ایک کو کسی نا کسی وقت فوج کی سرپرستی رہی ہے۔ ان میں سے کسی ایک قسم کے جتھوں کو اس وقت دبایا جا رہا ہے تو اس کے مقابل دوسرے کی سپورٹ کی جارہی ہے۔ کراچی میں متحدہ زیر عتاب ہے تو حقیقی واپس آ رہی ہے اور سپاہ صحابہ بھی موجود ہے۔ فاٹا میں متعدد لشکر بنائے لڑائے توڑے گئے ہیں اور کن کے خلاف جنہیں ان لشکروں سے پہلے بنایا اور لڑایا گیا تھا۔ بلوچستان میں مذہبی گروہ قوم پرستوں یا آزادی چاہنے والوں کے خلاف فوج کے ساتھ ہیں۔ پنجاب میں جماعتہ الدعوہ کو بھرپور سرپرستی حاصل ہے پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے علاقے میں واپس آ چکے ہیں۔
مقصد ان ساری مثالوں اور گفتگو کا یہ کے فوج کے اس وقت اپنے وقتی مفادات کے تحت ایک خاص قسم کے جتھوں کے خلاف ہو جانے کو اس مسئلے کا حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسئلہ حل تب ہو گا جب فوج اپنے مفادات کے تحت مسلح اور غیر مسلح جماعتیں اور جتھے بنانا اور انہیں استعمال کرنا چھوڑ دے گی۔ ورنہ کل ایک اور دشمن ایک اور وجہ ایک اور جنگ سامنے آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
مجھ سے کل ایک دوست نے پوچھا کے میری سمجھ میں نہیں آتا کے آپ فوج کے ساتھ ہیں یا طالبان کے تو میں نے اسے یہی جواب دیا کے اس جنگ اور آپریشن میں کام ہی یہ کیا گیا ہے کہ ایسا گھڑمس مچاؤ کہ اس لڑائی کی صرف دو سائیڈیں نظر آئیں اور اس کے بعد لوگوں کو ایک سائیڈ منتخب کرنے پر مجبور کر دو۔ ایسا نہیں ہے اس جنگ میں مارے جانے والوں کی اکثریت کسی طرف نہیں ہیں۔ میں انکی طرف ہوں۔

سفید ہاتھی کی موجیں …. از نعیم حجازی


بادشاہتوں  کے  زمانے  میں  ہاتھیوں  کی  بڑی  قدر  کی  جاتی  تھی۔  ہاتھی  رکھنا  شان وشوکت  کی  علامت  سمجھی  جاتی  تھی۔  انہی  دنوں  سفید  ہاتھی  کی  اصطلاح  نے  جنم  لیا۔  سفید  ہاتھی  سے  مراد  کوئی  ایسی  چیز  لی  جاتی  ہے  جس  کی  دیکھ بھال  پر  اچھا  خاصا  خرچ  آتا  ہو  لیکن  عملی  طور  پر  ا س  چیز  کی  کوئی  افادیت  نہ  ہو۔  مملکت  پاکستانیہ  اوّل  روز  سے  ہی  ایسا  ایک  سفید  ہاتھی  پال  رہی  ہے۔  ابتدائی  دور  ہی  سے  ملکی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کچھ  ایسا  گڈ مڈ  ہوا  کہ  یہ  تفریق  ہی  مٹ  گئی۔  دور  حاضر  میں  قومی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کا  ایک  ہی  مفہوم  سمجھا  جاتا  ہے۔  ملک  ابھی  قائم  بھی  نہیں  ہوا  تھا  کہ  فوجی  دستوں  نے  کشمیر  کا  محاذ  کھول  دیا  اور  اسلحے  کے  علاوہ  بہت  سا  قومی  سرمایہ  بھی  اس  دلدل  میں  ضائع  ہوا۔ملک  کے  پہلے  بجٹ  میں  فوجی  اخراجات  کو  تمام تر   اخراجات  میں سے   ستر  فیصد  حصہ  ملا۔مارچ  1951 ء  میں  وزیر خزانہ  غلام  محمد  نے  بجٹ  پیش  کرتے  ہوئے  کہا  تھا  کہ  دفاعی  اخراجات  ہمارے  ملک  کے  رقبے  اور  استعداد  کے  لحاظ  سے  بہت  زیادہ  ہیں۔ بعد ازاں  بھارت  سے  لڑنے  کیلئے  فوج  نے  امریکہ  کے  آگے  کشکول  لہرایا  اور  65ء  کی  جنگ  تک  خوب  ڈالر  کمائے۔  اس  کے  بعد  کبھی  چین،  تو  کبھی  روس  اور  آخر کار  عرب  ممالک  نے  ہماری  بہادر  افواج  کی  سرپرستی  کا  ٹھیکا  اٹھایا۔

ستم  یہ  ہے  کہ  فوج  ملکی  خزانے  کا  ایک  بڑا  حصہ  ہڑپ  بھی  کر  لیتی  ہے  اور  اس  لوٹ مار  کے  خلاف  تنقید  بھی  برداشت  نہیں  کرتی۔ اردو  اخبارات  سے  تو  خیر  کیا  شکوہ  کرنا،  انگریزی  اخبارات  بھی  ان  معاملات  میں  پھونک  پھونک  کر  قدم  رکھتے  ہیں،  کہ  آخر  اپنی  جان  تو  سب  کو  پیاری  ہوتی  ہے۔ ڈاکٹر  عائشہ  صدیقہ  نے  2007ء  میں  فوجی  اداروں  کو  ایک  کاروبار  کا  نام  دیا  تھا  کہ  جس  طرح  فوج  اپنے  معاشی  مفادات  کا  خیال  رکھتی  ہے،  اس  طرح  کے  اقدام  سرکاری  ادارے  نہیں  بلکہ  کاروبار  والے  اٹھاتے  ہیں۔  ڈاکٹر  عائشہ  کی  کتاب  تو  اب  پاکستان  میں  دستیاب  نہیں  لیکن  اس  کے  خلاف  باز گشت  ابھی  تک  فوجی  رسائل  میں  موجود  ہے۔ اس  کتاب  کی  تصنیف  کے  بعد  فوج  نے  اپنے  اعمال  سے  توبہ  کرنے  کی

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

  بجائے  کام  جاری  رکھا۔  پاکستان  کی  بری،  بحری  اور  فضائی  افواج  کے  کاروبار  پر  ایک   طائرانہ  نگاہ  ڈالتے  ہیں۔

سنہ  2001ء  میں  مشرف  صاحب  نے  فوجیوں  کی  پنشن  کو  فوجی  بجٹ  کی  بجائے  سویلین  بجٹ  میں  شمار  کرنے  کی  ہدایت  کی۔  سال  2010ء   میں  تیس  لاکھ  سابقہ  فوجی  ملازموں  کی  پنشن  کی  مد  میں  چھہتر(76)  ارب  روپے  مختص  کئے  گئے۔اسکے  علاوہ  فوج  ترقیاتی  کاموں  کیلئے  مختص  شدہ  فنڈ  سے  بھی  پیسے  حاصل  کرتی  ہے۔ہمارے  سالانہ  بجٹ  کا  بیشتر  حصہ  بیرونی  قرض  ادا  کرنے  پر  صرف  ہوتا  ہے  اور  یہ  قرض  بھی  دراصل  فوجی  ضروریات  کو  پورا  کرنے  کیلئے  ہی  تو  لیا  جاتا  رہا  ہے۔

رواں  سال  فروری  کے  مہینے  میں  لاہور  ہائی  کورٹ  نے  فوج  سے  پوچھا  کہ  فورٹریس  سٹیڈیم  کے  علاقے  میں  تعمیر  کیا  جانے  والا  شاپنگ  سینٹر  قانون  کی  خلاف ورزی  کرتا  ہے  یا  نہیں، کیونکہ  یہ  زمین  وفاقی  حکومت  کی  طرف  سے  فوج  کو  دفاعی  ضروریات  یا  عمارات  بنانے  کیلئے  دی  گئی  تھی  لیکن   فوج  نے  اس  زمین  کو  نجی  کمپنی  کے  ہاتھ  فروخت  کر  دیا۔ فوج  کی  جانب  سے  جواب  داخل  کروایا  گیا  کہ  وہ  زمین  ابھی  تک  ’دفاعی  اور  عسکری   ضروریات‘  کے  ضمن  میں  استعمال  کی  جا  رہی  ہے۔  شاپنگ  سینٹر  کے  ذریعے  کون  کون  سے  دفاعی  مقاصد  پورے  کیے  جا  سکتے  ہیں،  اس  امر  پر  نیشنل  ڈیفنس  یونیورسٹی  میں  تحقیق  جاری  ہے۔

پاک  بحریہ  نے  1995ء  میں  کیپٹل  ڈویلپمنٹ  اتھارٹی(CDA)  سے  اپنے  افسران  کی  رہائش گاہیں  قائم  کرنے  کیلئے  اونے  پونے  داموں  زمین  حاصل  کی۔ اب  اس  زمین  پر  قوانین  کی  خلاف ورزی  کرتے  ہوئے  نیول  ہاؤسنگ  سوسائٹی  تعمیر  کی  جا  چکی  ہے  جہاں  پلاٹ  عام  شہریوں  کو  مہنگے  داموں  بیچے  جا  چکے  ہیں۔پاکستانی  سمندروں  کی  محافظ  بحریہ  کے  اس  اقدام  کے  باعث  سرکاری  خزانے  کو  کئی  کروڑ  روپے  کا  نقصان  پہنچا  ہے۔ اسلام آباد  میں  موجود  نیول  ہیڈ کوارٹر  براہ راست  شاپنگ  پلازے  چلا  رہا  ہے  لیکن  کم ازکم  ہمارے  سمندر  تو  دشمن  کی  یلغار  سے  محفوظ  ہیں۔

اکتوبر  2014 ء  میں  آڈیٹر  جنرل  پاکستان  نے  انکشاف  کیا  کہ  پچھلے  مالی  سال  میں  پاکستان  کے  خزانے  کو  فوجی  اداروں  کی  کرتوت  کے  باعث  ایک سو تہتر (173)  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔  موازنے  کی  رو  سے  اتنی  رقم  میں  پاکستان  کے  ہر  بڑے  شہر  میں  میٹرو  بس  بنائی  جا  سکتی  ہے۔ پچھلے  بیس  سال  میں  قومی  اسمبلی  کی  پبلک  اکاؤنٹس  کمیٹی  نے  فوجی  اداروں  کی  مالی  بے ضابطگیوں  پر  تین  ہزار  سے  زائد  نوٹس  جاری  کیے  جن  میں  سے  صرف  ڈیڑھ  سو  کا  جواب  میسر  آیا۔

آڈیٹر  جنرل  نے  پاک  فضائیہ  کی  کراچی  میں  واقع  فیصل  بیس  کے  سربراہ  سے  درخواست  کی  کہ  سرکاری  جہاز وں  C-130  پر  فوجی  اداروں  کے  کارکنان  اور  انکے  خاندانوں  کو  سوار  کر  کے  ہر  ہفتے  اسلام آباد  لے  جانے  کا  سلسلہ  بند  کیا  جائے  کیونکہ  اس  وجہ  سے  رواں  سال   قومی  خزانے  کو  چوالیس(44)  کروڑ  روپے  کا  نقصان  اٹھانا  پڑا  ہے۔  اسی  ضمن  میں  یہ  امر  قابل ذکر  ہے  کہ  فوجی  تعمیراتی  ادارے    FWO   کو  نجی  تعمیراتی  اداروں  کے  برعکس  ٹیکس  چھوٹ  حاصل  ہے۔

کراچی  کے  علاقے  قیوم آباد  میں  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  کے  ملازم  مقامی  لوگوں  کو  وہاں  موجود  قدیم  قبرستان  میں  مردے  دفن  کرنے  سے  روک  رہے  ہیں  کیونکہ  اس  جگہ  کو  ہتھیانے  کا  منصوبہ  بنایا  جا  چکا  ہے۔  کراچی  ہی  کے  علاقے  غازی  کریک  میں  ڈیفنس  فیز  سیون(7)  اور  ایٹ(8)  سے  ملحقہ  علاقہ  پر  قبضہ  جاری  ہے  اور  اگر  یہ  منصوبہ  جاری  رہے  تو  اس  کریک  کے  اردگرد  490  ایکڑ  رقبے  پر  پھیلے  چمرنگ(Mangroves)  کا  صفایا  ہو  جائے  گا۔  لاہور  میں  واقع  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  اب  گوجرانوالہ،  ملتان  اور  بہاولپور  میں  اپنی  شاخیں  قائم  کر  رہی  ہے۔  

 فوج  کے  پچھلے  کمانڈر  کے  برادر  محترم  پراپرٹی  کے  کاروبار  میں  ملوث  تھے  اور  آئی  ایس  آئی  کے  نئے  سربراہ  کے  بھائی  کو  پی آئی اے  میں  کروڑوں  روپے  ماہانہ  کی  تنخواہ  پر  تقرر  کیا  گیا  ہے۔  برطانوی  راج  کے  دور  میں  سرکار  فوجیوں  میں  زمین  بانٹتی  تھی  تاکہ  انکی  اور  انکے  خاندانوں  کی  وفاداری  حاصل  کی  جائے۔ سامراجی  دور  میں  قانون  بنا  کہ  حکومت  ملک  کے  کسی  بھی  علاقے  کو  ’قومی  مفاد‘  کے  نام  پر  شہریوں  سے  خالی  کرا  سکتی  ہے۔  یہ  قانون  ابھی  تک  ہمارے  ملک  میں  رائج   ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

ایوب  خان  کے  دور  میں  فوجی  افسران  کو  زمین  بانٹنے  کا  سلسلہ  شروع  ہوا۔پہلے  پہل  اس  ضمن  میں  سرحدی  علاقوں  کے  قریب  زمین  حاضر  سروس  یا  ریٹائر  فوجی  اہلکاروں  کے  نام  لگائی  جاتی  تھی  تاکہ  بھارت  کی  جانب  سے  جارحیت  کی  شکل  میں  ابتدائی  مدافعت  کی  جا  سکے۔اس  دور  میں  ایک  مارشل  لاء  حکم  کے  تحت  سرکاری  ملازمین  پر  ایک  سو  ایکڑ  سے  زیادہ  زمین  رکھنے  پر  پابندی  عائد  کر  دی  گئی  البتہ  فوج  کے  ملازمین  پر  یہ  حکم  لاگو  نہیں  تھا۔لیہّ  کے  علاقے  چوبارہ  میں  بیس  ہزار  ایکڑ  زمین،  ایک  سو  چھیالیس (146)  روپے  فی  ایکڑ  کے  حساب  سے   فوجی  ملازمین  کو  سنہ 1982ء  میں  عطا  کی  گئی۔  اسی  تحصیل  کے  علاقے  رکھ  جدید  میں  چالیس  ہزار  ایکڑ  زمین  ملتے  جلتے   داموں  2007 ء  میں   فوجی  ملازمین  کے  نام  کی  گئی۔ پنجاب  ریونیو  بورڈ  کی  دستاویزات  کے  مطابق  1990ء  سے  2010ء  کے  دوران  صوبے  کے  تین  اضلاع (اوکاڑہ،  بہاولپور  اور  خانیوال)  میں  ایک  لاکھ  ایکڑ  زمین  فوج  کے  حوالے  کی  گئی۔ راجن پور  میں  فرید  ایئر  بیس  سے  ملحقہ  335  ایکڑ  زمین  پاک  فضائیہ  نے  ہتھیا  رکھی  ہے  اور  اس  زمین  پر  استعمال  کیا  جانے  والا  پانی  فتح پور  نہر  سے  چرایا  جاتا  ہے۔

پنجاب  حکومت  نے  سنہ 1913ء  میں  نو  مختلف  اضلاع(ملتان، خانیوال، جھنگ، سرگودھا، پا ک پتن، ساہیوال، وہاڑی، فیصل آباد  اور  لاہور)  میں  اڑسٹھ(68)  ہزار  ایکڑ  رقبہ  مختلف  سرکاری  محکموں  کو  کرائے  پر  دیا  جس  میں  سے  چالیس  فیصد  رقبہ  فوج  کے  پاس  تھا۔سنہ 1943ء  کے  بعد  سے  پنجاب  حکومت  کو  اس  زمین  کی  مد  میں  ایک  پیسہ  بھی  کرایہ  نہیں  ملا۔ 

 پاکستان  ریلوے  سے  فوج  کی  یاد اللہ پرانی  ہے۔ سنہ 1978ء  میں  کراچی  بندرگاہ  پر  فوج  کو  مقامی  انتظامیہ  کی  مدد کیلئے  تعینات  کیا  گیا  لیکن  کچھ  ماہ  بعد  یہ  بندوبست  ختم  ہو  گیا۔  اس  دوران  فوج  نے  نیشنل  لاجسٹک  سیل (NLC)  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  کے  بعد  سے  ملک  میں  سامان  کی  ترسیل  کا  کام  ریلوے  کی  بجائے  فوج  کے  ادارے  نے  شروع  کر  دیا  اور  بہت  جلد  ریلوے  کا  دیوالیہ  نکل  گیا۔ صرف  مالیاتی  سطح  پر  ہی  نہیں،  فوجی  اداروں  نے  ریلوے  کی  کئی  ہزار  ایکڑ  زمین  بھی  ہتھیا  لی،  جس  میں  سے  ایک  ہزار  ایکڑ  پاک  فوج  جبکہ  پانچ  سو  ایکڑ  زمین  رینجرز  سے  سپریم  کورٹ  کے  حکم  کے  بعد  واپس  لی  گئی۔  البتہ  اب  بھی  کم از کم  دو  ہزار  ایکڑ  زمین  ان  اداروں  کے  قبضے  میں  ہے۔  کچھ  عرصہ  قبل  NLC  نے  ریلوے  کی  نجکاری  کیلئے  مہم  شروع  کی  اور  اس  سلسلے  میں  کوریا  سے  کچھ  سامان  بھی  منگوا  لیا  لیکن  ریلوے  ملازمین  کی  مزاحمت  کے  باعث  ابھی  تک  یہ  سلسلہ  شروع  نہیں  ہو  سکا۔  سنہ  2012 ء  میں  قومی  اسمبلی  کی  خصوص  کمیٹی  نے  لاہور  میں  ریلوے  کی  ایک سو چالیس  ایکڑ  زمین  پر  غیر قانونی  طور  پر   قائم شدہ  گالف  کلب  کے  مسئلے  میں  تین  جرنیلوں  کو  مورد  الزام  ٹھہرایا۔  کمیٹی  کی  تحقیقات  کے  مطابق  اس  عمل  سے  ملکی  خزانے  کو  پچیس  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔     

فوج  کے  ماتحت  ایک  ادارہ  رینجرز  نام  کا  بھی  ہے  جس  کی  بے ظابطگیاں  اور  کرپشن  کی  داستانیں  عوام  تک  بہت  کم  پہنچتی  ہیں۔ رینجرز  کی  بنیادی  ذمہ داری  پاکستان  اور  بھارت  کے  مابین  عالمی  سرحد  کی  نگرانی  کرنا  ہے۔ تحصیل  سیالکوٹ  میں  کسی  کسان  یا  زمیندار  کو  نالوں  کے  کناروں  سے  مٹی  چاہئے  تو  ہر  ٹرالی  پر  سو  روپیہ  ’کرایہ‘  رینجر ز  کو  دینا  ہوتا  ہے۔ شیخوپورہ  میں  رینجرز  اہلکار  مٹی  کی  ایک  ٹرالی  چار  سو  روپے  کے  عوض  بیچتے  ہیں۔بہاول نگر، شیخوپورہ  اور  سیالکوٹ  میں  شکار  کیلئے  رینجرز  کی  گاڑیاں  استعمال  ہوتی  ہیں  اور  شکار  پارٹیوں  کا  بندوبست  بھی  رینجرز  اہلکار  کرتے  ہیں۔ شکر گڑھ  میں  رینجرز  اہلکار  ایک  شادی  ہال  چلا  رہے  ہیں۔ رحیم یار  خان  میں  ان  شہزادوں  نے  شاپنگ  مال (جسکا  نام  روہی  مارٹ  ہے)  کھول  رکھا  ہے۔ 

بہاول نگر  اور  بہت  سے  سرحدی  علاقوں  میں  رینجرز  کئی  سال  تک  پیپسی  جیسا  ایک  مشروب  بیچتے  رہے  اور  کچھ  عرصہ  قبل  اس  کے  خلاف  کارروائی  ہوئی۔ بدین  اور  ٹھٹھہ  کے  مچھیروں  پر  رینجرز  نے  اپنی   مرضی  کے  ٹھیکے دار  مسلط  کرنے  کی  کوشش  کی  جسکے  خلاف  مقامی  آبادی  میں  احتجاجی  تحریک  کا  آغاز  ہوا۔      

ظلم  کی  انتہا  ہے  کہ  فوجی  بھائی  اور  انکے  خاندان  تو  چھٹیاں  بھی  سرکاری  خرچ  پر  فوج  کے  میس  اور  گیسٹ ہاؤسوں  میں  گزارتے  ہیں  اور  ریٹائر شدہ  فوجیوں  کی  تنخواہ  سویلین  بجٹ  سے  کٹتی  ہے۔  تیرے  دیوانے  جائیں  تو  کدھر  جائیں؟  فوجی  اہلکاروں  سے  پوچھا  جائے  تو  فوری  طور  پر  قومی  مفاد  کی  لال  جھنڈی  لہرانا  شروع  ہو  جاتے  ہیں،  کیونکہ  آخرکار  قوم  کا  مفاد  فوج  کے  مفاد  میں  ہی  تو  پنہاں  ہے۔  پاکستان  کی  ساٹھ  فیصد  آبادی  شدید  غربت  میں  زندگی  گزار  رہی  ہے،  اسّی  فیصد  آبادی  کو  صاف  پانی  میسر  نہیں،  کروڑوں  بچے  تعلیم  کی  نعمت  سے  محروم  ہیں،  پبلک  ٹرانسپورٹ  نامی  کوئی  چیز  ہمارے  ہاں  موجود  نہیں  لیکن  فوج  کے  پاس  اعلیٰ  ترین  ہتھیار  تو  ہیں،  ایٹم  بم  تو  ہے،  میزائل  تو  موجود  ہیں،  تنخواہ  تو  مل   رہی  ہے۔ استاد  دامن  نے  یونہی  تو  نہیں  کہا  کہ  پاکستان  وچ  موجاں  ای  موجاں،  جدھر  ویکھو  فوجاں  ای  فوجاں۔

کچھ  دوستوں  کو  اعتراض  ہے  کہ  سیاست دان  فوج  سے  زیادہ  کرپٹ  ہیں  اور  یہ  کہ  دیگر  ممالک  جیسے  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  بھی  فوج  کے  اخراجات  بہت  زیادہ  ہوتے  ہیں۔  لیکن  عرض  ہے  کہ  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  افواج  سیاست دانوں  کی  کنپٹیوں  پر  ہمہ وقت  بندوق  تانے  موجود  نہیں  ہوتیں اور  نہ  ہی  وہاں  جرنیل  ریٹائر  ہونے  کے  بعد  ملکی  مفاد  کے  مامے  بن  کر  سرعت  سے  ٹی وی  سکرینوں  پر  نمودار  ہوتے  ہیں۔ چین  یا  امریکہ  کے  جرنیلوں  نے  پچھلے  ستر  سالوں  میں  اپنی  حکومتوں  کے  خلاف  گیارہ  تختہ  الٹنے  کی  سازشوں  میں  حصہ  نہیں  لیا  اور  اگر  وہاں  فوج  کے  اخراجات  پر  خرچ  ہوتا  ہے  تو  ان  ممالک  کی  معیشت  اس  قابل  ہے۔  ہماری  معیشت  کے  بارے  میں  مثل  مشہور  ہے  کہ  ننگی  کیا  نہائے  گی  اور  کیا  نچوڑے  گی۔

 رہی  بات  کرپشن  کی  تو  سیاست دانوں  کو  تو  سنہ 58ء  سے  کرپشن  کے  الزامات  میں  ملوث  کر  کے  سیاست  سے  دور  کرنے  کی  کوششیں  کی  جاتی  رہی  ہیں،  آج  تک  کوئی  حاضر  سرو س  تو  کیا،  ریٹائر  جرنیل  بھی  کرپشن  کے  الزام  میں  جیل  گیا  ہے؟  مہران  بنک  سکینڈل  میں  عدالت  اپنا  فیصلہ  سنا  چکی  ہے،  کیا  ان  ریٹائر  جرنیلوں  کو  جیل  بھیجا  جا  سکتا  ہے؟  ایف  سی  کے  سربراہ  کو  عدالت  نے  طلب  کیا  تھا  تو  عارضہ ء  دل  کا  بہانہ  بنا  کر  رخصت  لے  لی  گئی  تھی،  ان  کے  خلاف  انصاف  اسلام آباد  کے  محلہ  کنٹینر پورہ  میں  کیوں  نہیں  مانگا  جاتا؟  تبدیلی  کے  متوالے  سیاسی  کرپشن  کے  ہی  درپے  کیوں  ہیں؟  فوج  کی  بے پناہ  کرپشن  کے  بارے  میں  تحریک  انصاف  کے  کسی  محلے  لیول  کے  کارکن  کی  جانب  سے  بھی  کبھی  بیان  جاری  نہیں  ہوا۔

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا "کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ "آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو "کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

پیشہ ور قاتلو…! تم سپاہی نہیں


Ahmad Faraz

احمد فراز

پاک فوج کے لئے یہ نظم احمد فراز نے ۱۹۷۱ء کے سانحے کے بعد لکھی تھی۔ پاک فوج نے خیر سبق تو کیا سیکھنا تھا محض چھ برس بعد وہ پھر قوم کو فتح کر کے مسندِ اقتدار پر آ بیٹھی اور ظلم و جبر کا وہی بازار گرم کر دیا جو پاک فوج کا خاصہ ہے۔ اس نظم میں مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کی طرف سے بنگالیوں کی "نسل بدلنے” کا حوالہ بھی موجود ہے اور آج بھی سرحد (موجودہ پختونخواہ) سے لے کر پنجاب اور مہران تک مقتل سجانے کی بات ہے اور بولان میں شہریوں کے گلے کاٹنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ کسی بھی طرح یہ نہیں لگتا کہ یہ نظم ستر کی دہائی میں لکھی گئی ہے۔ پاکستان آج بھی ویسا کا ویسا ہی ہے … پاکستان کی فوج آج بھی ویسی کی ویسی ہی ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ (لالاجی)

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں

جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں


سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے

جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے

پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے

یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے

ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔