مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر



IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

آبی جارحیت کا چورن


hafiz-saeed-share-pakistanمنافقت کی دنیا میں حقائق اکثر مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ہی آج کل ہمارے ایک مہربان ہر وقت بھارت کی آبی جارحیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ حافظ سعید صاحب کا تعلق پہلے لشکرِ طیبہ سے تھا ، جب لشکرِ طیبہ کو عالمی سطح پر دہشت گرد جماعت قرار دے دیا گیا تو حضرت نے چولا بدلا اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ بن گئے اور یہ معجزہ ہمارے بہت سے لبرل دوستوں کی آنکھوں کے تارے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے ہر دلعزیز جرنیل جناب پرویز مشرف کے دور میں پیش آیا۔ پھر جماعت الدوۃ پر بھی پابندی لگ گئی تو موصوف نے ایک بار پھر چولا بدلا اور فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربرا ہ بن گئے۔

لشکرِ طیبہ/جماعت الدعوۃ /فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کا دانہ پانی کشمیر میں نام نہاد آزادی کی جدو جہد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ چنانچہ موصوف کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان سے غداری نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے باقاعدہ بجٹ میں ان کے ادارے کے لئے ہر سال لگ بھگ دو کروڑ روپیہ مختص ہونے کے باوجود نواز شریف کے ہندوستان سے دوستی کے سپنے کو ڈراؤنا خواب بنا دینے کی پوری کوشش کر تے رہتے ہیں۔

ان کے آقا بھی وہی ہیں جو حکومت کی واضح پالیسی کے باوجود جیو نیوز کو کیبل پر نہیں چلنے دے رہے۔ اور ان کے آقا بھی اس قدر طاقتور ہیں کہ پرویز مشرف کا دور ہو، آصف زرداری کا دور ہو یا اب نواز شریف کا ، امریکہ کا دباؤ ہونے کے باوجود ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ موصوف کو پرائیویٹ ٹی وی چینل (بشمول جیو) پرائم ٹائم میں پروجیکشن بھی دیتے ہیں۔

حضرت صاحب کافی عرصے سےبھارت کی طرف سے  آبی جارحیت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ آج کل کے سیلاب کے بعد یہ چورن انہوں نے زیادہ ہی زور و شور سے بیچنا شروع کر دیا ہے ۔Hafiz-Saeed-GEO2

دوستو!…بات یہ ہے کہ  اگر ہم موجودہ سیلاب کو ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت تسلیم کر لیں تو پھر ضلع جھنگ کو ضلع سیالکوٹ کے خلاف بھی رپٹ درج کرادینی چاہئے کہ سیالکوٹ نے آبی جارحیت کر دی؟ صوبہ سندھ کو جلد ہی پنجاب کے خلاف مقدمہ کر دینا ہوگا کہ پنجاب نے سندھ کے خلاف آبی جارحیت کر ڈالی؟ ۲۰۱۰ میں پختونخواہ نے پنجاب اور سندھ کو ڈبو دیا تھا؟  

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بھارت آبی جارحیت کربھی رہا  ہے  تو کیا ہم بھارت کے خلاف جنگ کرکے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟ یہ بات تو ہمارے بزرگوں کو پاکستان بناتے وقت سوچنی چاہئے تھی کہ اسلام کے قلعے کو پانی کہاں سے فراہم کریں گے؟ اگر اسلام کے قلعے کے سارے دریا سیکولر بھارت سے آتے ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات درست رکھنے ہوں گے کہ نہیں؟ (ویسے ایک سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ بھارت سے آنے والا ہندو پانی  ہمیں اپنی مسلمان فصلوں کو دینا چاہئے بھی کہ نہیں؟ کیا اس ہندو پانی سے سیراب ہونے والی فصلیں مسلمانوں کے لئے حلال ہیں کہ نہیں؟)کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ بھارت سے اپنی شرائط منوا سکیں؟ کیا یہ مذہبی جماعتوں والے مل کر باجماعت دعائیں کر کے دریاؤں کے رُخ موڑ سکتے ہیں؟

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوجائیں تواس سے بر صغیر کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کوفائدہ ہوگا۔ ہاں اُن لوگوں کے لئے یقیناً بڑی مشکل ہوگی جن کا دانہ پانی ہندوستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے اور حافظ صاحب یقیناً انہی لوگوں میں سے ہیں۔ سو جب حافظ صاحب ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو پاکستان کے ساتھ غداری کہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے وہ بس اپنے آپ  ہی کو پاکستان سمجھتے ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف


یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: "دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، "تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

تین سپر پاورز کو شکست….کیا واقعی؟؟؟


افغانستان نے تین سپر پاورز کو شکست دی ہے….

ہمارے پاس اپنے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے کے لئے ایک سے ایک بڑا مسخرہ موجود ہے۔ کوئی لال ٹوپی پہن کر ٹی وی پر آ جاتا ہے اور اِس ٹوٹے پھوٹے ملک کے برے حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ اور ہندوستان کے کندھوں پر ڈال کر سوال نہ پوچھنے والے (یعنی اپنا دماغ استعمال نہ کرنے والے) نوجوانوں کو غزوہ ہند کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔

ایک اورمذہبی ماڈل و اداکار جدید ترین ہیئر اسٹائل بنا کر اور منہگے کپڑے پہن کر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے۔ جعلی ڈگری پر نہ وہ شرمندہ ہے، نہ اُس کا چینل، نہ اس کے پرستار۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں کرتا کہ جعلی ڈاکٹر بن کر اُس نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے۔ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔

تاہم ایک اور مذہبی دانشور بنام اوریا مقبول جان ہمارے بچوں کو اُن کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لئے کچھ اور طرح کے جھوٹ بولتا ہے۔ ذیل میں ایک ویڈیو میں اُس کی ایک تقریر ہے جس میں وہ ایک طرف کچھ تاریخی واقعات کو غلط انداز سے بیان کرتا ہے تو دوسری طرف فتح و شکست کے معنی ہی بدل کر دکھ دیتا ہے۔وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ افغانستان نے ایک صدی کے اندر اندر دنیا کی تین سپر پاورز کو شکست دی۔ یہ تقریر وہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے کر رہا ہے اور اُس کی اِس بات پر ناسمجھ لوگ کافی تالیاں بھی بجا دیتے ہیں۔ پہلے تقریر سن لیجئے، پھر باقی بات کرتےہیں۔ 

پہلی بات تو یہ کہ جس جنگ کا حوالہ اوریا مقبول جان صاحب دے رہے ہیں وہ جنگ ۱۹۰۵ء میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس سے لگ بھگ تریسٹھ سال پہلے 1842 میں لڑی گئی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اوریا صاحب اس ساری صورت حال کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جیسے برطانیہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر ناکام رہا۔ برطانیہ کا مقصد افغانستان پر قبضہ ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ برطانیہ اور روس دونوں ہی اس ملک کو پر اپنا اثر و رسوخ ضرور چاہتے تھے مگر قبضے کے خواہشمند نہیں تھے کیوں کہ دونوں بڑی طاقتیں افغانستان پر قبضے کی صورت میں آمنے سامنے آکھڑی ہوتیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال اوریا مقبول جان اور ان کے پرستاروں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد بھی جنگیں ہوتی رہیں اور افغانستان نے ۱۸۹۳ء میں انگریزوں کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدہ کیا اور اپنا بہت سا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ علاقہ موجودہ خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے شمالی اضلاع (جن کی آبادی پختون ہے) پر مشتمل ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان نے ایک سپر پاور کو شکست دی بالکل احمقانہ سی بات ہے۔ فاتح قومیں ڈیورنڈ معاہدے کی طرح کے معاہدے نہیں کرتیں۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ فتح اور شکست کا تصور کیا ہے۔ کیا کسی ایک محاذ پر دشمن کے سارے فوجی مار دینا فتح  ہے یا جنگ میں فتح کوئی زیادہ بڑی چیز ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں یہاں موٹی موٹی کتابوں اور دنیاء کے بڑے بڑے دانشوروں کے حوالے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ نہ ہی میرا ارادہ تمام اینگلو افغان جنگوں میں ہونے والی مارا ماری کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ کیوں کہ میرے نزدیک فتح اور شکست کا معیار یہ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس فاتح اور مفتوح قوموں کا تھوڑا سا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ تینوں سپر پاورز اور افغانستان میں سے فاتح کون تھا اور مفتوح کون۔ 

یہاں کچھ تصویریں افغانستان سے شکست کھانے والی تینوں سپر پاورز کے مختلف شہروں کی کچھ تصاویر پیش کر رہا ہوں :

:اور اب ہمارے فتح مند ہمسائے افغانستان کے کچھ مناظر

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ چند تصاویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس میں افغان قوم زخموں سے چور ہے، اُس کے بچے کوڑے کے ڈھیروں میں خوراک تلاش کرنے پر مجبور ہیں، اُس کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں مہاجرکیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ مفتوح قوموں کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں صحت کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں اور ان کے شہری دو وقت کی روٹی کو نہیں ترس رہے بلکہ کھیلوں، فنون لطیفہ اور سائنس کی دنیاء میں نام کما رہے ہیں۔

اوریا مقبول جان صاحب… ہمارے نوجوانوں پر رحم کیجئے… ایسا ہی جہاد کا شوق ہے تو پاکستان میں اچھی اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے وزیرستان کا رُخ کر لیجئے، یہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔

سوئس بنکوں میں پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی افواہ


آج کل ایک افواہ جسے بعض اخبارات نے خبر کے طور  پر شائع کیا بہت گردش کر رہی ہے۔ میں نے یہ خبر پہلے ہی روز اخباروں میں پڑھ لی تھی تاہم اسے توجہ کے لائق نہ جان کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن پھر جب یہ دیکھا کہ اس خبر پر بہت زیادہ تبصرے ہو رہے ہیں اور سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹوں پر بہت زیادہ شیئر کی جا رہی ہے تو اس کے بارے میں اپنا نقطہ نظر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔

مذکورہ خبر کے ویب لنکس درج ذیل ہیں:

روزنامہ پاکستان آبزرور

روزنامہ دی نیشن

روزنامہ ایکسپریس

روزنامہ پاکستان ٹوڈے

ان لنکس سے آپ کو اندازہ ہو رہا ہو گا کہ اس افواہ کو بطور خبر شائع کرنے میں دی نیشن، پاکستان ٹوڈے اور روزنامہ ایکسپریس جیسے اہم اخبارات بھی پیچھے نہیں رہے۔پاکستان آبزرور کے کالم نگار نے تو ۹۷ ارب ڈالر کی بجائے ۲۰۰ ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کر دیا ہے۔ جتنے لوگ اس خبر کو آگے پھیلا رہے ہیں وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے۔

آئیے اس خبر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں:

ہر خبر کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس خبر کا ذریعہ ایک سوئس بنک کا ڈائریکٹر ہے۔ نہ تو یہ پتہ ہے کہ بنک کا نام کیا ہے اور نہ ہی ڈائریکٹر کا نام بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں  معلوم کہ ڈائریکٹر صاحب نے یہ انکشافات کب اور کہاں کئے۔ پھر ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان ڈائریکٹر صاحب کو پاکستان سے اتنی ہمدردی کیوں تھی کہ انہوں سوئس بنکوں میں موجود لاکھوں کھاتے پھرولے، ان میں سے پاکستانیوں کے کھاتے الگ کئے، اور ان میں موجود رقوم کی جمع تفریق کرتے رہے اور نہ جانے کتنے دنوں کی محنت کے بعد یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستانیوں کی طرف سے جمع کرائی گئی رقوم ۹۷ ارب ڈالر ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں ںے یہ جمع تفریق بھی کر ڈالی کہ اس رقم سے پاکستان کے کون کون سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی اہم معلومات اخباروں کو بتانے کی جرات ڈائریکٹر نے کیوں کر کی۔ بنکوں کا اپنے عملے کے لئے ایک بہت سخت ضابطہ اخلاق (Code of Conduct)ہوتا ہے۔جس کے تحت عملہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ کسٹمر کے کھاتوں کے بارے میں معلومات عام لوگوں تک نہیں پہنچائے گا۔ اگر عملے کا کوئی فرد ایسا کرتا ہوا پایا جائے تو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس خبر میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ڈائریکٹر صاحب کی نوکری ابھی باقی ہے یا فارغ کر دیے گئے ہیں۔ اگر فارغ کر دیے گئے ہوں تو ہم پاکستانیوں کو ان سے اظہار ہمدردی کرنے کا موقع تو ملنا چاہئے۔

ہمارے ہاں ایسی خبریں معمول ہیں:

ہمارے ہاں ایسی خبریں نکلنا معمول کی بات ہے۔ اس سے پہلے سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کے حوالے سے جو ویڈیو سامنے آئی تھی اس کے بارے میں بھی یہ خبر نکلی تھی کہ وہ کسی این جی او نے لاکھوں روپے دے کر بنوائی تھی۔ یہ خبر بھی اتنی ہی بے تُکی تھی۔ اس میں بھی این جی او کا نام درج نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی تو سوات طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس ویڈیو کو قبول کیا تھا، یہ تسلیم کیا کہ طالبان ایسی سزائیں دیتے ہیں۔ مسلم خان نے اپنے پہلے انٹرویو میں ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس انٹرویو کی ویڈیو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔

ایسی خبریں کیوں؟

اس میں ظاہر سی بات ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ ایسی خبروں کا کوئی مقصد نہیں۔ چونکہ مذکورہ ویڈیو کی وجہ سے پاکستان میں رائے عامہ طالبان کے خلاف ہو گئی تھی اس لئے اس ویڈیو کو جعلی قرار دینے کی کوششیں ہوئیں۔ تاہم ایسی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اور اب پاکستان کے عوام کی رائے اُن کے خلاف ہے۔

حالیہ ۹۷ ارب ڈالر کی رپورٹ کا مقصد ہمارے سیاسی لیڈروں کو بد نام کرنا ہے، اور عوام میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ جب عوام سیاسی لیڈروں سے متنفر ہو جائے تو پھر کوئی من چلا ہمارا مسیحا بن کر آ جاتا ہے اور سیاستدانوں کو(جو کہ ہمارے نمائندے ہیں) جیلوں میں ڈال دیتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے اس لئے ایسے من چلوں کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

ہمیں کیا کرنا چاہئے:

ہمیں چاہئے کہ ہر خبر کو چھان پھٹک کر دیکھیں۔ یوں ہی اندھا دھند جھوٹی خبروں کو نہ پھیلائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے سیاستدان بہت نیک اور پرہیزگار لوگ ہیں۔ لیکن جو کوئی ان کے خلاف اس قسم کی بے سرو پا خبریں گھڑتے اور شائع کرتے ہیں وہ بھی تو گندے لوگ ہی ہیں۔ سو ہمیں ایسے گندے لوگوں کا آلہ کار بھی نہیں بننا چاہیئے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جیسے بھی ہیں ہمارے نمائندے ہیں اور ان کے احتساب کا حق صرف ہم لوگوں (یعنی پاکستان کے عوام )کو حاصل ہے۔ ہم نے انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی نمائندگی کا حق دیا ہے اور یہ حق ہم ہی اُن سے واپس لے سکتے ہیں۔ ہمیں کسی صورت بھی اپنا یہ حق کسی جرنیل یا کسی اور قسمت آزمائی کرنے والے خبیث کو نہیں دینا چاہئے۔

قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہیں


حال ہی میں میرا واسطہ کیمپ (Community Appraisal and Motivation Network-CAMP)نامی ایک تنظیم سے پڑا۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں بہت کام کیا ہے اور ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بارے  میں سنی سنائی باتوں اورلوگوں کی ذاتی رائے کی بنیاد پر بنی طلسماتی کہانیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کچھ ایسے حقائق آئے ہیں جو سائنسی انداز میں باقاعدہ سروے کر کے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ یہ سروے باقاعدگی سے۲۰۰۸ ، ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ میں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ان سروے کے نتائج کا تقابل کر کے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے رجحانات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں۔

ذیل میں ہم ان کی تازہ ترین رپورٹ )جو ۲۰۱۰ء میں کئے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے( میں سے کچھ دلچسپ انکشافات پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سروے لگ بھگ چار ہزار قبائلی لوگوں سے کیا گیا اور اس میں عورتوں اور مردوں سے سوالات کئے گئے۔ یہ سروے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(FATA) میں بھی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(PATA) میں بھی۔ کیمپ کی اپنی ویب سائٹ پر اس سروے کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے دفتر سے سروے رپورٹس مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ رپورٹس پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

فاٹا کا مستقبل

فاٹا کے لوگوں کے بارے میں پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انداز کے مطابق زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور جیسے ہیں خوش ہیں یا یہ کہ وہ اپنے علاقے میں موجود نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ تاہم کیمپ کے سروے میں جو باتیں سامنے آئیں وہ کچھ یوں ہیں:

  • 31 فیصد لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  • 25 فیصد لوگ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہیں۔
  • صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ایف سی آر کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے

ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) انگریزوں کا بنایا قانون ہے جوآزادی کے بعد چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں کیا گیا۔ اس قانون کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے کچھ یوں ہے:

  •  46فیصد لوگ اس قانون کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں
  • 26 فیصد لوگ اس میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں

یوں لگ بھگ ستر فیصد لوگ اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے چودہ اگست ۲۰۱۱ء کو اس قانون میں بنیادی اصلاحات کر دی ہیں۔ اس بارے میں اسی بلاگ میں دیکھئے …..

سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

لگ بھگ ساٹھ فیصد لوگ یہ چاہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ یہ ذہن میں رکھئے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حال ہی میں موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سر گرمیوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

قبائلی لوگ کس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں

یہ سوال تینوں سالوں میں کئے گئے سروے میں پوچھا گیا اور تینوں سالوں میں ملنے والے جوابات کا تقابلی جائزہ ایک دلچسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قبائلی لوگ سب سے زیادہ بھروسہ ملاؤں یا مذہبی رہنماؤں پر کرتے ہیں۔ تاہم سروے کے تنائج یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۸ میں لگ بھگ 69 فیصد لوگ ملاؤں پر بھروسہ کرتے تھے جو ۲۰۱۰ میں کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئے۔ دوسری طرف پاکستان فوج پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح ایف سی پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح بھی ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی۔ قبائلی بزرگوں پر بھروسے کی شرح ۲۰۰۹ میں ۲ فیصد تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔

فاٹا کے بڑے مسئلے کیا ہیں

عام خیال یہ ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی بندوقوں اور سمگلنگ کے کام میں خوش ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ تقریباً ہر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہےلوگوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو بیان کیا۔لوگوں نے تعلیم کی کمی کو صحت کی سہولیات کی کمی ، امن و امان اور انصاف سے بھی بڑا مسئلہ بتایا ہے۔

فاٹا میں رہنا

۲۰۰۹ میں صرف26 فیصد لوگ فاٹا میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تاہم ۲۰۱۰ میں لگ بھگ 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ فاٹا ہی میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ شرح اس بات کی دلیل ہے کہ فاٹا میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جب یہی سوال کچھ دیر بعد یوں دہرایا گیا کہ کیا آپ کسی اور علاقےمیں رہائش اختیار کرنا پسند کریں گے تو لگ بھگ 58فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور علاقے میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کریں گے۔

فاٹا میں محفوظ ہیں

لگ بھگ 60 فیصدلوگوں کا خیال ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ ہیں۔ اس طرح امن و امان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 51 فیصد لوگوں نےکہا کہ صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم 32فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔

خطرہ کس کس سے ہے؟

سارے پاکستان میں یہ ڈرون حملوں کے حوالےسے بہت شور ہے۔ مگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دہشت گرد تنظیموں کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

  • 41 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑا خطرہ ہیں
  • 15 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ قبائلی جھگڑوں سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
  • 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات سے ان کو خطرہ محسوس ہو تا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو ڈرون حملوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو پاک فوج کی کارروائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

قبائلی لوگوں کے خیال میں خود کش حملہ آور ہندوستان اور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں لگ بھگ 15 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں 21 فیصد قبائلیوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں 7 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور ہندوستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں یہ شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔

 طالبان کون ہیں؟

اس سوال کا جواب یوں ملا

  • 27 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان شرپسند عناصر ہیں
  • 24 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان جاہل لوگ ہیں
  • 18 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان غیر ملکی جنگجو ہیں
  • 5 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان اسلام کے محافظ ہیں
  • 1 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اسی طرح تقریباً 73 فیصد قبائلی لوگ القاعدہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی جہادیوں کا کیا کریں؟

عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

  • 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
  • 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
  • 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
  • 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔

افغان مہاجرین کا کیا کریں؟

89 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین واپس چلے جائیں۔