مرکزی جامعہ مسجد….از سلیقہ وڑائچ


ہمارے گاؤں کی مرکزی مسجد گاؤں میں امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ جس کا ایک ثبوت مسجد سے ملحقہ ہندؤں کے گھر تھے جو کہ تقسیم کے وقت بھی مسمار نہیں کئے گئے۔اورہندو برادری کے جو لوگ ہندوستان اپنے پیاروں سے جا ملے ان کے گھر نہ صرف صحیح سلامت تھے بلکہ دروازوں پر لگے تالوں کی چابیاں ہمسایوں کے پاس موجود تھیں۔ جو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے تھے ان گھروں میں ہندوستان سے آئے مسلمانوں نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔

گاؤں میں یوں تو سبھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجو550557724_abe3eee570_zد تھے۔ لیکن دو بڑے مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعد میں جن کی تخصیص لمبی داڑھی اور اونچی شلواروں اور سبز پگڑی یا رنگ برنگے چولوں سے کی جا سکتی تھی۔

ان سب کے درمیان بھائی چارے اور یگانگت کا راز مسجد کے امام مولوی ابراہیم تھے۔ وہ اپنے زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جانے مانے طبیب بھی تھے۔ دوردراز سے لوگ ان سےعلاج کروانے آتے تھے۔ اپنےبچوں کو بھی انھوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے بچے مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

میرے  دادا کی مولوی صاحب سے بہت دوستی تھی۔ دادا گھر میں ٹی وی لائے تو مولوی ابراہیم ان کے ساتھ بیٹھ کر خبرنامہ سنتے  تھے۔ ضرورت کے مطابق ٹی وی کبھی مردان خانے یا دالان میں رکھا جاتا تو کبھی خواتین کے لئے برآمدے یا گھر کے اندر۔ اور کبھی صفیں بچھا دی جاتیں اور آگے مرد اور پیچھے خواتین بیٹھ کر پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتے۔ ڈرامہ دیکھتے کسی سین پر خواتین کی سسکیوں کی آواز آتی تو مرد حضرات ہنسنے لگتے اور دادا ڈانٹتے ہو ئے کہتے "کیوں کملیاں ہوئی جاندیاں او، ڈرامہ جے”) کیوں پاگل بن ہی ہو یہ تو ڈرامہ ہے(۔

عبادات کے لئےسختی نہیں تھی لیکن مسجدوں میں صفیں بھری ہوتی تھیں۔البتہ جمعہ کی نماز نہ پڑھنے پر لعن طعن ضرور ہوتی تھی۔ بڑے تایا سست واقع ہوئے ہیں جمعہ کے دن تیاری میں دیر ہو جاتی تو وہ”شاہنی مسجد” میں اہلِ تشیع کے ساتھ نماز ادا کر لیتےکیوں کہ وہاں کچھ تاخیر کےساتھ نماز ادا کی جاتی تھی۔عورتیں بھی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز پڑھتی تھیں۔ پھوپھو سکول میں پڑھاتی تھیں لیکن انھوں نے قرآن کی بہت سی سورتیں حفظ کر رکھی تھیں۔ رمضان اور عبادات کی مخصوص راتوں میں موسم کی مناسبت سے گھر کی چھت پر، صحن میں یا برآمدوں میں گاؤں کی عورتیں ان کی معیت میں ساری ساری رات  عبادت کرتیں۔ ساتھ میں کھانا پینا چلتا رہتا اور عبادت بھی ہو جاتی۔

1986 میں مولوی صاحب کی وفات ہوگئی۔ اُن کے بعد  گاؤں کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کی امامت کا مسئلہ ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گیا۔ مسالک کے لحاظ سے دونوں اکثریتی دھڑے کسی ایک امام پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔ کچھ عرصہ ایک امام آتا اور پھر دوسرا۔ حتیٰ کہ امام پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس نے فلاں آیت کی تشریح غلط کی ہے، ضعیف حدیثوں کی مدد سے ترجمہ بدل دیا ہے یا اس کا نماز پڑھنے کا طریقہ صحیح نہیں، تلاوت ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو بھی امام آتا ذلیل کر کے نکال دیا جاتا۔

پھر اونچی شلواروں اور سیاہ داڑھیوں والے لوگ تین تین دن آکر مسجدوں میں قیام کرنے لگے۔ پھوپھو کو انھوں نے ایک پرچی بھیجی کہ آپ "ثواب کے نام پر گناہ کما رہی ہیں۔ یہ سب روایتیں ہیں عبادت کا یہ طریقہ سراسر غلط ہے”۔ پھوپھو نے اپنی روش نہ چھوڑی لیکن عورتوں نے نماز کے لئے آنا بند کر دیا۔  جمعہ کی نماز کے لئے بھی کوئی خاتون مسجد کا رخ نہیں کرتی تھی۔ عبادت کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا کلچر بھی ختم ہو رہا تھا۔

 لمبی داڑھیوں والوں کا غلبہ دیکھ کر دوسرے مسلک کے لوگ بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے پاکپتن سے کچھ لوگوں کو بلایا اور یوں سبز پگڑی کو تقویت دینے کے لئے تواتر سے مسجد میں گیارہویں کا جلسہ کروایا جانے لگا۔ جس میں مخصوص درود ایسے پڑھا جاتا جیسے اعلانِ جنگ کیا جا رہا ہو۔ دونوں مکتبِ فکر کے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔

 پھر مقامی انتخابات نے جیسےان تنازعات میں نئی روح پھونک دی ۔ ووٹ کی بنیاد بھی مسلک بن گیا۔ قادیانیوں کو گاؤں سے نکال دیا گیا۔ انھوں نے گاؤں سے باہر اپنی زمینوں میں گھر بنا ئے۔ یا کچھ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ شاہنی مسجد کے سپیکر کو بند کروادیا گیا، ذوالجناح کے جلوس کا گاؤں میں داخلہ بند ہو گیا۔ گیارہویں کے ختم والی چیزیں کھانا حرام قرار دے دیا گیا۔

گاؤں میں  ہر فرقہ اپنی بقا کی فکر میں تھا اور اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کر رہا تھا۔ یہ مزاحمت دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ اور نوبت لڑائی جھگڑوں اور مسلح مدافعت کو جا پہنچی۔ یہاں تک کہ کہ گاؤں میں اکا دکا پر اسرار قتل ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ سعودی عرب سے چھٹیاں گزارنے آئے گاؤں کے ایک آدمی نے اپنی زمیں پرسعودی کفیل کے بھیجے پیسوں کی بدولت ایک فرقے کے لئے بہت بڑی جامعہ مسجد اور مدرسہ بنا دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئی بھی فرقہ مرکزی مسجد سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ مرکزی جامع مسجد میں کوئی امام بھی موجود نہ تھا۔ دونوں فرقوں کے لوگ خود جا کر اذان دیتے اور جو پہلے جاتا وہی نماز پڑھواتا۔

سکولوں میں جہادِ کشمیر اور افغانستان کے شہیدوں کی عظمت بیان کی جاتی، خود جہاد سے واپس آئے لوگ وہاں کے رہنے والون کی حالتِ زار بیان کرتے اور جہاد اور جہادیوں  کے لئے چندہ مانگا جاتا ۔ ٹی وی، وی سی آر حرام قرار دے دیا گیا یہاں تک کہ بچوں کے درسی نصاب اورتفریحی رسائل و جرائد میں بھی داڑھی، نماز، جہاد اور شہادت کی ترغیب دی جاتی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم گاؤں آئے ہوئے تھے۔ایک دن عصر کے وقت  چاچو اور ان کا ایک ساتھی تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے، جلدی جلدی ادھر اُدھر دیکھا۔ اور کچھ نظر نہ آیا تو چولہے سے جلتی ہوئی لکڑی اُٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ کے آدمی نے جس کے ہاتھ میں ہاکی تھی امی کو جلدی میں اتنا بتا یا کہ "وہ مار رہے ہیں ہمیں مسجد میں” اور چاچو کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے پہلی بار اپنے پڑھے لکھے چچا کا یہ روپ دیکھا تھا۔ میں خوف سے چیخنے لگی۔ چھوٹے چاچو کو پتا لگا تو وہ بھی اپنی بندوق کندھے پر ڈالے مسجد کو دوڑے۔ امی اور پھوپھو روکتی رہ گئیں۔ لیکن انھوں نے پھوپھو کو دھکا دیا اور باہر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔

 مسلسل لڑائی جھگڑے اور تنازعات کی وجہ سے مرکزی مسجد کو پولیس نے ہمیشہ کے لئے تا لا لگا دیا۔ چھوٹے چاچو کو کندھے میں گولی لگی ۔بڑےچاچو بھی زخمی تھے ان کو بھی گہری چوٹیں آئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمے درج کروائے۔ بہت عرصہ مقدمے چلتے رہے اور بالآخر فریقین میں صلح ہوگئی ۔لیکن گاؤں کا امن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گیا۔ جس کے مالی حالات اجازت دیتے تھے وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کی غرض سے گئے اور ہمیشہ کے لئے زمینیں بیچ ، گاؤں چھوڑ گئے۔ پرائمری ، مڈل سطح کےسکول ہیں تو سہی لیکن استاد ندارد اور کسی کو فکر بھی نہیں۔

 وہاں اب بھانت بھانت کی مسجدیں ہیں اور کئی طرح کے عقیدے۔ بھوک ہے،غربت،افلاس اور بوسیدہ عمارتیں۔ اماں کا گیتوں میں گایا،سراہے جانے والا، میلوں کے لئے سجایا جانے والا گاؤں اجڑ گیا ہے۔ اب وہاں گلیاں اتنی سنسان اور اتنی خاموشی ہے کہ قبرستان کا گماں ہوتا ہے۔ ہم تو کیا ہمارے بڑے وہاں جا کر رہنے کو تیار نہیں۔ اماں زکوٰۃ ،فطرانہ یا قربانی کا گوشت دینے جاتی ہیں اور واپس آ کر دیر تک گئے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

مقدمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از خانزادہ


Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس

یہ بات اتنی پُرانی نہیں ہے۔

ریمنڈ ڈیویس نے تین پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور "انگریزی قانون” کے تحت سفارتکاروں کو ملنے والی رعایت کا فائدہ اُٹھانا چاہا تو قوم آگ بگولہ ہوگئی۔ بعد میں جب اُسے قرآن کے بتائے ہوئے شرعی قانون کے تحت خُون بہا کی ادائیگی کے بعد مُعاف کرکے خُصوصی طیارے میں اپنے مُلک پہنچایا گیا تو قوم اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئی۔

لودھراں کے بیٹی کو مزارِ قائد کے احاطے میں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور مظلوم لڑکی نے کمال جُرات کا مظاہرہ کرکے خاموش رہنے کے بجائے اپنے لئے صدائے انصاف بلند کی تو "انگریزی قانون” کے تحت اُس کے مجرموں کو سزا سُنادی گئی۔ لیکن بھلا ہو قُرآن کے بتائے ہوئے شرعی قوانین کا جنہوں نے بروقت چار گواہان کی عدم دستیابی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے "ناقص” ہونے کا فائدہ دیتے ہوئے مجرموں کو باعزت بری کردیا۔

Shah Rukh

شاہزیب کے قاتل جن کو حال ہی میں "اللہ کے نام پر” معاف کر دیا گیا

اس ملک میں کہانیاں ختم ہی نہیں ہوتیں۔ نوجوان شاہزیب کو دولت اور طاقت کے نشے میں مخمور امیر زادے شاہ رُخ جتوئی نے قتل کیا تو سِول سوسائٹی چیخ اُٹھی۔ ایک بار پھر "انگریزی قانون” سُرخرو ہوا اور قاتل کو سزائے موت سُنا دی گئی۔ لیکن ابھی اسلامی شریعت نے کہاں ہار مانی تھی۔ کروڑوں کا کھیل چلا اور اسلامی قوانین کے تحت وڈیرے کے بیٹے کو بنامِ خُدا معاف کرکے "لائسنس ٹُو کِل” دے دیا گیا۔

اسلامی قانون اس وقت طاقتور اور دولتمند مجرموں کا پسندیدہ قانون ہے۔

ہاں مُجھے پتا ہے آپ کا گِھسا پِٹا تبصرہ آنے والا ہے۔ "اسلام کا تو کوئی قصور نہیں ہے، اسلام کے قوانین کی غلط تشریح کی جارہی ہے”۔

اگر آپ کا شُتر مُرغ اپنا سر ریت سے باہر نکالنے کیلئے تیار ہے تو اُس سے ذرا پوچھئے کہ جب تمام مُسلمان عموما” اور "عُلمائے اسلام "خُصوصا”، دین کی سربلندی اور حفاظت کیلئے جان قُربان کیلئے ہر دم ہرآن تیارہیں تو اُنہیں اسلام اور قرآن کی غلط تشریح کرنے والے یہ لوگ نظر نہیں آتے؟ کیا اُن کی یہ جانبازی صرف غیر مسلموں پر توہین رسالت کا الزام لگاکر اُنہیں مارنے کی حد تک ہی ہے؟ جب جب اسلام پر اعتراض اُٹھتا ہے، تب تب یہی بہانہ سامنے آتا ہے لیکن "عُلمائے حق” کبھی یہ جُرات نہ کرسکے کہ کسی ایسے شخص کے خلاف فتویٰ تک دے دیں جو دین اور قُرآن کی غلط تشریح کرتا ہو۔ عُلماء کی غیرت بھگت سنگھ چوک کے نام پر جاگ سکتی ہے لیکن جب بربریت اور درندگی کیلئے اسلام اور قُرآن کو استعمال کیا جاتا ہے تو یہی غیرت افیون کھاکے سوجاتی ہے اور جاگنے کے بعد "غلط تشریح” کا راگ الاپنا شروع کردیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا ظُلم ہوگیا، غلط تشریح ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ تو اسلام نے جیسے مجرموں کی ایسی کی تیسی کرنی تھی۔ ہونہہ!

اوران عُلماء پر کیا موقوف، جب کہ خُدا نے خُود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے تو پھر بھلا اس کی غلط تشریح ممکن ہے؟ اگر قُرآن کا غلط استعمال ممکن ہے تو کیا یہ محفُوظ تصور ہوسکتی ہے؟ ایک طرف قرآن کے غلط استعمال کی فریاد اور دوسری جانب یہ دعویٰ کہ یہ محفوظ ہے۔ جیسے آپکی گاڑی ہر رات چوری کی واردات میں استعمال ہورہی ہو لیکن آپ کا چوکیدار دعویٰ کرے کہ جناب گاڑی تو محفوظ ہے ورنہ دیکھیں کوئی پُرزہ کم ہو، کوئی ڈینٹ پڑا ہو تو بتائیں۔

اب یا تو خُدا نے اپنی ذمے داری سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے اور یا قُران وہی ہے جس کا استعمال ریمنڈ ڈیویس، شاہ رُخ جتوئی اور مزارِ قائد کے جنسی درندوں نے اپنے تحفظ کیلئے کیا ہے۔ اور اگر قُرآن یہی ہے تو اس سے "انگریزی قانون” کہیں بہتر ہے جس نے انڈیا میں دہلی گینگ ریپ کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سُنادی ہے اور انڈین قوم کی خُوش قسمتی کہ وہاں اِن مجرموں کا کسی اسلامی قانون کے تحت بچنا ناممکن ہے۔ مذہب ہمیشہ انسانوں کی بلی دیتا رہا ہے اور جن لوگوں کو ابھی بھی یہ دعویٰ ہے کہ مذہب یا مذہبی قوانین انسانیت کے محافظ ہیں، وہ محض احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف


یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: "دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، "تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

غم و غصہ …. از سلمان راشد


 یہ  مضمون انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع ہوا۔ انگریزی متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک احمقانہ سے ویڈیو پر غم و غصے کا ڈرامہ کر کے ایک بزدل اور عقل سے پیدل آدمی نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔دہشت گردوں سے عام معافی۔ دہشت گردوں نے اُسے سیکولر نظریات کا مالک ہونے کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ لیکن جہاں اُس کے سیکولر نظریات ایک دھوکہ ہیں وہیں اُس کا مذہبی رجحانات بھی مشکوک ہیں۔

 ذرا غور کریں: اس شخص نے اعلان کیا کہ اگر اُسے موقع ملا تو وہ ویڈیو بنانے والے شخص کو قتل کر دے گا۔ اُس کے اس بیان پر فساد اور لوٹ مار کرنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موصوف کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ ایک (ناکام) ریاست پاکستان کا وفاقی وزیر ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس یقیناً نیلا پاسپورٹ ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ عام پاکستانیوں کو قتل پر اُکساتا جن کے لئے امریکہ جانا ہی ویزے کی مشکلات کے باعث ممکن نہیں ہوگا، اُسے چاہئے تھا کہ وہ خود کیلیفورنیا پہنچ جاتا اور اپنا کام کرگزرتا۔

 امریکہ میں مقیم ایک شخص کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس مذہبی غم و غصے کے مارے شخص کو اس بات کی تو پوری تسلی ہے کہ اُس کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یا تو قتل کرنے والے  کے لئے یہی ممکن نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ویزا حاصل کر سکے اور اگر کوئی ویزا لے کر امریکہ پہنچ بھی جائے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہیں گرفتار ہو جائے گا، مقدمے بھگتے گا، سزا پائے گا اور اتنے لمبے عرصے تک کسی جیل میں پڑا رہے گا کہ واپس آکر انعام کی رقم کا دعویٰ نہیں کر پائے گا۔ یہ سب کچھ محض ایک تماشا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔

 وزیر ریلوے غلام احمد بلور، جس پر ریلوے کو تباہ کرنے کا مقدمہ چلنا چاہئے،دراصل دہشت گردوں کے پیروں میں گر پڑا ہے جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔ اب اسلام کی زبانی کلامی خدمت کر کے اُس کو معافی مل گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ اور جن لوگوں نے اُس کو محض زبانی جمع خرچ پر معاف کر دیا ہے وہ بھی اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ اُن کی طرف سے دی گئی یہ معافی اُن کی مذہب سے محبت کو مشکوک بنا گئی ہے۔ کیا وہ اتنے سیدھے سادے ہیں کہ وہ اس چال کو سمجھ ہی نہیں پائے؟

 لیکن اس میں صرف بلور ہی قصور وار نہیں ہے۔ گرجنا برسنا اس قوم کا شیوہ ہے۔ پورے ملک میں ایسے بینر لگے ہوئے ہیں جن پر فلم بنانے والے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے "اب تمہاری خیر نہیں”۔ میں نے جتنے بھی بینر دیکھے اُن پرنکولا بیسیلے نکولا کو دھمکی دینے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ نہیں، قطعاً کچھ نہیں۔ یہ سب محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پیغمبر کا عظیم نام داغدار ہو گیا ہے مگر یہ لوگ محض بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ ان کا عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یہ لوگ خالی خولی دھمکیاں دینے کی بجائے اب تک امریکہ روانہ ہو چکے ہوتے تاکہ وہاں اُس مصری عیسائی کا قلع قمع کر سکیں۔

 اب آتے ہیں غم و غصے کی طرف۔ سروپ اعجاز نے بجا طور پر "غم و غصہ کی صعنت” کو ایک منافع بخش کاروبار قرار دیا ہے۔ ذرا کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں موجود نوجوانوں کے انٹرویو تو سنیئے۔ ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے تو اُس نے جواب دیا "شغل”۔ ایک اور نوجوان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ سب ویڈیو یوٹیوب سے پابندی ہٹتے ہی آپ دیکھ سکیں گے۔ ایک اور نوجوان کی تصویر دیکھیں۔ یہ پشاور کا منظر ہے اور نوجوان چہرے مہرے سے پختون معلوم ہوتا ہے جنہیں ہم سب پاکستانیوں میں اسلام کے زیادہ قریب سممجھتے ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لوٹ کا مال سمیٹے جا رہا ہے۔ کیا یہ سب توہینِ رسالت پر غم و غصے کا اظہار ہے؟

 ہم کسی کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ اس مذہب کے ساتھ بھی نہیں جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہم جھوٹے، منافق اور بد عنوان لوگ ہیں جومذہب سمیت ہر کسی کو صرف باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم غم و غصے کے اظہار میں آگے رہتے ہیں اور اس میں اپنے ہی ملک کو جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ حقیقی گستاخ جن کو سزا ملنی چاہئے ہمارے درمیان موجود ہیں اور بلور اُن میں سر فہرست ہے۔

کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔۔۔؟


ابھی حال ہی میں میرے حد سے زیادہ مسلمان بھائیوں نے پاکستان میں جو گل کھلا کر اسلام کو زندہ کرنے اور پیغمبردو جہاں کی عزت بحال کرنے اور امریکی یہودیوں کو (اُن میں سے ۹۹ فیصد کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ فلم ایک مصری نژاد عیسائی نے بنائی ہے) سبق سکھانے کا جو عظیم الشان مظاہرہ کیا ہے اُس پر کم از کم لالا جی کا سر توہمیشہ کے لئے ہندوؤں (کراچی میں مندر میں تور پھوڑ کے واقعے پر)، عیسائیوں (مردان میں گرجا گھر جلائے جانے پر) اور عام کمزور ایمان والے مسلمانوں (جن کی املاک جلائی گئیں، گاڑیاں توڑی گئیں، روزگار ختم ہو گئے) کے آگے شرم سے جھکا رہے گا۔

 اس ذہنی صورت حال میں ایک سکھ مذہب کی توہین کے ایک واقعے کی رپورٹ نظر سے گزری تو دل بہت خوش ہوا۔ مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے والوں کو جان سے مار کر تو پتہ نہیں کچھ حاصل ہو کہ نہ ہو، مگر اُن کے ساتھ دوستانہ رویے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔

بلپریت کور کی وہ تصویر جویورپی لڑکے نے بلپریت کو بتائے بغیر بنائی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی۔

 واقعہ بیان کرنے سے پہلے سکھ مذہب کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہمارا جسم خدا (اللہ، بھگوان، جسے بھی آپ خدا مانتے ہیں) کی دین ہے اور ہمیں اِسے ویسا ہی رکھنا چاہئیے جیسا خدا نے عطا کیا ہے۔ اس میں غیر فطری طریقوں سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کی ناشکری کے مترادف ہے۔ اسی حکم کی وجہ سے پختہ عقیدے کے مالک سکھ اپنے جسم کے بال نہیں کٹواتے۔ ہم سکھوں کا اس بات پر مذاق اُڑاتے ہیں اور ایسے میں یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم کسی کے مذہبی عقائد کی توہین کر رہے ہیں۔

 بالکل یہی ایک نوجوان نے ایک راسخ العقیدہ سکھ لڑکی بلپریت کور کے ساتھ کیا۔ بلپریت کور کے چہرے پر بھی بال موجود ہیں اور دیکھنے والا چندلمحوں کے لئے حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یہ عورت ہے یا مرد۔ ایک مغربی نوجوان، جو ریڈٹ نامی ایک ویب سائٹ (فیس بک اور ٹویٹر کی طرح کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ) پر یورپین ڈاؤشبیگ کا نام استعمال کرتا ہے، نے بلپریت کی تصویر (جو کہ بلپریت سے چھپ کر بنائی گئی تھی) ویب سائٹ پر لگا دی اور لکھا "مجھے پتہ نہیں اس کا کیا مطلب ہے”۔ تصویر کا بھر پور مذاق بن گیا، گھٹیا اور گندے تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔

 بلپریت کے کسی دوست کی نظر سے یہ پوسٹ گزری تو اُس نے بلپریت کو بتادیا۔ شکر ہے کہ بلپریت مسلمان نہیں تھی ورنہ اُس کا بھائی  اپنی غیرت کے تحفظ کے لئے اُس لڑکے کو ڈھونڈ کر قتل کر دیتا (اگر پاکستانی ہوتا تو ساتھ بلپریت کو بھی قتل کر دیتا)۔ اسلام کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے سینما ہاؤس جلائے جاتے، بنک لوٹے جاتے، دس پندرہ لوگ مارے گئے ہوتے۔ مگر سکھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سکھوں کو اپنے مذہب سے اتنا زیادہ عشق نہیں ہے جتنا ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کو ہے۔ یہ احمق لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں دنیا سے اُس کی عزت کرانا نہیں جانتے۔ ہم اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے مگر دنیاوالوں سے اپنے مذہب کی عزت کرانا ہمیں خوب آتا ہے۔

 بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ سمجھے خدا کرے کوئی

 واپس آتے ہیں بلپریت کی طرف۔ بلپریت نے نہایت ٹھنڈے دل سے اپنی تصویر اور اُس پر ہونے والے تبصروں کو دیکھا اور پھر ایک جواب لکھا۔ بلپریت کور کا جواب ملاحظہ ہو:

 ہیلو دوستو! ۔۔۔ میں بلپریت کور ہوں اس تصویر والی لڑکی۔ مجھے دراصل اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا؛ مجھے میرے ایک دوست نے فیس بک پر اس بارے میں بتایا۔ اگر ڈائوشبیگ کو تصویر لینی تھی تو مجھے بتا دیتا میں خوشی سے تصویر بنوا تی۔ تاہم مجھے نہ تو شرمندگی ہے اور نہ میں اس تصویر کو ملنے والی توجہ (چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) پر کوئی ذلت محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں جو ہوں سو ہوں۔ ہاں میں ایک سکھ عورت ہوں جس کے چہرے پر بال ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ میری جنس کے بارے میں اکثر غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کیوںکہ میں دوسری عورتوں سے مختلف نظر آتی ہوں۔ تاہم ہم سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے جسم کو مقدس مانتے ہیں اور اسے خدا (جو نہ مذکر ہے نہ مونث) کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ سمجھتے ہیں جسے اپنی فطری حالت میں رکھ کر ہم خدا کی مرضی کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ جیسے بچے اپنے والدین کی طرف سے ملے ہوئے تحائف کو مسترد نہیں کرتے، سکھ خدا کی طرف سے عنایت کردہ جسم کو مسترد نہیں کرتے۔ میں میں کی رٹ لگا کر اور اپنے جسم میں تبدیلیاں لا کر ہم اپنی انا کی غلامی کرتے ہیں اوراپنی ذات اور اپنے خدا کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ معاشرے کی طرف سے دیئے گئے خوبصورتی کے معیارت سے بالا تر ہو کر میں اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دے سکتی ہوں۔ میرے خیالات، عقائد اور اعمال کا حسن میرے جسم کے حسن سے زیادہ اہم ہے کیوںکہ جسم کا کیا ہے یہ تو ایک دن راکھ ہو جائے گا تو میں اُس کے بارے میں کیوں ہلکان ہوتی رہوں۔ جب میں مر جاؤں گی تو کوئی بھی یہ یاد نہیں رکھے گا کہ میں کیسی لگتی تھی، حتیٰ کہ میرے بچے بھی میری آواز تک بھول جائیں گے۔ آہستہ آہستہ تمام جسمانی/طبعی چیزیں مٹ جائیں گی۔ تاہم میری سوچ اور خیالات باقی رہیں گے اور اپنی جسمانی خوب صورتی سے توجہ ہٹانے کی وجہ سے مجھے اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری پر توجہ دینے کے لئے بہت سا وقت مل جاتا ہے ۔ اس طرح میں اس دنیا میں بہتری لانے کے لئے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکتی ہوں۔ لہٰذا میرے لئے میرا چہرا اہم نہیں ہے تاہم وہ مسکراہٹ اور خوشی جو میرے چہرے کےپیچھے چھپی ہیں وہ اہم ہیں۔ چنانچہ اگرآپ میں سے کوئی مجھے یونیورسٹی میں دیکھے تو بے دھڑک آکر مجھ سے بات کرے۔ میں یہاں پوسٹ کئے گئے تمام تبصروں (چاہے وہ مثبت ہوں یا تھوڑے کم مثبت) سے خوش ہوں کیوں کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ویسے یوگا پینٹ جو میں نے پہن رکھی ہے بہت آرام دہ ہے اور یہ شرٹ ایک ایسی تنظیم کی طرف سے ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کافی باتوں کی وضاحت کر دی ہے۔ بہت معذرت کہ میری وجہ سے کچھ غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اُس کے لئے بھی بہت معذرت۔

 یہ جواب یقیناً بہت غیر متوقع تھا۔ تاہم اس جواب کا رد عمل اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ تصویر پوسٹ کرنے والے نوجوان نے اس کے جواب میں لکھا:

 مجھے پتہ ہے کہ یہ کوئی دلچسپ پوسٹ نہیں ہے لیکن میں سکھوں سے بالعموم اور بلپریت سے بالخصوص معا فی چاہتا ہوں کہ میں نے ان کو تکلیف پہنچائی۔ سیدھی سے لفظوں میں یہ ایک احمقانہ حرکت تھی۔ لوگوں کا مذاق اُڑانا کچھ لوگوں کے لئے تفریح کا باعث ہوگا مگر جن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اُن کے لئے یہ یقیناً بہت تذلیل کا باعث ہوتا ہے۔ یہ پوسٹ یقیناً ایک ناقابلِ یقین سی بد تمیزی اور جہالت تھی۔ اس تصویر کو تفریح کے عنوان کے تحت نہیں بلکہ نسلی تعصب یا عدم برداشت کے عنوان کے تحت پوسٹ کیا جانا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔ میں نے سکھ مذہب کے بارے میں کافی مواد پڑھا ہے اور مجھے بہت دلچسپ لگا۔ یہ بات مجھے بہت معقول لگتی ہے کہ ہم اپنے جسمانی حسن کی بجائے اپنے خیالات اور سوچ کو خوبصورت بنائیں۔ وہ تصویر لگانا میری طرف سے انٹرنیٹ کی دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش تھی۔ میں احمق تھا۔خیر بلپریت۔۔۔! مجھے اپنی تنگ نظری پر افسوس ہے۔ آپ مجھ سے بہت بہتر انسان ہو۔ سکھ دوستو۔۔۔! مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہارے طرز زندگی اور ثقافت کا مذاق اُڑایا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی مسلمانوں نے پندرہ سے زیادہ لاشیں گرا دیں اور چھہتر ارب روپے کا نقصان کر کے اپنی ہی جگ ہنسائی کرالی۔ تاہم امریکی فلم ساز کو پھر بھی معافی مانگنے پر مجبور نہ کر سکے۔ بلپریت کور نے سکھ مذہب کی اقدار کا مذاق اڑانے والے کے سر پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کئے بغیر ہی اُسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

 مجھے پتہ ہے کہ اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیدار (جوعموماً علم و فضل کے سمندر ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں) بلپریت کور سے کچھ نہیں سیکھیں گے۔ ویسے بھی جنہوں نے پیغمبرِ دو جہاں کی تعلیمات سے کچھ نہیں سیکھا وہ بلپریت کورسے کیا سیکھیں گے۔ میں یہ بلاگ اُن کے لئے لکھ بھی نہیں رہا۔ یہ بلاگ عام سیدھے سادے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم سیدھے سادے، کم علم، مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے میں نہیں ہچکچائیں گے۔