دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

معاشرہ، عورت اور بہشتی زیور ۔۔۔ از ڈاکٹر مبارک علی


Bashti zeewarجاگیردارانہ معاشرہ میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ملکیت کی ہوتی ہے۔ جہاں اس کی آزادی’ حقوق اور رائے مرد کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس معاشرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیاجائے جن کے ذریعے عورتوں کو مرد کا تابع اور فرماں بردار رکھا جائے اور اس کی آزادی کے تمام راستے مسدود کردئے جاتے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمان معاشرہ ‘ دو طبقوں میں منقسم تھا۔ ایک اشراف یا امراء کا طبقہ اور دوسرا اجلاف اور عوام کا۔ طبقہ اعلیٰ نے جو ثقافتی و اخلاقی اقدار تخلیق کیں مثلاً ناموس، عزت ، عصمت، شان و شوکت اور آن بان کے بہترین قیمتی سازوسامان، ہیرے جواہرات، ہاتھی گھوڑے اور محلات رکھتا تھا اور نفیس لباس استعمال کرتا تھا وہ اسی طرح اپنے حرم میں خوبصورت عورتیں جمع کرتا تھا جیسے دوسری قیمتی اشیاء اور جس طرح وہ قیمتی اشیاء کی حفاظت کرتا تھا اسی طرح بیگمات کی حفاظت کی غرض سے اونچی اونچی دیواروں کی محل سرائیں تعمیر کراتا تھا اور پہرے پر فوجی و خواجہ سرا رکھا کرتا تھا۔ ان پر پردے کی سخت پابندی ہوتی تھی تاکہ دوسروں کی ان پر نظر نہ پڑے۔ اس نے ناموس حرم، عزت، خاندانی وقار کی اقدار پیدا  کیں۔

 ان جاگیردارانہ اقدار نے معاشرے کے متوسط طبقے کو بھی متاثر کیا لیکن عوام کی اکثریت ان اقدار کو نہیں اپنا سکی کیونکہ معاشی ضروریات انہیں اس بات پر مجبور کرتی تھیں کہ وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر تلاش معاش میں ادھر ادھر جائیں ۔ایک کسان عورت گھر کے کام کے علاوہ مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور تھی۔ شہروں میں غریب خاندان کی عورتیں اعلی ٰطبقے کو ملازمائیں، مامائیں اور مغلانیاں فراہم کرتی تھیں۔ یہ جاگیردارانہ اقدار ایک طبقے تک محدود رہیں جو سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے معاشرے کا اعلیٰ طبقہ تھا۔

مسلمانوں کا یہ جاگیردارانہ معاشرہ سلاطین دہلی اور مغلیہ خاندان کی حکومتوں تک مستحکم رہا۔ اس معاشرے میں عورت کا مقام محض ایک شے کا تھا جو مرد کی ملکیت رہ کر آزادی،خودی اور انا کو ختم کردیتی تھی۔ اس کی زندگی جس نہج پر پروان چڑھتی تھی اس میں وہ بیٹی کی حیثیت سے فرماں برداررہے اور ماں کی حیثیت سے اولادکی پرورش کرے، ان تینوں حیثیتوں میں اس کی خواہشات جذبات ختم ہوجاتی تھیں اسے یہ موقع نہیں ملتا تھا کہ وہ بحیثیت عورت زندگی سے لطف اندوز ہوسکے۔ (۱)

اس جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام حاصل تھا اور اس کی خواہش تھی کہ ان اقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور ایسی صورت پیدا نہ ہو کہ عورت ان زنجیروں کو توڑ کرآزاد ہوجائے۔ لیکن وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان اقدار میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، مغربی خیالات و افکار اور تہذیب اور تمدن نے آہستہ آہستہ ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کو متاثر کرنا شروع کیا۔ ان تبدیلیوں نے قدیم اقدار کے حامیوں کو چونکا دیا ۔یہ حضرات معاشرے میں کسی قسم کی تبدیلی کے مخالف تھے اور خصوصیت کے ساتھ عورت کے مخصوص کئے ہوئے مقام کو بدلنے پر قطعی تیار نہیں تھے۔

اس طبقے کی نمائندگی ایک بڑے عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی(۱۸۶۸ـ۱۹۴۳) نے اپنی تصانیت کے ذریعے عموماً  اور”بہشتی زیور” لکھ کر خصوصاً کی۔ مولانا صاحب کا دور، جدید اور قدیم اقدار کے تصادم کا زمانہ تھا جب کہ قدیم نظام زندگی اور اس کی اقدار اپنی فرسودگی اور خستگی کے آخری مراحل میں داخل ہوکر دم توڑ رہی تھیں اور جدید رجحانات و افکار کی کونپلیں پھوٹنا شروع ہوگئی تھیں۔ مولانا نے آخری بار اس گرتے ہوئے جاگیردارانہ نظام کو مذہبی و اخلاقی سہارے سے روکنے کی کوشش کی اور یہ کوشش بھی کی کہ عورت کو مذہبی بنیادوں کے سہارے اسی مقام پر رکھا جائے جو جاگیردارانہ نظام نے اس کے لئے مخصوص کررکھا تھا۔

عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا نے "بہشتی زیور” کے دس حصے لکھےتاکہ ان کے مطالعے کے بعد عورت آسانی سے مرد کی افضلیت کو تسلیم کرے اور اپنی غلامی پر نہ صرف قانع ہو بلکہ اسے باعث فخر سمجھے۔ اس کتاب میں عورت کو اچھا غلا م بننے کی ساری ترکیبیں اور گر بتائے گئے ہیں۔ مذہبی مسائل سے لے کر کھانا پکانے اور امور خانہ داری کے تمام طریقوں کی تفصیل ہے جو مرد کو خوش و خرم رکھ سکے۔ اس لئے یہ دستور ہوگیا کہ بہشتی زیور کے یہ دسوں حصے(جو ایک جلد میں ہوتے ہیں) جہیز میں لڑکی کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ اسے پڑھ کر ذہنی طور پر غلامی کے لئے تیار رہے۔یہاں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا نے ایک بہترین عورت کا جو تصور بہشتی زیور میں پیش کیا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے اور کے خیالات کا جاگیردارانہ معاشرے کے پس منظر میں پیدا ہونے والی ثقافت اور اقدار کا جائزہ لیاجائے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں جدید مغربی تعلیم مقبول ہوچکی تھی اور ہمارے مصلحین  جدید تقاضوں کو تسلیم کرنے کے باوجود تعلیم نسواں کے شدید مخالف تھے۔ وہ مردوں کے لئے تو جدید تعلیم ضروری سمجھتے تھے مگر یہی تعلیم ان کے نزدیک عورتوں کے لئے انتہائی خطرناک تھی۔ سرسید احمد خان نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ وہ تعلیم نسواں کے اس لئے مخالف ہیں کیونکہ جاہل عورت اپنے حقوق سے ناواقف ہوتی ہے اسی لئے مطمئن رہتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہو کر اپنے حقوق سے واقف ہوگئی تو اس کی زندگی عذاب ہوجائے گی(۲)۔ سرسید نے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کی بھی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف مذہبی کتابیں پڑھیں اور جدید زمانے کی مروجہ کتابیں جو نامبارک ہیں ان سےدور رہیں۔(۳)

مولانا اشرف علی تھانوی عورتوں کے لئے صرف مذہبی تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ بے علم عورتیں کفر و شرف میں تمیزنہیں کرتیں اور نہ ہی ان میں ایمان اور اسلام کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ اپنی جہالت میں جو چاہتی ہیں بک دیتی ہیں اس لئے ان کے ایمان اور مذہب کو بچانے کے لئے ان کے لئے دین کا علم انتہائی ضروری ہے۔ مولانا دینی تعلیم کے علاوہ عورتوں کے لئے دوسری ہر قسم کی تعلیم کے سخت مخالف ہیں اسے عورتوں کےلئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔(۴)

مولانا صاحب لڑکیوں کے اسکول جانے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بھی سخت مخالف ہیں کیونکہ اسکول میں مختلف اقوام، طبقات اور خیالا ت کی لڑکیاں جمع ہوں گی جس سے ان کے خیالات اور اخلاق متاثر ہوں گے ۔ اگر خدانخواستہ  استانی آزاد خیال ہوئی تو بقول مولانا "کریلا نیم چڑھا” اور مزید یہ کہ اگر مشن کی  میم انگریزی تعلیم دینے آگئی تو نہ آبرو کی خیر اور نہ ایمان کی۔(۵) ان کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو چار لڑکیاں گھر پر پڑھیں اور ایک ایسی استانی لیں جو تنخوانہ بھی نہ لے کیونکہ اس سے تعلیم بابرکت ہوتی ہے۔(۶)(لڑکیوں کے لئے تو ہوسکتی ہے مگر استانی کے لئے نہیں) مولانا اس راز سے واقف تھے کہ میل اور اشتراک سے خیالات پر گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے وہ اس راستے کو مسدود کرنا چاہتے ہیں اور خواہش مند تھے کہ عورت چار دیواری سے قطعی باہر قدم نہ نکالے۔

مولانا عورتوں کے نصاب تعلیم پر خاص طور سے زور دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے ایک خاص قسم کا ذہن تیار ہوسکے۔ اس لئے وہ قران شریف کتب دینیہ اور بہشتی زیور کے دس حصوں کو کافی سمجھتے تھے، بہشتی زیور کے سلسلے میں وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں شرمناک مسائل کو یا تو کسی عورت سے سمجھا جائے  یا نشان چھوڑ دیا جائے اور سمجھدار ہونے کے بعد پڑھا جائے یہاں تک  صرف پڑھنے کی استعداد کا ذکر ہے جب لکھنے کا سوال آتا ہے تو مولانا اس بات پر مزید زور دیتے ہیں کہ اگر عورت کی طبیعت میں بے باکی نہ ہو تو لکھنا سکھانے میں کوئی حرج نہیں ورنہ نہیں سکھانا چاہئے۔(۷) اگر لکھنا سکھایا بھی جائے تو صرف اس قدر کہ وہ ضروری خط اور گھر کا حساب کتاب لکھ سکے، بس اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔(۸)

عورتوں کو کون سی اور کس قسم کی کتابیں پڑھنا چاہئیں اس پہلو پر مولانا خاص طور سے بہت زیادہ زور دیتے ہیں مثلاً حسن وعشق کی کتابیں دیکھنااور پڑھنا جائز نہیں۔ غزل اور قصیدوں کے مجموعے اور خاص کر موجود ہ  دور کے ناول عورتوں کو قطعی نہیں پڑھنا چاہئیں بلکہ ان کا خریدنا بھی جائز نہیں۔ اس لئے اگر کوئی انہیں اپنی لڑکیوں کے پاس دیکھ لے تو اسے فوراً جلا دینا چاہئے۔(۹)مولانا کتابوں کے سلسلے میں اس قدر احتیاط کے قائل ہیں کہ دین کی ہر قسم کی کتابوں کو بھی عورتوں کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ اکثر دین کی کتابوں میں بہت سی غلط باتیں شامل ہوتی ہیں جن کو پڑھنے سے نقصان ہوتا ہے۔ انہیں اس بات پر سخت افسوس ہے کہ ان کے زمانے میں عورتیں ہر قسم کی کتابیں پڑھتی ہیں اور اسی وجہ سے انہیں نقصان ہورہا ہے ،عادتیں بگڑ رہی ہیں اور خیالات گندے ہورہے ہیں ۔ اس لئے مولانا کا خیال ہے کہ دین کی اگر کوئی کتاب پڑھنا ہو تو اسے پڑھنے سے پہلے کسی عالم دین کو دکھا لو اگر وہ اسے پڑھنا منظور کرے تو پڑھو ورنہ نہیں۔(۱۰) لیکن اس سے بھی مولانا مطمئن معلوم نہیں ہوتے کیونکہ انہیں شائد اپنے  علاوہ اور کسی عالم دین پر بھروسہ نہیں کہ غلطی سے وہ کسی غلط کتاب کو پڑھنے کی اجازت نہ دے دے۔اس لئے وہ خود ان کتابوں کی فہرست دیتے ہیں جن کا پڑھنا عورتوں کے لئے مفید ہے مثلاً   نصیحتہ المسلمین، راسلہ عقیقہ، تعلیم الدین، تحفتہ الزوجین، فروغ الایمان، اصلاح الرسوم، بہشت نامہ، روزخ نامہ، تنبیہ النساء، تعلیم النساء من و لہن نامہ، ہدایت اور مراۃ النساء وغیرہ۔

اس کے بعد مولانا صاحب ان کتابوں پر سنسر لگاتے ہیں جن کا پڑھنا انتہائی نقصان دہ ہے، مثلاً دیوان اور غزلوں کی کتابیں، اندر سبھا، قصہ بدرمنیر، شاہ یمن، داستان امیر حمزہ، گل بکاولہ، الف لیلہ، نقش سلیمانی، فال نامہ، معجزہ النبی، آرائش محفل ، جنگ نامہ حضرت علی اور تفسیر یوسف ۔ تفسیر یوسف کے بارے میں مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں ایک تو کچی داستانیں ہیں اورد وسرے عاشقی و معشوقی کی باتیں عورتوں کو سننا اور پڑھنا نقصان کی بات ہے۔ مراۃ العروس، محضات اور ایامی کے بارے میں مولانا کہتے ہیں کہ "بعض اچھی باتیں ہیں مگر بعض ایسی ہیں جن سے ایمان کمزور ہوتا ہے”۔ ناول کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ برا ہوتا ہےاور اخبار پڑھنے سے وقت خراب ہوتا ہے۔(۱۲) مولانا کے ان خیالات سے تعلیم نسواں کے بارے میں ان کا نظریہ واضح ہو کر ہمارے سامنے آتا ہے کہ وہ عورت کے لئے ہمیشہ بہت محدود تعلیم کے قائل تھے اور جاہل رکھ کر جاگیردارانہ اقدار کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔

 

(۲)

جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کی فضیلت کی ایک بنیاد یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد خاندانی معاش کا ذمہ دارہوتا ہے اور عورت معاشی طور  پر اس کی محتاج ہوتی ہے۔ محتاجی کے سبب اس میں قدر جرات پیدا نہیں ہوتی کہ وہ خود کو مرد کی غلامی سے آزادکر سکے اور مرد کی افضلیت کو چیلنج کرسکے ۔ مولانا اس ضمن میں کہتےہیں کہ: کسب معاش صرف مردوں کے لئے ضروری ہے اور یہ اس کا فرض ہے کہ عورتوں کا نان ونفقہ پورا کرے(۱۳)۔ نان و نفقہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے جبکہ گھر کا کام کاج کرنا عورت پر واجب ہے۔ تیل، کنگھی، صابن، وضو اور نہانے کے پانی کا انتظام مرد کے ذمہ ہے مگر مسی، پان اور تمباکو اس کے ذمہ نہیں۔ دھوبی کی تنخواہ مرد کے ذمہ نہیں اور عورت کو چاہئے کہ کپڑے کو اپنے ہاتھ سے دھوئے اور اگر مرد اس کے لے پیسے دے تو یہ اس کا احسان ہے۔(۱۴)

 

(۳)

جاگیردارانہ معاشرے میں شوہر عورت کے لئے مجازی خدا کا درجہ رکھتا ہےاس لئے عورت  کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ شوہر کی فرماں برداری کرے اگر وہ شوہر کے احکامات کی خلاف ورزی کرے تو یہ معاشرے کی اقدار کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ مولانا نے اس ضمن میں عورتوں کو جوہدایات دی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مرد کی افضلیت کو مذہب اور اخلا ق کی بنیادپر قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کوشوہر کے تمام احکامات بلا چوں و چراں بجا لانے چاہئیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ کہے کہ ایک پہاڑ سے پتھر اٹھا کر دوسرے پہاڑ تک لے جاؤ اور پھر دوسرے سے تیسرے تک تو اسے یہی کرناچاہئے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے کس کام سے بلائے اور وہ چولہے پر بیٹھی ہو تو تب بھی اس کے کام کے لئے اسے فوراً اٹھ جانا چاہئے۔(۱۵) یہاں تک مرد کی فرماں برداری ضروری ہے کہ اگر اس کی مرضی نہ ہو تو نفلی روزے نہ رکھے اور نفلی نماز نہ پڑھے ۔ عورت کے لئے ضروری ہے کہ مر د کو خوش رکھنے کے لئے بناؤ سنگھار کے ساتھ رہا کرے۔ اگر مرد کے کہنے کے باوجود بناؤ سنگھار نہ کرے تو مرد کو مارنے کا اختیار ہے اس کو چاہئے کہ  اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں نہ جائے، رشتہ داروں کے ہاں اور نہ غیروں کے ہاں۔(۱۶)

مولانا بیوی کا مقصد حیات شوہر کی خوشی قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے عورت کے لئے مکمل ہدایات پیش کی ہیں مثلاً شوہر کا خیال دل میں لئے رہو، اس کی آنکھ کے اشارے پر چلو، اگر وہ حکم کرے کہ ساری رات ہاتھ باندھے کھڑی رہو تو اس حکم کی بھی تعمیل کرو کیونکہ اس میں عورت کی بھلائی ہے ، اگر وہ دن کو رات بتائے تو عورت بھی دن کو رات کہنے لگے۔ شوہر کو کبھی بھی برا بھلا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ اس سےدنیا اور آخرت دونوں خراب ہوتی ہیں ۔شوہر سے کبھی زائد خرچ نہیں مانگنا چاہئےاور نہ ہی اس سے کوئی فرمائش کرنی چاہئے۔ اگر عورت کی کوئی خواہش پوری نہ ہو تو خاموش رہنا چاہئے اور اس بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہے، کبھی کسی بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے۔ اگر شوہر سے کوئی تکلیف بھی ہو تو اس پر بھی خوشی ظاہر کرنی چاہئے۔ اگر شوہر کبھی کوئی چیز لادے  وہ اسے پسند آئے نہ آئے لیکن اس پر خوشی کا اظہارکرنا چاہئے۔ اگر شوہر کو غصہ آجائے تو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے کہ اور غصہ آئے، اس کے مزاج کو دیکھ کر بات کرنی چاہئے۔ اگر وہ ہنسی دل لگی چاہتا ہے تو اسے خوش کرنے کی باتیں کرو۔ اگر وہ ناراض ہو تو عذر و معذرت کرکے ہاتھ جوڑ کر  اسے راضی کرو۔ شوہر کو کبھی اپنے برابر کا مت سمجھواور اس سے کسی قسم کی خدمت مت لو، اگر وہ کبھی سر دبانے لگ جائے تو ایسا مت کرنے دو۔ اٹھتے بیٹھتے، بات چیت غرض کہ ہر بات میں ادب اور تمیز کا خیال انتہائی ضروری ہے۔

اگر شوہر پردیس سے آئے تو اس کا مزاج پوچھنا چاہئے اس کے ہاتھ پاؤں دبانا چاہئیں اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ اگر گرمی کا موسم ہو تو پنکھا لے کر اس پر جھلنا چاہئے اور اسے آرام پہنچانا  عورت کے فرائض میں سے ہے۔ گھر کے معاملات میں مولانا ہدایات دیتے ہیں کہ بیوی کو یہ حق نہیں کہ میاں سے تنخواہ کا حساب کتاب پوچھے اور کہے کہ تنخواہ تو بہت ہے، اتنی کیوں لاتے ہو، یا بہت خرچ کر ڈالا اور کس چیز میں اتنا پیسہ اٹھایا وغیرہ۔ اسی طرح شوہر کی ہر چیز سلیقے سے رکھو، رہنے کا کمرہ، بستر، تکیہ اور دوسری چیزیں صاف ستھری ہونی چاہئیں، اگر شوہر کسی دوسری عورت سے ملتا ہے تو اسے تنہائی میں سمجھاؤ پھر بھی باز نہ آئے تو صبر کرکے بیٹھ جاؤ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کرکے اسے رسوا مت کرو۔ اس اس ضمن میں مولانا کہتے ہیں کہ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے ، دباؤ اور زبردستی سے ہر گز زیر نہیں ہوسکتے ۔ان کے زیر کرنے کی بہت آسان ترکیب خوشامد اور تابعداری ہے۔(۱۷) اس سلسلےمیں مولانا عورت کا ذکر کرتے ہیں۔ "لکھنؤ میں ایک بیوی کے میاں بدچلن ہیں دن رات باہر بازاری عورت کے پاس رہتے ہیں، گھر میں بالکل نہیں آتے بلکہ فرمائش کرکے کھانا پکوا کر باہر منگواتے ہیں۔ وہ بیچاری دم نہیں مارتی جو میاں کہتے ہیں ان کی فرمائش پوری کرتی ہے۔ دیکھو ساری خلقت اس بیوی کو کیسی واہ واہ کرتی ہے اور خدا کے یہاں جو اس کو مرتبہ ملا وہ الگ رہا۔” (۱۸) مزید ہدایت میں یہ بھی ہے کہ ساس سسر اور نندوں سے الگ رہنے کہ کوشش نہیں کرنی چاہئے ، سسرال ہی کو اپنا سمجھنا چاہئے۔ شوہر اور بڑوں کا نام لے کر پکارنا مکروہ اور منع ہے۔(۱۹) عورتوں کے لئے پچیسی، چوسر اور تاش کھیلنا وغیرہ بھی درست نہیں۔(۲۰)۔ عورت کے لباس کے معاملے میں بھی مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ خلاف شرع لباس قطعی استعمال نہیں کرنا چاہئے جیسے کلیوں کا پاجامہ یا ایسا کرتہ جس میں پیٹھ ، پیٹ یا بازو کھلے ہوں یا ایسا باریک کپڑا جس میں بدن یا سر کے بال جھلکتے ہوں۔ عورت کے لئے موزوں ترین لباس یہ ہے کہ لانبی آستینوں کا نیچا، موٹے  کپڑے کا کرتا اور اسی کپڑے کا دوپٹہ استعمال کرے۔(۲۱)

مولانا عورت کو گھر میں رکھنے کے قائل ہیں ، اس سلسلے میں میں انہوں نے جو پروگرام تیار کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ مثلاً ماں باپ کو دیکھنے کے لئے ہفتے میں ایک بار جاسکتی ہے ، دوسرے رشتہ داروں سے سال میں۔۔۔۔۔ ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اسے حق نہیں ۔اسی طرح ماں باپ بھی ہفتے میں ایک بار ملنے آسکتے ہیں ۔ شوہر کواختیار ہے کہ زیادہ نہ آنے دے یا زیادہ نہ ٹھہرنے دے۔(۲۲) وہ تقریبوں میں بھی آنے جانے کو عورت کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں ، شادی بیاہ، مونڈن، طلہ، چھٹی، ختنہ، عقیقہ، منگنی اور چوتھی وغیرہ کی رسموں میں قطعی نہیں جانا چاہئے۔ اسی طرح نہ غمی میں اور نہ بیمار پرسی کے لئے۔ خاص طور پر برات کے موقع پر جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو اس وقت غیر محرم رشتہ دار کے گھر میں جانا درست نہیں۔ اگر شوہر اجازت دے دے تو وہ بھی گنہگار ٹھہرے گا۔ اس کے بعد مولانا بڑے افسوس  کے ساتھ لکھتے ہیں ہیں کہ: افسوس اس حکم پر ہندوستان  بھر میں کہیں بھی عمل نہیں بلکہ اس کو تو ناجائز ہی نہیں سمجھتے۔(۲۳) آنے جانے کے خلاف مولانا کے یہ دلائل ہیں ، اس میں قیمتی جوڑے بنوانا پڑتے ہیں اور یہ فضول خرچی ہے اس کی وجہ سے خاوند پر خرچہ کا بار پڑتا ہے ،پھر بزاز کو بلا کر بلا ضرورت اس سے باتیں ہوتی ہیں، تھان لیتے وقت آدھا ہاتھ جس میں مہندی اور چوڑی ہوتی ہے باہر نکالنا پڑتا ہے جو غیرت و حمیت کے خلاف ہے۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات کے وقت پیدل چل کر گھر جاتی ہیں جوانتہائی بے حیائی ہے اور اگر چاندنی رات ہو تو اس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ ڈولی میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پلو یا آنچل باہر لٹک رہا ہے یا کسی طرف پردہ مکمل گیا یا عطر و پھلیل اس قدر ہے کہ راستے میں خوشبو ہی خوشبو ہے۔ یہ نا محرموں کے سامنے بناؤ سنگھار ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ عورتیں یہ بھی کرتی ہیں کہ ڈولی سے اتریں اور ایک دم گھر میں داخل ہوگئیں یہ خیال نہیں کرتیں کی گھر میں کوئی نامحرم بیٹھا ہو۔ محفل میں بہشتی آتا ہے تو منہ پر نقاب ڈال لیتا ہے مگر دیکھتا سب کو ہے۔ بعض دفعہ دس بارہ سال کے لڑے گھر میں آجاتے ہیں جس سے بے پردگی ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر کسی تقریب و رسم اور ملنے جلنے کی وجہ سے گھر سے نکلنا وہ بے حیائی خیال کرتے ہیں۔(۲۴)

بہشتی زیور سے اس ذہن کی پوری پوری عکاسی کرتی ہے جو ہندوستان میں جاگیردارانہ ثقافت  اور اقدار نے بنایا تھا۔ لیکن بہشتی زیور  جدید خیالات و افکار  اور سماجی شعور  کو نہیں روک سکی اور قدیم روایات کی فرسودگی کو اس کے ذریعے کوئی استحکام نہیں ملا۔

٭٭٭٭Compiled by: Shahab Saqib٭٭٭٭٭

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

کتاب: المیہ تاریخ،حصہ اول، باب نمبر ۷

 

 

٭حوالہ جات٭

 

۱) اس موضوع پر مشہور جرمن ادیب برٹولٹ بریخت کا ایک افسانہ ہے جس کا اردو ترجمہ مصنف نے "دوسالہ عورت” کے عنوان سے کیا ہے۔ دیکھئے پندرہ روزہ "پرچم” کراچی۔ یکم اپریل-۱۵ اپریل ۱۹۷۹ء ص ۲۹-۲۸

۲) سر سيد احمد خان: مکتوبات سرسيد – لاهور، ۱۹۵۹، ص ۳۸۱

۳) ايضاً: ص ۲۸۶

۴) مولانا اشرف علی تھانوی، بہشتی زیور، لاہور، حصہ اول، ص ۷۹-۸۰

۵) ایضاً: ص ۸۴

۶) ایضاً: ص ۵۸

۷) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۵۸

۸) ایضاً: ص ۳۸

۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۹

۱۰) ایضاً: حصہ دہم، ص ۴۷

۱۱) ایضاً: ص ۴۷، ۴۸

۱۲) ایضاً: حصہ اول، ص ۵۳

۱۳) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۲۹

۱۴) ایضاً: ص ۳۳

۱۵) ایضاً: ص ۳۴

۱۶) ایضاً: ص ۳۴-۳۷

۱۷) ایضاً: ص ۳۷

۱۸) ایضاً: حصہ دوم، ص ۵۷

۱۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۸

۲۰) ایضاً: حصہ ہفتم، ص ۵۴

۲۱) ایضاً: حصہ چہارم، ۲۹

۲۲) ایضاً: حصہ ہشتم،  ص ۱۵

۲۳) ایضاً: ص ۱۴-۱۷

 

بھورو بھیل کی کہانی، اعجاز منگی کی زبانی


1378218_655950074429621_443105088_n

بھورو بھیل کی لاش

سندھی دانشور اعجاز منگی کی تحریرسے اک اقتباس
یہ تحریر نہی بلکہ نوحہ ھے
دھرتی کے بیٹوں کا
دھرتی ماں کی اجڑی کوکھ کانوحہ
اعجاز منگی کی زبانی بھورو بھیل کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خورشید قائم خانی نے ایک کتاب لکھی تھی ’’بھٹکتی ہوئی نسلیں‘‘۔
ان بھٹکتی ہوئی نسلوں سے ہی تعلق تھا اس بھورے بھیل کا جس کے جسد خاکی کا بھٹکنا سندھی میڈیا کا بہت بڑا اشو بن گیا ہے۔وہ شخص جو نہ ہندو تھا اور نہ مسلمان ۔جو نہ سکھ تھا اور نہ عیسائی۔ جو نہ بدھ تھا اور نہ جین۔ اس شخص کو جب مرنے کے بعدمیرپور خاص کے مشہور شہر پنگریو کی سرزمین میں دفن کیا گیا تو بقول اقبال ’’مذہب کی حرارت ‘‘ رکھنے والے چند لوگوں نے ان کی لاش کو قبر سے نکال کر کڑی دھوپ میں پھینک دیا۔اور اس وقت نہ تو میرپور خاص کا وہ شاعر زندہ تھا جو یہ کہتا کہ ’’اسے میرے دل میں دفن کرو‘‘ اور نہ ہی وہ خورشید قائم خانی ہی اس دنیا میں موجود ہے جو اس کی لاش کو لے آتا اواسے اپنے گھر کے آنگن میں اس کی قبر بنالیتا اور جب چیت کا چاند اپنی کرنیں بکھیر دیتا اس دھرتی پر تب وہ خورشید قائم خانی اپنی مخصوص کیفیت میں بھورو بھیل سے مخاطب ہوکر کہتا کہ’’اے خانہ بدوش! بتاؤ کہ خرابی کہاں سے شروع ہوئی؟‘‘

ایک حادثے کا شکار ہوکر مرجانے والا بھورو بھیل جس طرح اس جدید دور میں اپنی قدیم مظلومیت کی علامت بننے کی کوشش کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ’’تاریخ پچھتاتی بھی ہے‘‘ اور تاریخ کو پچھتانا بھی چاہئیے!! تاریخ کو ان انسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے کٹہڑے میں آنا پڑے گا اور اسے بتانا پڑے گا کہ ’’ان لوگوں کاکوئی مذہب نہیں۔ تاریخ کے خط استوی پر اپنی منزل سے بھٹک جانے والے ان لوگوں کا کوئی دیس نہیں۔ اپنے دیس میں پردیسی جیسی زندگی گذارنے والے ان لوگوں کو ایک ملک تو کیا ایک مکان بھی نہیں ہے۔ وہ جہاں کھلی جگہ دیکھتے ہیں وہاں لکڑیاں اور گھاس پھونس جمع کرکے اپنی کٹیائیں بنا لیتے ہیں اور جب کوئی ان سے کہتا ہے کہ ’’یہاں سے دفع ہو جاؤ‘‘ تو وہ کوئی سوال پوچھے بغیر اپنے گدھوں پر وہی لکڑیاں اور گھانس پھونس لاد کر پھر کسی جگہ کے جانب چل پڑتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں دکھ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی آنکھوں سے ایک آنسو تک نہیں گرتا۔ کیوں کہ یہ لوگ صدیوں سے یہی زندگی جیتے آ رہے ہیں۔ وہ ہندؤں کی طرح اپنے جنازے نہیں جلاتے۔ وہ دفن کرتے ہیں۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اب انہیں صرف جینے کے لیے جگہ کی تنگی نہیں بلکہ مرنے کے لیے دفن ہونے کو دو گز زمین نہیں ملتی۔ یہ لوگ جو کبھی کراچی سے لیکر کشمیر تک ایک بہت بڑی سرزمین کے مالک تھے۔ اب انہیں دھرتی کا کوئی ٹکڑا نہیں ملتا جہاں وہ اپنے دل کے ٹکڑوں کو دفن کر آئیں۔ بھورو بھیل اس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ جس قبیلے کو عام لوگ خانہ بدوش کہتے ہیں اور جنہوں نے انگریزی کے دو الفاظ پڑھے ہیں وہ انہیں رومانوی انداز سے ’’جپسی‘‘ بلاتے ہیں۔ بھورو بھیل بھی جپسی تھا۔ بادامی آنکھوں اور تانبے جیسی رنگت رکھنے والے بھورو بھیل کی کہانی اگر ایک حقیقت نہیں بلکہ ایک ناٹک ہوتی تو تاریخ کی روح سفید لباس پہن کر بھورو بھیل کی مذار پر ضرور جاتی اور اس سے مخاطب ہوکر ضرور کہتی کہ ’’میرے بیٹے! مرنے کےبعد تاریخ کے اس بھاری بھرکم صلیب کا بوجھ تم کو اٹھانا تھا اور تم کو بتانا تھا کہ تم ابھی تک خانہ بدوش ہو‘‘
ہاں! وہ خانہ بدوش تھا۔ زندگی میں تو خانہ بدوشی بہت کرتے ہیں مگر اس کے مقدر میں مرنے کے بعد بھی خانہ بدوشی ہی آئی۔ اور اس کے اس المیے کا اظہار کسی نیوز چینل نے نہیں کیا۔آج کل کی حکومتیں اپنے ضمیر کا کم اور میڈیا کا زیادہ سنتی ہیں۔ مگر قومی میڈیا میں اس مظلوم خانہ بدوش کی داستان درد نشر نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ اس ملک کی اکثریت کوکبھی تو معلوم ہوگا کہ ’’ایک تھا بھورو بھیل‘‘ درواڑ نسل کا وہ انسان جس کی بھوری آنکھوں میں ایک فنکار بننے کا خواب تھا۔اسے یقین تھا کہ وہ اپنے فن سے ملک کی میڈیا پر چھا جائے گا۔اس نے اپنے قبیلے بچپن سے یہی سنا تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔ اسے اپنے حسن اور اپنی صلاحیتوں پر ناز تھا۔ مگر کسی چینل نے اسے فن کے مظاہرے کا موقع نہیں دیا۔ وہ مقامی پروگراموں میں اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا اوراس کو اتنا کچھ ملتا جتنا ایک بھیل اور باگڑی کو خیرات میں ملا کرتا ہے۔ مگر وہ زیادہ رقم کا تقاضہ نہیں کرتا اور مسکرا کر دعائیں دیتا ہوا چل پڑتا۔ زندگی کے اس سفر میں وہ کسی منزل پر نہیں پہنچا اور حادثے کا شکار ہوگیا۔ اور مرگیا!! اس کے موت پر میڈیا ماں افسوس کے اظہار والے بیانات شایع نہیں ہوئے۔ کوئی ریفرنس نہیں ہوا۔ وہ ایسے چلا گیا جیسے بنجارے جاتے ہیں۔ بغیر بتائے۔ چپ چاپ اور خاموش!!
اور مرنے کے بعد ان کے ورثاء نے اسے انہیں کپڑوں کے ساتھ ایک رلی میں لپیٹ کر مقامی قبرستان میں دفن کیا مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ دور تبدیل ہوچکا ہے اور بھورو بھیل کی تدفین ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گئی اور اسے گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کی قبر کھود کر اسے کے جسد خاکی کو باہر نکال کر دھوپ میں پھینک دیا۔ اس طرح جن لوگوں سے دھرتی پر جینے کا حق چھینا گیا ان لوگوں سے اب مرنے کے بعد دفن دھرتی میں دفن ہونے کا حق بھی چھینا گیا تو وہ لوگ کہاں جائیں گے؟

اس سوال کا جواب سمۂ کو بھی دینا ہوگا اور اس سرکار کو بھی جس نے ان انسانوں کو اقلیت کی سیاست چمکانے والے ان ہندؤں کے دفتر میں داخل کردیا ہے جو انہیں اپنے مندروں میں آنے نہیں دیتے۔ جو انہیں اپنے شمشان گھاٹوں میں مردے جلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہیں۔وہ کہاں جائیں؟ اگر وہ دولت اور دماغ کے حوالے سے غریں نہ ہوتے تو وہ اپنے قبرستان بناتے ۔ مگر جنہیں جینے کے لیے بستیاں نہیں وہ قبرستان کیا بنائیں گے!!
وہ جو خانہ بدوش ہیں۔ بنجارے ہیں۔ جن کی زندگی نے ہمیشہ پیٹھ پر ڈیرے ڈالے ہیں۔ مگر مرجانے کے بعد تو انسان اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس حوالے سے زمانے کا ضمیر بتائے کہ موت کے بعد ایک خانہ بدوش کہاں جائے!!!!؟؟؟
وہ خانہ بدوش جن کے آباؤ اجداد نے موہن جو داڑو جیسے حیرت انگیز شہر میں دھات کے بھالے بنانے کے بجائے مٹی کے وہ کھلونے بنائے جن کی مالیت آج عالمی منڈی میں کروڑوں ڈالروں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مگر آج ان انسانوں کو مرجانے کے بعد مٹی سے مٹی ہونے کا حق بھی میسر نہیں اور اس المیہ پر کوئی اداس نہیں۔ نہ انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی اور نہ اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے! نہ حزب اقتدار اور نہ حزب اختلاف!!
اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ بھورو بھیل کے ورثاء بھی اس زیادتی کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھ رہے مگر ادب اور فن سے پیوستہ دلوں میں ایسے المیاتی واقعات کے حوالے سے یہ احساسات ضرور جنم لیتے ہیں جن کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اے آسمانوں
نیلے جہانوں
جائیں کہاں یہ
بھٹکتے اور بے گھر۔۔۔۔!!‘