عورتوں کو دیکھنا!… باپ کی بیٹے کو نصیحت


father-sonاردو ترجمہ: سلیقہ وڑائچ

اصل متن

کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے بیٹے سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی شہوت بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی شہوت کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے بیٹے سے یہ باتیں کرناہی ہوں گی۔

***********

بیٹا یہاں آؤ بات سنو۔ دیکھو میرا مقصد تمھاری اہانت ہے نہ میں ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ تم کن نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو۔مجھے یہ بھی پتا ہے تم نے ایسا کیوں کیا ۔ لیکن دیکھو کسی عورت کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔

بیٹا بہت سے لوگ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ عورت کو اپنے لباس کا دھیان رکھنا چاہئے اور ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے کہ تم اُسے غلط نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاؤ۔ لیکن پتا ہے میں تمھیں کیا کہوں گا۔” یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ صبح کیسا لباس پہن کر نکلتی ہے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُسے انسان سمجھیں چاہے وہ جیسا بھی لباس پہن کر نکلی ہو”۔

تمہارا دل چاہے گا کہ اس کے جسم کا طواف کرتی اپنی نگاہوں کا الزام تم اس پر دھر دو کہ اُس نے کیا پہنا ہوا ہے یا نہیں پہنا ہوا۔  لیکن ایسا مت کرنا۔ مظلوم بننے کی کوشش مت کرنا۔ یہ آنکھیں تمہاری ہیں ، تم ان کے معاملے میں مجبور اور بے بس نہیں ہو۔ تمہیں اپنی آنکھوں پر پورا اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرو۔ اپنی آنکھوں کی تربیت کرو کہ وہ اُس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھیں۔ خودتہذیبی کا ثبوت دو اور اُس لڑکی کو دیکھنا سیکھو، نہ کہ اُس کے لباس یا جسم کو۔ یاد رکھو جس لمحے تم نے اس معاملے میں خود کو مجبور اور بے بس تسلیم کر لیا تو تم اس خود فریبی میں مبتلا ہو جاؤ گے کہ تمہارا یہ فعل محض ایک بیرونی تحریک کا قدرتی رد عمل ہے جس پر تمہارا کوئی قابو نہیں، تم صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر سکتے، گوشت پوست کے جسم اور انسان میں فرق نہیں کر سکتے۔

 دیکھو، یہ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔ تم اتنے بےاختیار نہیں ہو اور جس لڑکی کو تم دیکھ رہے ہو وہ اپنے کپڑوں سے سوا بھی بہت کچھ ہے۔وہ اپنے جسم سے سوا بھی کچھ ہے۔ بہت باتیں ہوتی ہیں کہ کیسے مرد عورت کو ایک ’چیز‘ بنا دیتے ہیں اور یہ بہت حد تک سچ بھی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم لوگ جس چیز سے محبت کرتے ہیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تم سچ مچ کسی انسان سے محبت کرتے ہو تو پھر اُسے ’چیز‘ مت سمجھو۔ جس لمحے تم کسی انسان ، چاہے وہ عورت ہو کہ مرد، کو چیز سمجھنا شروع کر دیتے ہو ، تم انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہو۔

 ایک عورت کو کیا پہننا چاہیے یا کیوں پہنتی ہےاس بارے میں تمھیں دو  طرح کی رائے ملے گی۔ ایک یہ کہ وہ لباس اس لئے پہنتی ہے تاکہ مرد کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔  دوسرا خیال یہ ہےکہ عورت اپنا آپ اس لئے ڈھانپے تاکہ مرداُس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ بیٹا ، تم ان دونوں سے بہتر سوچ اپناؤ۔  کسی عورت کو بلکہ کسی بھی انسان کو تمھاری توجہ کیلئے لباس کا سہارا کیوں لینا پڑے۔ تم سب انسانوں کو اپنے ساتھی سمجھو اور لباس سے قطع نظر ان کو وہ توجہ دو جس کے وہ مستحق ہیں۔ اور پھر ایک عورت کو یہ کیوں لگے کہ اسے تمھیں تمھاری حد میں رکھنے کیلئے لباس پہننا پڑے گا۔ تمھارا اپنا آپ تمھارے اپنے اختیار میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور کے۔

بد قسمتی سے جنسِ مخالف سےتعلق کی نوعیت یا رابطے کا تعین اندیشوں کی نظر ہو کر رہ گیا ہے۔ مثلاً مسترد کئے جانے کا خوف، ناشائستہ یا غیر مہذب ہونے کا اندیشہ اور آپے سے باہر ہونے کا ڈر۔ کسی حد تک اس میں مذہب بھی ملوث ہے۔ ہم ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ دوسرا تمہارے لئے خطرہ ہے۔ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ عورت کا جسم مرد کو گناہ پر اکساتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر عورت اپنے جسم کی نمائش کرے گی تو مرد بیہودہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو گا۔ ایک بات واضح طور پر سمجھ لو۔ ۔ ۔ ۔ عورت کا جسم بالکل بھی خطرہ نہیں ہے۔ عورت کا جسم تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم گھٹیا حرکتیں کرتے ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ تم گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو۔ سو عورتوں اور مردوں کے درمیان موجود اس خوف کو تقویت نہ دو۔

عورت کا جسم بے حد پر کشش، پر اسرار اور مرد کے لئے ایک حیرت کدہ ہے۔ اس کے جسم کا احترام کرو۔ یہ احترام تم تب کر پاؤ گے جب تم عورت کی عزت کرو گے۔ عورت کی عزت کرو، اس کے جذبات، احساسات ،خواہشات، امنگوں، خوابوں اور زندگی کے تجربات کی قدر کرو۔ اسے  اعتماددو۔ اس کی حوصلہ افزائی کرو۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اس گمان کو بھی دل میں نہ آنے دینا کہ وہ کسی بھی طرح تم سے کمتر یا کمزور ہے۔ سنو عورت کمزور ہر گز نہیں ہے ۔ وہ صنف ِ نازک نہیں، وہ صنف ِ دیگر ہے۔

میری ان باتوں کابالکل بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم عورتوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دو۔ ہر گز نہیں، بلکہ اس کے برعکس میں تمہیں کہتا ہوں کہ انہیں دیکھو، ضرور دیکھو، انہیں سچ مچ دیکھو، صرف ظاہر آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے ۔ ایسے نہیں کہ وہ تمہارے احساسات کو گد گدائیں، بلکہ اُن کے اندر کے ایک بھرپور انسان کو دیکھو۔

مجھے امید ہے کہ جب تمہارا عورت کو دیکھنے کا انداز بدل جائے گا تو اُس وقت تمہارا رویہ بھی مختلف ہوگا جب تم عورتوں کے آس پاس ہوگے۔ اُن کے آس پاس مت منڈلاؤ، اُن کے ساتھ رہو,۔کیونکہ بہر حال وہ تمہارے ساتھ بلا خوف و خطر رہنا چاہتی ہیں۔ بغیر اس خوف کے کہ اُن کے کردار پر تم انگلی اُٹھاؤ گے، بغیر اس خوف کے کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کی تذلیل کرو گے، بغیر اس خوف کہ تم انہیں ’چیز‘ سمجھو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کو کوئی دوسری صنف سمجھو گے۔ اور یہ صرف عورتیں ہی نہیں چاہتیں، یہ سب انسان چاہتے ہیں۔ بلکہ تم خود بھی دوسروں سے یہی کچھ چاہتےہو۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

جشنِ آزادی مبارک


کارٹون صابر نظر سے بغیر اجازت لئے استعمال کر لیا ہے۔

اس ملک میں آپ آزاد ہیں۔ جو چاہیں وہ کریں:

  • چاہیں تو موٹر سائیکل سے سائلنسر نکال کر سڑک پر دوڑائیں۔
  • چاہیں تو لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کے اندر پٹاخے چھوڑیں
  • چاہیں تو سپیکر پر ساری رات وعظ کر کے یا قرآن پڑھ کے سارے شہر کو زبردستی ثواب پہنچائیں۔
  • چاہیں تو جب مرضی گلی میں قنات لگا کر راستہ بند کر کے اپنے مہمانوں کی دعوت کر لیں۔
  • چاہیں تو جتنا مرضی اونچی آواز میں گانے بجا کر سارے محلے کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں
  • چاہیں تو کسی کو بھی کافر یا غدار قرار دے دیں
  • چاہیں تو جتنے مرضی شیعوں کو بسوں سے اتار کر،باقاعدہ شناختی کارڈ دیکھ کر ماریں،
  • چاہیں تو عیسائیوں کی پوری پوری بستیاں جلا دیں ،ہندوؤں کی لڑکیاں اغوا کر لیں،
  • چاہیں تو احمدیوں کی عبادت گاہوں میں گھُس کر جتنے مرضی احمدیوں کو مار ڈالیں
  • چاہیں توکسی بھی شخص پر توہینِ رسالت/قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگا کر اُسے آگ لگا دیں۔
  • چاہیں تو قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولیں (اس پر قرآن کی بے حرمتی کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوگا)
  • چاہیں تو کسی بھی عورت پر تیزاب پھینک دیں، اُس کی ناک کاٹ دیں، غیرت کے نام پر قتل کر دیں۔
  • چاہیں تو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیں (پھانسی لگانے پر بھی پابندی نہیں ہے)
  • چاہیں توناقابلِ تردید حقائق سے صاف مکر جائیں۔
  • چاہیں تو یوُ ٹرن لے لیں۔
  • چاہیں تو اپنی سارے مسائل کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔
  • چاہیں تو جیسی مرضی پٹیشن لے کر سیدھے سپریم کورٹ چلے جائیں۔
  • چاہیں تو کسی بھی مقدمے میں سٹے آرڈر لے لیں اور باقی ساری زندگی مزے کریں۔

اور حد تو یہ ہے کہ:

  • چاہیں تو چیف جسٹس ہاؤس میں کمپنی کھول لیں۔