جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

سوال جواب: کس کی پیروی کریں(داؤد ستی)


سوال:

لالاجی بس آپ ایک بات بتا دیں۔ جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ عمران خان بھی ٹھیک نہیں، نواز شریف بھی ٹھیک نہیں، پی پی اور علماء بھی آپ کی تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور تو اور آپ نے شاعر مشرق اور مفکر پاکستان کو بھی معاف نہیں کیا۔ تو پھر مجھے صرف یہ بتا دیں کہ آپ کی نظر میں کون سا آدمی، یا کونسی پارٹی یا نظریہ صحیح ہے اور ہم سب کو اُس کی پیروی کرنی چاہئے۔ (داؤد ستی)

 جواب:

پہلی بات تو یہ کہ لالاجی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں۔ چنانچہ کسی کو گالی دینا، برا بھلا کہنا لالاجی کا کام نہیں۔ لالاجی لوگوں کی سوچ یا نظریات سے اختلاف کرتے ہیں اور اپنے اختلاف کو کبھی سنجیدگی سے، کبھی مزاح کی شکل میں، کبھی طنز کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ تاہم اگر کہیں لالا جی سے غلطی ہوئی ہے تو دلی معذرت۔

آپ کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کونسی پارٹی، آدمی یا نظریہ صحیح ہے اور ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہئے۔ تو میرے دوست یہیں سے مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پیروی کیوں کرنی چاہئے۔ کیا ہم اپنا رستہ آپ نہیں بنا سکتے۔ ہمیں ہر کسی کی بات سننی چاہئے اور اُسے عقل سے پرکھنا چاہئے۔ اگر عقلی جانچ پڑتال میں اُس کی بات درست ثابت ہو تو قبول کر لیں اور اگر غلط ثابت ہوتو رد کردیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج کوئی بات پوری جانچ پرکھ کے بعد درست ثابت ہو مگر کل کو نئی معلومات سامنے آنے پر غلط ثابت ہو جائے۔ یہی اصول لالاجی کی باتوں پر لاگو ہوتا ہے۔ لالاجی کی باتیں حرفِ آخر نہیں ہیں۔لالاجی کو کئی بار دوستوں نے غلط ثابت کیا ہے۔ "شاعر مشرق” اور "مفکر پاکستان” نے اپنے ایک فارشی شعر میں فرمایا تھا جس کا اردو مفہوم کچھ یوں ہے:

"اگر بزرگوں کی پیروی کوئی اچھا شیوہ ہوتا تو پیغمبر بھی اپنے آباؤاجداد کی پیروی کرتے”

آپ نے لالاجی سے پوچھا ہے کہ کس کی پیروی کریں۔ میرے دوست لالاجی کون ہوتے ہیں آپ کو بتانے والے کہ کس کی پیروی کریں۔ ہاں لالاجی آپ کو یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ جس کی بھی پیروی کریں، اندھا دھند نہ کریں۔ اُسے خدا، ولی اللہ، غلطیوں سے پاک نہ تصور کر لیں۔ شخصیت پرستی سے بچیں۔ تقلید اتنا بڑا مسئلہ نہیں، اندھی تقلید بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سو جس کسی کی بھی پیروی کریں اس کی باتوں اور کاموں کا تجزیہ کرتے رہیں اور جہاں غلط ہو وہاں اُس کی نشاندہی کریں۔ رہنما پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے مگر پیروکاروں پر شاید اُس سے بھی بڑھ کر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اپنے رہنماء کو حقیقتِ حال سے باخبر رکھنا ہوتا ہے تاکہ اُس کے پاؤں زمین ہی پر رہیں۔ ہمارے پیروکار ایسی چاپلوسی اور مکمل وارفتگی کے ساتھ رہنماکے پیچھے چل پڑتے ہیں کہ رہنما کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ (لالاجی)

تین سپر پاورز کو شکست….کیا واقعی؟؟؟


افغانستان نے تین سپر پاورز کو شکست دی ہے….

ہمارے پاس اپنے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے کے لئے ایک سے ایک بڑا مسخرہ موجود ہے۔ کوئی لال ٹوپی پہن کر ٹی وی پر آ جاتا ہے اور اِس ٹوٹے پھوٹے ملک کے برے حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ اور ہندوستان کے کندھوں پر ڈال کر سوال نہ پوچھنے والے (یعنی اپنا دماغ استعمال نہ کرنے والے) نوجوانوں کو غزوہ ہند کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔

ایک اورمذہبی ماڈل و اداکار جدید ترین ہیئر اسٹائل بنا کر اور منہگے کپڑے پہن کر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے۔ جعلی ڈگری پر نہ وہ شرمندہ ہے، نہ اُس کا چینل، نہ اس کے پرستار۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں کرتا کہ جعلی ڈاکٹر بن کر اُس نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے۔ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔

تاہم ایک اور مذہبی دانشور بنام اوریا مقبول جان ہمارے بچوں کو اُن کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لئے کچھ اور طرح کے جھوٹ بولتا ہے۔ ذیل میں ایک ویڈیو میں اُس کی ایک تقریر ہے جس میں وہ ایک طرف کچھ تاریخی واقعات کو غلط انداز سے بیان کرتا ہے تو دوسری طرف فتح و شکست کے معنی ہی بدل کر دکھ دیتا ہے۔وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ افغانستان نے ایک صدی کے اندر اندر دنیا کی تین سپر پاورز کو شکست دی۔ یہ تقریر وہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے کر رہا ہے اور اُس کی اِس بات پر ناسمجھ لوگ کافی تالیاں بھی بجا دیتے ہیں۔ پہلے تقریر سن لیجئے، پھر باقی بات کرتےہیں۔ 

پہلی بات تو یہ کہ جس جنگ کا حوالہ اوریا مقبول جان صاحب دے رہے ہیں وہ جنگ ۱۹۰۵ء میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس سے لگ بھگ تریسٹھ سال پہلے 1842 میں لڑی گئی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اوریا صاحب اس ساری صورت حال کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جیسے برطانیہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر ناکام رہا۔ برطانیہ کا مقصد افغانستان پر قبضہ ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ برطانیہ اور روس دونوں ہی اس ملک کو پر اپنا اثر و رسوخ ضرور چاہتے تھے مگر قبضے کے خواہشمند نہیں تھے کیوں کہ دونوں بڑی طاقتیں افغانستان پر قبضے کی صورت میں آمنے سامنے آکھڑی ہوتیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال اوریا مقبول جان اور ان کے پرستاروں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد بھی جنگیں ہوتی رہیں اور افغانستان نے ۱۸۹۳ء میں انگریزوں کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدہ کیا اور اپنا بہت سا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ علاقہ موجودہ خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے شمالی اضلاع (جن کی آبادی پختون ہے) پر مشتمل ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان نے ایک سپر پاور کو شکست دی بالکل احمقانہ سی بات ہے۔ فاتح قومیں ڈیورنڈ معاہدے کی طرح کے معاہدے نہیں کرتیں۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ فتح اور شکست کا تصور کیا ہے۔ کیا کسی ایک محاذ پر دشمن کے سارے فوجی مار دینا فتح  ہے یا جنگ میں فتح کوئی زیادہ بڑی چیز ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں یہاں موٹی موٹی کتابوں اور دنیاء کے بڑے بڑے دانشوروں کے حوالے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ نہ ہی میرا ارادہ تمام اینگلو افغان جنگوں میں ہونے والی مارا ماری کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ کیوں کہ میرے نزدیک فتح اور شکست کا معیار یہ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس فاتح اور مفتوح قوموں کا تھوڑا سا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ تینوں سپر پاورز اور افغانستان میں سے فاتح کون تھا اور مفتوح کون۔ 

یہاں کچھ تصویریں افغانستان سے شکست کھانے والی تینوں سپر پاورز کے مختلف شہروں کی کچھ تصاویر پیش کر رہا ہوں :

:اور اب ہمارے فتح مند ہمسائے افغانستان کے کچھ مناظر

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ چند تصاویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس میں افغان قوم زخموں سے چور ہے، اُس کے بچے کوڑے کے ڈھیروں میں خوراک تلاش کرنے پر مجبور ہیں، اُس کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں مہاجرکیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ مفتوح قوموں کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں صحت کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں اور ان کے شہری دو وقت کی روٹی کو نہیں ترس رہے بلکہ کھیلوں، فنون لطیفہ اور سائنس کی دنیاء میں نام کما رہے ہیں۔

اوریا مقبول جان صاحب… ہمارے نوجوانوں پر رحم کیجئے… ایسا ہی جہاد کا شوق ہے تو پاکستان میں اچھی اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے وزیرستان کا رُخ کر لیجئے، یہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔

عمران خان سے چند سوال


جناب عمران خان صاحب…!

 مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر میں آپ کے پیروکاروں و پرستاروں کی گالیوں سے امان پاؤں تو چند شرارتی سے سوال کرنے کی گستاخی کرنا چاہوں گا۔ وہ سوال یہ ہیں:۔۔

  1. آپ کا سب سے اہم وعدہ یہ ہے کہ آپ بد عنوانی یعنی کرپشن ختم کر دیں گے۔ آپ کی پارٹی کے تمام لوگ اپنے اثاثے ظاہر کریں گے۔ چنانچہ اگر ناگوار نہ گزرے تو ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ پچھلے کچھ عرصے سے جو جلسے منعقد کئے جا رہے ہیں ان پر کتنا پیسہ خرچ ہوا اور یہ پیسہ کہاں سے آیا۔ برائے مہربانی ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ نکال لیجئے گا کہ ہم خاکم بدہن آپ یا آپ کی پارٹی پر بدعنوانی کا الزام لگا رہے ہیں۔ ہم محض اپنے جنرل نالج میں اضافے کے لئے پو چھ رہے ہیں۔ 
  2. آپ کا دوسرا وعدہ یہ ہے کہ آ پ اقتدار میں آ کر طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کر دیں گے۔ کیا اس بارے میں آپ نے خورشید قصوری صاحب سے بات کر لی ہے؟ کیا وہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم بند کرنے پر راضی ہیں؟ 
  3. آپ کا ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیں گے۔ آپ کی یہ یقین دہانی سر آنکھوں پر۔ مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کے جلسوں میں جہادی تنظیموں کے جھنڈے کیوں لہرا رہے ہوتے ہیں؟ کیا ہماری خواتین اور اقلیتوں کو انہی جھنڈے والوں نے یرغمال نہیں بنا رکھا؟ 
  4. اگر آپ بھی ہندوستان کے ساتھ  معمول کے تعلقات چاہتے ہیں تو موجودہ حکومت کی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا خیر مقدم کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ مثالیں دے کر وضاحت کریں ، جہاں ضروری ہو اشکال بھی بنائیں۔
  5. آپ نے عافیہ صدیقی کی بات بھی کی۔ کیا آپ اقتدار میں  آکر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے امریکہ سے بات کریں گے؟ کیا اس مقصد کے لئے خورشید قصوری صاحب ہی کی خدمات حاصل کی جائیں گی؟ اگر امریکہ نے عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو کیا آپ کسی محمد بن قاسم کو بھیجیں گے کہ عافیہ صدیقی کو رہا کروا لائے؟ 
  6. آپ کا دعویٰ ہے کہ طالبان دراصل پختون مزاحمت کار ہیں جو امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ جب ڈرون حملوں میں عام پختون شہری ہلاک ہوتے ہیں تو ان کے رشتے دار (بیٹے ، بھانجے، بھتیجے وغیرہ) ان کا بدلہ لینے کے لئے خود کش بمبار بننے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے ناپختہ ذہنوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر طالبان کو پھر اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور کراچی جیسے شہروں میں خود کش بمبار بھرتی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار بدلہ لینے کے لئے کہاں جاتے ہیں؟ وہ طالبان کی صفوں میں گھُس کر خود کش حملے کیوں نہیں کرتے؟ آپ کے علم میں ہوگا (آپ شاید بیس سال پیلے خود قبائلی علاقوں میں گئے تھے اور آپ سے بہتر قبائلی علاقوں کو کوئی نہیں جانتا) کہ ۱۳۰۰ سے زیادہ قبائلی مشران کو طالبان نے ٹارگٹ کلنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ اُن کے رشتے دار طالبان سے بدلے کیوں نہیں لے رہے؟ 
  7. آپ نے حال ہی میں کہا کہ اگر آپ ناکام ہو گئے تو استعفیٰ دے دیں گے۔ ایسے میں آپ کے ووٹر اور کارکن کہاں جائیں گے جو آپ کو جتوانے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔ اگر کل کو بھاگ جانا ہے تو آج ہی کیوں نہیں بھاگ جاتے؟ 

نوٹ: غصہ نہ کریں… جواب دیں…اگر جواب نہ ہوتو استعفیٰ دے کر لنڈن چلے جائیں اور پرویز مشرف کے ساتھ بیٹھ کر گپ  لگائیں۔ آپ کے اکثر انقلابی ساتھی  پرویز مشرف کی صحبت سے پہلے بھی فیض یاب ہو چکے ہیں۔ انہیں کوئی تامل نہ ہوگا۔