اس جنگ میں آپ کس کے ساتھ ہیں۔۔۔از سلمان حیدر


Pakistan-Army

(سلمان حیدر نے قوتِ قاہرہ یا جابرانہ قوت کی اصطلاحات بار بار استعمال کی ہیں۔ سیدھے سے لفظوں میں ان سے مراد پاک فوج ہے اور پاک فوج کےمفادات ہیں: لالاجی)

میرے کچھ دوست موجودہ صورتحال میں ریاست کی قوت قاہرہ خاص طور پر فوج کے کردار پر میری تنقید پڑھ کر مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ریاست کا کردار تبدیل ہو رہا ہے اور ریاست اپنی جابرانہ قوت کو ان طاقتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے جنہیں اس نے خود بنایا تھا اس لیے مجھے ریاست پر تنقید ترک کر دینی چاہئیے۔ کچھ دوستوں کے خیال میں مجھے ریاست پر تنقید ترک ہی نہیں کرنی چاہئیے اس کی حمایت کرنی چاہئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
میرا خیال یہ ہے کہ میرے ان دوستوں کو میرا موقف معلوم نہیں یا میں انہیں سمجھا نہیں پایا۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان دوستوں میں سے اکثریت دہشت گردی یا یوں کہیے کے مذہبی دہشت گردی کو اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہے جبکہ میں مذہبی دہشت گردی کو مسئلے کے ایک ظاہری پہلو کے طور پر دیکھتا ہوں۔
میری رائے میں مسئلہ مذہبی دہشت گردی سے بڑھ کر ریاست کی قوت قاہرہ کی جانب سے اپنے مفادات کے تحفظ اور بڑھوتری کے لیے غیر ریاستی یا نجی مسلح گروہوں کی سرپرستی ہے۔ یہ سرپرستی مذہبی گروہوں کو بھی حاصل رہی ہے اور اس سے نام نہاد لبرل جماعتوں کے مسلح ونگ بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔(12 مئی امید ہے کافی دوستوں کو یاد ہو گا۔) یہ سرپرستی ان مسلح جتھوں کے ذریعے ریاست سے باہر خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے اور ریاست کے اندر ریاست کی قوت قاہرہ کی طاقت پر سوال اٹھانے والوں یا مفادات کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ افغانستان ہو یا ہندوستان کراچی ہو یا فاٹا اور بلوچستان مسلح جتھے بنانا انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا تقسیم کرنا دو یا دو سے زیادہ فریقوں کی ایک ہی وقت میں پشت پناہی کرنا اور یہاں تک کے انہیں آپس میں لڑوا دینا بھی اس ساری سیاست کا حصہ ہے۔
اس مسئلے میں ایک اہم چیز یہ بھی ہے کے یہ جتھے روبوٹس پر مشتمل نہیں ہوتے ان کو چلانے والوں کے اپنے مفادات بھی ہوتے ہیں اور انہیں جس نظریے پر بنایا جاتا ہے ان کے ایکشن میں اس کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مثلا میں یہ نہیں سمجھتا کے فوج شیعوں یا عیسائیوں یا ہندوؤں کے خلاف ہے لیکن جب اس کے مفاد کے لیے کام کرنے والے گروہ اپنے نظریے کے تحت ان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو فوج انہیں نظر انداز کرتی ہے بلکہ کئی بار غیر فوجی ریاستی اداروں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ گروہ اپنے مفادات یا/اور نظریات کی بنیاد پر یہ اپنے بنانے والوں سے الجھ بھی پڑتے ہیں اور ایک بار الجھ پرنے کے باوجود ان کی صلح بھی ہو جاتی ہے۔ منگل باغ سے نیک محمد تک حالیہ مثالیں بھی بہت ہیں اگر آپ افغان جہاد میں نا جانا چاہیں تو۔
بلوچ قوم پرستوں کے خلاف مذہبی گروہ ہوں پاکستانی طالبان کے خلاف لشکر ہوں ایم کیو ایم حقیقی یا غیر حقیقی ہو سپاہ صحابہ ہو یا جماعتہ الدعوہ وغیرہ ان میں سے ہر ایک کو کسی نا کسی وقت فوج کی سرپرستی رہی ہے۔ ان میں سے کسی ایک قسم کے جتھوں کو اس وقت دبایا جا رہا ہے تو اس کے مقابل دوسرے کی سپورٹ کی جارہی ہے۔ کراچی میں متحدہ زیر عتاب ہے تو حقیقی واپس آ رہی ہے اور سپاہ صحابہ بھی موجود ہے۔ فاٹا میں متعدد لشکر بنائے لڑائے توڑے گئے ہیں اور کن کے خلاف جنہیں ان لشکروں سے پہلے بنایا اور لڑایا گیا تھا۔ بلوچستان میں مذہبی گروہ قوم پرستوں یا آزادی چاہنے والوں کے خلاف فوج کے ساتھ ہیں۔ پنجاب میں جماعتہ الدعوہ کو بھرپور سرپرستی حاصل ہے پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے علاقے میں واپس آ چکے ہیں۔
مقصد ان ساری مثالوں اور گفتگو کا یہ کے فوج کے اس وقت اپنے وقتی مفادات کے تحت ایک خاص قسم کے جتھوں کے خلاف ہو جانے کو اس مسئلے کا حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسئلہ حل تب ہو گا جب فوج اپنے مفادات کے تحت مسلح اور غیر مسلح جماعتیں اور جتھے بنانا اور انہیں استعمال کرنا چھوڑ دے گی۔ ورنہ کل ایک اور دشمن ایک اور وجہ ایک اور جنگ سامنے آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
مجھ سے کل ایک دوست نے پوچھا کے میری سمجھ میں نہیں آتا کے آپ فوج کے ساتھ ہیں یا طالبان کے تو میں نے اسے یہی جواب دیا کے اس جنگ اور آپریشن میں کام ہی یہ کیا گیا ہے کہ ایسا گھڑمس مچاؤ کہ اس لڑائی کی صرف دو سائیڈیں نظر آئیں اور اس کے بعد لوگوں کو ایک سائیڈ منتخب کرنے پر مجبور کر دو۔ ایسا نہیں ہے اس جنگ میں مارے جانے والوں کی اکثریت کسی طرف نہیں ہیں۔ میں انکی طرف ہوں۔

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا "کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ "آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو "کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔

غم و غصہ …. از سلمان راشد


 یہ  مضمون انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع ہوا۔ انگریزی متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک احمقانہ سے ویڈیو پر غم و غصے کا ڈرامہ کر کے ایک بزدل اور عقل سے پیدل آدمی نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔دہشت گردوں سے عام معافی۔ دہشت گردوں نے اُسے سیکولر نظریات کا مالک ہونے کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ لیکن جہاں اُس کے سیکولر نظریات ایک دھوکہ ہیں وہیں اُس کا مذہبی رجحانات بھی مشکوک ہیں۔

 ذرا غور کریں: اس شخص نے اعلان کیا کہ اگر اُسے موقع ملا تو وہ ویڈیو بنانے والے شخص کو قتل کر دے گا۔ اُس کے اس بیان پر فساد اور لوٹ مار کرنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موصوف کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ ایک (ناکام) ریاست پاکستان کا وفاقی وزیر ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس یقیناً نیلا پاسپورٹ ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ عام پاکستانیوں کو قتل پر اُکساتا جن کے لئے امریکہ جانا ہی ویزے کی مشکلات کے باعث ممکن نہیں ہوگا، اُسے چاہئے تھا کہ وہ خود کیلیفورنیا پہنچ جاتا اور اپنا کام کرگزرتا۔

 امریکہ میں مقیم ایک شخص کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس مذہبی غم و غصے کے مارے شخص کو اس بات کی تو پوری تسلی ہے کہ اُس کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یا تو قتل کرنے والے  کے لئے یہی ممکن نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ویزا حاصل کر سکے اور اگر کوئی ویزا لے کر امریکہ پہنچ بھی جائے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہیں گرفتار ہو جائے گا، مقدمے بھگتے گا، سزا پائے گا اور اتنے لمبے عرصے تک کسی جیل میں پڑا رہے گا کہ واپس آکر انعام کی رقم کا دعویٰ نہیں کر پائے گا۔ یہ سب کچھ محض ایک تماشا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔

 وزیر ریلوے غلام احمد بلور، جس پر ریلوے کو تباہ کرنے کا مقدمہ چلنا چاہئے،دراصل دہشت گردوں کے پیروں میں گر پڑا ہے جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔ اب اسلام کی زبانی کلامی خدمت کر کے اُس کو معافی مل گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ اور جن لوگوں نے اُس کو محض زبانی جمع خرچ پر معاف کر دیا ہے وہ بھی اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ اُن کی طرف سے دی گئی یہ معافی اُن کی مذہب سے محبت کو مشکوک بنا گئی ہے۔ کیا وہ اتنے سیدھے سادے ہیں کہ وہ اس چال کو سمجھ ہی نہیں پائے؟

 لیکن اس میں صرف بلور ہی قصور وار نہیں ہے۔ گرجنا برسنا اس قوم کا شیوہ ہے۔ پورے ملک میں ایسے بینر لگے ہوئے ہیں جن پر فلم بنانے والے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے "اب تمہاری خیر نہیں”۔ میں نے جتنے بھی بینر دیکھے اُن پرنکولا بیسیلے نکولا کو دھمکی دینے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ نہیں، قطعاً کچھ نہیں۔ یہ سب محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پیغمبر کا عظیم نام داغدار ہو گیا ہے مگر یہ لوگ محض بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ ان کا عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یہ لوگ خالی خولی دھمکیاں دینے کی بجائے اب تک امریکہ روانہ ہو چکے ہوتے تاکہ وہاں اُس مصری عیسائی کا قلع قمع کر سکیں۔

 اب آتے ہیں غم و غصے کی طرف۔ سروپ اعجاز نے بجا طور پر "غم و غصہ کی صعنت” کو ایک منافع بخش کاروبار قرار دیا ہے۔ ذرا کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں موجود نوجوانوں کے انٹرویو تو سنیئے۔ ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے تو اُس نے جواب دیا "شغل”۔ ایک اور نوجوان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ سب ویڈیو یوٹیوب سے پابندی ہٹتے ہی آپ دیکھ سکیں گے۔ ایک اور نوجوان کی تصویر دیکھیں۔ یہ پشاور کا منظر ہے اور نوجوان چہرے مہرے سے پختون معلوم ہوتا ہے جنہیں ہم سب پاکستانیوں میں اسلام کے زیادہ قریب سممجھتے ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لوٹ کا مال سمیٹے جا رہا ہے۔ کیا یہ سب توہینِ رسالت پر غم و غصے کا اظہار ہے؟

 ہم کسی کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ اس مذہب کے ساتھ بھی نہیں جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہم جھوٹے، منافق اور بد عنوان لوگ ہیں جومذہب سمیت ہر کسی کو صرف باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم غم و غصے کے اظہار میں آگے رہتے ہیں اور اس میں اپنے ہی ملک کو جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ حقیقی گستاخ جن کو سزا ملنی چاہئے ہمارے درمیان موجود ہیں اور بلور اُن میں سر فہرست ہے۔

قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہیں


حال ہی میں میرا واسطہ کیمپ (Community Appraisal and Motivation Network-CAMP)نامی ایک تنظیم سے پڑا۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں بہت کام کیا ہے اور ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بارے  میں سنی سنائی باتوں اورلوگوں کی ذاتی رائے کی بنیاد پر بنی طلسماتی کہانیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کچھ ایسے حقائق آئے ہیں جو سائنسی انداز میں باقاعدہ سروے کر کے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ یہ سروے باقاعدگی سے۲۰۰۸ ، ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ میں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ان سروے کے نتائج کا تقابل کر کے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے رجحانات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں۔

ذیل میں ہم ان کی تازہ ترین رپورٹ )جو ۲۰۱۰ء میں کئے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے( میں سے کچھ دلچسپ انکشافات پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سروے لگ بھگ چار ہزار قبائلی لوگوں سے کیا گیا اور اس میں عورتوں اور مردوں سے سوالات کئے گئے۔ یہ سروے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(FATA) میں بھی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(PATA) میں بھی۔ کیمپ کی اپنی ویب سائٹ پر اس سروے کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے دفتر سے سروے رپورٹس مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ رپورٹس پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

فاٹا کا مستقبل

فاٹا کے لوگوں کے بارے میں پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انداز کے مطابق زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور جیسے ہیں خوش ہیں یا یہ کہ وہ اپنے علاقے میں موجود نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ تاہم کیمپ کے سروے میں جو باتیں سامنے آئیں وہ کچھ یوں ہیں:

  • 31 فیصد لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  • 25 فیصد لوگ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہیں۔
  • صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ایف سی آر کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے

ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) انگریزوں کا بنایا قانون ہے جوآزادی کے بعد چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں کیا گیا۔ اس قانون کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے کچھ یوں ہے:

  •  46فیصد لوگ اس قانون کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں
  • 26 فیصد لوگ اس میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں

یوں لگ بھگ ستر فیصد لوگ اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے چودہ اگست ۲۰۱۱ء کو اس قانون میں بنیادی اصلاحات کر دی ہیں۔ اس بارے میں اسی بلاگ میں دیکھئے …..

سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

لگ بھگ ساٹھ فیصد لوگ یہ چاہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ یہ ذہن میں رکھئے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حال ہی میں موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سر گرمیوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

قبائلی لوگ کس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں

یہ سوال تینوں سالوں میں کئے گئے سروے میں پوچھا گیا اور تینوں سالوں میں ملنے والے جوابات کا تقابلی جائزہ ایک دلچسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قبائلی لوگ سب سے زیادہ بھروسہ ملاؤں یا مذہبی رہنماؤں پر کرتے ہیں۔ تاہم سروے کے تنائج یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۸ میں لگ بھگ 69 فیصد لوگ ملاؤں پر بھروسہ کرتے تھے جو ۲۰۱۰ میں کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئے۔ دوسری طرف پاکستان فوج پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح ایف سی پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح بھی ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی۔ قبائلی بزرگوں پر بھروسے کی شرح ۲۰۰۹ میں ۲ فیصد تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔

فاٹا کے بڑے مسئلے کیا ہیں

عام خیال یہ ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی بندوقوں اور سمگلنگ کے کام میں خوش ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ تقریباً ہر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہےلوگوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو بیان کیا۔لوگوں نے تعلیم کی کمی کو صحت کی سہولیات کی کمی ، امن و امان اور انصاف سے بھی بڑا مسئلہ بتایا ہے۔

فاٹا میں رہنا

۲۰۰۹ میں صرف26 فیصد لوگ فاٹا میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تاہم ۲۰۱۰ میں لگ بھگ 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ فاٹا ہی میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ شرح اس بات کی دلیل ہے کہ فاٹا میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جب یہی سوال کچھ دیر بعد یوں دہرایا گیا کہ کیا آپ کسی اور علاقےمیں رہائش اختیار کرنا پسند کریں گے تو لگ بھگ 58فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور علاقے میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کریں گے۔

فاٹا میں محفوظ ہیں

لگ بھگ 60 فیصدلوگوں کا خیال ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ ہیں۔ اس طرح امن و امان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 51 فیصد لوگوں نےکہا کہ صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم 32فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔

خطرہ کس کس سے ہے؟

سارے پاکستان میں یہ ڈرون حملوں کے حوالےسے بہت شور ہے۔ مگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دہشت گرد تنظیموں کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

  • 41 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑا خطرہ ہیں
  • 15 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ قبائلی جھگڑوں سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
  • 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات سے ان کو خطرہ محسوس ہو تا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو ڈرون حملوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو پاک فوج کی کارروائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

قبائلی لوگوں کے خیال میں خود کش حملہ آور ہندوستان اور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں لگ بھگ 15 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں 21 فیصد قبائلیوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں 7 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور ہندوستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں یہ شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔

 طالبان کون ہیں؟

اس سوال کا جواب یوں ملا

  • 27 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان شرپسند عناصر ہیں
  • 24 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان جاہل لوگ ہیں
  • 18 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان غیر ملکی جنگجو ہیں
  • 5 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان اسلام کے محافظ ہیں
  • 1 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اسی طرح تقریباً 73 فیصد قبائلی لوگ القاعدہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی جہادیوں کا کیا کریں؟

عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

  • 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
  • 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
  • 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
  • 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔

افغان مہاجرین کا کیا کریں؟

89 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین واپس چلے جائیں۔