مرکزی جامعہ مسجد….از سلیقہ وڑائچ


ہمارے گاؤں کی مرکزی مسجد گاؤں میں امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ جس کا ایک ثبوت مسجد سے ملحقہ ہندؤں کے گھر تھے جو کہ تقسیم کے وقت بھی مسمار نہیں کئے گئے۔اورہندو برادری کے جو لوگ ہندوستان اپنے پیاروں سے جا ملے ان کے گھر نہ صرف صحیح سلامت تھے بلکہ دروازوں پر لگے تالوں کی چابیاں ہمسایوں کے پاس موجود تھیں۔ جو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے تھے ان گھروں میں ہندوستان سے آئے مسلمانوں نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔

گاؤں میں یوں تو سبھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجو550557724_abe3eee570_zد تھے۔ لیکن دو بڑے مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعد میں جن کی تخصیص لمبی داڑھی اور اونچی شلواروں اور سبز پگڑی یا رنگ برنگے چولوں سے کی جا سکتی تھی۔

ان سب کے درمیان بھائی چارے اور یگانگت کا راز مسجد کے امام مولوی ابراہیم تھے۔ وہ اپنے زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جانے مانے طبیب بھی تھے۔ دوردراز سے لوگ ان سےعلاج کروانے آتے تھے۔ اپنےبچوں کو بھی انھوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے بچے مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

میرے  دادا کی مولوی صاحب سے بہت دوستی تھی۔ دادا گھر میں ٹی وی لائے تو مولوی ابراہیم ان کے ساتھ بیٹھ کر خبرنامہ سنتے  تھے۔ ضرورت کے مطابق ٹی وی کبھی مردان خانے یا دالان میں رکھا جاتا تو کبھی خواتین کے لئے برآمدے یا گھر کے اندر۔ اور کبھی صفیں بچھا دی جاتیں اور آگے مرد اور پیچھے خواتین بیٹھ کر پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتے۔ ڈرامہ دیکھتے کسی سین پر خواتین کی سسکیوں کی آواز آتی تو مرد حضرات ہنسنے لگتے اور دادا ڈانٹتے ہو ئے کہتے "کیوں کملیاں ہوئی جاندیاں او، ڈرامہ جے”) کیوں پاگل بن ہی ہو یہ تو ڈرامہ ہے(۔

عبادات کے لئےسختی نہیں تھی لیکن مسجدوں میں صفیں بھری ہوتی تھیں۔البتہ جمعہ کی نماز نہ پڑھنے پر لعن طعن ضرور ہوتی تھی۔ بڑے تایا سست واقع ہوئے ہیں جمعہ کے دن تیاری میں دیر ہو جاتی تو وہ”شاہنی مسجد” میں اہلِ تشیع کے ساتھ نماز ادا کر لیتےکیوں کہ وہاں کچھ تاخیر کےساتھ نماز ادا کی جاتی تھی۔عورتیں بھی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز پڑھتی تھیں۔ پھوپھو سکول میں پڑھاتی تھیں لیکن انھوں نے قرآن کی بہت سی سورتیں حفظ کر رکھی تھیں۔ رمضان اور عبادات کی مخصوص راتوں میں موسم کی مناسبت سے گھر کی چھت پر، صحن میں یا برآمدوں میں گاؤں کی عورتیں ان کی معیت میں ساری ساری رات  عبادت کرتیں۔ ساتھ میں کھانا پینا چلتا رہتا اور عبادت بھی ہو جاتی۔

1986 میں مولوی صاحب کی وفات ہوگئی۔ اُن کے بعد  گاؤں کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کی امامت کا مسئلہ ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گیا۔ مسالک کے لحاظ سے دونوں اکثریتی دھڑے کسی ایک امام پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔ کچھ عرصہ ایک امام آتا اور پھر دوسرا۔ حتیٰ کہ امام پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس نے فلاں آیت کی تشریح غلط کی ہے، ضعیف حدیثوں کی مدد سے ترجمہ بدل دیا ہے یا اس کا نماز پڑھنے کا طریقہ صحیح نہیں، تلاوت ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو بھی امام آتا ذلیل کر کے نکال دیا جاتا۔

پھر اونچی شلواروں اور سیاہ داڑھیوں والے لوگ تین تین دن آکر مسجدوں میں قیام کرنے لگے۔ پھوپھو کو انھوں نے ایک پرچی بھیجی کہ آپ "ثواب کے نام پر گناہ کما رہی ہیں۔ یہ سب روایتیں ہیں عبادت کا یہ طریقہ سراسر غلط ہے”۔ پھوپھو نے اپنی روش نہ چھوڑی لیکن عورتوں نے نماز کے لئے آنا بند کر دیا۔  جمعہ کی نماز کے لئے بھی کوئی خاتون مسجد کا رخ نہیں کرتی تھی۔ عبادت کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا کلچر بھی ختم ہو رہا تھا۔

 لمبی داڑھیوں والوں کا غلبہ دیکھ کر دوسرے مسلک کے لوگ بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے پاکپتن سے کچھ لوگوں کو بلایا اور یوں سبز پگڑی کو تقویت دینے کے لئے تواتر سے مسجد میں گیارہویں کا جلسہ کروایا جانے لگا۔ جس میں مخصوص درود ایسے پڑھا جاتا جیسے اعلانِ جنگ کیا جا رہا ہو۔ دونوں مکتبِ فکر کے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔

 پھر مقامی انتخابات نے جیسےان تنازعات میں نئی روح پھونک دی ۔ ووٹ کی بنیاد بھی مسلک بن گیا۔ قادیانیوں کو گاؤں سے نکال دیا گیا۔ انھوں نے گاؤں سے باہر اپنی زمینوں میں گھر بنا ئے۔ یا کچھ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ شاہنی مسجد کے سپیکر کو بند کروادیا گیا، ذوالجناح کے جلوس کا گاؤں میں داخلہ بند ہو گیا۔ گیارہویں کے ختم والی چیزیں کھانا حرام قرار دے دیا گیا۔

گاؤں میں  ہر فرقہ اپنی بقا کی فکر میں تھا اور اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کر رہا تھا۔ یہ مزاحمت دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ اور نوبت لڑائی جھگڑوں اور مسلح مدافعت کو جا پہنچی۔ یہاں تک کہ کہ گاؤں میں اکا دکا پر اسرار قتل ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ سعودی عرب سے چھٹیاں گزارنے آئے گاؤں کے ایک آدمی نے اپنی زمیں پرسعودی کفیل کے بھیجے پیسوں کی بدولت ایک فرقے کے لئے بہت بڑی جامعہ مسجد اور مدرسہ بنا دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئی بھی فرقہ مرکزی مسجد سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ مرکزی جامع مسجد میں کوئی امام بھی موجود نہ تھا۔ دونوں فرقوں کے لوگ خود جا کر اذان دیتے اور جو پہلے جاتا وہی نماز پڑھواتا۔

سکولوں میں جہادِ کشمیر اور افغانستان کے شہیدوں کی عظمت بیان کی جاتی، خود جہاد سے واپس آئے لوگ وہاں کے رہنے والون کی حالتِ زار بیان کرتے اور جہاد اور جہادیوں  کے لئے چندہ مانگا جاتا ۔ ٹی وی، وی سی آر حرام قرار دے دیا گیا یہاں تک کہ بچوں کے درسی نصاب اورتفریحی رسائل و جرائد میں بھی داڑھی، نماز، جہاد اور شہادت کی ترغیب دی جاتی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم گاؤں آئے ہوئے تھے۔ایک دن عصر کے وقت  چاچو اور ان کا ایک ساتھی تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے، جلدی جلدی ادھر اُدھر دیکھا۔ اور کچھ نظر نہ آیا تو چولہے سے جلتی ہوئی لکڑی اُٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ کے آدمی نے جس کے ہاتھ میں ہاکی تھی امی کو جلدی میں اتنا بتا یا کہ "وہ مار رہے ہیں ہمیں مسجد میں” اور چاچو کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے پہلی بار اپنے پڑھے لکھے چچا کا یہ روپ دیکھا تھا۔ میں خوف سے چیخنے لگی۔ چھوٹے چاچو کو پتا لگا تو وہ بھی اپنی بندوق کندھے پر ڈالے مسجد کو دوڑے۔ امی اور پھوپھو روکتی رہ گئیں۔ لیکن انھوں نے پھوپھو کو دھکا دیا اور باہر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔

 مسلسل لڑائی جھگڑے اور تنازعات کی وجہ سے مرکزی مسجد کو پولیس نے ہمیشہ کے لئے تا لا لگا دیا۔ چھوٹے چاچو کو کندھے میں گولی لگی ۔بڑےچاچو بھی زخمی تھے ان کو بھی گہری چوٹیں آئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمے درج کروائے۔ بہت عرصہ مقدمے چلتے رہے اور بالآخر فریقین میں صلح ہوگئی ۔لیکن گاؤں کا امن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گیا۔ جس کے مالی حالات اجازت دیتے تھے وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کی غرض سے گئے اور ہمیشہ کے لئے زمینیں بیچ ، گاؤں چھوڑ گئے۔ پرائمری ، مڈل سطح کےسکول ہیں تو سہی لیکن استاد ندارد اور کسی کو فکر بھی نہیں۔

 وہاں اب بھانت بھانت کی مسجدیں ہیں اور کئی طرح کے عقیدے۔ بھوک ہے،غربت،افلاس اور بوسیدہ عمارتیں۔ اماں کا گیتوں میں گایا،سراہے جانے والا، میلوں کے لئے سجایا جانے والا گاؤں اجڑ گیا ہے۔ اب وہاں گلیاں اتنی سنسان اور اتنی خاموشی ہے کہ قبرستان کا گماں ہوتا ہے۔ ہم تو کیا ہمارے بڑے وہاں جا کر رہنے کو تیار نہیں۔ اماں زکوٰۃ ،فطرانہ یا قربانی کا گوشت دینے جاتی ہیں اور واپس آ کر دیر تک گئے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔

دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

جشنِ آزادی مبارک


کارٹون صابر نظر سے بغیر اجازت لئے استعمال کر لیا ہے۔

اس ملک میں آپ آزاد ہیں۔ جو چاہیں وہ کریں:

  • چاہیں تو موٹر سائیکل سے سائلنسر نکال کر سڑک پر دوڑائیں۔
  • چاہیں تو لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کے اندر پٹاخے چھوڑیں
  • چاہیں تو سپیکر پر ساری رات وعظ کر کے یا قرآن پڑھ کے سارے شہر کو زبردستی ثواب پہنچائیں۔
  • چاہیں تو جب مرضی گلی میں قنات لگا کر راستہ بند کر کے اپنے مہمانوں کی دعوت کر لیں۔
  • چاہیں تو جتنا مرضی اونچی آواز میں گانے بجا کر سارے محلے کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں
  • چاہیں تو کسی کو بھی کافر یا غدار قرار دے دیں
  • چاہیں تو جتنے مرضی شیعوں کو بسوں سے اتار کر،باقاعدہ شناختی کارڈ دیکھ کر ماریں،
  • چاہیں تو عیسائیوں کی پوری پوری بستیاں جلا دیں ،ہندوؤں کی لڑکیاں اغوا کر لیں،
  • چاہیں تو احمدیوں کی عبادت گاہوں میں گھُس کر جتنے مرضی احمدیوں کو مار ڈالیں
  • چاہیں توکسی بھی شخص پر توہینِ رسالت/قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگا کر اُسے آگ لگا دیں۔
  • چاہیں تو قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولیں (اس پر قرآن کی بے حرمتی کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوگا)
  • چاہیں تو کسی بھی عورت پر تیزاب پھینک دیں، اُس کی ناک کاٹ دیں، غیرت کے نام پر قتل کر دیں۔
  • چاہیں تو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیں (پھانسی لگانے پر بھی پابندی نہیں ہے)
  • چاہیں توناقابلِ تردید حقائق سے صاف مکر جائیں۔
  • چاہیں تو یوُ ٹرن لے لیں۔
  • چاہیں تو اپنی سارے مسائل کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔
  • چاہیں تو جیسی مرضی پٹیشن لے کر سیدھے سپریم کورٹ چلے جائیں۔
  • چاہیں تو کسی بھی مقدمے میں سٹے آرڈر لے لیں اور باقی ساری زندگی مزے کریں۔

اور حد تو یہ ہے کہ:

  • چاہیں تو چیف جسٹس ہاؤس میں کمپنی کھول لیں۔