ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم 

جشنِ آزادی مبارک


کارٹون صابر نظر سے بغیر اجازت لئے استعمال کر لیا ہے۔

اس ملک میں آپ آزاد ہیں۔ جو چاہیں وہ کریں:

  • چاہیں تو موٹر سائیکل سے سائلنسر نکال کر سڑک پر دوڑائیں۔
  • چاہیں تو لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کے اندر پٹاخے چھوڑیں
  • چاہیں تو سپیکر پر ساری رات وعظ کر کے یا قرآن پڑھ کے سارے شہر کو زبردستی ثواب پہنچائیں۔
  • چاہیں تو جب مرضی گلی میں قنات لگا کر راستہ بند کر کے اپنے مہمانوں کی دعوت کر لیں۔
  • چاہیں تو جتنا مرضی اونچی آواز میں گانے بجا کر سارے محلے کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں
  • چاہیں تو کسی کو بھی کافر یا غدار قرار دے دیں
  • چاہیں تو جتنے مرضی شیعوں کو بسوں سے اتار کر،باقاعدہ شناختی کارڈ دیکھ کر ماریں،
  • چاہیں تو عیسائیوں کی پوری پوری بستیاں جلا دیں ،ہندوؤں کی لڑکیاں اغوا کر لیں،
  • چاہیں تو احمدیوں کی عبادت گاہوں میں گھُس کر جتنے مرضی احمدیوں کو مار ڈالیں
  • چاہیں توکسی بھی شخص پر توہینِ رسالت/قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگا کر اُسے آگ لگا دیں۔
  • چاہیں تو قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولیں (اس پر قرآن کی بے حرمتی کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوگا)
  • چاہیں تو کسی بھی عورت پر تیزاب پھینک دیں، اُس کی ناک کاٹ دیں، غیرت کے نام پر قتل کر دیں۔
  • چاہیں تو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیں (پھانسی لگانے پر بھی پابندی نہیں ہے)
  • چاہیں توناقابلِ تردید حقائق سے صاف مکر جائیں۔
  • چاہیں تو یوُ ٹرن لے لیں۔
  • چاہیں تو اپنی سارے مسائل کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔
  • چاہیں تو جیسی مرضی پٹیشن لے کر سیدھے سپریم کورٹ چلے جائیں۔
  • چاہیں تو کسی بھی مقدمے میں سٹے آرڈر لے لیں اور باقی ساری زندگی مزے کریں۔

اور حد تو یہ ہے کہ:

  • چاہیں تو چیف جسٹس ہاؤس میں کمپنی کھول لیں۔ 

وکیلوں کا اتحاد …. انصاف خطرے میں


عنوان کو دیکھ کر آپ یقیناً چونک گئے ہوں گے۔ ہم ہر لمحہ اپنی قوم میں پائی جانے والی تقسیم سے پریشان رہتے ہیں اور ہر کوئی اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیتاہے۔ مگر یہاں ایک لکھاری آپ کو خبردار کر رہاہے کہ وکیلوں کا اتحاد انصاف کے لئے خطرہ ہے۔ بھلا اتحاد اتنی بری شے کیسے ہو سکتی ہے کہ اس سے انصاف خطرے میں پڑ جائے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کے مناظر تو آپ نے دیکھے ہوں گے۔ ایسے واقعات ہمارے میڈیا میں بارہا رپورٹ ہو چکے ہیں۔ وکیلوں نے پولیس اہلکاروں کو مارا پیٹا، میڈیا کے لوگوں کو مارا پیٹا اور اُن کے کیمرے توڑے، ایک بار تو ایک جج کو تھپڑ مار دیا۔ تاہم ایسے وکیلوں کے خلاف کبھی کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

تاہم میں دو ایسے واقعات کا ذکر کر رہا ہوں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ پہلے واقعہ ضلع چکوال کا ہے جہاں ایک کم عمر بچے کو ایک شخص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ بچے کے والدین نے اس واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں کردی۔ جب مقدمہ چلنے کی نوبت آئی تو بچے کے والدین کے لئے عجیب مشکل آن کھڑی ہوئی۔ کوئی بھی وکیل اُن کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مقدمے میں نامزد ملزم چکوال کی ایک خاتون وکیل کا بھائی تھا۔ باقی وکیل یہ مقدمہ لڑ کر وکلاء کے درمیان کسی قسم کی بد مزگی نہیں پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ وکلاء کا اتحاد خطرے میں نہ پڑ جائے۔ چنانچہ آج بھی بچے کے والدین انصاف کے منتظر ہیں۔

باکل اسی قسم کا ایک کیس حال ہی میں پشاور میں چل رہا ہے۔ پشاور کے ایک وکیل نے پہلی بیوی سے چھپ کردوسری شادی کر لی۔ جب پہلی بیوی کو پتہ چلا تو اس نے دوسری بیوی کو فون کر کے جان سے مار ڈالنےکی دھمکیاں دیں۔ کچھ عرصے کے بعد دوسری بیوی کہیں غائب ہو گئی اور والدین کی کوششوں کے نتیجے میں اس کی لاش مل گئی۔ والدین کی شکایت پر وکیل کے خلاف مقدمہ درج  ہو گیا۔ تاہم جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو والدین کو ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جیسی پہلے کیس میں بچے کے والدین نے دیکھی۔ پشاور بھر میں کوئی وکیل اس مقدمے کی پیروی  کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کیس میں بھی اس بات کا واضح امکان ہے کہ ملزم بری ہو جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کی غنڈہ گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں (حتٰی کہ جج کو تھپڑ مارنے جیسی حرکت سمیت) کسی بھی واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نہیں لیا۔ جبکہ دوسری طرف کسی کے سامان سے  شراب کی بوتل برآمد ہونے پر بھی از خود نوٹس لے لیا جاتا ہے۔ گویا "آزاد” عدلیہ کے از خود نوٹس بھی اپنے جانثاروں کے خلاف نہیں ہو سکتے۔

پاکستان میں یہ رجحان پولیس اور فوج میں تو پہلے ہی پایا جاتا ہے۔ پولیس والے اپنے پیٹی بند بھائیوں کے ہر جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیر تفتیش ملزمان کے تشدد سے قتل جیسے واقعات میں بھی پولیس اہلکاروں کی معطلی اور انکوائیریوں سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ فوجی بھائی پولیس اہلکاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں لہٰذا اگر کہیں اُن پر قانون لاگو کرنے کی کسی نے کوشش کی تو پورا ملک ادھر سے اُدھر ہو جائے گا مگر فوجی بھائیوں کے خلاف قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔ اس کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم سوئی کے مقام پر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے ملزمان آج بھی آزاد ہیں، جبکہ زیادتی کا شکار ہونے والی لیڈی ڈاکٹر آج بھی جلا وطنی کی سزا بھگت رہی ہے۔

بالکل یہی رجحان اب وکلاء میں بھی آگیا ہے۔ اپنی برادری کے لوگوں کو سو خون بھی معاف کردیں گے۔ دوسروں کے ہاتھ سے گلاس بھی ٹوٹ گیا تو بہت واویلا کریں گے۔ وکلاء کی تحریک کاتنیجہ یہ نکلے گا کہ ہمارے ملک میں ایک اور قانون سے بالا تر طبقہ پیدا ہو جائے گا یہ ہمیں معلوم نہ تھا۔

پھر بھی امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالا دستی کا راگ الاپنے والی آزاد عدلیہ اور اس کے بے شمار جاں نثاروں کو کسی دن یہ خیال آ ہی جائے گا کہ قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لئے انہیں اپنے ہی صفوں میں موجود غنڈہ عناصر کو بھی قابو کرنا ہوگا۔ غنڈہ گردی کرنے والے وکیلوں کے لائسنس منسوخ کرنے ہوں گے، اور ظلم کرنے والے وکیلوں کے خلاف خلوص نیت سے مقدمات لڑنے کے لئے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ہم نے اس ملک کو چلانا ہے تو اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کی کچھ واقعات کی تفصیلات کے لئے ذیل میں دیے گئے لکنس پر کلک کریں:

جھنگ میں ڈی پی او کے دفتر پر وکیلوں کا دھاوا

اسلام آباد میں وکیلوں کا تھانے پر حملہ