مارشل لاء کی مونچھیں اور دس پیسے کی بُو…. از سلمان حیدر



IMG_20150929_174158میرے دوست جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کہیں کسی مارشل لاء کا پیش خیمہ تو نہیں تو میں انہیں ان صاحب کا قصہ سنایا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار(Bar)میں جا کر ہتھیلی پھیلائی اور اس پر دس پیسے کی شراب طلب کی تو بار ٹینڈر نے پوچھا ’دس پیسے کی۔۔۔؟ اتنی سی شراب سے کیا ہو گا؟‘ ان صاحب نے مونچھوں پر ہاته پھیرتے ہوئے جواب دیا کے دس پیسے کی شراب تو مونچھوں پر لگا کر بُو پیدا کرنے کو چاہئیے باقی بکواس تو وہی ہے جو میں کر لیتا ہوں.

جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اگرچہ دس پیسے کی شراب ہی سہی لیکن اس کی بو اور سول حکومت کی جانب سے پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ذہن میں کئی خدشے سرسرا رہے ہیں. دبے دبے لفظوں میں ایک آدھ کالم مخالفت میں اور پیش بندی کے طور پر کئی قصیدے گزشتہ دنوں میں پڑهنے کو ملے ہیں. خدشے کے پهن پھیلاتے سانپ کی ایک آدھ پھنکار بین الاقوامی میڈیا میں بهی سنائی دے گئی ہے لیکن مقامی میڈیا اس شدت سے فوج کا ہمنوا ہے کے اگر کسی قسم کا غیر آئینی اقدام فوج کی طرف سے سامنے آیا تو اس پر سوال کرنے یا اس کی مخالفت کی توقع بے سود ہے سوائے اس کے کہ میڈیا کے پیٹ پر بهی لات پڑے. اس لات کے امکانات اگرچہ کم ہیں بلکہ کسی ستم ظریف کے مطابق خدشہ یہ ہے کے کسی طالع آزمائی کی صورت میں میڈیا مالکان صورتحال واضح ہونے تک نشریات خود ہی معطل نا کر دیں. اس ترکیب میں ایک پہلو یہ بهی ہے کے بند نہ کی جانے والی نشریات بحال کروا کے صحافی جمہوریت کا ٹھپہ لگوا لیں گے اور جمہوریت نا سہی چوتهے ستون کا بهرم ہی سہی کچه نا کچه بحال ہو جائے گا.
خوش آمدید کے بینر فوج کی آمد کے بعد لگیں تو ان کے کسی طرف ایک چهوٹا سا منجانب اور اس کے بعد ایک بڑا سا نام بڑے ہونے یا نظر آنے کی خواہشمند کسی چهوٹی سی شخصیت یا تنظیم کا ہوتا ہے لیکن جب یہ بینر پیش بینی کا نتیجہ ہوں تو عدالت مخالف بینر کی طرح لکھوانے اور لگوانے والے انجمن شہریان یا انجمن متاثرین یا ایک درد مند شہری قسم کے کسی مبہم حوالے کا استعمال کرتے ہیں. اسی طرح ابهی خبر افواہ کا لبادہ اوڑھے کسی نام یا حوالے کے بنا سینہ بہ سینہ سفر کر رہی ہے اور میں بتا رہا ہوں نا کہہ کر اس کی بائی لائن میں اپنا نام دینے کو کوئی تیار نہیں. میں نے پہلے ہی کہا تها کہنے والے اگرچہ بینروں کی رسید دکھا کر وفاداری کا ثبوت دینے والوں کی طرح بہت ہوں گے.
مارشل لاء کے اس خدشے نے پچھلے مارشل لاء کے بعد پہلی بار سر نہیں اٹهایا اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو (معذرت میں اتنا سست ہوں کے گوگل استعمال کرنے کا دل بهی نہیں چاہ رہا) تین چار سال پہلے مئی کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد بهی ایسی کهسر پهسر شروع ہو گئی تهی. حکومت میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے بهی دباؤ میں تهی. اس کهسر پهسر کو آفیشل رنگ دینے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پروگرام کر ڈالا جس میں عائشہ صدیقہ صاحبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تها کے وہ مارشل لاء کو آتا نہیں دیکھ رہیں اور یہ بهی کے اگر اب مارشل لاء آیا تو وہ ایک سخت گیر مذہبی مارشل لاء ہوگا.
2012 سے اب تک محاورے کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا اور مجهے نہیں معلوم کے عائشہ صدیقہ صاحبہ اس وقت وہی سوال دہرائے جانے پر کیا ردعمل دیں گی لیکن مارشل لاء کی دستک حکومت کے دروازے پر پھر سنائی دے رہی ہے.
آج تک پاکستان میں لگائے جانے والے ہر مارشل لاء کو لگنے سے پہلے یا بعد میں امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے لیکن اس بار امکان ہے کے ہم اگر مارشل لاء دیکهیں گے تو اس میں چینی نیک تمنائیں بهی ساتھ ہوں گی. وجہ اس کی عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتا ہوا چینی اثر رسوخ ہے. نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ چین اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کی افغانستان کی صورتحال کے بارے ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ نہ صرف چین خطے کے معاملات میں دلچسپی بڑهانے پر آمادہ ہے بلکہ امریکہ اس کے کردار کو تسلیم کرنے پر تیار بهی ہے.  
اس صورت میں مارشل لاء کے طویل المدت ہونے کے امکانات بهی زیادہ ہیں کیونکہ چین کے گردے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا درد بهی نہیں اٹھتا اور دائیں بازو کی وہ جماعتیں جو امریکہ مخالفت پر اپنی سیاست گرم رکھتی ہیں چین کے بارے ان کا موقف کافی مبہم مختلف یا یوں کہیے کے نرم ہے. رہیں باقی جماعتیں تو تحریک انصاف کسی بهی ایسی کوشش کو کم سے کم ابتداء میں خوش آمدید کہے گی مسلم لیگ جمہوریت بحالی وغیرہ جیسے بیکار کام میں جاں کے زیاں پر یقین نہیں رکھتی رہی پیپلز پارٹی تو سندھ کے جام میں خون حسرت مے اور پنجاب کے دامن میں وٹو صاحب نامی مشت خاک کے علاوہ کچه خاص دستیاب نہیں جسے محتسب سنبھال لیں گے.
مارشل لاء کی صورت میں سامنے آنے والی حکومت مذہبی شدت پسند عناصر کے خلاف کام معمول کے مطابق جاری رکھے گی یعنی اچھے بہت اچھے اور بہت ہی اچھے طالبان کو رتبے طاقت اور مفادات کے تناسب سے ہلا شیری دینے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور ہلکی پھلکی پٹائی کا بدرجہ انتظام کیا جاتا رہے گا. ہاں سنکیانگ میں مسلم تحریک چلانے والوں کا شمار البتہ برے بلکہ بہت ہی برے طالبان میں ہونے لگے تو کچھ تعجب نہیں. امریکہ کی خطے سے روانگی اور شام میں اس کی ناکامی کے بعد کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کے طالبان کو خطے میں امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ رہا چین تو اگر یہ آگ اس کے دامن کو نہ جلائے تو اسے کیا پڑی کے وہ میرے آپ کے غم میں ہلکان ہوتا پهرے. امریکہ کا خطے میں واضح شراکت دار ہندوستان ہے سو اس کے مفاد کو افغانستان یا خود ہندوستان میں براہ راست خطرہ موجود رہے تو اس میں ہمارا اور چین دونوں کا بهلا ہے.
پاکستانی ریاست جب تک طالبان نامی مخلوق اور ان کے ایک ایٹمی مملکت میں اقتدار میں آ جانے کے خطرے کو زندہ رکھے اس میں ریاست پر حکمران اور ثقافتی سطح پر لبرل گروہ کا چنداں نقصان نہیں. واحد فائدہ جو اس مارشل لاء سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ جمہوریت کی ہمارے نام پر لگی تہمت دهل جائے گی باقی تو وہی کچھ ہے جو جنرل صاحب کرتے اور ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں…

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا "کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ "آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو "کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔

امت مسلمہ کے لئے مشورہ


فوٹو: رضوان تبسم (اے ایف پی)۔۔۔ پشاور ۱۸ ستمبر ۲۰۱۲

 پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ "ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ "ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

"یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
"آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

"نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

 بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

 جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

 جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

 جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

 خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید  پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

 ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت "ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، "ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

 بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے "ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان "شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔