معاشرہ، عورت اور بہشتی زیور ۔۔۔ از ڈاکٹر مبارک علی


Bashti zeewarجاگیردارانہ معاشرہ میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ملکیت کی ہوتی ہے۔ جہاں اس کی آزادی’ حقوق اور رائے مرد کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس معاشرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیاجائے جن کے ذریعے عورتوں کو مرد کا تابع اور فرماں بردار رکھا جائے اور اس کی آزادی کے تمام راستے مسدود کردئے جاتے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمان معاشرہ ‘ دو طبقوں میں منقسم تھا۔ ایک اشراف یا امراء کا طبقہ اور دوسرا اجلاف اور عوام کا۔ طبقہ اعلیٰ نے جو ثقافتی و اخلاقی اقدار تخلیق کیں مثلاً ناموس، عزت ، عصمت، شان و شوکت اور آن بان کے بہترین قیمتی سازوسامان، ہیرے جواہرات، ہاتھی گھوڑے اور محلات رکھتا تھا اور نفیس لباس استعمال کرتا تھا وہ اسی طرح اپنے حرم میں خوبصورت عورتیں جمع کرتا تھا جیسے دوسری قیمتی اشیاء اور جس طرح وہ قیمتی اشیاء کی حفاظت کرتا تھا اسی طرح بیگمات کی حفاظت کی غرض سے اونچی اونچی دیواروں کی محل سرائیں تعمیر کراتا تھا اور پہرے پر فوجی و خواجہ سرا رکھا کرتا تھا۔ ان پر پردے کی سخت پابندی ہوتی تھی تاکہ دوسروں کی ان پر نظر نہ پڑے۔ اس نے ناموس حرم، عزت، خاندانی وقار کی اقدار پیدا  کیں۔

 ان جاگیردارانہ اقدار نے معاشرے کے متوسط طبقے کو بھی متاثر کیا لیکن عوام کی اکثریت ان اقدار کو نہیں اپنا سکی کیونکہ معاشی ضروریات انہیں اس بات پر مجبور کرتی تھیں کہ وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر تلاش معاش میں ادھر ادھر جائیں ۔ایک کسان عورت گھر کے کام کے علاوہ مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور تھی۔ شہروں میں غریب خاندان کی عورتیں اعلی ٰطبقے کو ملازمائیں، مامائیں اور مغلانیاں فراہم کرتی تھیں۔ یہ جاگیردارانہ اقدار ایک طبقے تک محدود رہیں جو سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے معاشرے کا اعلیٰ طبقہ تھا۔

مسلمانوں کا یہ جاگیردارانہ معاشرہ سلاطین دہلی اور مغلیہ خاندان کی حکومتوں تک مستحکم رہا۔ اس معاشرے میں عورت کا مقام محض ایک شے کا تھا جو مرد کی ملکیت رہ کر آزادی،خودی اور انا کو ختم کردیتی تھی۔ اس کی زندگی جس نہج پر پروان چڑھتی تھی اس میں وہ بیٹی کی حیثیت سے فرماں برداررہے اور ماں کی حیثیت سے اولادکی پرورش کرے، ان تینوں حیثیتوں میں اس کی خواہشات جذبات ختم ہوجاتی تھیں اسے یہ موقع نہیں ملتا تھا کہ وہ بحیثیت عورت زندگی سے لطف اندوز ہوسکے۔ (۱)

اس جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام حاصل تھا اور اس کی خواہش تھی کہ ان اقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور ایسی صورت پیدا نہ ہو کہ عورت ان زنجیروں کو توڑ کرآزاد ہوجائے۔ لیکن وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان اقدار میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، مغربی خیالات و افکار اور تہذیب اور تمدن نے آہستہ آہستہ ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کو متاثر کرنا شروع کیا۔ ان تبدیلیوں نے قدیم اقدار کے حامیوں کو چونکا دیا ۔یہ حضرات معاشرے میں کسی قسم کی تبدیلی کے مخالف تھے اور خصوصیت کے ساتھ عورت کے مخصوص کئے ہوئے مقام کو بدلنے پر قطعی تیار نہیں تھے۔

اس طبقے کی نمائندگی ایک بڑے عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی(۱۸۶۸ـ۱۹۴۳) نے اپنی تصانیت کے ذریعے عموماً  اور”بہشتی زیور” لکھ کر خصوصاً کی۔ مولانا صاحب کا دور، جدید اور قدیم اقدار کے تصادم کا زمانہ تھا جب کہ قدیم نظام زندگی اور اس کی اقدار اپنی فرسودگی اور خستگی کے آخری مراحل میں داخل ہوکر دم توڑ رہی تھیں اور جدید رجحانات و افکار کی کونپلیں پھوٹنا شروع ہوگئی تھیں۔ مولانا نے آخری بار اس گرتے ہوئے جاگیردارانہ نظام کو مذہبی و اخلاقی سہارے سے روکنے کی کوشش کی اور یہ کوشش بھی کی کہ عورت کو مذہبی بنیادوں کے سہارے اسی مقام پر رکھا جائے جو جاگیردارانہ نظام نے اس کے لئے مخصوص کررکھا تھا۔

عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا نے "بہشتی زیور” کے دس حصے لکھےتاکہ ان کے مطالعے کے بعد عورت آسانی سے مرد کی افضلیت کو تسلیم کرے اور اپنی غلامی پر نہ صرف قانع ہو بلکہ اسے باعث فخر سمجھے۔ اس کتاب میں عورت کو اچھا غلا م بننے کی ساری ترکیبیں اور گر بتائے گئے ہیں۔ مذہبی مسائل سے لے کر کھانا پکانے اور امور خانہ داری کے تمام طریقوں کی تفصیل ہے جو مرد کو خوش و خرم رکھ سکے۔ اس لئے یہ دستور ہوگیا کہ بہشتی زیور کے یہ دسوں حصے(جو ایک جلد میں ہوتے ہیں) جہیز میں لڑکی کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ اسے پڑھ کر ذہنی طور پر غلامی کے لئے تیار رہے۔یہاں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا نے ایک بہترین عورت کا جو تصور بہشتی زیور میں پیش کیا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے اور کے خیالات کا جاگیردارانہ معاشرے کے پس منظر میں پیدا ہونے والی ثقافت اور اقدار کا جائزہ لیاجائے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں جدید مغربی تعلیم مقبول ہوچکی تھی اور ہمارے مصلحین  جدید تقاضوں کو تسلیم کرنے کے باوجود تعلیم نسواں کے شدید مخالف تھے۔ وہ مردوں کے لئے تو جدید تعلیم ضروری سمجھتے تھے مگر یہی تعلیم ان کے نزدیک عورتوں کے لئے انتہائی خطرناک تھی۔ سرسید احمد خان نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ وہ تعلیم نسواں کے اس لئے مخالف ہیں کیونکہ جاہل عورت اپنے حقوق سے ناواقف ہوتی ہے اسی لئے مطمئن رہتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہو کر اپنے حقوق سے واقف ہوگئی تو اس کی زندگی عذاب ہوجائے گی(۲)۔ سرسید نے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کی بھی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف مذہبی کتابیں پڑھیں اور جدید زمانے کی مروجہ کتابیں جو نامبارک ہیں ان سےدور رہیں۔(۳)

مولانا اشرف علی تھانوی عورتوں کے لئے صرف مذہبی تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ بے علم عورتیں کفر و شرف میں تمیزنہیں کرتیں اور نہ ہی ان میں ایمان اور اسلام کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ اپنی جہالت میں جو چاہتی ہیں بک دیتی ہیں اس لئے ان کے ایمان اور مذہب کو بچانے کے لئے ان کے لئے دین کا علم انتہائی ضروری ہے۔ مولانا دینی تعلیم کے علاوہ عورتوں کے لئے دوسری ہر قسم کی تعلیم کے سخت مخالف ہیں اسے عورتوں کےلئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔(۴)

مولانا صاحب لڑکیوں کے اسکول جانے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بھی سخت مخالف ہیں کیونکہ اسکول میں مختلف اقوام، طبقات اور خیالا ت کی لڑکیاں جمع ہوں گی جس سے ان کے خیالات اور اخلاق متاثر ہوں گے ۔ اگر خدانخواستہ  استانی آزاد خیال ہوئی تو بقول مولانا "کریلا نیم چڑھا” اور مزید یہ کہ اگر مشن کی  میم انگریزی تعلیم دینے آگئی تو نہ آبرو کی خیر اور نہ ایمان کی۔(۵) ان کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو چار لڑکیاں گھر پر پڑھیں اور ایک ایسی استانی لیں جو تنخوانہ بھی نہ لے کیونکہ اس سے تعلیم بابرکت ہوتی ہے۔(۶)(لڑکیوں کے لئے تو ہوسکتی ہے مگر استانی کے لئے نہیں) مولانا اس راز سے واقف تھے کہ میل اور اشتراک سے خیالات پر گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے وہ اس راستے کو مسدود کرنا چاہتے ہیں اور خواہش مند تھے کہ عورت چار دیواری سے قطعی باہر قدم نہ نکالے۔

مولانا عورتوں کے نصاب تعلیم پر خاص طور سے زور دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے ایک خاص قسم کا ذہن تیار ہوسکے۔ اس لئے وہ قران شریف کتب دینیہ اور بہشتی زیور کے دس حصوں کو کافی سمجھتے تھے، بہشتی زیور کے سلسلے میں وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں شرمناک مسائل کو یا تو کسی عورت سے سمجھا جائے  یا نشان چھوڑ دیا جائے اور سمجھدار ہونے کے بعد پڑھا جائے یہاں تک  صرف پڑھنے کی استعداد کا ذکر ہے جب لکھنے کا سوال آتا ہے تو مولانا اس بات پر مزید زور دیتے ہیں کہ اگر عورت کی طبیعت میں بے باکی نہ ہو تو لکھنا سکھانے میں کوئی حرج نہیں ورنہ نہیں سکھانا چاہئے۔(۷) اگر لکھنا سکھایا بھی جائے تو صرف اس قدر کہ وہ ضروری خط اور گھر کا حساب کتاب لکھ سکے، بس اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔(۸)

عورتوں کو کون سی اور کس قسم کی کتابیں پڑھنا چاہئیں اس پہلو پر مولانا خاص طور سے بہت زیادہ زور دیتے ہیں مثلاً حسن وعشق کی کتابیں دیکھنااور پڑھنا جائز نہیں۔ غزل اور قصیدوں کے مجموعے اور خاص کر موجود ہ  دور کے ناول عورتوں کو قطعی نہیں پڑھنا چاہئیں بلکہ ان کا خریدنا بھی جائز نہیں۔ اس لئے اگر کوئی انہیں اپنی لڑکیوں کے پاس دیکھ لے تو اسے فوراً جلا دینا چاہئے۔(۹)مولانا کتابوں کے سلسلے میں اس قدر احتیاط کے قائل ہیں کہ دین کی ہر قسم کی کتابوں کو بھی عورتوں کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ اکثر دین کی کتابوں میں بہت سی غلط باتیں شامل ہوتی ہیں جن کو پڑھنے سے نقصان ہوتا ہے۔ انہیں اس بات پر سخت افسوس ہے کہ ان کے زمانے میں عورتیں ہر قسم کی کتابیں پڑھتی ہیں اور اسی وجہ سے انہیں نقصان ہورہا ہے ،عادتیں بگڑ رہی ہیں اور خیالات گندے ہورہے ہیں ۔ اس لئے مولانا کا خیال ہے کہ دین کی اگر کوئی کتاب پڑھنا ہو تو اسے پڑھنے سے پہلے کسی عالم دین کو دکھا لو اگر وہ اسے پڑھنا منظور کرے تو پڑھو ورنہ نہیں۔(۱۰) لیکن اس سے بھی مولانا مطمئن معلوم نہیں ہوتے کیونکہ انہیں شائد اپنے  علاوہ اور کسی عالم دین پر بھروسہ نہیں کہ غلطی سے وہ کسی غلط کتاب کو پڑھنے کی اجازت نہ دے دے۔اس لئے وہ خود ان کتابوں کی فہرست دیتے ہیں جن کا پڑھنا عورتوں کے لئے مفید ہے مثلاً   نصیحتہ المسلمین، راسلہ عقیقہ، تعلیم الدین، تحفتہ الزوجین، فروغ الایمان، اصلاح الرسوم، بہشت نامہ، روزخ نامہ، تنبیہ النساء، تعلیم النساء من و لہن نامہ، ہدایت اور مراۃ النساء وغیرہ۔

اس کے بعد مولانا صاحب ان کتابوں پر سنسر لگاتے ہیں جن کا پڑھنا انتہائی نقصان دہ ہے، مثلاً دیوان اور غزلوں کی کتابیں، اندر سبھا، قصہ بدرمنیر، شاہ یمن، داستان امیر حمزہ، گل بکاولہ، الف لیلہ، نقش سلیمانی، فال نامہ، معجزہ النبی، آرائش محفل ، جنگ نامہ حضرت علی اور تفسیر یوسف ۔ تفسیر یوسف کے بارے میں مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں ایک تو کچی داستانیں ہیں اورد وسرے عاشقی و معشوقی کی باتیں عورتوں کو سننا اور پڑھنا نقصان کی بات ہے۔ مراۃ العروس، محضات اور ایامی کے بارے میں مولانا کہتے ہیں کہ "بعض اچھی باتیں ہیں مگر بعض ایسی ہیں جن سے ایمان کمزور ہوتا ہے”۔ ناول کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ برا ہوتا ہےاور اخبار پڑھنے سے وقت خراب ہوتا ہے۔(۱۲) مولانا کے ان خیالات سے تعلیم نسواں کے بارے میں ان کا نظریہ واضح ہو کر ہمارے سامنے آتا ہے کہ وہ عورت کے لئے ہمیشہ بہت محدود تعلیم کے قائل تھے اور جاہل رکھ کر جاگیردارانہ اقدار کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔

 

(۲)

جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کی فضیلت کی ایک بنیاد یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد خاندانی معاش کا ذمہ دارہوتا ہے اور عورت معاشی طور  پر اس کی محتاج ہوتی ہے۔ محتاجی کے سبب اس میں قدر جرات پیدا نہیں ہوتی کہ وہ خود کو مرد کی غلامی سے آزادکر سکے اور مرد کی افضلیت کو چیلنج کرسکے ۔ مولانا اس ضمن میں کہتےہیں کہ: کسب معاش صرف مردوں کے لئے ضروری ہے اور یہ اس کا فرض ہے کہ عورتوں کا نان ونفقہ پورا کرے(۱۳)۔ نان و نفقہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے جبکہ گھر کا کام کاج کرنا عورت پر واجب ہے۔ تیل، کنگھی، صابن، وضو اور نہانے کے پانی کا انتظام مرد کے ذمہ ہے مگر مسی، پان اور تمباکو اس کے ذمہ نہیں۔ دھوبی کی تنخواہ مرد کے ذمہ نہیں اور عورت کو چاہئے کہ کپڑے کو اپنے ہاتھ سے دھوئے اور اگر مرد اس کے لے پیسے دے تو یہ اس کا احسان ہے۔(۱۴)

 

(۳)

جاگیردارانہ معاشرے میں شوہر عورت کے لئے مجازی خدا کا درجہ رکھتا ہےاس لئے عورت  کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ شوہر کی فرماں برداری کرے اگر وہ شوہر کے احکامات کی خلاف ورزی کرے تو یہ معاشرے کی اقدار کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ مولانا نے اس ضمن میں عورتوں کو جوہدایات دی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مرد کی افضلیت کو مذہب اور اخلا ق کی بنیادپر قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کوشوہر کے تمام احکامات بلا چوں و چراں بجا لانے چاہئیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ کہے کہ ایک پہاڑ سے پتھر اٹھا کر دوسرے پہاڑ تک لے جاؤ اور پھر دوسرے سے تیسرے تک تو اسے یہی کرناچاہئے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے کس کام سے بلائے اور وہ چولہے پر بیٹھی ہو تو تب بھی اس کے کام کے لئے اسے فوراً اٹھ جانا چاہئے۔(۱۵) یہاں تک مرد کی فرماں برداری ضروری ہے کہ اگر اس کی مرضی نہ ہو تو نفلی روزے نہ رکھے اور نفلی نماز نہ پڑھے ۔ عورت کے لئے ضروری ہے کہ مر د کو خوش رکھنے کے لئے بناؤ سنگھار کے ساتھ رہا کرے۔ اگر مرد کے کہنے کے باوجود بناؤ سنگھار نہ کرے تو مرد کو مارنے کا اختیار ہے اس کو چاہئے کہ  اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں نہ جائے، رشتہ داروں کے ہاں اور نہ غیروں کے ہاں۔(۱۶)

مولانا بیوی کا مقصد حیات شوہر کی خوشی قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے عورت کے لئے مکمل ہدایات پیش کی ہیں مثلاً شوہر کا خیال دل میں لئے رہو، اس کی آنکھ کے اشارے پر چلو، اگر وہ حکم کرے کہ ساری رات ہاتھ باندھے کھڑی رہو تو اس حکم کی بھی تعمیل کرو کیونکہ اس میں عورت کی بھلائی ہے ، اگر وہ دن کو رات بتائے تو عورت بھی دن کو رات کہنے لگے۔ شوہر کو کبھی بھی برا بھلا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ اس سےدنیا اور آخرت دونوں خراب ہوتی ہیں ۔شوہر سے کبھی زائد خرچ نہیں مانگنا چاہئےاور نہ ہی اس سے کوئی فرمائش کرنی چاہئے۔ اگر عورت کی کوئی خواہش پوری نہ ہو تو خاموش رہنا چاہئے اور اس بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہے، کبھی کسی بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے۔ اگر شوہر سے کوئی تکلیف بھی ہو تو اس پر بھی خوشی ظاہر کرنی چاہئے۔ اگر شوہر کبھی کوئی چیز لادے  وہ اسے پسند آئے نہ آئے لیکن اس پر خوشی کا اظہارکرنا چاہئے۔ اگر شوہر کو غصہ آجائے تو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے کہ اور غصہ آئے، اس کے مزاج کو دیکھ کر بات کرنی چاہئے۔ اگر وہ ہنسی دل لگی چاہتا ہے تو اسے خوش کرنے کی باتیں کرو۔ اگر وہ ناراض ہو تو عذر و معذرت کرکے ہاتھ جوڑ کر  اسے راضی کرو۔ شوہر کو کبھی اپنے برابر کا مت سمجھواور اس سے کسی قسم کی خدمت مت لو، اگر وہ کبھی سر دبانے لگ جائے تو ایسا مت کرنے دو۔ اٹھتے بیٹھتے، بات چیت غرض کہ ہر بات میں ادب اور تمیز کا خیال انتہائی ضروری ہے۔

اگر شوہر پردیس سے آئے تو اس کا مزاج پوچھنا چاہئے اس کے ہاتھ پاؤں دبانا چاہئیں اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ اگر گرمی کا موسم ہو تو پنکھا لے کر اس پر جھلنا چاہئے اور اسے آرام پہنچانا  عورت کے فرائض میں سے ہے۔ گھر کے معاملات میں مولانا ہدایات دیتے ہیں کہ بیوی کو یہ حق نہیں کہ میاں سے تنخواہ کا حساب کتاب پوچھے اور کہے کہ تنخواہ تو بہت ہے، اتنی کیوں لاتے ہو، یا بہت خرچ کر ڈالا اور کس چیز میں اتنا پیسہ اٹھایا وغیرہ۔ اسی طرح شوہر کی ہر چیز سلیقے سے رکھو، رہنے کا کمرہ، بستر، تکیہ اور دوسری چیزیں صاف ستھری ہونی چاہئیں، اگر شوہر کسی دوسری عورت سے ملتا ہے تو اسے تنہائی میں سمجھاؤ پھر بھی باز نہ آئے تو صبر کرکے بیٹھ جاؤ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کرکے اسے رسوا مت کرو۔ اس اس ضمن میں مولانا کہتے ہیں کہ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے ، دباؤ اور زبردستی سے ہر گز زیر نہیں ہوسکتے ۔ان کے زیر کرنے کی بہت آسان ترکیب خوشامد اور تابعداری ہے۔(۱۷) اس سلسلےمیں مولانا عورت کا ذکر کرتے ہیں۔ "لکھنؤ میں ایک بیوی کے میاں بدچلن ہیں دن رات باہر بازاری عورت کے پاس رہتے ہیں، گھر میں بالکل نہیں آتے بلکہ فرمائش کرکے کھانا پکوا کر باہر منگواتے ہیں۔ وہ بیچاری دم نہیں مارتی جو میاں کہتے ہیں ان کی فرمائش پوری کرتی ہے۔ دیکھو ساری خلقت اس بیوی کو کیسی واہ واہ کرتی ہے اور خدا کے یہاں جو اس کو مرتبہ ملا وہ الگ رہا۔” (۱۸) مزید ہدایت میں یہ بھی ہے کہ ساس سسر اور نندوں سے الگ رہنے کہ کوشش نہیں کرنی چاہئے ، سسرال ہی کو اپنا سمجھنا چاہئے۔ شوہر اور بڑوں کا نام لے کر پکارنا مکروہ اور منع ہے۔(۱۹) عورتوں کے لئے پچیسی، چوسر اور تاش کھیلنا وغیرہ بھی درست نہیں۔(۲۰)۔ عورت کے لباس کے معاملے میں بھی مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ خلاف شرع لباس قطعی استعمال نہیں کرنا چاہئے جیسے کلیوں کا پاجامہ یا ایسا کرتہ جس میں پیٹھ ، پیٹ یا بازو کھلے ہوں یا ایسا باریک کپڑا جس میں بدن یا سر کے بال جھلکتے ہوں۔ عورت کے لئے موزوں ترین لباس یہ ہے کہ لانبی آستینوں کا نیچا، موٹے  کپڑے کا کرتا اور اسی کپڑے کا دوپٹہ استعمال کرے۔(۲۱)

مولانا عورت کو گھر میں رکھنے کے قائل ہیں ، اس سلسلے میں میں انہوں نے جو پروگرام تیار کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ مثلاً ماں باپ کو دیکھنے کے لئے ہفتے میں ایک بار جاسکتی ہے ، دوسرے رشتہ داروں سے سال میں۔۔۔۔۔ ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اسے حق نہیں ۔اسی طرح ماں باپ بھی ہفتے میں ایک بار ملنے آسکتے ہیں ۔ شوہر کواختیار ہے کہ زیادہ نہ آنے دے یا زیادہ نہ ٹھہرنے دے۔(۲۲) وہ تقریبوں میں بھی آنے جانے کو عورت کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں ، شادی بیاہ، مونڈن، طلہ، چھٹی، ختنہ، عقیقہ، منگنی اور چوتھی وغیرہ کی رسموں میں قطعی نہیں جانا چاہئے۔ اسی طرح نہ غمی میں اور نہ بیمار پرسی کے لئے۔ خاص طور پر برات کے موقع پر جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو اس وقت غیر محرم رشتہ دار کے گھر میں جانا درست نہیں۔ اگر شوہر اجازت دے دے تو وہ بھی گنہگار ٹھہرے گا۔ اس کے بعد مولانا بڑے افسوس  کے ساتھ لکھتے ہیں ہیں کہ: افسوس اس حکم پر ہندوستان  بھر میں کہیں بھی عمل نہیں بلکہ اس کو تو ناجائز ہی نہیں سمجھتے۔(۲۳) آنے جانے کے خلاف مولانا کے یہ دلائل ہیں ، اس میں قیمتی جوڑے بنوانا پڑتے ہیں اور یہ فضول خرچی ہے اس کی وجہ سے خاوند پر خرچہ کا بار پڑتا ہے ،پھر بزاز کو بلا کر بلا ضرورت اس سے باتیں ہوتی ہیں، تھان لیتے وقت آدھا ہاتھ جس میں مہندی اور چوڑی ہوتی ہے باہر نکالنا پڑتا ہے جو غیرت و حمیت کے خلاف ہے۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات کے وقت پیدل چل کر گھر جاتی ہیں جوانتہائی بے حیائی ہے اور اگر چاندنی رات ہو تو اس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ ڈولی میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پلو یا آنچل باہر لٹک رہا ہے یا کسی طرف پردہ مکمل گیا یا عطر و پھلیل اس قدر ہے کہ راستے میں خوشبو ہی خوشبو ہے۔ یہ نا محرموں کے سامنے بناؤ سنگھار ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ عورتیں یہ بھی کرتی ہیں کہ ڈولی سے اتریں اور ایک دم گھر میں داخل ہوگئیں یہ خیال نہیں کرتیں کی گھر میں کوئی نامحرم بیٹھا ہو۔ محفل میں بہشتی آتا ہے تو منہ پر نقاب ڈال لیتا ہے مگر دیکھتا سب کو ہے۔ بعض دفعہ دس بارہ سال کے لڑے گھر میں آجاتے ہیں جس سے بے پردگی ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر کسی تقریب و رسم اور ملنے جلنے کی وجہ سے گھر سے نکلنا وہ بے حیائی خیال کرتے ہیں۔(۲۴)

بہشتی زیور سے اس ذہن کی پوری پوری عکاسی کرتی ہے جو ہندوستان میں جاگیردارانہ ثقافت  اور اقدار نے بنایا تھا۔ لیکن بہشتی زیور  جدید خیالات و افکار  اور سماجی شعور  کو نہیں روک سکی اور قدیم روایات کی فرسودگی کو اس کے ذریعے کوئی استحکام نہیں ملا۔

٭٭٭٭Compiled by: Shahab Saqib٭٭٭٭٭

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

کتاب: المیہ تاریخ،حصہ اول، باب نمبر ۷

 

 

٭حوالہ جات٭

 

۱) اس موضوع پر مشہور جرمن ادیب برٹولٹ بریخت کا ایک افسانہ ہے جس کا اردو ترجمہ مصنف نے "دوسالہ عورت” کے عنوان سے کیا ہے۔ دیکھئے پندرہ روزہ "پرچم” کراچی۔ یکم اپریل-۱۵ اپریل ۱۹۷۹ء ص ۲۹-۲۸

۲) سر سيد احمد خان: مکتوبات سرسيد – لاهور، ۱۹۵۹، ص ۳۸۱

۳) ايضاً: ص ۲۸۶

۴) مولانا اشرف علی تھانوی، بہشتی زیور، لاہور، حصہ اول، ص ۷۹-۸۰

۵) ایضاً: ص ۸۴

۶) ایضاً: ص ۵۸

۷) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۵۸

۸) ایضاً: ص ۳۸

۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۹

۱۰) ایضاً: حصہ دہم، ص ۴۷

۱۱) ایضاً: ص ۴۷، ۴۸

۱۲) ایضاً: حصہ اول، ص ۵۳

۱۳) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۲۹

۱۴) ایضاً: ص ۳۳

۱۵) ایضاً: ص ۳۴

۱۶) ایضاً: ص ۳۴-۳۷

۱۷) ایضاً: ص ۳۷

۱۸) ایضاً: حصہ دوم، ص ۵۷

۱۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۸

۲۰) ایضاً: حصہ ہفتم، ص ۵۴

۲۱) ایضاً: حصہ چہارم، ۲۹

۲۲) ایضاً: حصہ ہشتم،  ص ۱۵

۲۳) ایضاً: ص ۱۴-۱۷

 

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم 

امت مسلمہ کے لئے مشورہ


فوٹو: رضوان تبسم (اے ایف پی)۔۔۔ پشاور ۱۸ ستمبر ۲۰۱۲

 پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ "ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ "ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

"یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
"آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

"نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

 بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

 جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

 جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

 جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

 خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید  پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

 ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت "ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، "ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

 بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے "ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان "شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

پیغمبر اسلام کے نام ایک خط


اے رحمت اللعالمین !

السلامُ علیکم….

میں آج بہت پریشان ہوں۔ یوں تو میں پیدائشی مسلمان ہوں مگر پیدائشی مسلمان ہونے کو کوئی کمال نہیں سمجھتا۔ بلکہ اُن لوگوں کوذیادہ بہتر مسلمان سمجھتا ہوں جو سوچ سمجھ کر، آپ کی تعلیمات کو پڑھ کر، انہیں سمجھ کر مسلمان ہوئے یا جنہوں نے پیدائشی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات کو پڑھا، سمجھا اور اُ ن پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے بھی آپ کی تعلیمات کو پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ آج میں بہت پریشان ہوں۔ میں طائف کے واقعے کو سنتا ہوں، مختلف غزوات خاص طور پر فتح مکہ کے بارے میں پڑھتا ہوں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتامگر جب آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والوں کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر سکتہ سا طاری ہو جاتا ہے۔

آپ نے علم حاصل کرنے کو سب سے افضل قرار دیا؛ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے۔ مگر آج آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والے بچیوں کو چین جانے کی اجازت تو کیا دیں گے ساتھ والی گلی میں قائم سکول جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے، بلکہ سکولوں کو بموں سے اُڑا دیتے ہیں اور عالموں کو محض اس لئے مار ڈالتے ہیں کہ وہ ان سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔

ہماری اس مملکت خداداد میں کئی لوگ یتیموں اور بیواؤں کا حق کھا جاتے ہیں۔ کئی لوگ تنخواہ لیتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، بہت سے لوگ رشوت دیتے اورلیتے ہیں۔ مگر آپ کے عشاق کو یہ سب حرکتیں آپ کی توہین نہیں لگتیں۔ آپ نے فرمایا جب کوئی بات سنو تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہ وہ درست ہے کہ نہیں۔ مگر آپ کے سچے عاشقوں کی نظر سے شاید آپ کا یہ فرمان نہیں گزرا، سو وہ بغیر تحقیق کے ہر بات آگے پھیلا دیتے ہیں اور انہی افواہوں کی وجہ سے کئی معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر آپ کے سچے عاشق اس نقصان پر رتی بھربھی شرمسار نہیں ہوتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ ندامت ، شرم اور معافی …وہ کیوں معافی مانگیں وہ بھی کسی ایسے شخص سے جو آپ پر ایمان لانے کا دعوٰی تو کرتا ہے مگر آپ کا سچا عاشق نہیں بن پایا۔

آپ کے ماننے والے اس ملک میں رہنے والے کالے عیسائیوں کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر پینا پسند نہیں کرتے، اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ہندوؤں کے مذہب کا اس بات پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ذات پات کے نظام پر مبنی ہے۔ کوئی عالم دین ان سچے عاشقوں کو یہ نہیں سمجھاتا کہ یہ کالے عیسائی جو ہماری نالیاں صاف کرتے ہیں یہ بھی انسان ہیں۔ کئی علمائے دین تو خود بھی اِن کالے عیسائیوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ سے جھاڑو لگا دیا کرتے تھے مگر آپ کے سچے عاشق یہی کام کرنے والوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہاں اگر کوئی گورا عیسائی آجائے تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آپ تو شدید ترین مظالم پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھےبلکہ برے سے برے لوگوں کو بھی معاف کردیتے تھے۔ مگر آپ کے عشق کے دعوے دار تو بندے کو مار ڈالتے ہیں، پھر اس کے جنازے میں بم چلا دیتے ہیں اور آخر اس کی قبر میں بھی بم رکھ آتے ہیں۔ کسی پر آپ کی توہین کا الزام لگ جائے تو اِن سے اتنا بھی صبر نہیں ہوتا کہ الزام کی صحت کے بارے میں تحقیق ہی کر لیں اور سچ جھوٹ کو پرکھ لیں… اس سے پہلے ہی جا کر ملز م کے سینے میں گولیاں اُتار آتے ہیں۔

یہ سب دیکھ کر میں بہت پریشان ہوں۔ آپ کا سچا عاشق ہونے کا معیار بہت سخت ہے۔ مجھ ایسے کمزور شخص سے یہ سب نہیں ہو سکے گا۔ آپ کے عشاق شاید میری اس کمزوری کو کبھی معاف نہ کر پائیں۔ مگر آپ تو رحمت اللعالمین ہیں، امید ہے آپ میری اس کمزوری پر درگزر فرمائیں گے۔

فقط آپ کا ایک کمزور (امن پسند) پیروکار

لالا جی