جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

ہماری حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، یا ناکام بنائی جاتی ہیں؟


ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کو باقی حالات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ انتخابات کے لئے چلنے والی مہم سے لے کر نئی حکومتوں کے قیام اور ان کے فورًا بعد ہونے والی قتل و غارت میں کافی پیغام ہے ہمارے لئے۔ موجودہ حکومتوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ان کی ناکامی کے حوالے سے فرمان جاری ہو گئے ہیں۔ آخر کون ہے جو عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ناکام کرنے پر تُلا ہوا ہے؟ اس کے لئے کوئی بہت راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے آنے سے کس کا بھلا ہوتا ہے، کون عیاشی کرتا ہے، کون ہمارےوسائل پر بلا شرکتِ غیرے قابض ہو جاتا ہے اور اس کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتا۔

mur

میر مرتضیٰ بھٹو… بے نظیر بھٹو کا بھائی جو بےنظیر بھٹو کے اپنے دورِ اقتدار میں قتل ہوا۔

ہم (بشمول لالاجی) اکثر اپنی تمام برائیوں کی جڑ فوج کو قرار دیتے ہیں (اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے) مگر بنیادی طور پر غلطی سیاسی قوتوں ہی کہ ہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور آپس کی کھینچا تانی کی وجہ سے پہلے پاکستان پر بیورکریسی سوار ہوئی جس کی مثالیں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی موجودگی میں غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کا جناح کے بعد گورنر جنرل بن جانا ہے، اور اس کے بعدایک اور بیورکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل بن گیا۔ یہ سیاستدانوں ہی کی نا اہلی تھی کہ بیوروکریسی سے معاملات اپنے ہاتھ میں واپس لینے میں اس قدر ناکام رہے کہ پھر معاملات فوج کے ہاتھ میں چلے گئے اور ہم نے مشرقی پاکستان تک گنوا دیا۔

بھٹو نے سیاسی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے جرنیلوں کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا موقع فراہم کیا جس کی سزا نہ صرف بھٹو نے بھگتی بلکہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسامہ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر کمیشن بٹھایا اور اُس کمیشن کی رپورٹ دبائے رکھی جو آخر کار الجزیرہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ اب بھی اُس رپورٹ میں ہمیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اسامہ کس کس کی مدد سے ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔

اس مختصر سے وقت میں بھی نواز شریف اور عمران خان کے لئے کافی اسباق موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور آپس میں کھینچا تانی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں۔ اُن قوتوں کو پہچانیں جو ہماری ہر حکومت کو ناکام بناتی آئی ہیں ۔

آصف زرداری نے بھی نئی حکومت بننے کے بعد پہلے پہل نواز شریف کے ساتھ سینگ پھنسائے تھے اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس کے بعد اس نوعیت کی کوئی حرکت نہیں کی گئی حتیٰ کہ شہباز شریف کے ناقابل برداشت بیانات پر بھی زرداری صاحب خاموش رہے۔ آج سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے اور پیپلز پارٹی کو ٹائٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گورنر راج کا بھی دبے لفظوں میں ذکر ہو رہا ہے۔پنجاب کے وزیرِ قانون نے پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں حال ہی میں لشکرِ جھنگوی والے پولیس والوں کو یرغمال بنا کر اُن کے بدلے اپنے بندے چھڑا کر لے گئے ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایجنسیوں نے فوری طور پر یہ خبر تو چلوا دی کہ حملے کی اطلاع پہلے ہی سول انتظامیہ کو دے دی تھی تاہم کوئی بھی یہ تحقیق نہیں کرے گا (عمران خان بھی یہ سوال نہیں اُٹھا رہا) کہ ۱۰۰ دہشت گرد وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور ڈھائی سو لوگوں کو ساتھ لے کر واپس بھی پہنچ گئے۔ وزیرستان میں موجود فوج وہاں کیا کر رہی تھی؟ وہاں کے فوجی کمانڈر کو ڈی ایچ اے میں گھر مل جائے گا اور جب کبھی وہ مرے گا پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا۔

ہماری تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پہلے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور مل کر اُسے زیر کریں۔ اس ملک پر حکمرانی کرنا، اس ملک کی خارجہ پالیسی بنانا، اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے ، یہ سب فیصلے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب کام وہ لوگ کریں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں۔ جنہوں نے اور نہیں تو کم از کم پانچ سال بعد ہمارے سامنے آنا ہوتا ہے، ہم سے ووٹ مانگنا ہوتا ہے۔جنہیں ہم پانچ سال بعد ٹھینگا دکھا سکتے ہیں (جیسا کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کوحالیہ انتخابات میں دکھایا ہے) یہ سارے فیصلے ہم ایسے لوگوں کےہاتھوں میں نہیں رہنے دینا چاہتے جن کی نہ ہم شکلوں سے واقف ہیں نہ کرتوتوں سے۔ جو ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر ہم اُنہیں پانچ سال تو کیا پچاس سال بعد بھی ہٹا نہیں سکتے جب تک کچھ لاشیں نہ گر جائیں، کچھ خون نہ بہ جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آتی ہے۔

پتہ نہیں پختونخوا کے حکمران زیادہ بے حس ہیں یا عوام


آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے  جولائی ہی کے مہینے میں روم شہر میں آگ بھڑک اُٹھی۔ روم کے چودہ ٹاؤن تھے جن میں سے تین مکمل طور پر جل گئے ، سات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صرف چار ٹاؤن محفوظ رہے۔ مغربی تاریخ میں نیرو کے حوالے سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیر و بنسی (بانسری) بجا رہا تھا۔

Pakistan

پشاور کے مضافات بڈھ بیر میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے دھماکے کا منظر (بشکریہ ڈان)

تقریباً یہی صورت حال پختونخوا کی بھی ہے۔ صرف انتخابات کے بعد کے دو ماہ سے کم عرصے میں سامنے آنے والی چند خبریں کچھ یوں ہیں:

  1. پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں دھماکہ ، اٹھارہ افراد ہلاک (اتوار ،30 جون ، 2013)
  2. پشاور ہی میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک (بدھ، 03 جولائی، 2013)
  3. پشاور میں دو پولیس اہلکار مارے گئے (پیر،یکم جولائی، 2013)
  4. مردان میں جنازہ میں خود کش حملہ ، ۳۴ افراد ہلاک (19جون,2013 )

مردان کے حملے میں حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے اور اس سے پہلے ہنگو میں بھی حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے مارے جا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انتخابات سے شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے مگر اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟آج کی تازہ خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ پختونخوا کی اسمبلی میں دو قرار دادیں منظور ہوئی ہیں:

  1. ڈےوو کمپنی کو پابند کیا جائے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے گاڑی روکی جائے
  2. وفاقی حکومت سے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی ٹی چینلز پر "غیر اخلاقی ” پروگراموں پر پابندی لگائی جائے۔

    kp-assembly-afp-670

    پختونخوا اسمبلی کا ایک منظر

یہ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ جبکہ انہی خبروں میں سے ایک خبر کی تفصیل میں یہ درج ہے کہ "دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔” ڈرون حملے پختونخوا کی حدود میں ہو ہی نہیں رہے مگر اُن پر بھی دو دن سے بحث جاری ہے۔ اگر ذکر نہیں ملتا تو بے چارے پختونخوا کے اپنے عوام کا جن کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اس اسمبلی میں بیٹھے تمام افراد (بشمول حزبِ اختلاف )پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم پختوانخوا اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کی تقریریں اور قراردادیں دیکھیں تو کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ پختوانخوا میں دھماکے روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔پختونخوا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غیر اخلاقی ٹی وی ڈرامے نشر ہو رہے ہیں اور بسیں نمازوں کے لئے نہیں رکتی۔ باقی سب خیر ہے۔

مگر حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بعد جب میں عوام کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکمران بھی کچھ غلط نہیں ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ دھماکے ہو رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں مگر عوام کی طرف سے بھی کوئی احتجاج نہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ لاشیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پختونخوا میں بھی ایسے کئی دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لاشیں گریں مگر پختونخوا میں نہ تو کبھی کوئی احتجاجی ریلی نکلی، نہ کوئی سوگ کا اعلان سننے میں آیا ۔ ایک بار قبائلی علاقے کے کچھ لوگ اپنی لاشیں اُٹھا کر گورنر ہاؤس کی طرف آگئے تھے اُن کی بھی کسی نے بات نہیں سنی، انہیں بھی بس ڈنڈے کھانے کو ملے اور لاشیں اُٹھا کر واپس جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ایجنسیوں کے سربراہوں کو ساتھ لے کر کوئٹہ تو چلے گئے مگر پشاور جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک کو درپیش اہم مسائل میں بجلی کا بحران اور معیشت کی بحالی تو سر فہرست ہیں، امن و امان کا مسئلہ کہیں کھو گیا ہے۔ اس میں قصور دوسروں کا بھی ضرور ہے مگر اپنے حق کے لئے آواز نہ اُٹھانے، خاموشی سے بغیر کسی احتجاج کے اپنی لاشیں دفنا دینے کا گناہ بھی ہم پختون بڑی مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اپنے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ہمیں تو یہی نہیں پتہ کہ گزشتہ تیرہ برس میں کتنے بچے، کتنی عورتیں اور کتنے مرد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم اُن سب کے لئے انصاف کیسے لے سکیں گے۔

 

قومی مفاد یا جرنیلی مفاد


جرنیلوں کی پیشیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں اور جنرل کیانی نے چنگھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل کیانی صاحب فرماتے ہیں کہ فوج کی طاقت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جنرل صاحب کو کوئی بتائے کہ عوام کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ فوج نے کونسا الیکشن لڑا ہے جس سے ثابت ہو کہ عوام کو فوج پر اعتماد ہے۔ عوام نے ہر الیکشن میں فوج کے پٹھوؤ کو شکست دی ہے۔ ۱۹۸۸ میں ضیاع الحق گیا تو پیپلزپارٹی آگئی، ۲۰۰۸ میں مشرف گیا تو پیپلز پارٹی آگئی۔ اسی لئے تو ۱۹۹۰ میں نوٹوں کے ذریعے لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ عوام میں مقبول پارٹیوں کو ہرایا جا سکے۔ ۲۰۰۲ میں پھر مولویوں کو اکٹھا کر لیا گیا جبکہ عوام میں مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا۔جو مولوی اکٹھے نماز نہیں پڑھتے وہ اکٹھے الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟ یہ کرشمہ تو فوج ہی نے دکھایا تھا نا عوام کو۔ جس عوام کا مینڈیٹ جرنیلوں نے بار بار تار تار کیا ہو اُس عوام کے بارے میں کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ اُسے فوج پر اعتماد ہے۔

اس ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہونے لگے تو حکومتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ فوج کا مورال گرنے کا خدشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے مگر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس وغیرہ پر حملے سے اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ فوج کے سب سے بڑے تربیتی ادارے کے قریب دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص پانچ سال تک رہائش اختیار کئے رکھتا ہے تو اُس سے بھی اس ملک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ جس ملک کی فوج پچھلے کئی سالوں سے دعوٰی کرتی رہی کہ پاکستان کی حدود میں فوج کے علم میں آئے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا، اس ملک میں دو امریکی ہیلی کاپٹر اپنا شکار کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اُس ملک کی سکیورٹی کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کے حصے میں آنا تھا کہ یہاں بد عنوان جرنیل کو سزا ملنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہ جاتا ہے۔

ہمارے جرنیل نہ تو طالبان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ امریکہ کا۔ کر سکتے ہیں تو بس اپنے ہی عوام کو فتح کر سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، اپنے ہی عوام کو جب چاہیں لتاڑ سکتے ہیں۔ اُن عوام کو جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں۔ وہ عوام جو بھوکے سوتے ہیں مگر اُن کے جرنیل گالف کورس بناتے رہتے ہیں، وہ عوام جن کے بچے بیمار ہوں تو ہسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی مگر جرنیل رائل پام کلب بناتے ہیں۔ وہ عوام جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر حادثے کا شکار ہو جائیں تو ایمبولینس نہیں ملتی مگر اُن کے جرنیل ڈی ایچ اے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ملک کے عوام روزانہ قتل ہو رہے ہیں مگر جرنیل شادی ہال چلانے میں مصروف ہیں۔ لشکر جھنگوی/لشکر طیبہ/جیش محمد قسم کے گروہ دندناتے پھر رہے ہیں مگر جرنیل اپنے بھائیوں کی کرپشن چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جنرل صاحب عوام کو قومی مفاد اور فوجی مفاد (بلکہ جرنیلی مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا فرق بہت اچھی طرح سمجھ آیا ہوا ہے۔ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں سے آپ کبھی بھی ان پڑھ جاہل عوام کو تو بے وقوف نہیں بنا سکے، اپنے آپ کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا ضرور ثابت کر گئے ہیں۔

ڈرون حملے اور خود کش دھماکے …عام پاکستانی کا موقف کیا ہونا چاہئے


ہمارے ہاں ہونے والے بیشتر بحث مباحثوں کا مقصد ایک دوسرے کی بات سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات منوانا ہوتا ہے اس لئے یہ بحثیں بہت جلد عقلی دلائل سے ہٹ جاتی ہیں اور بات گالی گلوچ اور ذاتی نوعیت کے حملوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بجائے بحث میں جیتنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے چنانچہ عقلی دلائل پر ذاتی انا بازی لے جاتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ڈرون حملوں اور خود کُش حملوں کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے۔بائیں بازو کے روشن خیال لوگ ڈرون حملوں کے حق میں گلے پھاڑ رہے ہیں تو دائیں بازو کے رجعت پسند  لوگ خود کش حملوں کی ہلکی سی مذمت کرکے ڈرون حملوں کے خلاف چیخنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر ان مسائل کو عقلی دلائل سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یہ مضمون ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مسئلے کے صرف ایک رُخ کی بجائے اُس کی مکمل تصویر پیش کر سکوں۔

سب سے پہلے تو ڈرون حملوں کی طرف آتے ہیں۔ ڈرون حملے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ امریکی ڈرون بین الاقوامی سرحد پار کر کے دوسرے ملک کے اندر داخل ہو تے ہیں اور وہاں میزائل گرا کر واپس چلے جاتےہیں۔ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ایک ناجائز  اور غیر قانونی کارروائی ہے۔ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔اگر روشن خیال لوگ اس کی مذمت نہیں کرتے تو غلط کرتے ہیں۔

دوسری طرف ان قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی اُتنی ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے جتنی کہ ڈرون حملوں کی۔ ان گروہوں کے خلاف پاکستان کے عسکری اداروں کو بھر پور کارروائی کرنی چاہئے اور ان کا مکمل صفایا کرنا چاہئے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو پورا حق ہے کہ وہ وزیرستان، پاڑاچنار، اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں جلسے کریں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی وہاں جلسہ نہیں کر سکتی تو کیوں نہیں کر سکتی؟ وہاں اگر کوئی خطرہ ہے تو کیوں ہے  اور کس سے ہے؟ پچھلے سات آٹھ برس سے ہماری فوج ان علاقوں میں بیٹھی کیا کررہی ہے؟ اگر ان علاقوں پر دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے اور حکومت پاکستان کی عمل داری نہیں ہےتو  یہ بھی تو ہماری خود مختاری پر  بہت بڑا سوال ہے۔ روشن خیال لوگ ہوں یا رجعت پسند، سب کو متحد ہو کر پورے زور وشور سے حکومت اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان علاقوں سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے۔

ہمارے سکیورٹی سے متعلقہ مسائل کا ایک ہی سادہ سا حل ہے جس پر جتنی جلدی ہم سب پاکستانی متفق ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔وہ سادہ سا حل یہ ہے کہ پاکستان میں اسلحہ صرف اور صرف قانونی طور پر قائم کئے گئے سرکاری اداروں  کے اہلکاروں کے پاس ہوگا ۔ ان کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی اسلحہ رکھنے کے  مجاز صرف فوج، پولیس ، ایف سی، رینجرز اور ایسے ہی دیگر سرکاری ادارے ہوں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں سرکاری طور پر قائم فوجی ، نیم فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کوئی جیش، کوئی لشکر ، کوئی سپاہ نہیں چاہئے۔ ہمیں اپنی فوج کے ہوتے ہوئے کوئی دفاع پاکستان کونسل نہیں چاہئے۔

تین سپر پاورز کو شکست….کیا واقعی؟؟؟


افغانستان نے تین سپر پاورز کو شکست دی ہے….

ہمارے پاس اپنے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے کے لئے ایک سے ایک بڑا مسخرہ موجود ہے۔ کوئی لال ٹوپی پہن کر ٹی وی پر آ جاتا ہے اور اِس ٹوٹے پھوٹے ملک کے برے حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ اور ہندوستان کے کندھوں پر ڈال کر سوال نہ پوچھنے والے (یعنی اپنا دماغ استعمال نہ کرنے والے) نوجوانوں کو غزوہ ہند کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔

ایک اورمذہبی ماڈل و اداکار جدید ترین ہیئر اسٹائل بنا کر اور منہگے کپڑے پہن کر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے۔ جعلی ڈگری پر نہ وہ شرمندہ ہے، نہ اُس کا چینل، نہ اس کے پرستار۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں کرتا کہ جعلی ڈاکٹر بن کر اُس نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے۔ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔

تاہم ایک اور مذہبی دانشور بنام اوریا مقبول جان ہمارے بچوں کو اُن کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لئے کچھ اور طرح کے جھوٹ بولتا ہے۔ ذیل میں ایک ویڈیو میں اُس کی ایک تقریر ہے جس میں وہ ایک طرف کچھ تاریخی واقعات کو غلط انداز سے بیان کرتا ہے تو دوسری طرف فتح و شکست کے معنی ہی بدل کر دکھ دیتا ہے۔وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ افغانستان نے ایک صدی کے اندر اندر دنیا کی تین سپر پاورز کو شکست دی۔ یہ تقریر وہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے کر رہا ہے اور اُس کی اِس بات پر ناسمجھ لوگ کافی تالیاں بھی بجا دیتے ہیں۔ پہلے تقریر سن لیجئے، پھر باقی بات کرتےہیں۔ 

پہلی بات تو یہ کہ جس جنگ کا حوالہ اوریا مقبول جان صاحب دے رہے ہیں وہ جنگ ۱۹۰۵ء میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس سے لگ بھگ تریسٹھ سال پہلے 1842 میں لڑی گئی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اوریا صاحب اس ساری صورت حال کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جیسے برطانیہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر ناکام رہا۔ برطانیہ کا مقصد افغانستان پر قبضہ ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ برطانیہ اور روس دونوں ہی اس ملک کو پر اپنا اثر و رسوخ ضرور چاہتے تھے مگر قبضے کے خواہشمند نہیں تھے کیوں کہ دونوں بڑی طاقتیں افغانستان پر قبضے کی صورت میں آمنے سامنے آکھڑی ہوتیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال اوریا مقبول جان اور ان کے پرستاروں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد بھی جنگیں ہوتی رہیں اور افغانستان نے ۱۸۹۳ء میں انگریزوں کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدہ کیا اور اپنا بہت سا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ علاقہ موجودہ خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے شمالی اضلاع (جن کی آبادی پختون ہے) پر مشتمل ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان نے ایک سپر پاور کو شکست دی بالکل احمقانہ سی بات ہے۔ فاتح قومیں ڈیورنڈ معاہدے کی طرح کے معاہدے نہیں کرتیں۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ فتح اور شکست کا تصور کیا ہے۔ کیا کسی ایک محاذ پر دشمن کے سارے فوجی مار دینا فتح  ہے یا جنگ میں فتح کوئی زیادہ بڑی چیز ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں یہاں موٹی موٹی کتابوں اور دنیاء کے بڑے بڑے دانشوروں کے حوالے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ نہ ہی میرا ارادہ تمام اینگلو افغان جنگوں میں ہونے والی مارا ماری کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ کیوں کہ میرے نزدیک فتح اور شکست کا معیار یہ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس فاتح اور مفتوح قوموں کا تھوڑا سا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ تینوں سپر پاورز اور افغانستان میں سے فاتح کون تھا اور مفتوح کون۔ 

یہاں کچھ تصویریں افغانستان سے شکست کھانے والی تینوں سپر پاورز کے مختلف شہروں کی کچھ تصاویر پیش کر رہا ہوں :

:اور اب ہمارے فتح مند ہمسائے افغانستان کے کچھ مناظر

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ چند تصاویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس میں افغان قوم زخموں سے چور ہے، اُس کے بچے کوڑے کے ڈھیروں میں خوراک تلاش کرنے پر مجبور ہیں، اُس کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں مہاجرکیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ مفتوح قوموں کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں صحت کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں اور ان کے شہری دو وقت کی روٹی کو نہیں ترس رہے بلکہ کھیلوں، فنون لطیفہ اور سائنس کی دنیاء میں نام کما رہے ہیں۔

اوریا مقبول جان صاحب… ہمارے نوجوانوں پر رحم کیجئے… ایسا ہی جہاد کا شوق ہے تو پاکستان میں اچھی اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے وزیرستان کا رُخ کر لیجئے، یہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔

بس کریں جنرل صاحب بس…


۱۵ مارچ ۲۰۱۲ء کو ہمارے سپہ سالارِ اعظم(بقول ہمارے منصفِ اعظم) نے نہایت شفقت فرمائی اور قوم کو چند نصیحتوں سے فیض یاب فرمایااور کچھ حقائق بھی بیان فرمائے۔ ان کی گفتگو کا لُبِ لباب یہ تھا:

قومی اداروں کے کردار پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ ان اداروں کو بننے میں سالوں کی محنت لگتی ہے۔دوسرے ملکوں میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اتنی شدت سے تنقید نہیں کی جاتی جتنی پاکستان میں ہوتی ہے۔انہوں نے موساد، را اور سی آئی اے کی مثالیں دیں۔ ایسی تنقید سے فوج کا مورال گرتا ہے۔ ہمارے جوان منفی ۲۰ سینٹی گریڈ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مہران بنک کیس کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ یہ تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا "ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہئے ، حال میں زندہ رہنا چاہئے اور مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے”۔

فوج کی سرگرمیوں نے بلوچستان کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں غائب افراد کی تعداد صرف 47 ہے۔

جنرل صاحب سے نہایت مودبانہ طور پر کچھ گزارشات ہیں۔ امید ہے ناگوار نہیں گزریں گی۔

قومی اداروں کی تعمیر:

جناب جنرل صاحب گزارش یہ ہے کہ آپ نے بجا فرمایا کہ ادارے سالوں کی محنت سے بنتے ہیں۔ مگر آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف ایک ادارہ ملک چلانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ بھی ایک ادارہ ہے، عدلیہ بھی ایک ادارہ ہے۔ ہمیں ان اداروں کو بھی بنانا ہے۔ پارلیمنٹ آئی ایس آئی سے ہزار گنا زیادہ اہم ادارہ ہے۔ اگر آپ کا ادارہ مہربانی فرمائے تو ہم ان اداروں کو بھی بنا لیں۔ اگر آپ کی آئی ایس آئی ذرا شفقت فرمائے اور میمو گیٹ جیسے تماشے کھیلنا بند کردے تو عین نوازش ہوگی۔

قومی اداروں پر تنقید:

جو ادارہ اپنے کام کے علاوہ دنیاء کا ہر کام کر رہا ہو اُس پر تنقید نہ ہو تو اور کیا ہو۔ جو ادارہ گالف کلب، کھاد، بنک، شادی ہال اور سامان کی ترسیل جیسے کام تو کرے مگر چند دہشت گرد گروہوں کو قابو کرنے میں ناکام ہو جائے اس کو جھک جھک کر سلام کیسے کیا جائے۔ جس ادارے کو اپنی ہی ٹریننگ اکیڈمی کے پاس ایک قلعہ نما مکان میں رہنے والے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب فرد کا پتہ نہ ہو اُسے ۲۱ توپوں کی سلامی کیسے دی جائے؟جس ادارے کے اپنے ہیڈ کوارٹر پر دہشت گرد حملے کریں اور  پھر بھی وہ ان دہشت گردوں کو قومی اثاثہ قرار دے اس ادارے کو گلے لگا کر چومنے کی ہمت کون کرے۔ موساد، را اور سی آئی اے پر یقیناً اتنی تنقید نہیں ہوتی اور اُن کے کردار پر کھلے عام میڈیا میں بحث نہیں کی جاتی مگر وہ عام معاملات میں ٹانگ بھی تو نہیں اڑاتے۔ اگر آپ کا ادارہ  میرے ووٹ چوری کرے، میرے لئے لیڈر منتخب کرے توپھر بھی میں اُس کے معاملات پر بحث بھی نہ کروں۔

اداروں کا مورال:

رہی بات مورال کی تو حضور دیگر اداروں کا مورال بھی ملحوظ رکھا کریں نا۔ کیا مورال صرف فوج کا ہوتا ہے۔ جب آپ لوگ ہمارے سفیر پر منصور اعجاز جیسے جانوروں کا غول چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے تمام سفارت کاروں کو مورال نہیں گرتا۔ ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ بات ہے کہ مجرم کو سزا دینے سے ایک ادارے کا مورال ہی گر جاتا ہے۔ ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ مجرم کو سزا ملنے سے قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کا مورال بلند ہو جاتا ہے اور دوسرے مجرموں کا مورال گر جاتا ہے۔ اب اس سےزیادہ ہم کچھ نہیں کہتے کہ ایسا نہ ہوغائب افراد کی تعداد اڑتالیس ہو جائے۔

منفی ۲۰ سنٹی گریڈ:

یہ بجا ہے کہ ہمارے جوان منفی ۲۰ سنٹی گریڈ پر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ ہمیں اُن جوانوں پر فخر ہے۔ مگر اُن کی قربانیوں  کے بدلے میں ہمارے ٹیکسوں سےبنے گالف کورس میں گالف کھیلنے والے جرنیلوں کو کیوں کرمعاف کردیں۔ یہ بھی مت بھولیں کہ سیاچن کے میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے کے پیچھے بھی آپ جرنیلوں کی نااہلی تھی جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کو اتنی شدید سردی میں خدمات انجام دینا پڑرہی ہیں۔ اگر ضیاع الحق کے دور میں ہماری فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر حکمرانی کے شوق پورا کرنے میں نہ لگی ہوتی تو سیاچن میدان جنگ بننے سے بچ سکتا تھا۔ آپ کے بزرگ جنرل ضیاع الحق نے فرمایا تھا کہ سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اُگتی۔ اب اُسی مقام پر ہمارے جوانوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔

تاریخ سے لڑنا:

حضور تاریخ سے کون لڑ سکتا ہے۔ مگر کیا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ گناہ پرانا ہو جائے تو گناہ نہیں رہتا؟ جرم کئے دس بیس سال گزر جائیں تو مجرم کو اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہئے؟ اگر ایسا ہی ہے تو برائے مہربانی چیپ جسٹس صاحب کو بھی حکمت کے اس موتی سے نواز دیجئے جو گزشتہ تین چار برس سے صدر صاحب کے خلاف ایک پندرہ سال پرانا مقدمہ کھلوانے پر بضد ہیں۔ اوہو…معاف کیجئے گا میں بھول گیا تھا کہ صدر صاحب تو بلڈی سولین ہیں۔ یہ اصول اُن پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ تو جنرل اسلم بیگ کے لئے ہے نا۔ سوری سر۔۔۔

ماضی سے سبق سیکھنا:

رہی بات ماضی سے سبق سیکھنے کی۔ عالی جاہ، جب ایوب خان اور یحیٰی خان کے لگ بھگ ۱۳ سالہ دور کے بعد مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھوچکے تھے تو ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۹ کا پنگا کیوں لیا۔ چلیں یہ بھی ماضی کا  قصہ سمجھ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر آج تو باز آجائیں نا۔ اب تو آپ جیسا دانش ور آرمی کا چیف ہے (ویسے تو ہر چیف ہی اپنے آپ کو دانشور سمجھتا ہے)۔ مگر حالات و واقعات یہ نہیں بتاتے کہ ماضی سے سبق سیکھ لیا گیا ہے۔ اوہ…سوری… میں بلڈی سولین پھر غلطی کر گیا۔ یہ نصیحت تو سولین کے لئے ہے نا… جرنیلوں کے لئے تو نہیں۔ سوری…بس کیا کروں…ہم کم بخت سولین کبھی سدھر نہیں سکتے۔

بلوچستان کے لوگوں کا معیارِ زندگی:

بلوچستان کے لوگ بھی نا۔ پاک فوج نے اُن کا معیارِ زندگی اتنا بلند کر دیا ہے کہ وہ اونچے اونچے پہاڑوں پر رہنے لگے ہیں۔ نیچے ہی نہیں آتے۔ نیچے صرف اُن کی مسخ شدہ لاشیں ہی آتی ہیں۔ ویسے جناب عالی..!یہ تو بتائیے کہ فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوام کا معیار زندگی کیسے بلند ہوتا ہے۔ کیا چھاؤنیاں بنانے کو ترقیاتی کام سمجھنا چاہئیے۔ پھر تو کیوں نا ہم دفاعی بجٹ کو بھی ترقیاتی بجٹ کا حصہ قرار دے دیں۔ سارے پاکستان کے عوام کا معیارِ زندگی ایک دم سے بہت بلند ہو جائے گا۔ ویسےترقیاتی بجٹ میں اچانک اتنا بڑا اضافہ شاید عوام سے ہضم نہ ہو پائے۔ایک چھوٹی سی بات اور…ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا فوج کا کام نہیں ہوتا۔ فوج کا کام ہوتا ہے ملک کا دفاع کرنا۔ ایک بار پھر سوری سر… 

غائب کئے گئے افراد:

غائب افراد بھی صرف سینتالیس ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہمارے ملک میں غائب کئے گئے افراد کی تعداد اتنی کم ہے۔ سنتالیس افراد کا غائب ہونا تو کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ یہ احتجاج وغیرہ چھوڑ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں۔ ان سینتالیس افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی جلد ہی مل جائیں گی۔ تب اُٹھا کر دفنا دیں گے۔ پہلے سے کیا چیخم دھاڑ کرنا۔

بڑی  مہربانی جنرل صاحب…