کچھ وضاحتیں …لالا جی کی طرف سے


پچھلے کچھ عرصے میں لالاجی کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ لالا جی پیپلز پارٹی کی خطاؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور باقی سب پر سخت تنقید کرتے ہیں۔یہاں کچھ وضاحتیں ضروری ہو گئی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ پی پی پی سے ہمدردی اس بات کی ہے کہ پچھلے چار برس میں سب نے پی پی پی کو پنچنگ بیگ (Punching Bag)  بنا رکھا ہے۔ اور منتخب حکومت کو ہٹانے کا ہر حربہ آزما لیا گیا ہے۔ ایسے میں لالا جی کسی وردی والے، کالے کوٹ والے یا کسی چیف جسٹس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوگا جن کو اس ملک کے عوام نے منتخب کیا ہو۔

وحیدہ شاہ نے ایک سرکاری ملازمہ کے تھپڑ مارے تو ہم نے اس پر لعن طعن کی۔ مگر نوٹس صرف وحیدہ شاہ کا کیوں۔ وکیل سیشن جج کو تھپڑ مارے تو اُس پر نوٹس کیوں نہیں۔کیا سیشن جج اسی ریاست کا ملازم نہیں۔ دوہری شہریت کے حامل صرف پیپلز پارٹی کے ارکان تو نہیں، جعلی ڈگریوں والے صرف پیپلز پارٹی کے ارکان تو نہیں، سب کو کٹہرے میں کھڑا کریں، سب کو نا اہل قرار دیں تو لالاجی کو کوئی اعتراض نہیں۔ لالاجی پیپلز پارٹی کے ارکان کی غلط کاریوں کا دفاع نہیں کرتے، بلکہ قانون کے من پسند اطلاق پر تنقید  کرتے ہیں۔

لالاجی چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں شامل رہے۔ جب چیف جسٹس پہلی بار معطل ہوئے تو اگلے روز سپریم کورٹ کے سامنے لالا جی بھی موجود تھے۔ اُس روز چیف جسٹس کو سپریم کورٹ نہیں آنے دیا گیا، اور ان کے بال نوچے گئے۔ لالا جی کو آج بھی اس تحریک میں شمولیت پر کوئی افسوس نہیں کیوں کہ چیف جسٹس کو غیر قانونی طریقے سے ہٹایا گیا تھا۔حالانکہ اُس تحریک میں شامل کئی لوگ آج چیف جسٹس کے من پسند ازخود نوٹس اور سیاسی مسائل میں بے جا ٹانگ اڑانے کی عادت کو دیکھ کر افسوس کر رہے ہیں۔تاہم آج بھی اگرچیف جسٹس کوغیر قانونی طریقے سے ہٹایا گیا تو لالا جی اس کی مخالفت کریں گے۔

آئینہ کا سال ۲۰۱۱ء کیسا رہا…!


ورڈ پریس نے میرے بلاگ "آئینہ” کے سال ۲۰۱۱ء کے اعدادو شمار جمع کرکے بھجوائے ہیں۔

Here’s an excerpt:

A New York City subway train holds 1,200 people. This blog was viewed about 3,800 times in 2011. If it were a NYC subway train, it would take about 3 trips to carry that many people.

Click here to see the complete report.

حسین حقانی، منصور اعجاز اور میمو


پچھلے کچھ عرصے سے میرے ملک میں خفیہ میمو کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر افتخار عارف کے یہ اشعار بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

نئے کردار آتے جارہے ہیں روشنی میں

نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے

کہ پردہ کب گرے گا، کب تماشا ختم ہوگا

۔۔۔

دلِ نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس ہونا

جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا

حلال گوشت اور حلال ٹوتھ برش کے بعد اب پیش ہے حلال وہسکی


دین اسلام کا غلبہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہود و ہنود کو اپنے کاروبار چلانے کے لئے اسلامی اندازو اطوار اپنانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ پہلے تو مغربی کمپنیوں نے حلال گوشت فراہم کرنا شروع کیا، پھر کھانے پینے کی دیگر اشیاء بھی حلال پیش کرنا شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش بھی حلال آنے لگ گئے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حلال وہسکی بھی تیار کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ یکم دسمبر سے حلال وہسکی بھی بازار میں عام دستیاب ہو گی۔ خبر یہ ہے کہ برطانیہ میں اس کی بوتل دس پونڈ جبکہ کین چار پونڈ میں خریدا جا سکے گا۔

حلال وہسکی کا نام آر کے (ArKay)رکھا گیا ہے۔ یہ فلوریڈا میں قائم سکاٹش سپرٹس لمیٹڈ نے تیار کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں الکوہل نہیں شامل تاہم اس کا ذائقہ بالکل الکوہل والی وہسکی جیسا ہی ہے۔ اس میں سادہ پانی میں کئی طرح کے کیمیائی مرکبات، رنگ اور مصنوعی ذائقہ شامل کیئے گئے ہیں۔ کمپنی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ "الکوہل کے بغیر، وہسکی کا شاندار ذائقہ لئے یہ ایک شاندار مشروب ہے جسے دن رات کسی بھی وقت پیا جا سکتا ہے”۔

اس بارے میں علماء کے رد عمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ لہٰذا مسلمان بھائیوں اوربہنوں سے اپیل ہے کہ محتاط رہیں یہ مسلم امہ کے خلاف یہودوہنود کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے یہ گورے ہیں بہت چالاک … کاروبار/مارکیٹنگ کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ ذرا غور فرمائیے …اس وہسکی کو الکوہل فری وہسکی بھی تو نام دیا جا سکتا تھا۔ مگر نہیں صاحب… اسے حلال وہسکی ہی کیوں کہا گیا۔ چلیں آپ سوچتے رہیئے … ہم لکھنے کے لئے کوئی سنجیدہ موضوع ڈھونڈتے ہیں۔

ارے بھئی مذاق نہیں کر رہا … اچھا یقین نہیں آتا تو اس لنک پر جا کر خود ہی دیکھ لیجئے۔

اجمیر شاہ شہید…تجھے نشان حیدر دینے کی بات کرنے والا بھی کوئی نہیں


اجمیر شاہ

 ۲۸ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو ایک خود کُش حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ ہمارے میڈیا کو ذرا بھی شرم نہ آئی کہ اس واقعے کو رپورٹ کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی شہادت کی نہیں ہلاکت کی خبر دی اور خاموش ہو گیا۔ ہمارے ملک میں ہمارے جرنیلوں کی کارگل جیسی حماقتوں کی نذر ہونے والے فوجی جوانوں ہی کو شہید کا لقب ملتا ہے، بے چارے پولیس اہلکاروں کے نصیب میں اتنی عزت کہاں۔ نشان حیدر بھی صرف فوجیوں کے لئے مخصوص ہے۔ پولیس اہلکاربھلے کتنا ہی جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہو، اُسے نشان حیدر کی سعادت کے لائق نہیں سمجھا جائے گا۔ محکمہ پولیس کے پاس آئی ایس پی آر بھی نہیں ہے کہ اپنے شہید اہلکاروں کی زندگیوں پر بڑے بجٹ کا تیرہ اقساط پر مبنی کوئی ڈرامہ ہی نشر کروا سکے۔ یوں بھی ہماری اپنی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے پالے ہوئے طالبان کو چن چن کر مارنے والا کسی بھی ایوارڈ یا عزت و احترام کا مستحق کیوں کر ہو سکتا ہے۔

۲۸ اکتوبر کو شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایک اجمیر شاہ بھی تھا جسے اُس کی بہادری پر  صدرکی طرف سے پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ تاہم پھر بھی اجمیر شاہ کی شہادت پر ہمارے میڈیا کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اجمیر شاہ کی خدمات پر چھوٹی سی خبر ہی پیش کر دیتے۔ کرتے بھی  کیسے اُسی روز طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے کے ہمدرد و ہم نوا جناب شہباز شریف صاحب جو لاہور میں گل افشانی فرما رہے تھے اس کی کوریج بھی تو بہت ضروری تھی۔ یاد رہے کہ مذکورہ خود کش حملے کی ذمہ داری طالبان نے فوری طور پر قبول کر لی تھی۔ یہ خود کُش حملہ محض عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ کئی طالبان کمانڈروں کو گرفتار یا ہلاک کرنے والے ذمہ دار، نڈر اور فرض شناس پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ تھی۔

اجمیر شاہ اپنے استاد اور گرو صفوت غیور سے بہت متاثر تھا (یاد رہے کہ صفوت غیور کو بھی طالبان نےاگست ۲۰۱۰ء میں ایک خود کش حملے میں شہید کر دیا تھا۔ صفوت غیور کو بعد از شہادت نشانِ شجاعت سے نوازا گیا)۔ صفوت غیور کی رہنمائی میں اجمیر شاہ نے چند سال پہلے طالبان میں شمولیت اختیار کی اور مہمند میں ان کا ساتھی بن کر ان کے اندرونی نظام کا بخوبی مطالعہ کرتا رہا۔ طالبان کے اندر رہ کر اجمیر شاہ نے ان کو اس حد تک سمجھ لیا تھا کہ جب اُن میں سے باہر نکلا تو طالبان کے لئے خطرناک دشمن ثابت ہوا۔ اُس نے کئی کامیاب آپریشن کئے جن میں طالبان کے اہم کمانڈر اور سہولت کار یا تو پکڑے گئے یا مارے گئے۔ حال ہی میں گرفتار ہونے والے جنت گل کی گرفتاری میں بھی اجمیر شاہ کا کردار بہت اہم سمجھا جا تا ہے۔ اسی طرح چند ماہ قبل قاری باسط کی ہلاکت براہ راست اجمیر شاہ کی سربراہی میں کئے گئے آپریشن میں ہوئی تھی۔

اجمیر شاہ کی زندگی پر یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ اُس پر پہلے بھی کئی حملے ہو چکے تھے مگر وہ ہر بار بچ جاتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ قسمت نے اُس کا ساتھ نہیں دیا۔ بقول اُ س کے رفقاء کے اُسے بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی زندگی خطرے میں ہے۔ تاہم وہ ڈر کر بھاگ جانے والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ کئی سال سے شادی سے محض اس لئے انکار کرتا چلا آیا تھا کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ وہ خطروں سے کھیل رہا تھا اور اُس کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں تھا۔ تاہم کچھ عرصہ قبل اُس کے والدین کے بے حد اصرار پر اسے سر جھکانا پڑا اور اُس نے شادی کر لی۔

 اُس کی حفاظت کے پیشِ نظر پولیس حکام کی طرف سے اُس کے وردی پہننے اور پولیس موبائل استعمال کرنے پر پابندی عائد تھی۔ اجمیر شاہ ایک پرائیویٹ گاڑی استعمال کر تا تھا۔ جمعہ کے روز ایک خود کش حملہ آور اُس کی گاڑی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ جونہی اس کی گاڑی قریب پہنچی تو حملہ آور نے دھماکے سے خود کو اُڑا دیا۔ اجمیر شاہ اور اس کا ساتھی ڈرائیور شہید ہو گئے جبکہ چھ راہگیر بھی اس دھماکے میں شدید زخمی ہوئے۔ تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان نے میڈیا کے نمائندوں کو فون کر کے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے بی بی سی اردو کا یہ صفحہ 

پہلی بات


سلام دوستو…!

لیجئے آج ہم نے بھی بلاگ کا باقاعدہ آغا زکر دیا ہے۔ اور اپنا بلاگ اردو زبان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میرے ملک پاکستان میں اکثر لوگ انگریزی نہیں پڑھ سکتے ۔ انگریزی میں جو مضامین، بلاگ اور کالم لکھے جاتے ہیں ان سے میرے اکثر ہم وطن محروم رہتے ہیں۔ اور ہمارے پڑھے لکھے لوگ اردو میں کچھ لکھنے کو تیار نہیں۔

سو ہمارے اردو پڑھنے والے لوگوں کو بس "موت کا منظر…مرنے کے بعد کیا ہوگا” قسم کی کتابیں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں یا دجال کے فتنے کے متعلق یا قیامت کے آثار بتائے جاتے ہیں۔ اردو میں ہمارے روز مرہ کے مسائل کے حوالے سے کوئی بات پڑھنے کو نہیں ملتی۔ اگر روز مرہ کے مسائل پر کہیں بات ہو گی بھی تو اسے بھی دلائل کی بجائے فضولیات میں الجھا دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر پچھلے سال کے سیلاب کے  حوالے سے ہر کوئی یہی لکھ رہا ہو گا کہ جناب یہ گناہوں کی سزا ہے۔ اس سے پہلے زلزلے کے حوالے سے بھی یہی کہا گیا۔ حالانکہ ان واقعات کی توجیہ سائنس کی دنیا میں تلاش کرنی چاہئے تھی۔ ابھی حال ہی میں ہمارے ملک میں رمضان کا چاند دیکھنے پر اختلاف کھڑا ہو گیا ۔ اس پر کہیں بھی ہمیں دلائل کے ساتھ بحث نظر نہیں آتی، نہ ہی ہم اس مسئلے کا حل کہیں سنتے ہیں۔

اس صورت حال میں, میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اردو میں ان اہم موضوعات پر دلیل کے ساتھ بات کی جائے۔ اردو پڑھنے والے دوستوں کو بھی جذباتیت سے عاری، سائنسی دلائل اور حقائق پر مبنی بحث کا اتنا ہی حق ہے جتنا انگریزی پڑھنے والوں کو۔

میں اردو میں ایک ایسے ہی بلاگ کا آغاز کر رہا ہوں۔ اس میں میری اپنی باتیں بھی ہوں گی اور انگریزی میں لکھے ہوئے اچھے بلاگز/مضامین کا ترجمہ بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ امید ہے اس سے کچھ نہ کچھ فرق ضرور پڑے گا۔

آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ..

آپ کا اپنا

لالاجی

اہم نوٹ: جو دوست میرے مضامین پر تبصرہ کرنا چاہیں، ضرور کریں۔ اختلاف کریں، تاہم دلیل کا جواب دلیل سے دیں، کسی قسم کی بے ہودگی، گالی گلوچ اور بد زبانی کی گنجائش نہیں ہے۔ میں اس قسم کی زبان میں کی گئی گفتگو کا جواب دینا پسند نہیں کروں گا۔ ایسے تبصرے بھی غائب کر دئیے جائیں گے۔ (شکریہ)