سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدری۔۔۔از حسین حقانی


 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو ان وسعتِ مطالعہ سے محروم کالم نویسوں کا کیا بنتا جو ان کو گالیاں دے کر رزق کماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ک

حسین حقانی

ا کمال ہے کہ پتھر میں کیڑوں کو بھی رزق فراہم کرتا ہے اس لئے بعض لوگ سرکاری ملازمت کے ساتھ کالم نویسی کے پردے میں گالیاں دینے کے کاروبار کے ذریعے رزق کماتے ہیں اور رزاقِ عالم ان کی کم علمی پر صرف راز کا پردہ پڑا رہنے دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں توہینِ رسالت کے نام پر دنگا فساد کی تازہ مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر امریکہ، پیپلز پارٹی اور اس خاکسار کو بھی رگیدنے کی دکان پُر رونق نظر آنے لگی۔ اس موضوع پر امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے میرے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب[اوریا مقبول جان کی طرف اشارہ ہے] نے ، جو شاید عبرانی نام رکھنے پر اپنے والدین سے اتنے ناراض ہیں کہ اپنا غصہ قابو میں نہیں رکھ پاتے، اسے میری منافقت کا پردہ چاک کرنے کے مترادف قرار دیا۔ نہ میری دلیل پر غور کیا نہ اصل موضوع پر۔ بس مذہبی جذباتیت کے گرد لفاضی کا تانہ بانہ بُن کر امریکہ پر برس پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہو تو ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ لیکن گستاخانہ بات کا چرچا صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اِس گستاخی کی آڑ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں یہ دھندا پرانا ہے۔ 1927ء میں پنڈت چموہتی نے حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے "رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی تو کسی نے اس کتاب کو پڑھا تک نہیں۔ 1929ء میں پنجاب کے احراریوں نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کیا تو مسلمانوں میں غیرت کی لہر دوڑ گئی۔ کتاب کے پبلشر کو عدالت نے بری کر دیا تو علم دین نے اُسے قتل کر دیا اور اس کی حمایت میں بھی بڑی پُر زور تحریک چلی۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کی اس تحریک سے حضور پر نور کی شان میں ہونے والی گستاخی کا ازالہ ہو گیا؟ گستاخانہ کتاب آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے نام پر تحریک نہ چلی ہوتی تو نہ کوئی کتاب پڑھتا ، نہ اس کا چرچا ہوتا۔ پچھلے ستر /اسی برسوں میں غیرت و حمیت کے نام پر چلنے والی تحریکوں نے مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کیا ہے۔

اوریا مقبول جان

 1967ء میں ٹرکش آرٹ آف لونگ (Turkish Art of Loving)نامی کتاب میں بھی حضور اکرم کی شان اقدس  میں گستاخی کی گئی۔ کتاب نہ زیادہ فروخت ہوئی نہ پڑھی گئی۔ لیکن1971ء میں سانحہء مشرقی پاکستان کے تناظر میں پاکستان کی منظم ترین مذہبی سیاسی جماعت نے اس کتاب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔1970 کے انتخابات میں شکست اور مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی حمایت کو نبی رحمت کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہروں کے ذریعے دھونے کی کوشش نے غیر اہم کتاب کو اہم بنا دیا۔ کتاب آج بھی فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے صرف اس کی تشہیر کا ذریعہ بنےہیں۔ سلمان رشدی کی "شیطانی آیات”(Satanic Verses) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

یو ٹیوب پر مصری مسیحی کی بنائی ہوئی فلم بھی دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے صرف چند سو نے دیکھی ہوگی کہ مصر میں اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اس کی آڑ میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر ڈالی۔ پوری دنیا کے مسلمان جو عسکری ، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کی وجہ سے توہین یا ہتک پر جوش میں آجاتے ہیں غیرت ایمانی کی تازہ ترین دعوت پر متحرک ہو گئے۔ سیاسی اسلام کے بے ایمان چوہدریوں نے ایک بار پھر ایک ایسی بات کی۔ پہلے [توہین آمیز فلم کی ]تشہیر کی جو کسی کی نظر میں نہ تھی، پھر اُس تشہیر کے بعد اُ س کے خلاف احتجاج کیا۔

مجھ جیسے گناہ گار نے (جسے تقویٰ کا دعویٰ ہی نہیں ہےبلکہ جو اپنی نوجوانی میں ان ٹھیکیدارانِ اسلام کے ساتھ وقت گزار کر ان کے طور طریقے سمجھ گیا ہے) صرف اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ غیرت ایمانی کے نام پر بلوہ کرنا بعض لوگوں کی سیاست کا تقاضا ہے نہ کہ حضور سے محبت کا۔ اس نفاق کا پردہ چاک ہونے کا طعنہ صرف وہی دے سکتا ہے جو تعصب میں اتنا ڈوبا ہو کہ دوسرے نقطہء نظر کو سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو۔

"رنگیلا رسول ” سے لے کر "شیطانی آیات” تک ہر گستاخانہ تحریر کی تشہیر خود سیاسی مسلمانوں ہی نے کی ورنہ یہ گستاخانہ باتیں کبھی اہمیت حاصل نہ کرتیں۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ہمارے دین اور ہمارے نبی کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔ ایسی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے سے نہ دین کی عظمت میں اضافہ ہوگا نہ مسلمانوں کی کمزوریوں کا ازالہ۔

 

حضور اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوں غیر اہم جاہلوں سے نمٹنے کے لئے ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت199 میں حکم ہے ” عفو سے کام لیجئے ، بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں کو نظر انداز کیجئے”۔ سورۃ الفرقان کی آیت 63 میں اہل ایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے "رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں، اور جب جاہل اُن سے کلام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام”۔ سورۃ النحل کی آیت 125 میں کہا گیا ہے کہ "لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی دعوت حکمت اور موعظت سے دواور اگر بحث کرو تو شائستگی سے دلائل دو”۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے حوالے سے ہمارے درمیان بہت سا اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اس اختلافِ رائے میں شائستگی کا دامن وہی لوگ چھوڑتے ہیں جو دین و مذہب کو سیاست کا سیلہ بناتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں ہر وہ شخص جو اُ ن کی رائے سے اتفاق نہیں کر تاوہ غیر ملکی ایجنٹ ہے، گستاخِ رسول ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور رسول کی عظمت سڑکوں پر مظاہرے کرنے والوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس عظمت کے تحفظ کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہوا ہے۔ کوئی کتاب یا کوئی فلم حضور اکرم کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کوئی کالم نویس اسلام کی عظمت کا ضامن نہیں ہے۔ اسلام محفوظ ہے اور مسلمانوں کے زوال کے دنیاوی اسباب کا علاج بھی سمجھدارانہ دنیاوی فیصلوں ہی سے ممکن ہے۔

 

ملا کی سیاست کی ضرورت ہے وگرنہ

اسلام کو ہر بات سے خطرہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وال اسٹریٹ جرنل میں حسین حقانی کا کالم 

اوریا مقبول جان کا حسین حقانی کے کالم کے جواب میں لکھا گیا کالم 

بس کریں جنرل صاحب بس…


۱۵ مارچ ۲۰۱۲ء کو ہمارے سپہ سالارِ اعظم(بقول ہمارے منصفِ اعظم) نے نہایت شفقت فرمائی اور قوم کو چند نصیحتوں سے فیض یاب فرمایااور کچھ حقائق بھی بیان فرمائے۔ ان کی گفتگو کا لُبِ لباب یہ تھا:

قومی اداروں کے کردار پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ ان اداروں کو بننے میں سالوں کی محنت لگتی ہے۔دوسرے ملکوں میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اتنی شدت سے تنقید نہیں کی جاتی جتنی پاکستان میں ہوتی ہے۔انہوں نے موساد، را اور سی آئی اے کی مثالیں دیں۔ ایسی تنقید سے فوج کا مورال گرتا ہے۔ ہمارے جوان منفی ۲۰ سینٹی گریڈ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مہران بنک کیس کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ یہ تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا "ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہئے ، حال میں زندہ رہنا چاہئے اور مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے”۔

فوج کی سرگرمیوں نے بلوچستان کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں غائب افراد کی تعداد صرف 47 ہے۔

جنرل صاحب سے نہایت مودبانہ طور پر کچھ گزارشات ہیں۔ امید ہے ناگوار نہیں گزریں گی۔

قومی اداروں کی تعمیر:

جناب جنرل صاحب گزارش یہ ہے کہ آپ نے بجا فرمایا کہ ادارے سالوں کی محنت سے بنتے ہیں۔ مگر آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف ایک ادارہ ملک چلانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ بھی ایک ادارہ ہے، عدلیہ بھی ایک ادارہ ہے۔ ہمیں ان اداروں کو بھی بنانا ہے۔ پارلیمنٹ آئی ایس آئی سے ہزار گنا زیادہ اہم ادارہ ہے۔ اگر آپ کا ادارہ مہربانی فرمائے تو ہم ان اداروں کو بھی بنا لیں۔ اگر آپ کی آئی ایس آئی ذرا شفقت فرمائے اور میمو گیٹ جیسے تماشے کھیلنا بند کردے تو عین نوازش ہوگی۔

قومی اداروں پر تنقید:

جو ادارہ اپنے کام کے علاوہ دنیاء کا ہر کام کر رہا ہو اُس پر تنقید نہ ہو تو اور کیا ہو۔ جو ادارہ گالف کلب، کھاد، بنک، شادی ہال اور سامان کی ترسیل جیسے کام تو کرے مگر چند دہشت گرد گروہوں کو قابو کرنے میں ناکام ہو جائے اس کو جھک جھک کر سلام کیسے کیا جائے۔ جس ادارے کو اپنی ہی ٹریننگ اکیڈمی کے پاس ایک قلعہ نما مکان میں رہنے والے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب فرد کا پتہ نہ ہو اُسے ۲۱ توپوں کی سلامی کیسے دی جائے؟جس ادارے کے اپنے ہیڈ کوارٹر پر دہشت گرد حملے کریں اور  پھر بھی وہ ان دہشت گردوں کو قومی اثاثہ قرار دے اس ادارے کو گلے لگا کر چومنے کی ہمت کون کرے۔ موساد، را اور سی آئی اے پر یقیناً اتنی تنقید نہیں ہوتی اور اُن کے کردار پر کھلے عام میڈیا میں بحث نہیں کی جاتی مگر وہ عام معاملات میں ٹانگ بھی تو نہیں اڑاتے۔ اگر آپ کا ادارہ  میرے ووٹ چوری کرے، میرے لئے لیڈر منتخب کرے توپھر بھی میں اُس کے معاملات پر بحث بھی نہ کروں۔

اداروں کا مورال:

رہی بات مورال کی تو حضور دیگر اداروں کا مورال بھی ملحوظ رکھا کریں نا۔ کیا مورال صرف فوج کا ہوتا ہے۔ جب آپ لوگ ہمارے سفیر پر منصور اعجاز جیسے جانوروں کا غول چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے تمام سفارت کاروں کو مورال نہیں گرتا۔ ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ بات ہے کہ مجرم کو سزا دینے سے ایک ادارے کا مورال ہی گر جاتا ہے۔ ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ مجرم کو سزا ملنے سے قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کا مورال بلند ہو جاتا ہے اور دوسرے مجرموں کا مورال گر جاتا ہے۔ اب اس سےزیادہ ہم کچھ نہیں کہتے کہ ایسا نہ ہوغائب افراد کی تعداد اڑتالیس ہو جائے۔

منفی ۲۰ سنٹی گریڈ:

یہ بجا ہے کہ ہمارے جوان منفی ۲۰ سنٹی گریڈ پر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ ہمیں اُن جوانوں پر فخر ہے۔ مگر اُن کی قربانیوں  کے بدلے میں ہمارے ٹیکسوں سےبنے گالف کورس میں گالف کھیلنے والے جرنیلوں کو کیوں کرمعاف کردیں۔ یہ بھی مت بھولیں کہ سیاچن کے میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے کے پیچھے بھی آپ جرنیلوں کی نااہلی تھی جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کو اتنی شدید سردی میں خدمات انجام دینا پڑرہی ہیں۔ اگر ضیاع الحق کے دور میں ہماری فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر حکمرانی کے شوق پورا کرنے میں نہ لگی ہوتی تو سیاچن میدان جنگ بننے سے بچ سکتا تھا۔ آپ کے بزرگ جنرل ضیاع الحق نے فرمایا تھا کہ سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اُگتی۔ اب اُسی مقام پر ہمارے جوانوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔

تاریخ سے لڑنا:

حضور تاریخ سے کون لڑ سکتا ہے۔ مگر کیا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ گناہ پرانا ہو جائے تو گناہ نہیں رہتا؟ جرم کئے دس بیس سال گزر جائیں تو مجرم کو اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہئے؟ اگر ایسا ہی ہے تو برائے مہربانی چیپ جسٹس صاحب کو بھی حکمت کے اس موتی سے نواز دیجئے جو گزشتہ تین چار برس سے صدر صاحب کے خلاف ایک پندرہ سال پرانا مقدمہ کھلوانے پر بضد ہیں۔ اوہو…معاف کیجئے گا میں بھول گیا تھا کہ صدر صاحب تو بلڈی سولین ہیں۔ یہ اصول اُن پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ تو جنرل اسلم بیگ کے لئے ہے نا۔ سوری سر۔۔۔

ماضی سے سبق سیکھنا:

رہی بات ماضی سے سبق سیکھنے کی۔ عالی جاہ، جب ایوب خان اور یحیٰی خان کے لگ بھگ ۱۳ سالہ دور کے بعد مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھوچکے تھے تو ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۹ کا پنگا کیوں لیا۔ چلیں یہ بھی ماضی کا  قصہ سمجھ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر آج تو باز آجائیں نا۔ اب تو آپ جیسا دانش ور آرمی کا چیف ہے (ویسے تو ہر چیف ہی اپنے آپ کو دانشور سمجھتا ہے)۔ مگر حالات و واقعات یہ نہیں بتاتے کہ ماضی سے سبق سیکھ لیا گیا ہے۔ اوہ…سوری… میں بلڈی سولین پھر غلطی کر گیا۔ یہ نصیحت تو سولین کے لئے ہے نا… جرنیلوں کے لئے تو نہیں۔ سوری…بس کیا کروں…ہم کم بخت سولین کبھی سدھر نہیں سکتے۔

بلوچستان کے لوگوں کا معیارِ زندگی:

بلوچستان کے لوگ بھی نا۔ پاک فوج نے اُن کا معیارِ زندگی اتنا بلند کر دیا ہے کہ وہ اونچے اونچے پہاڑوں پر رہنے لگے ہیں۔ نیچے ہی نہیں آتے۔ نیچے صرف اُن کی مسخ شدہ لاشیں ہی آتی ہیں۔ ویسے جناب عالی..!یہ تو بتائیے کہ فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوام کا معیار زندگی کیسے بلند ہوتا ہے۔ کیا چھاؤنیاں بنانے کو ترقیاتی کام سمجھنا چاہئیے۔ پھر تو کیوں نا ہم دفاعی بجٹ کو بھی ترقیاتی بجٹ کا حصہ قرار دے دیں۔ سارے پاکستان کے عوام کا معیارِ زندگی ایک دم سے بہت بلند ہو جائے گا۔ ویسےترقیاتی بجٹ میں اچانک اتنا بڑا اضافہ شاید عوام سے ہضم نہ ہو پائے۔ایک چھوٹی سی بات اور…ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا فوج کا کام نہیں ہوتا۔ فوج کا کام ہوتا ہے ملک کا دفاع کرنا۔ ایک بار پھر سوری سر… 

غائب کئے گئے افراد:

غائب افراد بھی صرف سینتالیس ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہمارے ملک میں غائب کئے گئے افراد کی تعداد اتنی کم ہے۔ سنتالیس افراد کا غائب ہونا تو کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ یہ احتجاج وغیرہ چھوڑ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں۔ ان سینتالیس افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی جلد ہی مل جائیں گی۔ تب اُٹھا کر دفنا دیں گے۔ پہلے سے کیا چیخم دھاڑ کرنا۔

بڑی  مہربانی جنرل صاحب…

عمران خان سے چند سوال


جناب عمران خان صاحب…!

 مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر میں آپ کے پیروکاروں و پرستاروں کی گالیوں سے امان پاؤں تو چند شرارتی سے سوال کرنے کی گستاخی کرنا چاہوں گا۔ وہ سوال یہ ہیں:۔۔

  1. آپ کا سب سے اہم وعدہ یہ ہے کہ آپ بد عنوانی یعنی کرپشن ختم کر دیں گے۔ آپ کی پارٹی کے تمام لوگ اپنے اثاثے ظاہر کریں گے۔ چنانچہ اگر ناگوار نہ گزرے تو ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ پچھلے کچھ عرصے سے جو جلسے منعقد کئے جا رہے ہیں ان پر کتنا پیسہ خرچ ہوا اور یہ پیسہ کہاں سے آیا۔ برائے مہربانی ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ نکال لیجئے گا کہ ہم خاکم بدہن آپ یا آپ کی پارٹی پر بدعنوانی کا الزام لگا رہے ہیں۔ ہم محض اپنے جنرل نالج میں اضافے کے لئے پو چھ رہے ہیں۔ 
  2. آپ کا دوسرا وعدہ یہ ہے کہ آ پ اقتدار میں آ کر طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کر دیں گے۔ کیا اس بارے میں آپ نے خورشید قصوری صاحب سے بات کر لی ہے؟ کیا وہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم بند کرنے پر راضی ہیں؟ 
  3. آپ کا ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیں گے۔ آپ کی یہ یقین دہانی سر آنکھوں پر۔ مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کے جلسوں میں جہادی تنظیموں کے جھنڈے کیوں لہرا رہے ہوتے ہیں؟ کیا ہماری خواتین اور اقلیتوں کو انہی جھنڈے والوں نے یرغمال نہیں بنا رکھا؟ 
  4. اگر آپ بھی ہندوستان کے ساتھ  معمول کے تعلقات چاہتے ہیں تو موجودہ حکومت کی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا خیر مقدم کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ مثالیں دے کر وضاحت کریں ، جہاں ضروری ہو اشکال بھی بنائیں۔
  5. آپ نے عافیہ صدیقی کی بات بھی کی۔ کیا آپ اقتدار میں  آکر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے امریکہ سے بات کریں گے؟ کیا اس مقصد کے لئے خورشید قصوری صاحب ہی کی خدمات حاصل کی جائیں گی؟ اگر امریکہ نے عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو کیا آپ کسی محمد بن قاسم کو بھیجیں گے کہ عافیہ صدیقی کو رہا کروا لائے؟ 
  6. آپ کا دعویٰ ہے کہ طالبان دراصل پختون مزاحمت کار ہیں جو امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ جب ڈرون حملوں میں عام پختون شہری ہلاک ہوتے ہیں تو ان کے رشتے دار (بیٹے ، بھانجے، بھتیجے وغیرہ) ان کا بدلہ لینے کے لئے خود کش بمبار بننے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے ناپختہ ذہنوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر طالبان کو پھر اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور کراچی جیسے شہروں میں خود کش بمبار بھرتی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار بدلہ لینے کے لئے کہاں جاتے ہیں؟ وہ طالبان کی صفوں میں گھُس کر خود کش حملے کیوں نہیں کرتے؟ آپ کے علم میں ہوگا (آپ شاید بیس سال پیلے خود قبائلی علاقوں میں گئے تھے اور آپ سے بہتر قبائلی علاقوں کو کوئی نہیں جانتا) کہ ۱۳۰۰ سے زیادہ قبائلی مشران کو طالبان نے ٹارگٹ کلنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ اُن کے رشتے دار طالبان سے بدلے کیوں نہیں لے رہے؟ 
  7. آپ نے حال ہی میں کہا کہ اگر آپ ناکام ہو گئے تو استعفیٰ دے دیں گے۔ ایسے میں آپ کے ووٹر اور کارکن کہاں جائیں گے جو آپ کو جتوانے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔ اگر کل کو بھاگ جانا ہے تو آج ہی کیوں نہیں بھاگ جاتے؟ 

نوٹ: غصہ نہ کریں… جواب دیں…اگر جواب نہ ہوتو استعفیٰ دے کر لنڈن چلے جائیں اور پرویز مشرف کے ساتھ بیٹھ کر گپ  لگائیں۔ آپ کے اکثر انقلابی ساتھی  پرویز مشرف کی صحبت سے پہلے بھی فیض یاب ہو چکے ہیں۔ انہیں کوئی تامل نہ ہوگا۔  

سوئس بنکوں میں پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی افواہ


آج کل ایک افواہ جسے بعض اخبارات نے خبر کے طور  پر شائع کیا بہت گردش کر رہی ہے۔ میں نے یہ خبر پہلے ہی روز اخباروں میں پڑھ لی تھی تاہم اسے توجہ کے لائق نہ جان کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن پھر جب یہ دیکھا کہ اس خبر پر بہت زیادہ تبصرے ہو رہے ہیں اور سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹوں پر بہت زیادہ شیئر کی جا رہی ہے تو اس کے بارے میں اپنا نقطہ نظر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔

مذکورہ خبر کے ویب لنکس درج ذیل ہیں:

روزنامہ پاکستان آبزرور

روزنامہ دی نیشن

روزنامہ ایکسپریس

روزنامہ پاکستان ٹوڈے

ان لنکس سے آپ کو اندازہ ہو رہا ہو گا کہ اس افواہ کو بطور خبر شائع کرنے میں دی نیشن، پاکستان ٹوڈے اور روزنامہ ایکسپریس جیسے اہم اخبارات بھی پیچھے نہیں رہے۔پاکستان آبزرور کے کالم نگار نے تو ۹۷ ارب ڈالر کی بجائے ۲۰۰ ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کر دیا ہے۔ جتنے لوگ اس خبر کو آگے پھیلا رہے ہیں وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے۔

آئیے اس خبر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں:

ہر خبر کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس خبر کا ذریعہ ایک سوئس بنک کا ڈائریکٹر ہے۔ نہ تو یہ پتہ ہے کہ بنک کا نام کیا ہے اور نہ ہی ڈائریکٹر کا نام بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں  معلوم کہ ڈائریکٹر صاحب نے یہ انکشافات کب اور کہاں کئے۔ پھر ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان ڈائریکٹر صاحب کو پاکستان سے اتنی ہمدردی کیوں تھی کہ انہوں سوئس بنکوں میں موجود لاکھوں کھاتے پھرولے، ان میں سے پاکستانیوں کے کھاتے الگ کئے، اور ان میں موجود رقوم کی جمع تفریق کرتے رہے اور نہ جانے کتنے دنوں کی محنت کے بعد یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستانیوں کی طرف سے جمع کرائی گئی رقوم ۹۷ ارب ڈالر ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں ںے یہ جمع تفریق بھی کر ڈالی کہ اس رقم سے پاکستان کے کون کون سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی اہم معلومات اخباروں کو بتانے کی جرات ڈائریکٹر نے کیوں کر کی۔ بنکوں کا اپنے عملے کے لئے ایک بہت سخت ضابطہ اخلاق (Code of Conduct)ہوتا ہے۔جس کے تحت عملہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ کسٹمر کے کھاتوں کے بارے میں معلومات عام لوگوں تک نہیں پہنچائے گا۔ اگر عملے کا کوئی فرد ایسا کرتا ہوا پایا جائے تو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس خبر میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ڈائریکٹر صاحب کی نوکری ابھی باقی ہے یا فارغ کر دیے گئے ہیں۔ اگر فارغ کر دیے گئے ہوں تو ہم پاکستانیوں کو ان سے اظہار ہمدردی کرنے کا موقع تو ملنا چاہئے۔

ہمارے ہاں ایسی خبریں معمول ہیں:

ہمارے ہاں ایسی خبریں نکلنا معمول کی بات ہے۔ اس سے پہلے سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کے حوالے سے جو ویڈیو سامنے آئی تھی اس کے بارے میں بھی یہ خبر نکلی تھی کہ وہ کسی این جی او نے لاکھوں روپے دے کر بنوائی تھی۔ یہ خبر بھی اتنی ہی بے تُکی تھی۔ اس میں بھی این جی او کا نام درج نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی تو سوات طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس ویڈیو کو قبول کیا تھا، یہ تسلیم کیا کہ طالبان ایسی سزائیں دیتے ہیں۔ مسلم خان نے اپنے پہلے انٹرویو میں ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس انٹرویو کی ویڈیو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔

ایسی خبریں کیوں؟

اس میں ظاہر سی بات ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ ایسی خبروں کا کوئی مقصد نہیں۔ چونکہ مذکورہ ویڈیو کی وجہ سے پاکستان میں رائے عامہ طالبان کے خلاف ہو گئی تھی اس لئے اس ویڈیو کو جعلی قرار دینے کی کوششیں ہوئیں۔ تاہم ایسی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اور اب پاکستان کے عوام کی رائے اُن کے خلاف ہے۔

حالیہ ۹۷ ارب ڈالر کی رپورٹ کا مقصد ہمارے سیاسی لیڈروں کو بد نام کرنا ہے، اور عوام میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ جب عوام سیاسی لیڈروں سے متنفر ہو جائے تو پھر کوئی من چلا ہمارا مسیحا بن کر آ جاتا ہے اور سیاستدانوں کو(جو کہ ہمارے نمائندے ہیں) جیلوں میں ڈال دیتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے اس لئے ایسے من چلوں کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

ہمیں کیا کرنا چاہئے:

ہمیں چاہئے کہ ہر خبر کو چھان پھٹک کر دیکھیں۔ یوں ہی اندھا دھند جھوٹی خبروں کو نہ پھیلائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے سیاستدان بہت نیک اور پرہیزگار لوگ ہیں۔ لیکن جو کوئی ان کے خلاف اس قسم کی بے سرو پا خبریں گھڑتے اور شائع کرتے ہیں وہ بھی تو گندے لوگ ہی ہیں۔ سو ہمیں ایسے گندے لوگوں کا آلہ کار بھی نہیں بننا چاہیئے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جیسے بھی ہیں ہمارے نمائندے ہیں اور ان کے احتساب کا حق صرف ہم لوگوں (یعنی پاکستان کے عوام )کو حاصل ہے۔ ہم نے انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی نمائندگی کا حق دیا ہے اور یہ حق ہم ہی اُن سے واپس لے سکتے ہیں۔ ہمیں کسی صورت بھی اپنا یہ حق کسی جرنیل یا کسی اور قسمت آزمائی کرنے والے خبیث کو نہیں دینا چاہئے۔