دھاندلی، دھرنا انکوائری اور تحریکِ انصاف


judicialcommission-electionrigging-PTI-PML-N-polls_4-9-2015_180893_lحالیہ دنوں میں سال ۲۰۱۳ء میں ہونے والے انتخابات  میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے۔ عمران خان کے مخالفین اس کے لتے لے رہے ہیں تو حامی صفائیاں پیش کر رہے ہیں۔ یہ بلاگ اس ساری کہانی کا غیر جانبدارانہ انداز میں تجزیہ کرنے کی کوشش ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ عمران خان سے درحقیقت کہاں غلطیاں ہوئیں ہیں۔ 

عمران خان نے ایک سو چھبیس دن کا دھرنا دے کر قوم کا وقت اور وسائل ضائع کئے۔کل ایک خبر چھپی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈروں سے عمران خان نے غیر رسمی مشاورت کی ہے اور اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے کچھ فیصلے کئے ہیں جن میں ایک اہم فیصلہ شیخ رشید کو پارٹی معاملات سے باہر کرنا، اسمبلی میں دوبارہ بھرپور شرکت کرنا اور سب سے بڑھ کر انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں بھرپورشرکت کرنا شامل ہیں۔ یہ سب بہت خوش آئند باتیں ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران خان نے اس سارے تماشے سے کچھ نہ کچھ سبق سیکھا ضرور ہے اگرچہ یہ سبق قوم کو بہت منہگا پڑا ہے۔ 

مہنگا اس لئے کہ جب لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تو نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا اور یہ تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا جائےگا جو انتخابات میں ہونے والے دھاندلی کی تحقیقات کرے گا۔ مگر اس وقت عمران خان کو امپائر پر پورا بھروسہ تھا اس لئے عمران خان حکومت کا دھڑن تختہ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔ جب امپائر مافیہ نے اپنا کام نکال لیا تو عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ دیگر سیاسی پارٹیوں نے عمران خان اور امپائر کا گٹھ جوڑ سمجھ لیا تھا اس لئے کوئی سیاسی پارٹی (بشمول جماعت اسلامی) عمران خان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ ایسے میں عمران خان کو کنٹینر سے نیچے اتر کر انکوائری کمیشن پر راضی ہونا پڑا۔ ایک سو چھبیس کے احتجاج کے بعد بھی اسی کمیشن پر راضی ہوجانا جس کی تجویز پہلے ہی دی گئی تھی اپنی جگہ ایک شکست تھی، فتح نہیں تھی۔ 

کمیشن قائم ہونے کے بعد  مسئلہ یہ ہوا کہ انکوائری کمیشن کے سامنے ثبوت پیش کرنے پڑتے ہیں کہ جو عمران خان کے پاس نہیں تھے۔ پینتیس پنکچر والی کہانی کو جب عمران خان نے یہ کہا کہ سیاسی بیان ہے۔(ویسے  عمران خان اور نواز شریف میں کیا فرق رہ گیا۔ نواز شریف نے بھی شہباز شریف کے لوڈ شیڈنگ چھ ماہ میں ختم کرنے کے بیان کو سیاسی بیان کہا تھا۔)اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں بھی عمران خان نے کہا کہ آر اوز اور الیکشن کمیشن کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ تاہم انکوائری کمیشن کے سامنے کسی آر او کو پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ کسی آر او کا نام نہیں لیا گیا۔ دھرنے کے آغاز پر ایک برگیڈئیر صاحب کا بھی ذکر ہوا تھا وہ بھی ہوا ہو گیا۔

لالاجی کا موقف یہ ہر گز نہیں کہ انتخابات میں کوئی گڑ بر نہیں ہوئی۔ تاہم منظم دھاندلی کے الزام میں جان نہیں ہے۔ انتخابات میں بے قاعدگیاں ہوئیں اور بہت ہوئیں جیسے حلقوں اور پولنگ اسٹیشنوں کے فارم غائب ہیں یا ٹھیک سے پُر نہیں کئے گئے۔ یاد رہے کہ انتخابات کا قانون کے مطابق نہ ہونا، ان میں بے قاعدگیاں ہونا اور منظم دھاندلی دو قطعی مختلف باتیں ہیں۔ بے قاعدگیاں تمام حلقوں میں ہوئی ہیں جن میں تحریک انصاف کے امیدوار جیتے ان میں بھی۔ چنانچہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر یہ بے قاعدگیاں نہ ہوتیں تو بھی نتائج کم و بیش یہی ہوتے۔

مثال کے طور پر فارم ۱۵ کے غائب ہونے کا بہت شور ہے۔ مگر کیا فارم ۱۵ صرف پنجاب کے حلقوں کے غائب ہیں۔ پختونخواہ میں42.5 فیصد ،قبائلی علاقہ جات میں12فیصد ، پنجاب میں 28.8 فیصد ،سندھ میں 45.9 فیصدجبکہ بلوچستان میں 48فیصد فارم 15ریکارڈ سے غائب پائے گئے یا نہیں مل سکے ۔ تو پھر دھاندلی کہاں زیادہ ہوئی؟ (ان حقائق کے باوجود سپریم کورٹ کے ججوں کی کردارکشی کی مہم جاری ہے۔) 

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الیکشن کے نظام میں ان بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کے لئے اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ جب یہ بے قاعدگیاں نہیں ہوں گی، نظام میں خامیاں دور ہو جائیں گی تو انتخابات میں دھاندلی کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے اور اگر دھاندلی ہوگی تو اسے ثابت کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ 

لالاجی پھر یہ کہیں گے کہ جمہوریت کے ثمرات کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ جمہوری نظام کو بار بار پٹڑی سے اتار دینا اپنی جگہ دھاندلی کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے۔ اگر مقامی، صوبائی اور وفاقی سطح پر جمہوری حکومتیں قائم ہوں اور باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہیں تو الیکشن کمیشن کا عملہ تربیت یافتہ ہوجائے گا اور انتخابات کے نظام کو اتنی اچھی طرح سمجھ جائے گا کہ بے قاعدگیاں خود بخود کم ہو جائیں گی۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس اپنا انتخابی عملہ ہی نہیں ہے۔ جب انتخابات کرانا ہوتے ہیں تو ادھر ادھر سے لوگ پکڑ کر ایک ایک دو دو دن کی تربیتی ورکشاپ کی جاتی ہیں اور ان ناتجربہ کار اور نیم تربیت یافتہ لوگوں کے ہاتھ میں انتخابات کا سارا نظام دے دیا جاتا ہے۔ 

لالاجی کو خوشی ہے کہ تحریک ِ انصاف نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابی نظام کو شفاف بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ وہ پنجابی میں کہتے ہیں کہ "حالی وی ڈلیاں بیراں دا کچھ نئیں گیا”۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ انتخابی اصلاحات کریں اور انتخابات کا نظام ایسا بنائیں کہ دھاندلی کی گنجائش نہ رہے اور اگر ہو تو اسے پکڑنا اور ثابت کرنا آسان ہو۔ 

Advertisements

دو قومی نظریے کاارتقاء


16699-partitionerum-1364644509-818-640x480پہلا منظر: یہ شاید سال 1942کا منطر ہے۔ ایک مسلمان، ایک ہندو اور بھارت دیس آپس میں بحث کر رہے ہیں

بھارت: دیکھو تم دونوں اپنی اناؤں کی خاطر میرے سینے پر لکیر نہ کھینچو

مسلمان: بات لکیر کھینچنے کی نہیں ہے… ہم ایک الگ قوم ہیں…

بھارت: صدیوں سے تم ان کے ساتھ رہتے آئے ہو… آج الگ قوم ہو گئے…

ہندو: ارے خاک اکٹھے رہتے آئے ہیں… ہم پر تلوار کے زور پر ایک ہزار سال حکومت کی انہوں نے… اب ہماری حکومت قائم ہوتی نظر آرہی ہے تو الگ قوم ہو گئے

مسلمان: ہمارا ان کے ساتھ کچھ بھی تو مشترک نہیں… ہمارا کھانا الگ، تہوار الگ، رسم و رواج الگ…

بھارت: مگر یہ سب تو صدیوں سے الگ تھا… پھر بھی اکٹھے رہ رہے تھے

مسلمان: بس اکٹھے رہ رہے تھے نا… لڑتے مرتے ہی رہتے تھے… عید بقر عید پر مارکٹائی تو لازمی بات ہوتی ہے…

ہندو: ارے تو گائے نہیں کاٹو گے تو بھوکے تو نہیں مر جاؤ گے نا…

بھارت: دیکھو جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرتا ہے … جہاں ہندو طاقتور ہیں وہاں ہندو ظالم ہیں، جہاں مسلمان طاقتور ہیں وہاں مسلمان ظالم ہیں… میں تو صدیوں سے یہی دیکھتا آرہا ہوں

مسلمان: یہ غلط بات ہے.. مسلمان ظلم کر ہی نہیں سکتا… وہ تو جو کچھ کرتا ہے بس اسلام کے غلبے کے لئے کرتا ہے…

ہندو: ارے خود ہی کٹتے مرتے رہے ہو… اتنے مسلمان ہم نے نہیں مارے جتنے تم لوگوں نے آپس میں لڑ لڑ کر مارے… ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ لڑی… نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کیا یہاں صرف ہندوؤں کو مارنے آئے تھے… ٹیپو سلطان اور حیدرآباد دکن کے والی کی لڑائی … اور کون کون سی گنوائیں

مسلمان: بہر حال ہمیں ہندوؤں کا غلام بن کر نہیں رہنا…ہمیں الگ ملک چاہئے….

بھارت: مگر مسلمان تو سارے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں… انہیں کسی ایک علاقے میں کیسے اکٹھا کرو گے…

مسلمان: جب ایک مسلمان ملک قائم ہوگا تو سارے مسلمان خود ہی کھنچے چلے آئیں گے… بس ہمیں نہیں رہنا ہندوؤں کے ساتھ

بھارت: دیکھو ایک آخری بات… ساری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں… اگر کوئی ایسا ملک ہو بھی تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں… ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے میرے سینے پر لکیریں مت کھینچو… سارا بھارت تمہارا ہے… خود کو ایک کونے تک محدود مت کرو… مسلمان نہیں مانا … اور بھارت تقسیم ہوگیا … پاکستان بن گیا مسلمان نئے اسلامی ملک کی طرف کھنچے ہوئے کم ہی آئے … دھکیلے ہوئے زیادہ آئے اور آج بھی اپنے "دیس” کو یاد کرتے ہیں ………………………………………………………

دوسرا منظر: ایک بنگالی اور ایک مسلمان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سال 1969

بنگالی: دیکھو ہم آبادی میں زیادہ ہیں … حکومت کرنا ہمارا حق بنتا ہے…

مسلمان: ارے قربانیاں ہم نے دی ہیں… اور ہم گورے چٹے ، چوڑے چکلے لوگ ہیں.. حکومت کرنا ہمارا حق ہے… تم لوگ کالے کلوٹے، قد کے چھوٹے … تم لوگ تو غدار ہو …

بنگالی: دیکھو … پاکستان کی تحریک کی ابتداء ہم نے کی تھی… پاکستان بنانے میں ہمارا بہت اہم کردار تھا… مسلمان: پاکستان بنانے کی ابتداء تم نے کی ہوگی، مگر انتہا ہم نے کی تھی… پاکستان بنا تو تب ہی نا جب ہم نے "لے کے رہے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا، اور ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال باہر کیا پاکستان سے…تم لوگوں نے تو اب بھی ہندوؤں کو سینے سے لگا رکھا ہے…

بنگالی: یہ ہندو ہمارے بھائی ہیں..ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں.. انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ انہیں ماریں، یا یہاں سے نکالیں

مسلمان: ہاں دیکھا … تم لوگوں کو ہماری حکومت منظور نہیں… ہندوؤں سے بڑا بھائی چارہ ہے… تم اور ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے… تم لوگوں کا رہن سہن مختلف، زبان مختلف … کپڑے زیور مختلف… تم لوگ تو ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتے… قد نہ کاٹھ اور ہماری برابری کرنے چلے ہیں…

بنگالی: یہ بار بار قد کاٹھ اور رنگ کا طعنہ کیوں مارتے ہو… ہم بھی مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے… ہم سب برابر ہیں…

مسلمان: تم لوگ غدار ہو… اسلام دشمن ہو … ہماری عورتیں سروں پر دوپٹے کرتی ہیں، تمہاری عورتوں کے پیٹ ننگے ہوتے ہیں ..وہ کیا کہتے ہیں اک دے سر تے چنی اے، اک دی ننگی دھنی اے…

چونکہ ہمارے اور بنگالیوں کے درمیان بہت فرق تھا اس لئے ایک نیا "دوقومی نظریہ” پیدا ہوا اور پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس بار کوئی تقسیم نہ کرنے کے لئے کسی قسم کی دہائی دینے والا بھی نہیں تھا۔۔۔ خود پاکستان نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔

…………………………………

تیسرا منظر: ایک احمدی اور ایک مسلمان کا مکالمہ. سال 1974

کئی مسلمان: تم لوگ ہمارے رسول کو نبی نہیں مانتے ہو …

احمدی: لا الہ اللہ ….

کئی مسلمان: خبردار ہمارا کلمہ پڑھ کر ہمیں دھوکہ نہ دو… تم مسلمان نہیں ہو

احمدی: تم نے پہلے ہندوؤں کو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے خود سے الگ کر دیا… مگر ہم تو وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو…

کئی مسلمان: نہیں تم کافر ہو…خبردار آئندہ ہمارا کلمہ پڑھا، ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح سلام دعا کی … کافر کافر کافر..تمہاری صرف ایک سزا ہے اور وہ ہے موت… اور بس

احمدی: دیکھو ہم مسلمان ہیں… اسی اللہ کے ماننے والے ہیں جس کو تم مانتے ہو…

کئی مسلمان: تم بکواس کرتے ہو… ہمیں پتہ ہے کہ تم دل ہی دل میں کسی اور کو پیغمبر مانتے ہو… تمہارے دل میں چور ہے… تم کافر ہو

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا۔ اگرچہ مسلمان اور احمدی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے مگر احمدی اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے لئے الگ ملک بنانے کا کشٹ کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم مسلمان بہت جلد انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھو نا برما میں بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر زندگی کس طرح تنگ کر رکھی ہے۔ ہمیں ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے چاہئے۔

………………………………

چوتھا منظر: کچھ مسلمانوں اور ایک شیعہ کے درمیان مکالمہ۔ سال 1986

مسلمان: تم بھی کافر ہو… ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے

شیعہ: کیا بات کرتے ہو… ہم نے شانہ بشانہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی…ہم نے شانہ بشانہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کی جنگ لڑی اور آج ہم تم دو الگ الگ قومیں ہو گئے

مسلمان: جی ہاں… میں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں کی نماز مختلف…تم لوگوں کے سحری اور افطاری کے اوقات مختلف… تم لوگ کالے کپڑے بہت پہنتے ہو… اور ماتم شروع ہو جاتا ہے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… یہ کیا گھوڑے پالتے رہتے ہو… اور یہ شامِ غریباں میں کیا کرتے ہو ہاں… بتاؤ تو سہی

شیعہ: دیکھو یہ سب تو ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں… امام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ماتم ہوتا ہے

مسلمان: نہیں تمہارا ایمان مشکوک ہے… ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے… ہم سنی پاکستان قائم کریں گے… جس میں شیعہ کافروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی

یوں دو قومی نظریہ ایک بار پھر حقیقت بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا. اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے لئے الگ وطن کا مطالبہ کب کرتے ہیں۔

………………………………………………………….

پانچواں منظر: ایک مسلمان اور بریلوی کے درمیان مکالمہ۔ سال غالباً 2005

مسلمان: ہم اور تم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے

بریلوی: کیوں … ہم نے کیا کر دیا ایسا

مسلمان: تم کافر ہو

بریلوی: کیا بات کررہے ہو… ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں… ہم نے پاکستان کے حصول کے لئے اکٹھے جدوجہد کی… احمدیوں کو کافر قرار دلوانے کے لئے اکٹھے جدوجہد کی…شیعوں کے خلاف ہم اکٹھے جدوجہد کر رہے ہیں

مسلمان: مگر ہمارا تمہارا زندگی گزارنے کا انداز بہت مختلف ہے… تم تو مزاروں پر جا کر لیٹ جاتے ہو… یہ دھمالیں، قوالیاں… یہ سب ہندوؤں کا شعار ہے… ہمارا تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا

یوں ایک بار پھر دو قومی نظریہ درست ثابت ہو گیا

… ………………………………………

چھٹا منظر: بس بھئی لالاجی میں ہمت نہیں رہی کہ یہ مکالمہ بھی تحریر کریں…

 

سفید ہاتھی کی موجیں …. از نعیم حجازی


بادشاہتوں  کے  زمانے  میں  ہاتھیوں  کی  بڑی  قدر  کی  جاتی  تھی۔  ہاتھی  رکھنا  شان وشوکت  کی  علامت  سمجھی  جاتی  تھی۔  انہی  دنوں  سفید  ہاتھی  کی  اصطلاح  نے  جنم  لیا۔  سفید  ہاتھی  سے  مراد  کوئی  ایسی  چیز  لی  جاتی  ہے  جس  کی  دیکھ بھال  پر  اچھا  خاصا  خرچ  آتا  ہو  لیکن  عملی  طور  پر  ا س  چیز  کی  کوئی  افادیت  نہ  ہو۔  مملکت  پاکستانیہ  اوّل  روز  سے  ہی  ایسا  ایک  سفید  ہاتھی  پال  رہی  ہے۔  ابتدائی  دور  ہی  سے  ملکی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کچھ  ایسا  گڈ مڈ  ہوا  کہ  یہ  تفریق  ہی  مٹ  گئی۔  دور  حاضر  میں  قومی  مفاد  اور  فوجی  مفاد  کا  ایک  ہی  مفہوم  سمجھا  جاتا  ہے۔  ملک  ابھی  قائم  بھی  نہیں  ہوا  تھا  کہ  فوجی  دستوں  نے  کشمیر  کا  محاذ  کھول  دیا  اور  اسلحے  کے  علاوہ  بہت  سا  قومی  سرمایہ  بھی  اس  دلدل  میں  ضائع  ہوا۔ملک  کے  پہلے  بجٹ  میں  فوجی  اخراجات  کو  تمام تر   اخراجات  میں سے   ستر  فیصد  حصہ  ملا۔مارچ  1951 ء  میں  وزیر خزانہ  غلام  محمد  نے  بجٹ  پیش  کرتے  ہوئے  کہا  تھا  کہ  دفاعی  اخراجات  ہمارے  ملک  کے  رقبے  اور  استعداد  کے  لحاظ  سے  بہت  زیادہ  ہیں۔ بعد ازاں  بھارت  سے  لڑنے  کیلئے  فوج  نے  امریکہ  کے  آگے  کشکول  لہرایا  اور  65ء  کی  جنگ  تک  خوب  ڈالر  کمائے۔  اس  کے  بعد  کبھی  چین،  تو  کبھی  روس  اور  آخر کار  عرب  ممالک  نے  ہماری  بہادر  افواج  کی  سرپرستی  کا  ٹھیکا  اٹھایا۔

ستم  یہ  ہے  کہ  فوج  ملکی  خزانے  کا  ایک  بڑا  حصہ  ہڑپ  بھی  کر  لیتی  ہے  اور  اس  لوٹ مار  کے  خلاف  تنقید  بھی  برداشت  نہیں  کرتی۔ اردو  اخبارات  سے  تو  خیر  کیا  شکوہ  کرنا،  انگریزی  اخبارات  بھی  ان  معاملات  میں  پھونک  پھونک  کر  قدم  رکھتے  ہیں،  کہ  آخر  اپنی  جان  تو  سب  کو  پیاری  ہوتی  ہے۔ ڈاکٹر  عائشہ  صدیقہ  نے  2007ء  میں  فوجی  اداروں  کو  ایک  کاروبار  کا  نام  دیا  تھا  کہ  جس  طرح  فوج  اپنے  معاشی  مفادات  کا  خیال  رکھتی  ہے،  اس  طرح  کے  اقدام  سرکاری  ادارے  نہیں  بلکہ  کاروبار  والے  اٹھاتے  ہیں۔  ڈاکٹر  عائشہ  کی  کتاب  تو  اب  پاکستان  میں  دستیاب  نہیں  لیکن  اس  کے  خلاف  باز گشت  ابھی  تک  فوجی  رسائل  میں  موجود  ہے۔ اس  کتاب  کی  تصنیف  کے  بعد  فوج  نے  اپنے  اعمال  سے  توبہ  کرنے  کی

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کا سرورق۔ یہ کتاب ہمارے جرنیلوں کو سخت نا پسند ہے۔

  بجائے  کام  جاری  رکھا۔  پاکستان  کی  بری،  بحری  اور  فضائی  افواج  کے  کاروبار  پر  ایک   طائرانہ  نگاہ  ڈالتے  ہیں۔

سنہ  2001ء  میں  مشرف  صاحب  نے  فوجیوں  کی  پنشن  کو  فوجی  بجٹ  کی  بجائے  سویلین  بجٹ  میں  شمار  کرنے  کی  ہدایت  کی۔  سال  2010ء   میں  تیس  لاکھ  سابقہ  فوجی  ملازموں  کی  پنشن  کی  مد  میں  چھہتر(76)  ارب  روپے  مختص  کئے  گئے۔اسکے  علاوہ  فوج  ترقیاتی  کاموں  کیلئے  مختص  شدہ  فنڈ  سے  بھی  پیسے  حاصل  کرتی  ہے۔ہمارے  سالانہ  بجٹ  کا  بیشتر  حصہ  بیرونی  قرض  ادا  کرنے  پر  صرف  ہوتا  ہے  اور  یہ  قرض  بھی  دراصل  فوجی  ضروریات  کو  پورا  کرنے  کیلئے  ہی  تو  لیا  جاتا  رہا  ہے۔

رواں  سال  فروری  کے  مہینے  میں  لاہور  ہائی  کورٹ  نے  فوج  سے  پوچھا  کہ  فورٹریس  سٹیڈیم  کے  علاقے  میں  تعمیر  کیا  جانے  والا  شاپنگ  سینٹر  قانون  کی  خلاف ورزی  کرتا  ہے  یا  نہیں، کیونکہ  یہ  زمین  وفاقی  حکومت  کی  طرف  سے  فوج  کو  دفاعی  ضروریات  یا  عمارات  بنانے  کیلئے  دی  گئی  تھی  لیکن   فوج  نے  اس  زمین  کو  نجی  کمپنی  کے  ہاتھ  فروخت  کر  دیا۔ فوج  کی  جانب  سے  جواب  داخل  کروایا  گیا  کہ  وہ  زمین  ابھی  تک  ’دفاعی  اور  عسکری   ضروریات‘  کے  ضمن  میں  استعمال  کی  جا  رہی  ہے۔  شاپنگ  سینٹر  کے  ذریعے  کون  کون  سے  دفاعی  مقاصد  پورے  کیے  جا  سکتے  ہیں،  اس  امر  پر  نیشنل  ڈیفنس  یونیورسٹی  میں  تحقیق  جاری  ہے۔

پاک  بحریہ  نے  1995ء  میں  کیپٹل  ڈویلپمنٹ  اتھارٹی(CDA)  سے  اپنے  افسران  کی  رہائش گاہیں  قائم  کرنے  کیلئے  اونے  پونے  داموں  زمین  حاصل  کی۔ اب  اس  زمین  پر  قوانین  کی  خلاف ورزی  کرتے  ہوئے  نیول  ہاؤسنگ  سوسائٹی  تعمیر  کی  جا  چکی  ہے  جہاں  پلاٹ  عام  شہریوں  کو  مہنگے  داموں  بیچے  جا  چکے  ہیں۔پاکستانی  سمندروں  کی  محافظ  بحریہ  کے  اس  اقدام  کے  باعث  سرکاری  خزانے  کو  کئی  کروڑ  روپے  کا  نقصان  پہنچا  ہے۔ اسلام آباد  میں  موجود  نیول  ہیڈ کوارٹر  براہ راست  شاپنگ  پلازے  چلا  رہا  ہے  لیکن  کم ازکم  ہمارے  سمندر  تو  دشمن  کی  یلغار  سے  محفوظ  ہیں۔

اکتوبر  2014 ء  میں  آڈیٹر  جنرل  پاکستان  نے  انکشاف  کیا  کہ  پچھلے  مالی  سال  میں  پاکستان  کے  خزانے  کو  فوجی  اداروں  کی  کرتوت  کے  باعث  ایک سو تہتر (173)  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔  موازنے  کی  رو  سے  اتنی  رقم  میں  پاکستان  کے  ہر  بڑے  شہر  میں  میٹرو  بس  بنائی  جا  سکتی  ہے۔ پچھلے  بیس  سال  میں  قومی  اسمبلی  کی  پبلک  اکاؤنٹس  کمیٹی  نے  فوجی  اداروں  کی  مالی  بے ضابطگیوں  پر  تین  ہزار  سے  زائد  نوٹس  جاری  کیے  جن  میں  سے  صرف  ڈیڑھ  سو  کا  جواب  میسر  آیا۔

آڈیٹر  جنرل  نے  پاک  فضائیہ  کی  کراچی  میں  واقع  فیصل  بیس  کے  سربراہ  سے  درخواست  کی  کہ  سرکاری  جہاز وں  C-130  پر  فوجی  اداروں  کے  کارکنان  اور  انکے  خاندانوں  کو  سوار  کر  کے  ہر  ہفتے  اسلام آباد  لے  جانے  کا  سلسلہ  بند  کیا  جائے  کیونکہ  اس  وجہ  سے  رواں  سال   قومی  خزانے  کو  چوالیس(44)  کروڑ  روپے  کا  نقصان  اٹھانا  پڑا  ہے۔  اسی  ضمن  میں  یہ  امر  قابل ذکر  ہے  کہ  فوجی  تعمیراتی  ادارے    FWO   کو  نجی  تعمیراتی  اداروں  کے  برعکس  ٹیکس  چھوٹ  حاصل  ہے۔

کراچی  کے  علاقے  قیوم آباد  میں  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  کے  ملازم  مقامی  لوگوں  کو  وہاں  موجود  قدیم  قبرستان  میں  مردے  دفن  کرنے  سے  روک  رہے  ہیں  کیونکہ  اس  جگہ  کو  ہتھیانے  کا  منصوبہ  بنایا  جا  چکا  ہے۔  کراچی  ہی  کے  علاقے  غازی  کریک  میں  ڈیفنس  فیز  سیون(7)  اور  ایٹ(8)  سے  ملحقہ  علاقہ  پر  قبضہ  جاری  ہے  اور  اگر  یہ  منصوبہ  جاری  رہے  تو  اس  کریک  کے  اردگرد  490  ایکڑ  رقبے  پر  پھیلے  چمرنگ(Mangroves)  کا  صفایا  ہو  جائے  گا۔  لاہور  میں  واقع  ڈیفنس  ہاؤسنگ  اتھارٹی  اب  گوجرانوالہ،  ملتان  اور  بہاولپور  میں  اپنی  شاخیں  قائم  کر  رہی  ہے۔  

 فوج  کے  پچھلے  کمانڈر  کے  برادر  محترم  پراپرٹی  کے  کاروبار  میں  ملوث  تھے  اور  آئی  ایس  آئی  کے  نئے  سربراہ  کے  بھائی  کو  پی آئی اے  میں  کروڑوں  روپے  ماہانہ  کی  تنخواہ  پر  تقرر  کیا  گیا  ہے۔  برطانوی  راج  کے  دور  میں  سرکار  فوجیوں  میں  زمین  بانٹتی  تھی  تاکہ  انکی  اور  انکے  خاندانوں  کی  وفاداری  حاصل  کی  جائے۔ سامراجی  دور  میں  قانون  بنا  کہ  حکومت  ملک  کے  کسی  بھی  علاقے  کو  ’قومی  مفاد‘  کے  نام  پر  شہریوں  سے  خالی  کرا  سکتی  ہے۔  یہ  قانون  ابھی  تک  ہمارے  ملک  میں  رائج   ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

پرویز مشرف کے دور میں فوج کو براہِ راست حکومت کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اب فوج براہِ راست حکومت میں آنے سے کتراتی ہے۔ مگر اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتی اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری جیسے تماشے لگائے رکھتی ہے۔ زرداری کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل ہوا کرتی تھی۔

ایوب  خان  کے  دور  میں  فوجی  افسران  کو  زمین  بانٹنے  کا  سلسلہ  شروع  ہوا۔پہلے  پہل  اس  ضمن  میں  سرحدی  علاقوں  کے  قریب  زمین  حاضر  سروس  یا  ریٹائر  فوجی  اہلکاروں  کے  نام  لگائی  جاتی  تھی  تاکہ  بھارت  کی  جانب  سے  جارحیت  کی  شکل  میں  ابتدائی  مدافعت  کی  جا  سکے۔اس  دور  میں  ایک  مارشل  لاء  حکم  کے  تحت  سرکاری  ملازمین  پر  ایک  سو  ایکڑ  سے  زیادہ  زمین  رکھنے  پر  پابندی  عائد  کر  دی  گئی  البتہ  فوج  کے  ملازمین  پر  یہ  حکم  لاگو  نہیں  تھا۔لیہّ  کے  علاقے  چوبارہ  میں  بیس  ہزار  ایکڑ  زمین،  ایک  سو  چھیالیس (146)  روپے  فی  ایکڑ  کے  حساب  سے   فوجی  ملازمین  کو  سنہ 1982ء  میں  عطا  کی  گئی۔  اسی  تحصیل  کے  علاقے  رکھ  جدید  میں  چالیس  ہزار  ایکڑ  زمین  ملتے  جلتے   داموں  2007 ء  میں   فوجی  ملازمین  کے  نام  کی  گئی۔ پنجاب  ریونیو  بورڈ  کی  دستاویزات  کے  مطابق  1990ء  سے  2010ء  کے  دوران  صوبے  کے  تین  اضلاع (اوکاڑہ،  بہاولپور  اور  خانیوال)  میں  ایک  لاکھ  ایکڑ  زمین  فوج  کے  حوالے  کی  گئی۔ راجن پور  میں  فرید  ایئر  بیس  سے  ملحقہ  335  ایکڑ  زمین  پاک  فضائیہ  نے  ہتھیا  رکھی  ہے  اور  اس  زمین  پر  استعمال  کیا  جانے  والا  پانی  فتح پور  نہر  سے  چرایا  جاتا  ہے۔

پنجاب  حکومت  نے  سنہ 1913ء  میں  نو  مختلف  اضلاع(ملتان، خانیوال، جھنگ، سرگودھا، پا ک پتن، ساہیوال، وہاڑی، فیصل آباد  اور  لاہور)  میں  اڑسٹھ(68)  ہزار  ایکڑ  رقبہ  مختلف  سرکاری  محکموں  کو  کرائے  پر  دیا  جس  میں  سے  چالیس  فیصد  رقبہ  فوج  کے  پاس  تھا۔سنہ 1943ء  کے  بعد  سے  پنجاب  حکومت  کو  اس  زمین  کی  مد  میں  ایک  پیسہ  بھی  کرایہ  نہیں  ملا۔ 

 پاکستان  ریلوے  سے  فوج  کی  یاد اللہ پرانی  ہے۔ سنہ 1978ء  میں  کراچی  بندرگاہ  پر  فوج  کو  مقامی  انتظامیہ  کی  مدد کیلئے  تعینات  کیا  گیا  لیکن  کچھ  ماہ  بعد  یہ  بندوبست  ختم  ہو  گیا۔  اس  دوران  فوج  نے  نیشنل  لاجسٹک  سیل (NLC)  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  کے  بعد  سے  ملک  میں  سامان  کی  ترسیل  کا  کام  ریلوے  کی  بجائے  فوج  کے  ادارے  نے  شروع  کر  دیا  اور  بہت  جلد  ریلوے  کا  دیوالیہ  نکل  گیا۔ صرف  مالیاتی  سطح  پر  ہی  نہیں،  فوجی  اداروں  نے  ریلوے  کی  کئی  ہزار  ایکڑ  زمین  بھی  ہتھیا  لی،  جس  میں  سے  ایک  ہزار  ایکڑ  پاک  فوج  جبکہ  پانچ  سو  ایکڑ  زمین  رینجرز  سے  سپریم  کورٹ  کے  حکم  کے  بعد  واپس  لی  گئی۔  البتہ  اب  بھی  کم از کم  دو  ہزار  ایکڑ  زمین  ان  اداروں  کے  قبضے  میں  ہے۔  کچھ  عرصہ  قبل  NLC  نے  ریلوے  کی  نجکاری  کیلئے  مہم  شروع  کی  اور  اس  سلسلے  میں  کوریا  سے  کچھ  سامان  بھی  منگوا  لیا  لیکن  ریلوے  ملازمین  کی  مزاحمت  کے  باعث  ابھی  تک  یہ  سلسلہ  شروع  نہیں  ہو  سکا۔  سنہ  2012 ء  میں  قومی  اسمبلی  کی  خصوص  کمیٹی  نے  لاہور  میں  ریلوے  کی  ایک سو چالیس  ایکڑ  زمین  پر  غیر قانونی  طور  پر   قائم شدہ  گالف  کلب  کے  مسئلے  میں  تین  جرنیلوں  کو  مورد  الزام  ٹھہرایا۔  کمیٹی  کی  تحقیقات  کے  مطابق  اس  عمل  سے  ملکی  خزانے  کو  پچیس  ارب  روپے  کا  نقصان  پہنچا۔     

فوج  کے  ماتحت  ایک  ادارہ  رینجرز  نام  کا  بھی  ہے  جس  کی  بے ظابطگیاں  اور  کرپشن  کی  داستانیں  عوام  تک  بہت  کم  پہنچتی  ہیں۔ رینجرز  کی  بنیادی  ذمہ داری  پاکستان  اور  بھارت  کے  مابین  عالمی  سرحد  کی  نگرانی  کرنا  ہے۔ تحصیل  سیالکوٹ  میں  کسی  کسان  یا  زمیندار  کو  نالوں  کے  کناروں  سے  مٹی  چاہئے  تو  ہر  ٹرالی  پر  سو  روپیہ  ’کرایہ‘  رینجر ز  کو  دینا  ہوتا  ہے۔ شیخوپورہ  میں  رینجرز  اہلکار  مٹی  کی  ایک  ٹرالی  چار  سو  روپے  کے  عوض  بیچتے  ہیں۔بہاول نگر، شیخوپورہ  اور  سیالکوٹ  میں  شکار  کیلئے  رینجرز  کی  گاڑیاں  استعمال  ہوتی  ہیں  اور  شکار  پارٹیوں  کا  بندوبست  بھی  رینجرز  اہلکار  کرتے  ہیں۔ شکر گڑھ  میں  رینجرز  اہلکار  ایک  شادی  ہال  چلا  رہے  ہیں۔ رحیم یار  خان  میں  ان  شہزادوں  نے  شاپنگ  مال (جسکا  نام  روہی  مارٹ  ہے)  کھول  رکھا  ہے۔ 

بہاول نگر  اور  بہت  سے  سرحدی  علاقوں  میں  رینجرز  کئی  سال  تک  پیپسی  جیسا  ایک  مشروب  بیچتے  رہے  اور  کچھ  عرصہ  قبل  اس  کے  خلاف  کارروائی  ہوئی۔ بدین  اور  ٹھٹھہ  کے  مچھیروں  پر  رینجرز  نے  اپنی   مرضی  کے  ٹھیکے دار  مسلط  کرنے  کی  کوشش  کی  جسکے  خلاف  مقامی  آبادی  میں  احتجاجی  تحریک  کا  آغاز  ہوا۔      

ظلم  کی  انتہا  ہے  کہ  فوجی  بھائی  اور  انکے  خاندان  تو  چھٹیاں  بھی  سرکاری  خرچ  پر  فوج  کے  میس  اور  گیسٹ ہاؤسوں  میں  گزارتے  ہیں  اور  ریٹائر شدہ  فوجیوں  کی  تنخواہ  سویلین  بجٹ  سے  کٹتی  ہے۔  تیرے  دیوانے  جائیں  تو  کدھر  جائیں؟  فوجی  اہلکاروں  سے  پوچھا  جائے  تو  فوری  طور  پر  قومی  مفاد  کی  لال  جھنڈی  لہرانا  شروع  ہو  جاتے  ہیں،  کیونکہ  آخرکار  قوم  کا  مفاد  فوج  کے  مفاد  میں  ہی  تو  پنہاں  ہے۔  پاکستان  کی  ساٹھ  فیصد  آبادی  شدید  غربت  میں  زندگی  گزار  رہی  ہے،  اسّی  فیصد  آبادی  کو  صاف  پانی  میسر  نہیں،  کروڑوں  بچے  تعلیم  کی  نعمت  سے  محروم  ہیں،  پبلک  ٹرانسپورٹ  نامی  کوئی  چیز  ہمارے  ہاں  موجود  نہیں  لیکن  فوج  کے  پاس  اعلیٰ  ترین  ہتھیار  تو  ہیں،  ایٹم  بم  تو  ہے،  میزائل  تو  موجود  ہیں،  تنخواہ  تو  مل   رہی  ہے۔ استاد  دامن  نے  یونہی  تو  نہیں  کہا  کہ  پاکستان  وچ  موجاں  ای  موجاں،  جدھر  ویکھو  فوجاں  ای  فوجاں۔

کچھ  دوستوں  کو  اعتراض  ہے  کہ  سیاست دان  فوج  سے  زیادہ  کرپٹ  ہیں  اور  یہ  کہ  دیگر  ممالک  جیسے  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  بھی  فوج  کے  اخراجات  بہت  زیادہ  ہوتے  ہیں۔  لیکن  عرض  ہے  کہ  امریکہ  یا  برطانیہ  یا  چین  میں  افواج  سیاست دانوں  کی  کنپٹیوں  پر  ہمہ وقت  بندوق  تانے  موجود  نہیں  ہوتیں اور  نہ  ہی  وہاں  جرنیل  ریٹائر  ہونے  کے  بعد  ملکی  مفاد  کے  مامے  بن  کر  سرعت  سے  ٹی وی  سکرینوں  پر  نمودار  ہوتے  ہیں۔ چین  یا  امریکہ  کے  جرنیلوں  نے  پچھلے  ستر  سالوں  میں  اپنی  حکومتوں  کے  خلاف  گیارہ  تختہ  الٹنے  کی  سازشوں  میں  حصہ  نہیں  لیا  اور  اگر  وہاں  فوج  کے  اخراجات  پر  خرچ  ہوتا  ہے  تو  ان  ممالک  کی  معیشت  اس  قابل  ہے۔  ہماری  معیشت  کے  بارے  میں  مثل  مشہور  ہے  کہ  ننگی  کیا  نہائے  گی  اور  کیا  نچوڑے  گی۔

 رہی  بات  کرپشن  کی  تو  سیاست دانوں  کو  تو  سنہ 58ء  سے  کرپشن  کے  الزامات  میں  ملوث  کر  کے  سیاست  سے  دور  کرنے  کی  کوششیں  کی  جاتی  رہی  ہیں،  آج  تک  کوئی  حاضر  سرو س  تو  کیا،  ریٹائر  جرنیل  بھی  کرپشن  کے  الزام  میں  جیل  گیا  ہے؟  مہران  بنک  سکینڈل  میں  عدالت  اپنا  فیصلہ  سنا  چکی  ہے،  کیا  ان  ریٹائر  جرنیلوں  کو  جیل  بھیجا  جا  سکتا  ہے؟  ایف  سی  کے  سربراہ  کو  عدالت  نے  طلب  کیا  تھا  تو  عارضہ ء  دل  کا  بہانہ  بنا  کر  رخصت  لے  لی  گئی  تھی،  ان  کے  خلاف  انصاف  اسلام آباد  کے  محلہ  کنٹینر پورہ  میں  کیوں  نہیں  مانگا  جاتا؟  تبدیلی  کے  متوالے  سیاسی  کرپشن  کے  ہی  درپے  کیوں  ہیں؟  فوج  کی  بے پناہ  کرپشن  کے  بارے  میں  تحریک  انصاف  کے  کسی  محلے  لیول  کے  کارکن  کی  جانب  سے  بھی  کبھی  بیان  جاری  نہیں  ہوا۔

آبی جارحیت کا چورن


hafiz-saeed-share-pakistanمنافقت کی دنیا میں حقائق اکثر مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ہی آج کل ہمارے ایک مہربان ہر وقت بھارت کی آبی جارحیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ حافظ سعید صاحب کا تعلق پہلے لشکرِ طیبہ سے تھا ، جب لشکرِ طیبہ کو عالمی سطح پر دہشت گرد جماعت قرار دے دیا گیا تو حضرت نے چولا بدلا اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ بن گئے اور یہ معجزہ ہمارے بہت سے لبرل دوستوں کی آنکھوں کے تارے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے ہر دلعزیز جرنیل جناب پرویز مشرف کے دور میں پیش آیا۔ پھر جماعت الدوۃ پر بھی پابندی لگ گئی تو موصوف نے ایک بار پھر چولا بدلا اور فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربرا ہ بن گئے۔

لشکرِ طیبہ/جماعت الدعوۃ /فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن کا دانہ پانی کشمیر میں نام نہاد آزادی کی جدو جہد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ چنانچہ موصوف کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان سے غداری نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے باقاعدہ بجٹ میں ان کے ادارے کے لئے ہر سال لگ بھگ دو کروڑ روپیہ مختص ہونے کے باوجود نواز شریف کے ہندوستان سے دوستی کے سپنے کو ڈراؤنا خواب بنا دینے کی پوری کوشش کر تے رہتے ہیں۔

ان کے آقا بھی وہی ہیں جو حکومت کی واضح پالیسی کے باوجود جیو نیوز کو کیبل پر نہیں چلنے دے رہے۔ اور ان کے آقا بھی اس قدر طاقتور ہیں کہ پرویز مشرف کا دور ہو، آصف زرداری کا دور ہو یا اب نواز شریف کا ، امریکہ کا دباؤ ہونے کے باوجود ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ موصوف کو پرائیویٹ ٹی وی چینل (بشمول جیو) پرائم ٹائم میں پروجیکشن بھی دیتے ہیں۔

حضرت صاحب کافی عرصے سےبھارت کی طرف سے  آبی جارحیت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ آج کل کے سیلاب کے بعد یہ چورن انہوں نے زیادہ ہی زور و شور سے بیچنا شروع کر دیا ہے ۔Hafiz-Saeed-GEO2

دوستو!…بات یہ ہے کہ  اگر ہم موجودہ سیلاب کو ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت تسلیم کر لیں تو پھر ضلع جھنگ کو ضلع سیالکوٹ کے خلاف بھی رپٹ درج کرادینی چاہئے کہ سیالکوٹ نے آبی جارحیت کر دی؟ صوبہ سندھ کو جلد ہی پنجاب کے خلاف مقدمہ کر دینا ہوگا کہ پنجاب نے سندھ کے خلاف آبی جارحیت کر ڈالی؟ ۲۰۱۰ میں پختونخواہ نے پنجاب اور سندھ کو ڈبو دیا تھا؟  

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بھارت آبی جارحیت کربھی رہا  ہے  تو کیا ہم بھارت کے خلاف جنگ کرکے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟ یہ بات تو ہمارے بزرگوں کو پاکستان بناتے وقت سوچنی چاہئے تھی کہ اسلام کے قلعے کو پانی کہاں سے فراہم کریں گے؟ اگر اسلام کے قلعے کے سارے دریا سیکولر بھارت سے آتے ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات درست رکھنے ہوں گے کہ نہیں؟ (ویسے ایک سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ بھارت سے آنے والا ہندو پانی  ہمیں اپنی مسلمان فصلوں کو دینا چاہئے بھی کہ نہیں؟ کیا اس ہندو پانی سے سیراب ہونے والی فصلیں مسلمانوں کے لئے حلال ہیں کہ نہیں؟)کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ بھارت سے اپنی شرائط منوا سکیں؟ کیا یہ مذہبی جماعتوں والے مل کر باجماعت دعائیں کر کے دریاؤں کے رُخ موڑ سکتے ہیں؟

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوجائیں تواس سے بر صغیر کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کوفائدہ ہوگا۔ ہاں اُن لوگوں کے لئے یقیناً بڑی مشکل ہوگی جن کا دانہ پانی ہندوستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے اور حافظ صاحب یقیناً انہی لوگوں میں سے ہیں۔ سو جب حافظ صاحب ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو پاکستان کے ساتھ غداری کہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے وہ بس اپنے آپ  ہی کو پاکستان سمجھتے ہیں۔

جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

ہماری فوج کا وقار


waqarحال ہی میں ہمارے نئے سپہ سالار کو اچانک فوج کا وقار خطرےمیں نظر آیا اور انہوں نے ایک بیان داغ دیا کہ فوج کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔

لالا جی تب سے سوچ رہےہیں کہ جنرل صاحب فوج کا وقار کس چیز کو کہ رہے ہیں۔ہماری فوج بڑی دلچسپ فوج ہے۔

ہماری فوج کا وقار کس بات سے مجروح ہو جائے گا اور کس بات سے نہیں اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں کے ان واقعات پر نظر ڈالیں:

  1. مہران بیس پر طالبان حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹے وہاں لڑائی چلتی ہے۔ اربوں روپے کے اثاثے تباہ ہوتے ہیں جن میں ایک جدید طیارہ بھی شامل ہے۔ مگر ہماری فوج کی طرف سے وقار کے تحفظ کا کوئی بیان سامنے نہیں آتا۔
  2. کامرہ ائیر بیس پر حملہ ہوتا ہے۔ ویسا ہی تماشا لگتا ہے مگر ہماری فوج کے وقار کو کچھ نہیں ہوتا۔
  3. آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے ہوتے ہیں مگر ہماری فوج کے وقار کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔
  4. حد تو یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے تو ملک اسحٰق کو جنرل کیانی کے جہاز میں حملہ آوروں سے مذاکرات کے لئے لایا جاتا ہے۔ تاہم فوج کا وقار قائم و دائم رہتا ہے۔
  5. امریکی فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد تک آتے ہیں، اپنا مشن مکمل کر کے چلے جاتے ہیں ہماری فوج کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔ (گر ہم مان لیں کہ وہاں اسامہ نہیں تھا، تب بھی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ امریکی ہیلی کاپٹر ہمارے ملک میں آئے تھے اور چلے گئے، ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔ حالانکہ ہماری ایجنسیوں کو ہمارے سیاستدانوں کی نجی زندگی کی ہر تفصیلی بشمول اُن کی گرل فرینڈز، رکھیلوں اور رنڈیوں سے تعلقات کی تصاویر تک اکٹھی کر لی جاتی ہیں)۔
  6. چلیں یہ سارے واقعات تو سابقہ سپہ سالار کے دور میں ہوئے مگر ایف سی اہلکاروں کے گلے تو حال ہی میں کاٹے گئے۔ اُس وقت بھی وقار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی بڑھک سننے کو نہیں ملی۔

وقار کا تحفظ اُس وقت یاد آیا جب پرویز مشرف کے خلاف کچھ سیاستدانوں نے اناپ شناپ بک دیا۔ بس جان کی امان کی درخواست کے ساتھ چھوٹی سی گزارش ہے کہ وقار سب اداروں کو ہوتا ہے۔ ملزموں کو اپنے ہسپتالوں میں چھپا کر رکھنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کو پال کر فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر بلا شرکتِ غیرے فیصلے کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ بنک چلانے، کھادیں اور سیمنٹ بنانے یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے سے فوج کا وقار بلند نہیں ہوگا۔ اگر سچ مچ آپ کو فوج کے وقار کا تحفظ مقصود ہے تو فوج کی توجہ واپس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف موڑ دیجئے اور بس۔

آخری بات:

سیاستدان بھی ہوش کے ناخن لیں۔ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ غیر ضروری بڑھکیں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قیدی کو للکارنا کوئی بہادری نہیں اور "مرد کا بچہ بن” جیسے جملے نچلے درجے کے گلی محلے کے غنڈے بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وزیروں کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔

ہماری حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، یا ناکام بنائی جاتی ہیں؟


ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کو باقی حالات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ انتخابات کے لئے چلنے والی مہم سے لے کر نئی حکومتوں کے قیام اور ان کے فورًا بعد ہونے والی قتل و غارت میں کافی پیغام ہے ہمارے لئے۔ موجودہ حکومتوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ان کی ناکامی کے حوالے سے فرمان جاری ہو گئے ہیں۔ آخر کون ہے جو عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ناکام کرنے پر تُلا ہوا ہے؟ اس کے لئے کوئی بہت راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے آنے سے کس کا بھلا ہوتا ہے، کون عیاشی کرتا ہے، کون ہمارےوسائل پر بلا شرکتِ غیرے قابض ہو جاتا ہے اور اس کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتا۔

mur

میر مرتضیٰ بھٹو… بے نظیر بھٹو کا بھائی جو بےنظیر بھٹو کے اپنے دورِ اقتدار میں قتل ہوا۔

ہم (بشمول لالاجی) اکثر اپنی تمام برائیوں کی جڑ فوج کو قرار دیتے ہیں (اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے) مگر بنیادی طور پر غلطی سیاسی قوتوں ہی کہ ہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور آپس کی کھینچا تانی کی وجہ سے پہلے پاکستان پر بیورکریسی سوار ہوئی جس کی مثالیں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی موجودگی میں غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کا جناح کے بعد گورنر جنرل بن جانا ہے، اور اس کے بعدایک اور بیورکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل بن گیا۔ یہ سیاستدانوں ہی کی نا اہلی تھی کہ بیوروکریسی سے معاملات اپنے ہاتھ میں واپس لینے میں اس قدر ناکام رہے کہ پھر معاملات فوج کے ہاتھ میں چلے گئے اور ہم نے مشرقی پاکستان تک گنوا دیا۔

بھٹو نے سیاسی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے جرنیلوں کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا موقع فراہم کیا جس کی سزا نہ صرف بھٹو نے بھگتی بلکہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسامہ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر کمیشن بٹھایا اور اُس کمیشن کی رپورٹ دبائے رکھی جو آخر کار الجزیرہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ اب بھی اُس رپورٹ میں ہمیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اسامہ کس کس کی مدد سے ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔

اس مختصر سے وقت میں بھی نواز شریف اور عمران خان کے لئے کافی اسباق موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور آپس میں کھینچا تانی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں۔ اُن قوتوں کو پہچانیں جو ہماری ہر حکومت کو ناکام بناتی آئی ہیں ۔

آصف زرداری نے بھی نئی حکومت بننے کے بعد پہلے پہل نواز شریف کے ساتھ سینگ پھنسائے تھے اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس کے بعد اس نوعیت کی کوئی حرکت نہیں کی گئی حتیٰ کہ شہباز شریف کے ناقابل برداشت بیانات پر بھی زرداری صاحب خاموش رہے۔ آج سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے اور پیپلز پارٹی کو ٹائٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گورنر راج کا بھی دبے لفظوں میں ذکر ہو رہا ہے۔پنجاب کے وزیرِ قانون نے پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں حال ہی میں لشکرِ جھنگوی والے پولیس والوں کو یرغمال بنا کر اُن کے بدلے اپنے بندے چھڑا کر لے گئے ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایجنسیوں نے فوری طور پر یہ خبر تو چلوا دی کہ حملے کی اطلاع پہلے ہی سول انتظامیہ کو دے دی تھی تاہم کوئی بھی یہ تحقیق نہیں کرے گا (عمران خان بھی یہ سوال نہیں اُٹھا رہا) کہ ۱۰۰ دہشت گرد وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور ڈھائی سو لوگوں کو ساتھ لے کر واپس بھی پہنچ گئے۔ وزیرستان میں موجود فوج وہاں کیا کر رہی تھی؟ وہاں کے فوجی کمانڈر کو ڈی ایچ اے میں گھر مل جائے گا اور جب کبھی وہ مرے گا پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا۔

ہماری تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پہلے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور مل کر اُسے زیر کریں۔ اس ملک پر حکمرانی کرنا، اس ملک کی خارجہ پالیسی بنانا، اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے ، یہ سب فیصلے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب کام وہ لوگ کریں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں۔ جنہوں نے اور نہیں تو کم از کم پانچ سال بعد ہمارے سامنے آنا ہوتا ہے، ہم سے ووٹ مانگنا ہوتا ہے۔جنہیں ہم پانچ سال بعد ٹھینگا دکھا سکتے ہیں (جیسا کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کوحالیہ انتخابات میں دکھایا ہے) یہ سارے فیصلے ہم ایسے لوگوں کےہاتھوں میں نہیں رہنے دینا چاہتے جن کی نہ ہم شکلوں سے واقف ہیں نہ کرتوتوں سے۔ جو ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر ہم اُنہیں پانچ سال تو کیا پچاس سال بعد بھی ہٹا نہیں سکتے جب تک کچھ لاشیں نہ گر جائیں، کچھ خون نہ بہ جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آتی ہے۔