امت مسلمہ کے لئے مشورہ


فوٹو: رضوان تبسم (اے ایف پی)۔۔۔ پشاور ۱۸ ستمبر ۲۰۱۲

 پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ "ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ "ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

"یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
"آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

"نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

 بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

 جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

 جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

 جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

 خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید  پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

 ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت "ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، "ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

 بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے "ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان "شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

اسلامی بنکنگ بمقابلہ غیر اسلامی بنکنگ


[نوٹ: ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ اس مضمون میں دیے گئے اعداد وشمار درست ہوں۔ تاہم اگر کسی قسم کی غلطی پائی جائے تو اُس کے لئے پیشگی معذرت۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگرآپ کسی بنک سے لین دین کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ہمارے دیے گئے اعدادوشمار پر انحصار نہ کریں بلکہ خود متعلقہ بنک کے عملے سے رابطہ کر کے تازہ ترین اعدادو شمار حاصل کریں۔]

اعدادو شمار اکٹھے کرنے لئے پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی کے نعمان نے اہم کردار ادا کیا

پچھلے چند برسوں میں اسلامی بنکنگ کا کافی چرچا سن کر اور حال ہی میں ٹیلی ویژن پر "شریعت میں برکت ہے” کا اشتہار بھی دیکھا تو سوچا کیوں نا عام آدمی کے لئے اسلامی بنک اور غیر اسلامی بنک سے لئے گئے قرضے کی واپسی کا فرق جان لیا جائے تاکہ یہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے کہ عام آدمی کےلئے ان دونوں اقسام کے بنکوں میں کیا فرق ہے۔

چنانچہ میں نے کچھ دوستوں کی مدد سے ایک چھوٹا سا سروے کیا۔ چونکہ بنکوں کے معاملات میں بہت سے اعدادو شمار اکٹھے کرنے پڑتے ہیں اور پھر ان کو سمجھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ چنانچہ عام آدمی ان اعداد وشمار کے ہیر پھیرمیں پھنس جاتا ہے اور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔اسی لئے ہم نے اعدادو شمار کو آسان رکھنے کے لئے یہ کیا کہ ہر بنک سے جا کر یہ  درخواست کی کہ ہم ہونڈا سٹی کار (ماڈل ۲۰۱۱)خریدنا چاہتے ہیں۔ کار کی قیمت تیرا لاکھ ستانوے ہزار پانچ سو روپے ہے۔ ہم ۲۰ فیصد رقم بطور ڈاؤن پیمنٹ ادا کرسکتے ہیں۔ گویا ہمیں بنک سے دراصل گیارہ لاکھ اٹھارہ ہزار روپے قرض درکار ہے۔ ہم قرض کی یہ رقم تین سال میں برابر ماہانہ اقساط میں بنک کو واپس کر دیں گے۔

ہم نے یہ تجویز چار بنکوں (دو اسلامی بنک اور دو غیر اسلامی بنک) کے نمائندوں کے سامنے رکھی اور پوچھا کہ یہ قرض حاصل کرنے کے لئے ہمیں کتنی فیس ادا کرنی ہوگی، دیگر اخراجات کیا کیا ہوں گے اور ماہانہ قسط کتنی دینی پڑے گی تاکہ یہ رقم تین سال میں مکمل طور پر واپس ہو جائے۔

ان بنکوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ہم نے درج ذیل جدول میں پیش کردیا ہے۔ اس کے پہلے  کالم میں بنک کا نام اور دوسرے کالم میں گاڑی کی قیمت درج ہے۔ تیسرے کالم میں بنک کو ادا کی گئی کُل رقم درج کر دی گئی ہے۔ اس رقم میں بنک  فیس، انشورنس کی رقم، ڈاؤن پے منٹ اور تین سالوں میں ادا کی گئی ماہانہ اقساط شامل ہیں۔ چوتھے کالم میں ادا کی گئی کُل رقم میں سے گاڑی کی قیمت تفریق کر کے بنک کو ادا کی جانے والی اضافی رقم درج ہے۔ اس اضافی رقم کے بدلے میں بنک جو خدمات ہمیں فراہم کرتا ہے ان میں گاڑی کی خریداری کے لئے قرض کی رقم، انشورنس کی فیس اور گاڑی نکلوانے کے لئے پروسیسنگ کی خدمات شامل ہیں۔

بنک کا نام

گاڑی کی قیمت

ادا کی گئی کل رقم

ادا کی گئی اضافی رقم

بنک الفلاح

13,97,500

17,94,548

3,97,048

یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ

13,97,500

18,87,828

4,90,328

دبئی اسلامی بنک

13,97,500

18,55,219

4,57,719

میزان بنک

13,97,500

19,73,828

5,76,328

جدول سے ظاہر ہے کہ قرض لینے والے فرد کو اصل زر کے علاوہ کافی بڑی رقم بنک کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ میزان بنک کو تو اصل قیمت کے علاوہ پونے چھ لاکھ روپے اضافی دینے پڑتے ہیں حالانکہ یہ ایک اسلامی بنک ہے۔ اس کے مقابلے میں دبئی اسلامی بنک کو ساڑھے چار لاکھ سے کچھ اوپر اضافی رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ غیر اسلامی بنکوں میں سے یونائیٹڈ بنک چار لاکھ نوے ہزار اور بنک الفلاح لگ بھگ چار لاکھ روپے اضافی وصول کرتے ہیں (دیکھئے چارٹ "اضافی رقم”)۔ 

بنکوں کو ادا کی گئی اضافی رقم کا تقابلی گراف

فرق صرف یہ ہے کہ غیر اسلامی بنک اس اضافی رقم کو سود کہتےہیں جبکہ اسلامی بنک کہتے ہیں کہ وہ گاڑی کا کرایہ وصول کرتے ہیں سود نہیں۔ اسلامی بنکوں کے نمائندوں کے مطابق اسلامی بنک کمپنی سے گاڑی خرید کر گاہک کو دے دیتا ہے۔ چونکہ گاڑی بنک کی ملکیت ہے اس لئے بنک گاہک سے گاڑی کا کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہے۔

میزان بنک کے نمائندے سے گفتگو بڑی دلچسپ رہی۔ جب ہم نے کہا کہ کرایہ ہو یا سود ہو، ہماری جیب سے چار پانچ لاکھ روپے اضافی نکل جاتےہیں۔تو ہمیں کیا پڑی کہ ہم اسلامی بنک سے قرض لیں۔ اس پر میزان بنک کے نمائندے نے بڑی دلچسپ بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسلامی اصولوں کے مطابق کس عورت سے نکاح کر کے جنسی تعلق قائم کریں تو جو بچے پیدا ہوں گے وہ جائز بچے ہوں گے ، انہیں معاشرہ قبول کرے گا۔ لیکن اگر ہم نکاح کے بغیر کسی عورت سے جنسی تعلق قائم کریں تو اُس صورت میں جو بچے پیدا ہوں گے انہیں معاشرہ قبول نہیں کرے گا۔دونوں صورتوں میں عمل ایک ہی ہے یعنی  جنسی  تعلق قائم کرنا اور تنیجہ بھی ایک ہی ہے یعنی بچے پیدا ہونا۔ مگر آپ نکاح کے بغیر بچے پیدا کرنے کو ترجیح نہیں دیں گے۔ 

وکیلوں کا اتحاد …. انصاف خطرے میں


عنوان کو دیکھ کر آپ یقیناً چونک گئے ہوں گے۔ ہم ہر لمحہ اپنی قوم میں پائی جانے والی تقسیم سے پریشان رہتے ہیں اور ہر کوئی اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیتاہے۔ مگر یہاں ایک لکھاری آپ کو خبردار کر رہاہے کہ وکیلوں کا اتحاد انصاف کے لئے خطرہ ہے۔ بھلا اتحاد اتنی بری شے کیسے ہو سکتی ہے کہ اس سے انصاف خطرے میں پڑ جائے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کے مناظر تو آپ نے دیکھے ہوں گے۔ ایسے واقعات ہمارے میڈیا میں بارہا رپورٹ ہو چکے ہیں۔ وکیلوں نے پولیس اہلکاروں کو مارا پیٹا، میڈیا کے لوگوں کو مارا پیٹا اور اُن کے کیمرے توڑے، ایک بار تو ایک جج کو تھپڑ مار دیا۔ تاہم ایسے وکیلوں کے خلاف کبھی کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

تاہم میں دو ایسے واقعات کا ذکر کر رہا ہوں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ پہلے واقعہ ضلع چکوال کا ہے جہاں ایک کم عمر بچے کو ایک شخص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ بچے کے والدین نے اس واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں کردی۔ جب مقدمہ چلنے کی نوبت آئی تو بچے کے والدین کے لئے عجیب مشکل آن کھڑی ہوئی۔ کوئی بھی وکیل اُن کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مقدمے میں نامزد ملزم چکوال کی ایک خاتون وکیل کا بھائی تھا۔ باقی وکیل یہ مقدمہ لڑ کر وکلاء کے درمیان کسی قسم کی بد مزگی نہیں پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ وکلاء کا اتحاد خطرے میں نہ پڑ جائے۔ چنانچہ آج بھی بچے کے والدین انصاف کے منتظر ہیں۔

باکل اسی قسم کا ایک کیس حال ہی میں پشاور میں چل رہا ہے۔ پشاور کے ایک وکیل نے پہلی بیوی سے چھپ کردوسری شادی کر لی۔ جب پہلی بیوی کو پتہ چلا تو اس نے دوسری بیوی کو فون کر کے جان سے مار ڈالنےکی دھمکیاں دیں۔ کچھ عرصے کے بعد دوسری بیوی کہیں غائب ہو گئی اور والدین کی کوششوں کے نتیجے میں اس کی لاش مل گئی۔ والدین کی شکایت پر وکیل کے خلاف مقدمہ درج  ہو گیا۔ تاہم جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو والدین کو ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جیسی پہلے کیس میں بچے کے والدین نے دیکھی۔ پشاور بھر میں کوئی وکیل اس مقدمے کی پیروی  کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کیس میں بھی اس بات کا واضح امکان ہے کہ ملزم بری ہو جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کی غنڈہ گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں (حتٰی کہ جج کو تھپڑ مارنے جیسی حرکت سمیت) کسی بھی واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نہیں لیا۔ جبکہ دوسری طرف کسی کے سامان سے  شراب کی بوتل برآمد ہونے پر بھی از خود نوٹس لے لیا جاتا ہے۔ گویا "آزاد” عدلیہ کے از خود نوٹس بھی اپنے جانثاروں کے خلاف نہیں ہو سکتے۔

پاکستان میں یہ رجحان پولیس اور فوج میں تو پہلے ہی پایا جاتا ہے۔ پولیس والے اپنے پیٹی بند بھائیوں کے ہر جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیر تفتیش ملزمان کے تشدد سے قتل جیسے واقعات میں بھی پولیس اہلکاروں کی معطلی اور انکوائیریوں سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ فوجی بھائی پولیس اہلکاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں لہٰذا اگر کہیں اُن پر قانون لاگو کرنے کی کسی نے کوشش کی تو پورا ملک ادھر سے اُدھر ہو جائے گا مگر فوجی بھائیوں کے خلاف قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔ اس کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم سوئی کے مقام پر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے ملزمان آج بھی آزاد ہیں، جبکہ زیادتی کا شکار ہونے والی لیڈی ڈاکٹر آج بھی جلا وطنی کی سزا بھگت رہی ہے۔

بالکل یہی رجحان اب وکلاء میں بھی آگیا ہے۔ اپنی برادری کے لوگوں کو سو خون بھی معاف کردیں گے۔ دوسروں کے ہاتھ سے گلاس بھی ٹوٹ گیا تو بہت واویلا کریں گے۔ وکلاء کی تحریک کاتنیجہ یہ نکلے گا کہ ہمارے ملک میں ایک اور قانون سے بالا تر طبقہ پیدا ہو جائے گا یہ ہمیں معلوم نہ تھا۔

پھر بھی امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالا دستی کا راگ الاپنے والی آزاد عدلیہ اور اس کے بے شمار جاں نثاروں کو کسی دن یہ خیال آ ہی جائے گا کہ قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لئے انہیں اپنے ہی صفوں میں موجود غنڈہ عناصر کو بھی قابو کرنا ہوگا۔ غنڈہ گردی کرنے والے وکیلوں کے لائسنس منسوخ کرنے ہوں گے، اور ظلم کرنے والے وکیلوں کے خلاف خلوص نیت سے مقدمات لڑنے کے لئے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ہم نے اس ملک کو چلانا ہے تو اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کی کچھ واقعات کی تفصیلات کے لئے ذیل میں دیے گئے لکنس پر کلک کریں:

جھنگ میں ڈی پی او کے دفتر پر وکیلوں کا دھاوا

اسلام آباد میں وکیلوں کا تھانے پر حملہ

قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہیں


حال ہی میں میرا واسطہ کیمپ (Community Appraisal and Motivation Network-CAMP)نامی ایک تنظیم سے پڑا۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں بہت کام کیا ہے اور ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بارے  میں سنی سنائی باتوں اورلوگوں کی ذاتی رائے کی بنیاد پر بنی طلسماتی کہانیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کچھ ایسے حقائق آئے ہیں جو سائنسی انداز میں باقاعدہ سروے کر کے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ یہ سروے باقاعدگی سے۲۰۰۸ ، ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ میں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ان سروے کے نتائج کا تقابل کر کے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے رجحانات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں۔

ذیل میں ہم ان کی تازہ ترین رپورٹ )جو ۲۰۱۰ء میں کئے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے( میں سے کچھ دلچسپ انکشافات پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سروے لگ بھگ چار ہزار قبائلی لوگوں سے کیا گیا اور اس میں عورتوں اور مردوں سے سوالات کئے گئے۔ یہ سروے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(FATA) میں بھی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(PATA) میں بھی۔ کیمپ کی اپنی ویب سائٹ پر اس سروے کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے دفتر سے سروے رپورٹس مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ رپورٹس پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

فاٹا کا مستقبل

فاٹا کے لوگوں کے بارے میں پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انداز کے مطابق زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور جیسے ہیں خوش ہیں یا یہ کہ وہ اپنے علاقے میں موجود نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ تاہم کیمپ کے سروے میں جو باتیں سامنے آئیں وہ کچھ یوں ہیں:

  • 31 فیصد لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  • 25 فیصد لوگ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہیں۔
  • صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ایف سی آر کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے

ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) انگریزوں کا بنایا قانون ہے جوآزادی کے بعد چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں کیا گیا۔ اس قانون کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے کچھ یوں ہے:

  •  46فیصد لوگ اس قانون کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں
  • 26 فیصد لوگ اس میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں

یوں لگ بھگ ستر فیصد لوگ اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے چودہ اگست ۲۰۱۱ء کو اس قانون میں بنیادی اصلاحات کر دی ہیں۔ اس بارے میں اسی بلاگ میں دیکھئے …..

سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

لگ بھگ ساٹھ فیصد لوگ یہ چاہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ یہ ذہن میں رکھئے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حال ہی میں موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سر گرمیوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

قبائلی لوگ کس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں

یہ سوال تینوں سالوں میں کئے گئے سروے میں پوچھا گیا اور تینوں سالوں میں ملنے والے جوابات کا تقابلی جائزہ ایک دلچسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قبائلی لوگ سب سے زیادہ بھروسہ ملاؤں یا مذہبی رہنماؤں پر کرتے ہیں۔ تاہم سروے کے تنائج یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۸ میں لگ بھگ 69 فیصد لوگ ملاؤں پر بھروسہ کرتے تھے جو ۲۰۱۰ میں کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئے۔ دوسری طرف پاکستان فوج پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح ایف سی پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح بھی ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی۔ قبائلی بزرگوں پر بھروسے کی شرح ۲۰۰۹ میں ۲ فیصد تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔

فاٹا کے بڑے مسئلے کیا ہیں

عام خیال یہ ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی بندوقوں اور سمگلنگ کے کام میں خوش ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ تقریباً ہر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہےلوگوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو بیان کیا۔لوگوں نے تعلیم کی کمی کو صحت کی سہولیات کی کمی ، امن و امان اور انصاف سے بھی بڑا مسئلہ بتایا ہے۔

فاٹا میں رہنا

۲۰۰۹ میں صرف26 فیصد لوگ فاٹا میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تاہم ۲۰۱۰ میں لگ بھگ 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ فاٹا ہی میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ شرح اس بات کی دلیل ہے کہ فاٹا میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جب یہی سوال کچھ دیر بعد یوں دہرایا گیا کہ کیا آپ کسی اور علاقےمیں رہائش اختیار کرنا پسند کریں گے تو لگ بھگ 58فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور علاقے میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کریں گے۔

فاٹا میں محفوظ ہیں

لگ بھگ 60 فیصدلوگوں کا خیال ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ ہیں۔ اس طرح امن و امان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 51 فیصد لوگوں نےکہا کہ صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم 32فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔

خطرہ کس کس سے ہے؟

سارے پاکستان میں یہ ڈرون حملوں کے حوالےسے بہت شور ہے۔ مگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دہشت گرد تنظیموں کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

  • 41 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑا خطرہ ہیں
  • 15 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ قبائلی جھگڑوں سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
  • 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات سے ان کو خطرہ محسوس ہو تا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو ڈرون حملوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو پاک فوج کی کارروائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

قبائلی لوگوں کے خیال میں خود کش حملہ آور ہندوستان اور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں لگ بھگ 15 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں 21 فیصد قبائلیوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں 7 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور ہندوستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں یہ شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔

 طالبان کون ہیں؟

اس سوال کا جواب یوں ملا

  • 27 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان شرپسند عناصر ہیں
  • 24 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان جاہل لوگ ہیں
  • 18 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان غیر ملکی جنگجو ہیں
  • 5 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان اسلام کے محافظ ہیں
  • 1 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اسی طرح تقریباً 73 فیصد قبائلی لوگ القاعدہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی جہادیوں کا کیا کریں؟

عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

  • 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
  • 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
  • 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
  • 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔

افغان مہاجرین کا کیا کریں؟

89 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین واپس چلے جائیں۔

اس ملک کے لوگوں نے جو بھی بھگتا ہے …کم ہے


آج کل یو ٹیوب کی ایک ویڈیو بہت گردش کر رہی ہے۔ لوگ فیس بک اور سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹوں پر اس ویڈیو پر بات کرہے ہیں۔ عامر لیاقت کو شیطان کہ رہے ہیں۔ اب اُس کی جعلی ڈگریوں پر بھی بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔ اس ویڈیو میں عامر لیاقت حسین اپنے ساتھیوں کو گالیاں بکتا ہے۔ ایک موقع پر ایک خاتون فون پر سوال کر تی ہے کہ اگر کسی عورت کی عزت خطرے میں ہو تو کیا وہ خود کشی کر سکتی ہے۔ جواب دینے والا عالم کہتا ہے کہ یہ بہت "نازک” صورت حال ہے اور لفظ نازک پر "عالم” صاحب کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔
اگرچہ عامر لیاقت کی گفتگو اور اندازواطوار سے پہلے دن ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ایک بہت بونگا سا بہروپیا ہے مگر کیا کیجئے ہماری عوام خاص طور پر خواتین کا جو اس "عالم” کی دیوانی تھیں۔ میں نے کوئی آٹھ برس پہلے کسی دوست سے لاہور میں کہا تھا کہ جس ملک میں "عالم آن لائن” سب سے مقبول پروگرام ہو اس ملک کے لوگوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو جائے کم ہے۔ اور ان آٹھ برسوں میں اس ملک کے لوگوں نے جو کچھ بھگتا ہے وہ کم ہی ہے۔