قصور کا سانحہ اور ہم


rtx1nprjاس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قصور کا سانحہ بہت تکلیف دہ ہے اور ہر کوئی اس کی مذمت کر رہا ہے۔ تاہم ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ محض مذمت سے کام نہیں چلے گا اور ہمیں بحیثیت قوم کچھ سوچنا ہوگا، کچھ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ قصور کا واقعہ محض ایک اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک میں ہونے والے بچوں کے جنسی استحصال کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں۔ 

سب سے پہلے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور یہ سوچیں کہ گزشتہ تیس سے چالیس سال کی مذہبیت نے ہمیں کیا دیا ہے۔ اسلامیات کا مضمون لازمی قرار دیے جانے ، مدرسوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے، اور تبلیغ کے اجتماعات میں بے پناہ شرکت کے باجود ایسا کیا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اور قوم ذلالت کی گہرائیوں میں گرتے چلے جا رہےہیں؟ لالاجی ان وجوہات کا یہاں احاطہ کرنے نہیں جا رہے، بلکہ یہ سوال پوری قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ یہ کام اکیلے لالاجی کے یا کسی بھی فرد کے اکیلے کرنے کا نہیں۔ 

ہم عام طور پر لوگوں سے سنتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جی اپنے بچوں کے لئے کر رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے بچوں کو بہتر زندگی اور بہتر مستقبل دینے کے لئے جدو جہد کر رہا ہے۔ تاہم ہم نے کبھی بھی بحیثیت قوم اور ریاست یہ نہیں سوچا کہ ہم اپنے بچوں کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے (لالاجی میرے یا آپ کے بچوں کی نہیں، سارے پاکستانی بچوں کی بات کررہے ہیں) گلیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بسوں کے اڈوں، مدرسوں، ریلوے اسٹیشنوں اور پبلک پارکوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ 

آخر ہم یہ میٹرو کیوں بنا رہے ہیں؟ ہم نے ایٹم بم کیوں بنایا؟ ہم ہندوستان کے ساتھ کیا مقابلہ کر رہے ہیں؟ ہم روز نت نئے میزائلوں کے تجربات کیوں کیے جارہےہیں؟ کیا ہم یہ سب اپنے بچوں کو تحفظ ، اچھی زندگی اور خوشگوار مستقبل دینے کے لئے کر رہےہیں؟آخر ان بڑے بڑے منصوبوں کا کیا فائدہ اگر ہمارے بچے محفوظ نہیں؟ 

کیا ہم بحیثیت قوم بھی اپنے بچوں کے لئےوہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم انفرادی حیثیت میں کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ یا اپنے بچوں کے لئے کچھ کرنا محض اپنی انفرادی حیثیت میں صرف اپنے بچوں کےلئے کرتے ہیں؟  ہمیں ایک بات اچھی طرح پلے باندھ لینی چاہئے اور وہ یہ کہ اگر ہم اجتماعی طور پر اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کر رہے تو جو کچھ ہم انفرادی طور پر کر رہے ہیں وہ ہمارے بچوں کے تحفظ کے لئے کافی نہیں کیوں کہ ہمارے بچے چھوٹے چھوٹے انفرادی جزیروں پر نہیں اس معاشرے کے سمندر میں رہتے ہیں۔ 

اس واقعہ نے ایک بار ہمارے اس جھوٹ کا پول کھول دیا ہے کہ ہم بہت شرم و حیا والے لوگ ہیں اور ہماری اخلاقیات مغرب سے بہت برتر ہیں۔ لالاجی کو تو بس ساحر لدھیانوی کی نظم یاد آرہی ہے: 

ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟ 

ثناء خوان، تقدیسِ مشرق کو لاؤ

یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منطر دکھاؤ

کیا ہم ایک بار پھر ریت میں سر دے کر یہ کہیں کہ ’نہیں یہ کسی مسلمان کا کام ہو ہی نہیں سکتا‘، ’یہ ہمارے خلاف سازش ہے‘، ’یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے‘۔ ہمارے پاس یہ ایک موقع ہے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا۔ اپنی جھوٹی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر صورت حال کا جائزہ لینے کا اور یہ فیصلہ کرنے کا ہم خود سے بھی اور دنیا سے بھی جھوٹ بولنا بند کر دیں گے۔

ہمیں ایک طرف ملا کو اپنے سر سے اتار پھینکنا ہے جو اس قسم کے جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے یا اس قسم کے جرائم کو چھپانے کی تلقین کرتا ہے (جیسا کہ منور حسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر عورت کے پاس چار گواہ نہیں ہیں تو اسے خاموش رہنا چاہئے)۔ اس واقعہ میں بھی اگر پہلے بچے کے والدین ہی پولیس یا میڈیا کے پاس چلے جاتے تو یہ گروہ اتنی مدت تک سینکڑوں بچوں کو ذلیل نہ کر پاتا۔ جرم کو چھپانا جرم کو ہوا دینا ہے۔ 

ہم بحیثیت قوم جرم کی روک تھام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ جرائم کے لئے سخت سزاؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی بہت سے لوگ مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں کوئی بھی اس بات پر غور کرنے کو تیار نہیں کہ وہ کیا حالات تھے جنہوں نے اس گھناؤنے کھیل کے اتنی لمبی مدت تک جاری رہنے میں مدد دی۔ ایسا کیا کیا جائے کہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔ 

سیکس ایجوکیشن ایک اور اہم چیز ہے جس کے بارے میں کچھ بھی جانے بغیر ہم اس کے سخت خلاف ہیں۔ لالاجی اس حوالے سے پہلے ہی ایک بلاگ "ہمارے مغالطے: سیکس ایجوکیشن میں سیکس کے طریقے سکھائے جاتے ہیں” کے عنوان سے لکھ چکے ہیں (اور یہ بلاگ آئینہ کا سب سے زیادہ پاپولر بلاگ ہے)۔ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ جنس کے موضوع پر بات کرنی ہوگی۔ چنانچہ مہنگے انگریزی میڈیم سکول ہوں یا سرکاری سکول کہیں بھی جنسی تعلیم دینے کی بات کی جائے تو ہمارے کان سرخ ہو جاتے ہیں اور پھر ہم غصے سے پاگل ہو کر بات کرنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں سیکس کے حوالے سے بات کرنا اتنا معیوب نہ سمجھا جاتا، جنسی تعلیم عام ہوتی تو یہ ہمیں یہ صورت حال درپیش نہ ہوتی۔ یہ بچے خودکشیاں کرنے کا نہ سوچ رہے ہوتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اتنی گھٹن نہ ہوتی تو اس طرح کی ویڈیوز بنانے اور انہیں فروخت کرنے کا کاروبار اتنا منافع بخش ہی نہ ہوتا اور لوگ اس کاروبار کی طرف نہ جاتے۔ 

آج بھی اس واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے والوں کی تعداد دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہماری قوم کو اپنے بچوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اس واقعے کے خلاف سخت احتجاج کرے۔ بچوں کی زندگیاں بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ کرے۔ اس صورت حال میں لالاجی کو مستقبل قریب میں پاکستان کے بچوں کے حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے۔ 

Advertisements

معاشرہ، عورت اور بہشتی زیور ۔۔۔ از ڈاکٹر مبارک علی


Bashti zeewarجاگیردارانہ معاشرہ میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ملکیت کی ہوتی ہے۔ جہاں اس کی آزادی’ حقوق اور رائے مرد کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس معاشرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیاجائے جن کے ذریعے عورتوں کو مرد کا تابع اور فرماں بردار رکھا جائے اور اس کی آزادی کے تمام راستے مسدود کردئے جاتے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمان معاشرہ ‘ دو طبقوں میں منقسم تھا۔ ایک اشراف یا امراء کا طبقہ اور دوسرا اجلاف اور عوام کا۔ طبقہ اعلیٰ نے جو ثقافتی و اخلاقی اقدار تخلیق کیں مثلاً ناموس، عزت ، عصمت، شان و شوکت اور آن بان کے بہترین قیمتی سازوسامان، ہیرے جواہرات، ہاتھی گھوڑے اور محلات رکھتا تھا اور نفیس لباس استعمال کرتا تھا وہ اسی طرح اپنے حرم میں خوبصورت عورتیں جمع کرتا تھا جیسے دوسری قیمتی اشیاء اور جس طرح وہ قیمتی اشیاء کی حفاظت کرتا تھا اسی طرح بیگمات کی حفاظت کی غرض سے اونچی اونچی دیواروں کی محل سرائیں تعمیر کراتا تھا اور پہرے پر فوجی و خواجہ سرا رکھا کرتا تھا۔ ان پر پردے کی سخت پابندی ہوتی تھی تاکہ دوسروں کی ان پر نظر نہ پڑے۔ اس نے ناموس حرم، عزت، خاندانی وقار کی اقدار پیدا  کیں۔

 ان جاگیردارانہ اقدار نے معاشرے کے متوسط طبقے کو بھی متاثر کیا لیکن عوام کی اکثریت ان اقدار کو نہیں اپنا سکی کیونکہ معاشی ضروریات انہیں اس بات پر مجبور کرتی تھیں کہ وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر تلاش معاش میں ادھر ادھر جائیں ۔ایک کسان عورت گھر کے کام کے علاوہ مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور تھی۔ شہروں میں غریب خاندان کی عورتیں اعلی ٰطبقے کو ملازمائیں، مامائیں اور مغلانیاں فراہم کرتی تھیں۔ یہ جاگیردارانہ اقدار ایک طبقے تک محدود رہیں جو سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے معاشرے کا اعلیٰ طبقہ تھا۔

مسلمانوں کا یہ جاگیردارانہ معاشرہ سلاطین دہلی اور مغلیہ خاندان کی حکومتوں تک مستحکم رہا۔ اس معاشرے میں عورت کا مقام محض ایک شے کا تھا جو مرد کی ملکیت رہ کر آزادی،خودی اور انا کو ختم کردیتی تھی۔ اس کی زندگی جس نہج پر پروان چڑھتی تھی اس میں وہ بیٹی کی حیثیت سے فرماں برداررہے اور ماں کی حیثیت سے اولادکی پرورش کرے، ان تینوں حیثیتوں میں اس کی خواہشات جذبات ختم ہوجاتی تھیں اسے یہ موقع نہیں ملتا تھا کہ وہ بحیثیت عورت زندگی سے لطف اندوز ہوسکے۔ (۱)

اس جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام حاصل تھا اور اس کی خواہش تھی کہ ان اقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور ایسی صورت پیدا نہ ہو کہ عورت ان زنجیروں کو توڑ کرآزاد ہوجائے۔ لیکن وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان اقدار میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، مغربی خیالات و افکار اور تہذیب اور تمدن نے آہستہ آہستہ ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کو متاثر کرنا شروع کیا۔ ان تبدیلیوں نے قدیم اقدار کے حامیوں کو چونکا دیا ۔یہ حضرات معاشرے میں کسی قسم کی تبدیلی کے مخالف تھے اور خصوصیت کے ساتھ عورت کے مخصوص کئے ہوئے مقام کو بدلنے پر قطعی تیار نہیں تھے۔

اس طبقے کی نمائندگی ایک بڑے عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی(۱۸۶۸ـ۱۹۴۳) نے اپنی تصانیت کے ذریعے عموماً  اور”بہشتی زیور” لکھ کر خصوصاً کی۔ مولانا صاحب کا دور، جدید اور قدیم اقدار کے تصادم کا زمانہ تھا جب کہ قدیم نظام زندگی اور اس کی اقدار اپنی فرسودگی اور خستگی کے آخری مراحل میں داخل ہوکر دم توڑ رہی تھیں اور جدید رجحانات و افکار کی کونپلیں پھوٹنا شروع ہوگئی تھیں۔ مولانا نے آخری بار اس گرتے ہوئے جاگیردارانہ نظام کو مذہبی و اخلاقی سہارے سے روکنے کی کوشش کی اور یہ کوشش بھی کی کہ عورت کو مذہبی بنیادوں کے سہارے اسی مقام پر رکھا جائے جو جاگیردارانہ نظام نے اس کے لئے مخصوص کررکھا تھا۔

عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا نے "بہشتی زیور” کے دس حصے لکھےتاکہ ان کے مطالعے کے بعد عورت آسانی سے مرد کی افضلیت کو تسلیم کرے اور اپنی غلامی پر نہ صرف قانع ہو بلکہ اسے باعث فخر سمجھے۔ اس کتاب میں عورت کو اچھا غلا م بننے کی ساری ترکیبیں اور گر بتائے گئے ہیں۔ مذہبی مسائل سے لے کر کھانا پکانے اور امور خانہ داری کے تمام طریقوں کی تفصیل ہے جو مرد کو خوش و خرم رکھ سکے۔ اس لئے یہ دستور ہوگیا کہ بہشتی زیور کے یہ دسوں حصے(جو ایک جلد میں ہوتے ہیں) جہیز میں لڑکی کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ اسے پڑھ کر ذہنی طور پر غلامی کے لئے تیار رہے۔یہاں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا نے ایک بہترین عورت کا جو تصور بہشتی زیور میں پیش کیا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے اور کے خیالات کا جاگیردارانہ معاشرے کے پس منظر میں پیدا ہونے والی ثقافت اور اقدار کا جائزہ لیاجائے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں جدید مغربی تعلیم مقبول ہوچکی تھی اور ہمارے مصلحین  جدید تقاضوں کو تسلیم کرنے کے باوجود تعلیم نسواں کے شدید مخالف تھے۔ وہ مردوں کے لئے تو جدید تعلیم ضروری سمجھتے تھے مگر یہی تعلیم ان کے نزدیک عورتوں کے لئے انتہائی خطرناک تھی۔ سرسید احمد خان نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ وہ تعلیم نسواں کے اس لئے مخالف ہیں کیونکہ جاہل عورت اپنے حقوق سے ناواقف ہوتی ہے اسی لئے مطمئن رہتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہو کر اپنے حقوق سے واقف ہوگئی تو اس کی زندگی عذاب ہوجائے گی(۲)۔ سرسید نے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کی بھی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف مذہبی کتابیں پڑھیں اور جدید زمانے کی مروجہ کتابیں جو نامبارک ہیں ان سےدور رہیں۔(۳)

مولانا اشرف علی تھانوی عورتوں کے لئے صرف مذہبی تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ بے علم عورتیں کفر و شرف میں تمیزنہیں کرتیں اور نہ ہی ان میں ایمان اور اسلام کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ اپنی جہالت میں جو چاہتی ہیں بک دیتی ہیں اس لئے ان کے ایمان اور مذہب کو بچانے کے لئے ان کے لئے دین کا علم انتہائی ضروری ہے۔ مولانا دینی تعلیم کے علاوہ عورتوں کے لئے دوسری ہر قسم کی تعلیم کے سخت مخالف ہیں اسے عورتوں کےلئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔(۴)

مولانا صاحب لڑکیوں کے اسکول جانے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بھی سخت مخالف ہیں کیونکہ اسکول میں مختلف اقوام، طبقات اور خیالا ت کی لڑکیاں جمع ہوں گی جس سے ان کے خیالات اور اخلاق متاثر ہوں گے ۔ اگر خدانخواستہ  استانی آزاد خیال ہوئی تو بقول مولانا "کریلا نیم چڑھا” اور مزید یہ کہ اگر مشن کی  میم انگریزی تعلیم دینے آگئی تو نہ آبرو کی خیر اور نہ ایمان کی۔(۵) ان کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو چار لڑکیاں گھر پر پڑھیں اور ایک ایسی استانی لیں جو تنخوانہ بھی نہ لے کیونکہ اس سے تعلیم بابرکت ہوتی ہے۔(۶)(لڑکیوں کے لئے تو ہوسکتی ہے مگر استانی کے لئے نہیں) مولانا اس راز سے واقف تھے کہ میل اور اشتراک سے خیالات پر گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے وہ اس راستے کو مسدود کرنا چاہتے ہیں اور خواہش مند تھے کہ عورت چار دیواری سے قطعی باہر قدم نہ نکالے۔

مولانا عورتوں کے نصاب تعلیم پر خاص طور سے زور دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے ایک خاص قسم کا ذہن تیار ہوسکے۔ اس لئے وہ قران شریف کتب دینیہ اور بہشتی زیور کے دس حصوں کو کافی سمجھتے تھے، بہشتی زیور کے سلسلے میں وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں شرمناک مسائل کو یا تو کسی عورت سے سمجھا جائے  یا نشان چھوڑ دیا جائے اور سمجھدار ہونے کے بعد پڑھا جائے یہاں تک  صرف پڑھنے کی استعداد کا ذکر ہے جب لکھنے کا سوال آتا ہے تو مولانا اس بات پر مزید زور دیتے ہیں کہ اگر عورت کی طبیعت میں بے باکی نہ ہو تو لکھنا سکھانے میں کوئی حرج نہیں ورنہ نہیں سکھانا چاہئے۔(۷) اگر لکھنا سکھایا بھی جائے تو صرف اس قدر کہ وہ ضروری خط اور گھر کا حساب کتاب لکھ سکے، بس اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔(۸)

عورتوں کو کون سی اور کس قسم کی کتابیں پڑھنا چاہئیں اس پہلو پر مولانا خاص طور سے بہت زیادہ زور دیتے ہیں مثلاً حسن وعشق کی کتابیں دیکھنااور پڑھنا جائز نہیں۔ غزل اور قصیدوں کے مجموعے اور خاص کر موجود ہ  دور کے ناول عورتوں کو قطعی نہیں پڑھنا چاہئیں بلکہ ان کا خریدنا بھی جائز نہیں۔ اس لئے اگر کوئی انہیں اپنی لڑکیوں کے پاس دیکھ لے تو اسے فوراً جلا دینا چاہئے۔(۹)مولانا کتابوں کے سلسلے میں اس قدر احتیاط کے قائل ہیں کہ دین کی ہر قسم کی کتابوں کو بھی عورتوں کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ اکثر دین کی کتابوں میں بہت سی غلط باتیں شامل ہوتی ہیں جن کو پڑھنے سے نقصان ہوتا ہے۔ انہیں اس بات پر سخت افسوس ہے کہ ان کے زمانے میں عورتیں ہر قسم کی کتابیں پڑھتی ہیں اور اسی وجہ سے انہیں نقصان ہورہا ہے ،عادتیں بگڑ رہی ہیں اور خیالات گندے ہورہے ہیں ۔ اس لئے مولانا کا خیال ہے کہ دین کی اگر کوئی کتاب پڑھنا ہو تو اسے پڑھنے سے پہلے کسی عالم دین کو دکھا لو اگر وہ اسے پڑھنا منظور کرے تو پڑھو ورنہ نہیں۔(۱۰) لیکن اس سے بھی مولانا مطمئن معلوم نہیں ہوتے کیونکہ انہیں شائد اپنے  علاوہ اور کسی عالم دین پر بھروسہ نہیں کہ غلطی سے وہ کسی غلط کتاب کو پڑھنے کی اجازت نہ دے دے۔اس لئے وہ خود ان کتابوں کی فہرست دیتے ہیں جن کا پڑھنا عورتوں کے لئے مفید ہے مثلاً   نصیحتہ المسلمین، راسلہ عقیقہ، تعلیم الدین، تحفتہ الزوجین، فروغ الایمان، اصلاح الرسوم، بہشت نامہ، روزخ نامہ، تنبیہ النساء، تعلیم النساء من و لہن نامہ، ہدایت اور مراۃ النساء وغیرہ۔

اس کے بعد مولانا صاحب ان کتابوں پر سنسر لگاتے ہیں جن کا پڑھنا انتہائی نقصان دہ ہے، مثلاً دیوان اور غزلوں کی کتابیں، اندر سبھا، قصہ بدرمنیر، شاہ یمن، داستان امیر حمزہ، گل بکاولہ، الف لیلہ، نقش سلیمانی، فال نامہ، معجزہ النبی، آرائش محفل ، جنگ نامہ حضرت علی اور تفسیر یوسف ۔ تفسیر یوسف کے بارے میں مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں ایک تو کچی داستانیں ہیں اورد وسرے عاشقی و معشوقی کی باتیں عورتوں کو سننا اور پڑھنا نقصان کی بات ہے۔ مراۃ العروس، محضات اور ایامی کے بارے میں مولانا کہتے ہیں کہ "بعض اچھی باتیں ہیں مگر بعض ایسی ہیں جن سے ایمان کمزور ہوتا ہے”۔ ناول کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ برا ہوتا ہےاور اخبار پڑھنے سے وقت خراب ہوتا ہے۔(۱۲) مولانا کے ان خیالات سے تعلیم نسواں کے بارے میں ان کا نظریہ واضح ہو کر ہمارے سامنے آتا ہے کہ وہ عورت کے لئے ہمیشہ بہت محدود تعلیم کے قائل تھے اور جاہل رکھ کر جاگیردارانہ اقدار کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔

 

(۲)

جاگیردارانہ معاشرے میں مرد کی فضیلت کی ایک بنیاد یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد خاندانی معاش کا ذمہ دارہوتا ہے اور عورت معاشی طور  پر اس کی محتاج ہوتی ہے۔ محتاجی کے سبب اس میں قدر جرات پیدا نہیں ہوتی کہ وہ خود کو مرد کی غلامی سے آزادکر سکے اور مرد کی افضلیت کو چیلنج کرسکے ۔ مولانا اس ضمن میں کہتےہیں کہ: کسب معاش صرف مردوں کے لئے ضروری ہے اور یہ اس کا فرض ہے کہ عورتوں کا نان ونفقہ پورا کرے(۱۳)۔ نان و نفقہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے جبکہ گھر کا کام کاج کرنا عورت پر واجب ہے۔ تیل، کنگھی، صابن، وضو اور نہانے کے پانی کا انتظام مرد کے ذمہ ہے مگر مسی، پان اور تمباکو اس کے ذمہ نہیں۔ دھوبی کی تنخواہ مرد کے ذمہ نہیں اور عورت کو چاہئے کہ کپڑے کو اپنے ہاتھ سے دھوئے اور اگر مرد اس کے لے پیسے دے تو یہ اس کا احسان ہے۔(۱۴)

 

(۳)

جاگیردارانہ معاشرے میں شوہر عورت کے لئے مجازی خدا کا درجہ رکھتا ہےاس لئے عورت  کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ شوہر کی فرماں برداری کرے اگر وہ شوہر کے احکامات کی خلاف ورزی کرے تو یہ معاشرے کی اقدار کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ مولانا نے اس ضمن میں عورتوں کو جوہدایات دی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مرد کی افضلیت کو مذہب اور اخلا ق کی بنیادپر قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کوشوہر کے تمام احکامات بلا چوں و چراں بجا لانے چاہئیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ کہے کہ ایک پہاڑ سے پتھر اٹھا کر دوسرے پہاڑ تک لے جاؤ اور پھر دوسرے سے تیسرے تک تو اسے یہی کرناچاہئے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے کس کام سے بلائے اور وہ چولہے پر بیٹھی ہو تو تب بھی اس کے کام کے لئے اسے فوراً اٹھ جانا چاہئے۔(۱۵) یہاں تک مرد کی فرماں برداری ضروری ہے کہ اگر اس کی مرضی نہ ہو تو نفلی روزے نہ رکھے اور نفلی نماز نہ پڑھے ۔ عورت کے لئے ضروری ہے کہ مر د کو خوش رکھنے کے لئے بناؤ سنگھار کے ساتھ رہا کرے۔ اگر مرد کے کہنے کے باوجود بناؤ سنگھار نہ کرے تو مرد کو مارنے کا اختیار ہے اس کو چاہئے کہ  اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں نہ جائے، رشتہ داروں کے ہاں اور نہ غیروں کے ہاں۔(۱۶)

مولانا بیوی کا مقصد حیات شوہر کی خوشی قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے عورت کے لئے مکمل ہدایات پیش کی ہیں مثلاً شوہر کا خیال دل میں لئے رہو، اس کی آنکھ کے اشارے پر چلو، اگر وہ حکم کرے کہ ساری رات ہاتھ باندھے کھڑی رہو تو اس حکم کی بھی تعمیل کرو کیونکہ اس میں عورت کی بھلائی ہے ، اگر وہ دن کو رات بتائے تو عورت بھی دن کو رات کہنے لگے۔ شوہر کو کبھی بھی برا بھلا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ اس سےدنیا اور آخرت دونوں خراب ہوتی ہیں ۔شوہر سے کبھی زائد خرچ نہیں مانگنا چاہئےاور نہ ہی اس سے کوئی فرمائش کرنی چاہئے۔ اگر عورت کی کوئی خواہش پوری نہ ہو تو خاموش رہنا چاہئے اور اس بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہے، کبھی کسی بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے۔ اگر شوہر سے کوئی تکلیف بھی ہو تو اس پر بھی خوشی ظاہر کرنی چاہئے۔ اگر شوہر کبھی کوئی چیز لادے  وہ اسے پسند آئے نہ آئے لیکن اس پر خوشی کا اظہارکرنا چاہئے۔ اگر شوہر کو غصہ آجائے تو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے کہ اور غصہ آئے، اس کے مزاج کو دیکھ کر بات کرنی چاہئے۔ اگر وہ ہنسی دل لگی چاہتا ہے تو اسے خوش کرنے کی باتیں کرو۔ اگر وہ ناراض ہو تو عذر و معذرت کرکے ہاتھ جوڑ کر  اسے راضی کرو۔ شوہر کو کبھی اپنے برابر کا مت سمجھواور اس سے کسی قسم کی خدمت مت لو، اگر وہ کبھی سر دبانے لگ جائے تو ایسا مت کرنے دو۔ اٹھتے بیٹھتے، بات چیت غرض کہ ہر بات میں ادب اور تمیز کا خیال انتہائی ضروری ہے۔

اگر شوہر پردیس سے آئے تو اس کا مزاج پوچھنا چاہئے اس کے ہاتھ پاؤں دبانا چاہئیں اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ اگر گرمی کا موسم ہو تو پنکھا لے کر اس پر جھلنا چاہئے اور اسے آرام پہنچانا  عورت کے فرائض میں سے ہے۔ گھر کے معاملات میں مولانا ہدایات دیتے ہیں کہ بیوی کو یہ حق نہیں کہ میاں سے تنخواہ کا حساب کتاب پوچھے اور کہے کہ تنخواہ تو بہت ہے، اتنی کیوں لاتے ہو، یا بہت خرچ کر ڈالا اور کس چیز میں اتنا پیسہ اٹھایا وغیرہ۔ اسی طرح شوہر کی ہر چیز سلیقے سے رکھو، رہنے کا کمرہ، بستر، تکیہ اور دوسری چیزیں صاف ستھری ہونی چاہئیں، اگر شوہر کسی دوسری عورت سے ملتا ہے تو اسے تنہائی میں سمجھاؤ پھر بھی باز نہ آئے تو صبر کرکے بیٹھ جاؤ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کرکے اسے رسوا مت کرو۔ اس اس ضمن میں مولانا کہتے ہیں کہ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے ، دباؤ اور زبردستی سے ہر گز زیر نہیں ہوسکتے ۔ان کے زیر کرنے کی بہت آسان ترکیب خوشامد اور تابعداری ہے۔(۱۷) اس سلسلےمیں مولانا عورت کا ذکر کرتے ہیں۔ "لکھنؤ میں ایک بیوی کے میاں بدچلن ہیں دن رات باہر بازاری عورت کے پاس رہتے ہیں، گھر میں بالکل نہیں آتے بلکہ فرمائش کرکے کھانا پکوا کر باہر منگواتے ہیں۔ وہ بیچاری دم نہیں مارتی جو میاں کہتے ہیں ان کی فرمائش پوری کرتی ہے۔ دیکھو ساری خلقت اس بیوی کو کیسی واہ واہ کرتی ہے اور خدا کے یہاں جو اس کو مرتبہ ملا وہ الگ رہا۔” (۱۸) مزید ہدایت میں یہ بھی ہے کہ ساس سسر اور نندوں سے الگ رہنے کہ کوشش نہیں کرنی چاہئے ، سسرال ہی کو اپنا سمجھنا چاہئے۔ شوہر اور بڑوں کا نام لے کر پکارنا مکروہ اور منع ہے۔(۱۹) عورتوں کے لئے پچیسی، چوسر اور تاش کھیلنا وغیرہ بھی درست نہیں۔(۲۰)۔ عورت کے لباس کے معاملے میں بھی مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ خلاف شرع لباس قطعی استعمال نہیں کرنا چاہئے جیسے کلیوں کا پاجامہ یا ایسا کرتہ جس میں پیٹھ ، پیٹ یا بازو کھلے ہوں یا ایسا باریک کپڑا جس میں بدن یا سر کے بال جھلکتے ہوں۔ عورت کے لئے موزوں ترین لباس یہ ہے کہ لانبی آستینوں کا نیچا، موٹے  کپڑے کا کرتا اور اسی کپڑے کا دوپٹہ استعمال کرے۔(۲۱)

مولانا عورت کو گھر میں رکھنے کے قائل ہیں ، اس سلسلے میں میں انہوں نے جو پروگرام تیار کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ مثلاً ماں باپ کو دیکھنے کے لئے ہفتے میں ایک بار جاسکتی ہے ، دوسرے رشتہ داروں سے سال میں۔۔۔۔۔ ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اسے حق نہیں ۔اسی طرح ماں باپ بھی ہفتے میں ایک بار ملنے آسکتے ہیں ۔ شوہر کواختیار ہے کہ زیادہ نہ آنے دے یا زیادہ نہ ٹھہرنے دے۔(۲۲) وہ تقریبوں میں بھی آنے جانے کو عورت کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں ، شادی بیاہ، مونڈن، طلہ، چھٹی، ختنہ، عقیقہ، منگنی اور چوتھی وغیرہ کی رسموں میں قطعی نہیں جانا چاہئے۔ اسی طرح نہ غمی میں اور نہ بیمار پرسی کے لئے۔ خاص طور پر برات کے موقع پر جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو اس وقت غیر محرم رشتہ دار کے گھر میں جانا درست نہیں۔ اگر شوہر اجازت دے دے تو وہ بھی گنہگار ٹھہرے گا۔ اس کے بعد مولانا بڑے افسوس  کے ساتھ لکھتے ہیں ہیں کہ: افسوس اس حکم پر ہندوستان  بھر میں کہیں بھی عمل نہیں بلکہ اس کو تو ناجائز ہی نہیں سمجھتے۔(۲۳) آنے جانے کے خلاف مولانا کے یہ دلائل ہیں ، اس میں قیمتی جوڑے بنوانا پڑتے ہیں اور یہ فضول خرچی ہے اس کی وجہ سے خاوند پر خرچہ کا بار پڑتا ہے ،پھر بزاز کو بلا کر بلا ضرورت اس سے باتیں ہوتی ہیں، تھان لیتے وقت آدھا ہاتھ جس میں مہندی اور چوڑی ہوتی ہے باہر نکالنا پڑتا ہے جو غیرت و حمیت کے خلاف ہے۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات کے وقت پیدل چل کر گھر جاتی ہیں جوانتہائی بے حیائی ہے اور اگر چاندنی رات ہو تو اس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ ڈولی میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پلو یا آنچل باہر لٹک رہا ہے یا کسی طرف پردہ مکمل گیا یا عطر و پھلیل اس قدر ہے کہ راستے میں خوشبو ہی خوشبو ہے۔ یہ نا محرموں کے سامنے بناؤ سنگھار ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ عورتیں یہ بھی کرتی ہیں کہ ڈولی سے اتریں اور ایک دم گھر میں داخل ہوگئیں یہ خیال نہیں کرتیں کی گھر میں کوئی نامحرم بیٹھا ہو۔ محفل میں بہشتی آتا ہے تو منہ پر نقاب ڈال لیتا ہے مگر دیکھتا سب کو ہے۔ بعض دفعہ دس بارہ سال کے لڑے گھر میں آجاتے ہیں جس سے بے پردگی ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر کسی تقریب و رسم اور ملنے جلنے کی وجہ سے گھر سے نکلنا وہ بے حیائی خیال کرتے ہیں۔(۲۴)

بہشتی زیور سے اس ذہن کی پوری پوری عکاسی کرتی ہے جو ہندوستان میں جاگیردارانہ ثقافت  اور اقدار نے بنایا تھا۔ لیکن بہشتی زیور  جدید خیالات و افکار  اور سماجی شعور  کو نہیں روک سکی اور قدیم روایات کی فرسودگی کو اس کے ذریعے کوئی استحکام نہیں ملا۔

٭٭٭٭Compiled by: Shahab Saqib٭٭٭٭٭

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

کتاب: المیہ تاریخ،حصہ اول، باب نمبر ۷

 

 

٭حوالہ جات٭

 

۱) اس موضوع پر مشہور جرمن ادیب برٹولٹ بریخت کا ایک افسانہ ہے جس کا اردو ترجمہ مصنف نے "دوسالہ عورت” کے عنوان سے کیا ہے۔ دیکھئے پندرہ روزہ "پرچم” کراچی۔ یکم اپریل-۱۵ اپریل ۱۹۷۹ء ص ۲۹-۲۸

۲) سر سيد احمد خان: مکتوبات سرسيد – لاهور، ۱۹۵۹، ص ۳۸۱

۳) ايضاً: ص ۲۸۶

۴) مولانا اشرف علی تھانوی، بہشتی زیور، لاہور، حصہ اول، ص ۷۹-۸۰

۵) ایضاً: ص ۸۴

۶) ایضاً: ص ۵۸

۷) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۵۸

۸) ایضاً: ص ۳۸

۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۹

۱۰) ایضاً: حصہ دہم، ص ۴۷

۱۱) ایضاً: ص ۴۷، ۴۸

۱۲) ایضاً: حصہ اول، ص ۵۳

۱۳) ایضاً: حصہ چہارم، ص ۲۹

۱۴) ایضاً: ص ۳۳

۱۵) ایضاً: ص ۳۴

۱۶) ایضاً: ص ۳۴-۳۷

۱۷) ایضاً: ص ۳۷

۱۸) ایضاً: حصہ دوم، ص ۵۷

۱۹) ایضاً: حصہ سوم، ص ۵۸

۲۰) ایضاً: حصہ ہفتم، ص ۵۴

۲۱) ایضاً: حصہ چہارم، ۲۹

۲۲) ایضاً: حصہ ہشتم،  ص ۱۵

۲۳) ایضاً: ص ۱۴-۱۷

 

نصیبو لعل کو گالیاں


بات ہو رہی تھی فحاشی کی اور ایک نوعمر لڑکا بہت شدت سے وینا ملک اور نصیبو لعل کو گالیاں بک رہا تھا۔

لڑکا:        نصیبو لعل نے بیڑہ غرق کر دیا ہے …نہ کوئی حیا نہ شرم… اس کے گانے تو میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا ، ماں بہن تو دور کی بات …اس کی ماں کی ….

لالاجی:      ایک منٹ بچے…ایک منٹ… یہ جو گالی تم بکنے جا رہے ہو یہ تم اپنی ماں بہن کے پاس بیٹھ کر دے سکتے ہو؟

لڑکا:        (جھینپ کر ) نہیں

لالاجی:      دیکھو ابھی تم بچے ہو …اپنی توانائیاں لکھنے پڑھنے، سوچنے سمجھنے اور سیکھنے میں لگاؤ… یہ گالی گلوچ سے کیا حاصل

لڑکا:        گالی گلوچ …. میرا بس نہیں چلتا ورنہ میں اس کی ….

لالاجی:      بس بس … اچھا چلو مجھے یہ بتاؤ کہ نصیبو لعل کو یہ گانے کون لکھ کے دیتا ہے ؟؟؟

لڑکا:        مجھے کیا پتہ….

لالاجی:      تو پتہ کرو نا… ویسے کوئی نہ کوئی مرد ہی لکھ کر دیتا ہوگا نا…

لڑکا:        ہاں جی… شاید خواجہ پرویز

لالاجی:      اور دھنیں کون بناتا ہے؟

لڑکا:        وہ بھی مر دہی بناتا ہے… کچھ تو طافو کی بنائی ہوئی دھنیں ہیں

لالاجی:      اور ان گانوں کی جو ویڈیوز بنتی ہیں وہ کون تیار کرتا ہے…کیمرہ مین کون ہوتا ہے، ڈائریکٹر کون ہوتا ہے، پروڈیوسر کون ہوتا ہے

لڑکا:        سارے مرد ہی ہوتے ہیں جی، ہمارے ملک میں یہ کام عورتیں نہیں کرسکتی

لالاجی:      عورتیں کر تو سکتی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی کرتی ہیں مگر جن گانوں پر تمہیں شدید اعتراض ہے ان کے ویڈیوز مرد ہی بناتے ہیں

لڑکا:        جی ایسا ہی ہے …ان کے نام لکھے ہوتے ہیں ویڈیوز میں … سب کے ناموں کے ساتھ حاجی ضرور لکھا ہوتا ہے

لالاجی:      تو پھر تمہاری ساری گالیاں نصیبو لعل کے لئے کیوں ہیں…؟ ان سارے مردوں پر تمہیں اتنا غصہ کیوں نہیں آتا؟ ان سارے مردوں کے تو تم نام بھی نہیں جانتے ہوگ شکلیں تو دور کی بات

لڑکا:        …………………………………………………(طویل خاموشی )

نابالغ انقلاب۔۔۔۔از خانزادہ


hope-imran-knonie

نابالغ انقلاب

(۱)

تحریک ِ انصاف کے جلسے میں شرکت کے بعد میرا ایک دوست آیا تو اُسکے چہرے پر مُسرت اور دُکھ کی ملی جُلی کیفیات تھیں۔ کہہ رہا تھا کہ بڑی مخلوق آئی تھی جلسے میں۔ لگتا ہے کہ اس شہر میں تو اور کسی پارٹی کو ووٹ ہی نہیں پڑے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اس شہر میں لوگوں کو اکھٹا ہونے کیلئے بہانہ چاہیئے ہوتا ہے۔ سارے لوگ تھوڑاہی ایک پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ کُچھ لوگ ہر پارٹی کے جلسے میں جاتے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ اسی پارٹی کے ووٹر بھی ہوں۔ سختی سے انکار کرتے ہوئے بولا، ” ہرگزنہیں۔ ہر بندہ موجودہ کرپٹ نظام اورچور حکمرانوں سے تنگ آیا ہوا ہے اس لئے سارے لوگ تبدیلی کی خواہش لیکرآئے تھے۔ چہرے بتائے دے رہے تھے کہ وہ عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے آئے ہیں، تبدیلی کی نوید لینے آئے ہیں۔” میں نے بات بدلتے ہوئے پُوچھا ” چھوڑو یہ بحث۔ یہ بتاؤ تُم پریشان سے لگتے ہو۔ خیر تو ہے؟” اچانک اس کا چہرہ بُجھ سا گیا۔ کہا، "ہاں یار جلسے میں کسی نے میری جیب میں سے موبائل نکال لیا”۔ میں نے طنزا" کہا، "کرپٹ اور چور حکمرانوں سے تنگ آنے والے کسی انقلابی نے نکالا ہوگا”۔ بولا، "نہیں یار، جلسے میں سارے انقلابی تھوڑی آتے ہیں۔” اور پھرکچھ سوچنے کے بعد کھسیا کرچلا گیا۔

(۲)

مارچ کے وسط میں مُجھے اپنا پاسپورٹ ری- نیو کرانا تھا۔ میں نیشنل بینک پہنچا تو پتا چلا کہ بینک والوں کے پاس فیس جمع کرنے والا چالان/رسید ہی نہیں ہے۔ پُوچھنے پر بتایاگیا کہ ختم ہوگئے ہیں اور قریبی دُکاندار سے تیس روپے کے عوض دستیاب ہیں (بینک کی رسیدیں دُکاندار کے پاس کہاں سے آگئیں؟ ظاہر ہے کہ بینک والے دکاندارکی ملی بھگت سے عوام کولّوٹ رہے تھے)۔ میں نے بینک والوں سے اپنا تعارف ایک سرکاری ادارے کے افسر کی حیثیت سے کرایا تو پریشان ہوکر کھڑے گئے۔ میں نے اُنہیں ایک لمبا سارا لیکچر دیا جسے اُنہوں نے شرمندگی سے سر جُھکائے سُن لیا۔ چاروناچار مُجھے اُسی دکاندار سے چالان لینا پڑا کیونکہ پاسپورٹ آفس ایک گھنٹے بعد بند ہونا تھا۔ فیس جمع کرکے بینک سے نکلتے ہوئے مجھے کوئی خیال آیا۔ واپس گیا اور کاؤنٹر پر جاکر سب کو مُخاطب کرکے کہا، "خبردار جو آئندہ کسی نے چائے پر گپ شپ کرتے ہوئے زرداری کو کرپٹ کہا۔”

(۳)

مردان سے پنڈی آنے والی ہائی ایس پر کنڈیکٹر نے ڈیڑھ گُنا کرایہ طلب کیا تو ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ نے انکار کردیا۔ کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی والوں کے بائیکاٹ کے بعد اُنہیں پٹرول مہنگا پڑتا ہے، چُنانچہ زیادہ کرایہ لینا اُنکی مجبوری ہے۔ سٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے طے ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلُوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اُترنے کا مطالبہ کردیا۔ مُجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک مُعمر شخص نے داڑھی چباتے ہوئے "پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔ پتا یہ چلا کہ حضرت کوپنڈی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری "خوامخواہ کی تکرار” سے اُنکا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ اُن کیساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسبِ توفیق ہمیں کوسنوں سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ ‘الخاموشی،نیم رضا’ کے مصداق راضی برضائے کنڈیکٹر ہوگئے سوائے میرے اور اُس یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے۔ ہم دونوں بھی بادلِ ناخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ سب کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے آواز اُبھری "بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ خُدا کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہمارے حکمران چاہیں توہماری فوج لمحوں میں گرا مارے ان ڈرونوں کو؟”

اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، یونیورسٹی سٹُوڈنٹ نے جلے کٹے لہجے میں کہا، "چاچا جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سُپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی اچھی نہیں لگتی”۔

پنڈی پہنچنے تک چاچا کی آواز نہیں آئی۔

اسلامی اُصول….از خانزادہ


ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے "علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

مغرب کی ضد میں۔۔۔۔ از خانزادہ


مغربی تہواروں سے ہماراپہلا تعارف کالج کی زندگی میں ہوا۔ مدر ڈے پر ہمیں اپنے کالج کے مین گیٹ سے لیکر ایڈمن بلاک تک ہلکے نیلے رنگ میں لکھے ہوئے بینرز اور چارٹ لگے نظر آئے جن پر لکھے ہوئے مختلف نعروں کا خلاصہ یہ تھا کہ مغربی اولاد چونکہ بڑھاپے میں اپنے والدین کاسہارا بننے کے بجائے اُنہیں اولڈ ہاؤسز میں بھیج دیتی ہے لہٰذا مدر فادر ڈے کا ٹوپی ڈرامہ اُنکی ضرورت اور مجبوری ہے۔ اپنے والدین سے مُحبت کا اظہار کرنے کیلئے ایک دن مُتعین کرنا ہماری اعلٰی مشرقی اور مذہبی اقدار کی

توہین ہے۔ جس ماں کے قدموں تلے جنت ہو، اُس سے محبت کا اظہارکرنے کیلئے تو زندگی کم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

پڑجاتی ہے۔ مغربی اولاد پر لگائے جانے والے الزامات اور ہماری ‘اعلٰی اقدار’ کے دعؤوں میں کتنی صداقت تھی (اور ہے)، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بُنیادی نُکتہ یہ تھا کہ ہم مغربی رجحانات کو اس لئے قبُول نہیں کرسکتے کہ ہمارا اپنا اخلاقی نظام اس سے متصادم ہے۔ جن مقاصد کیلئے ایک عُمر وقف کرنے کی ضرورت ہے، اُن کے لئے محض ایک دن مُختص کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

آج جبکہ اس بات کو پندرہ سال گُزرگئے، بحث بد ل چُکی ہے۔ شدت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی 14سالہ ملالہ کی تعلیم کیلئے کی گئی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پچھلے سال 10 نومبر کو "یومِ ملالہ (ملالہ ڈے)” منانے کا اعلان ہوا تو اس بار ہلکے نیلے بینرزوالوں نے اسکے مقابلے میں "عافیہ ڈے” منانے کی تحریک چلائی اور اس موقعہ پر کی جانے والی مباحثوں میں یہ نکتہ کہیں نہیں آیا کہ کیا "قوم کی بیٹی” کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہارکیلئے ایک دن کافی ہے؟ 14 فروری کو "حیا ڈے” منانے والوں نے بھی اس نُکتے پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا ہم نے بالآخرایک خالص مغربی رُجحان کے سامنے ہتھیا ر پھینک دیے اور "کُچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں” کا ورد کرتے ہوئے اپنے عزیزہستیوں اور عظیم مقاصد کیلئے محض ایک دن مختص کرنے کے فلسفے پر ایمان لے آئے۔

1993ء میں جب ناظرہ کی جگہ قرآن کو ترجمے کیساتھ پڑھانا سکولوں میں لازمی قراردیا گیا تو اسلامیات کے اُستاد (جو بقول خود جدی پُشتی مُلا اور مُتاثرینِ رائے ونڈ کے شیدائی تھے) نے ہمیں پہلے پارے کی ابتدائی آیا ت کی تشریح میں بتایا کہ سائنس اورمذہب دو متصادم نظریات ہیں۔ مذہبی تعلیمات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دِل سے نتھی کرتی ہیں جبکہ سائنس دماغ کوعقل و شعُور کا منبع سمجھتی ہے۔ اُنکے خیال میں چُونکہ سائنس مُشاہدات اور تجربات کی تابع ہے جبکہ قُرآن کے الفاظ ایک مُطلق حقیقت ہیں لہٰذا سائنس ایک دن اپنے عُروج پر پُہنچتے ہی مذہب کے پیروں میں سر رکھ دے گا۔ موصوف کا خیال تھا کہ دماغ اور سائنس پر بھروسہ کرنا مغرب کی کج روی ہے جبکہ دل اور ایمان پر بھروسہ کرنا ایمان کا تقاضا ہے (ایک روز اُنہوں نے کلاس میں پُوچھا کہ آپ کو دَم اور دوا میں سے کس پر زیادہ یقین ہے تو راقم نے دواکے حق میں ووٹ دیا۔ اُستادِ مُحترم نے خاکسار کی عقل پر تاسّف کا اظہار کرتے ہوئے ایک لمبی لاحول پڑھی!)۔

تاہم آج صُورتحال یہ ہے کہ روایتی مولوی ہوں، رائے ونڈ پرست مُبلغین ہوں یا سوشل میڈ یا پر دندناتے سائبر جہادی، سب سائنسی ترقی کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ جو مولوی صاحب دعوٰی کرتے تھے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی جنس کا علم صرف اور صرف خُدا کو ہوتا ہے، اُنکی اہلیہ بھی الٹراساؤنڈ ٹیکنیشن سے پیشگی خُوشخبری کی فرمائش کئے بنا نہیں رہ سکتیں۔ ہاں، دونوں مولویوں، مولوی باللسان و مولوی بالقلب، کی ضد یہ ہے کہ یہ سب کُچھ تو ہماری مذہبی کتابوں کے توسط سے پہلے ہی اشاروں کنایوں میں بتا دیا گیا تھا مغرب تو سائنس کے ذریعے محض پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی بے وقعت سی مشق کررہا ہے ۔ گویا مذہبی نُکتہ نظرآج خود کو اس لئے ٹٹولنے پر مجبور ہے کہ اُسے سائنس (جی ہاں مغرب کی سائنس) کے پُجاریوں کے سامنے اپنا وجود منوانا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آج اگرغُلام، کنیز اور لونڈی جیسے قبیح تصورات ہمارے لئے مکروہ ہوچکے ہیں، تو اسکی وجہ بھی ہماری اپنی مذہبی تعلیمات نہیں۔ مذہبی تعلیمات میں لے دے کے غُلاموں سے "حُسنِ سلوک” کی تعلیم ہی ملتی ہے۔ غُلامی پر پابندی اور اسے ناقابلِ قبول قراردینا انسان کی ترقی پسند سوچ کا کارنامہ ہے۔ غُلامی پر پابندی کیلئے قانون سازی کی ابتداء کا سہرا مغربی اقوام کے سر ہے۔ چُنانچہ جن لوگوں کیلئے غُلامی اوراس جیسی دوسری قباحتوں کو تسلیم کرنا مُمکن نہیں وہ دراصل مغرب کی ترقی پسندی کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو رسومات اور تصورات کل تک ہمارے لئے اجنبی بلکہ ناقابلِ قبُول تھے، آج ہمارے پاس اُنہیں اپنانے کے سوا اگر کوئی چارہ نہیں تو کیا یہ ہمارے لئے ایک لمحہِ فکریہ نہیں؟ اگر ہم انسانی شعُور کی ترقی کو تمام عالمِ انسانیت کا مُشترکہ اثاثہ تسلیم کرکے اپنے حصے کے حصُول کیلئے کوشش کرتے تو شاید آج ہمیں تعلیم سے لیکر دفاع تک اپنی تمام ضروریا ت کیلئے دیگر اقوام کیطرف نہ دیکھنا پڑتا۔ ترقی کے اُوپر مغرب کا مُتعصب لیبل لگانے کے باوجود اگر بالآخر ہمیں اسے تسلیم کرنا ہی ہے، تو یہ کام بروقت اور شعُوری طور پر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ پسماندگی کا مقدر ترقی کے سامنے ہتھیارڈالنے کے سوا کوئی نہیں۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں "پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی "دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔