عورتوں کو دیکھنا!… باپ کی بیٹے کو نصیحت


father-sonاردو ترجمہ: سلیقہ وڑائچ

اصل متن

کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے بیٹے سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی شہوت بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی شہوت کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے بیٹے سے یہ باتیں کرناہی ہوں گی۔

***********

بیٹا یہاں آؤ بات سنو۔ دیکھو میرا مقصد تمھاری اہانت ہے نہ میں ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ تم کن نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو۔مجھے یہ بھی پتا ہے تم نے ایسا کیوں کیا ۔ لیکن دیکھو کسی عورت کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔

بیٹا بہت سے لوگ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ عورت کو اپنے لباس کا دھیان رکھنا چاہئے اور ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے کہ تم اُسے غلط نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاؤ۔ لیکن پتا ہے میں تمھیں کیا کہوں گا۔” یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ صبح کیسا لباس پہن کر نکلتی ہے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُسے انسان سمجھیں چاہے وہ جیسا بھی لباس پہن کر نکلی ہو”۔

تمہارا دل چاہے گا کہ اس کے جسم کا طواف کرتی اپنی نگاہوں کا الزام تم اس پر دھر دو کہ اُس نے کیا پہنا ہوا ہے یا نہیں پہنا ہوا۔  لیکن ایسا مت کرنا۔ مظلوم بننے کی کوشش مت کرنا۔ یہ آنکھیں تمہاری ہیں ، تم ان کے معاملے میں مجبور اور بے بس نہیں ہو۔ تمہیں اپنی آنکھوں پر پورا اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرو۔ اپنی آنکھوں کی تربیت کرو کہ وہ اُس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھیں۔ خودتہذیبی کا ثبوت دو اور اُس لڑکی کو دیکھنا سیکھو، نہ کہ اُس کے لباس یا جسم کو۔ یاد رکھو جس لمحے تم نے اس معاملے میں خود کو مجبور اور بے بس تسلیم کر لیا تو تم اس خود فریبی میں مبتلا ہو جاؤ گے کہ تمہارا یہ فعل محض ایک بیرونی تحریک کا قدرتی رد عمل ہے جس پر تمہارا کوئی قابو نہیں، تم صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر سکتے، گوشت پوست کے جسم اور انسان میں فرق نہیں کر سکتے۔

 دیکھو، یہ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔ تم اتنے بےاختیار نہیں ہو اور جس لڑکی کو تم دیکھ رہے ہو وہ اپنے کپڑوں سے سوا بھی بہت کچھ ہے۔وہ اپنے جسم سے سوا بھی کچھ ہے۔ بہت باتیں ہوتی ہیں کہ کیسے مرد عورت کو ایک ’چیز‘ بنا دیتے ہیں اور یہ بہت حد تک سچ بھی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم لوگ جس چیز سے محبت کرتے ہیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تم سچ مچ کسی انسان سے محبت کرتے ہو تو پھر اُسے ’چیز‘ مت سمجھو۔ جس لمحے تم کسی انسان ، چاہے وہ عورت ہو کہ مرد، کو چیز سمجھنا شروع کر دیتے ہو ، تم انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہو۔

 ایک عورت کو کیا پہننا چاہیے یا کیوں پہنتی ہےاس بارے میں تمھیں دو  طرح کی رائے ملے گی۔ ایک یہ کہ وہ لباس اس لئے پہنتی ہے تاکہ مرد کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔  دوسرا خیال یہ ہےکہ عورت اپنا آپ اس لئے ڈھانپے تاکہ مرداُس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ بیٹا ، تم ان دونوں سے بہتر سوچ اپناؤ۔  کسی عورت کو بلکہ کسی بھی انسان کو تمھاری توجہ کیلئے لباس کا سہارا کیوں لینا پڑے۔ تم سب انسانوں کو اپنے ساتھی سمجھو اور لباس سے قطع نظر ان کو وہ توجہ دو جس کے وہ مستحق ہیں۔ اور پھر ایک عورت کو یہ کیوں لگے کہ اسے تمھیں تمھاری حد میں رکھنے کیلئے لباس پہننا پڑے گا۔ تمھارا اپنا آپ تمھارے اپنے اختیار میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور کے۔

بد قسمتی سے جنسِ مخالف سےتعلق کی نوعیت یا رابطے کا تعین اندیشوں کی نظر ہو کر رہ گیا ہے۔ مثلاً مسترد کئے جانے کا خوف، ناشائستہ یا غیر مہذب ہونے کا اندیشہ اور آپے سے باہر ہونے کا ڈر۔ کسی حد تک اس میں مذہب بھی ملوث ہے۔ ہم ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ دوسرا تمہارے لئے خطرہ ہے۔ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ عورت کا جسم مرد کو گناہ پر اکساتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر عورت اپنے جسم کی نمائش کرے گی تو مرد بیہودہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو گا۔ ایک بات واضح طور پر سمجھ لو۔ ۔ ۔ ۔ عورت کا جسم بالکل بھی خطرہ نہیں ہے۔ عورت کا جسم تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم گھٹیا حرکتیں کرتے ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ تم گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو۔ سو عورتوں اور مردوں کے درمیان موجود اس خوف کو تقویت نہ دو۔

عورت کا جسم بے حد پر کشش، پر اسرار اور مرد کے لئے ایک حیرت کدہ ہے۔ اس کے جسم کا احترام کرو۔ یہ احترام تم تب کر پاؤ گے جب تم عورت کی عزت کرو گے۔ عورت کی عزت کرو، اس کے جذبات، احساسات ،خواہشات، امنگوں، خوابوں اور زندگی کے تجربات کی قدر کرو۔ اسے  اعتماددو۔ اس کی حوصلہ افزائی کرو۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اس گمان کو بھی دل میں نہ آنے دینا کہ وہ کسی بھی طرح تم سے کمتر یا کمزور ہے۔ سنو عورت کمزور ہر گز نہیں ہے ۔ وہ صنف ِ نازک نہیں، وہ صنف ِ دیگر ہے۔

میری ان باتوں کابالکل بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم عورتوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دو۔ ہر گز نہیں، بلکہ اس کے برعکس میں تمہیں کہتا ہوں کہ انہیں دیکھو، ضرور دیکھو، انہیں سچ مچ دیکھو، صرف ظاہر آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے ۔ ایسے نہیں کہ وہ تمہارے احساسات کو گد گدائیں، بلکہ اُن کے اندر کے ایک بھرپور انسان کو دیکھو۔

مجھے امید ہے کہ جب تمہارا عورت کو دیکھنے کا انداز بدل جائے گا تو اُس وقت تمہارا رویہ بھی مختلف ہوگا جب تم عورتوں کے آس پاس ہوگے۔ اُن کے آس پاس مت منڈلاؤ، اُن کے ساتھ رہو,۔کیونکہ بہر حال وہ تمہارے ساتھ بلا خوف و خطر رہنا چاہتی ہیں۔ بغیر اس خوف کے کہ اُن کے کردار پر تم انگلی اُٹھاؤ گے، بغیر اس خوف کے کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کی تذلیل کرو گے، بغیر اس خوف کہ تم انہیں ’چیز‘ سمجھو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کو کوئی دوسری صنف سمجھو گے۔ اور یہ صرف عورتیں ہی نہیں چاہتیں، یہ سب انسان چاہتے ہیں۔ بلکہ تم خود بھی دوسروں سے یہی کچھ چاہتےہو۔

Advertisements

دوقومی نظریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از محمد طارق


ترجمہ: لالاجی

میرا دوست "و” انتہائی دلچسپ طبیعت کا مالک ہے۔ ابھی ہفتہ دس دن قبل اُس سے اس کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔ جناب کو چٹپٹے کھانے بنانے میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ رات کے کھانے کے متعلق جب اُس نے میری پسند پوچھی تو میں نے محض چاول کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ میری نیت بھانپ گیا اور کہا کہ وہ بریانی بنانے لگا ہے۔ یوں تو بریانی کے ذکر سے میرے طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی، تاہم میں پوچھے بنا نہ رہ سکا- "لیکن تم تو کہتے ہو کہ اچھی بریانی بنانا تمہارے لئے بھی آسان نہیں ہے”۔https://i0.wp.com/blogs.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2013/01/15567-twonationtheory-1359440969-246-640x480.jpg

اُس نے شیلف میں رکھے ہوئے مصالحے کے ڈبوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا "پُرانی بات ہے۔ اب بھائی کے ہاتھ بمبئ بریانی مصالحہ لگا ہے۔ کمال کی چیزہے”۔ ایک لمحے کو مجھے کسی ٹی وی اشتہار کا سا گماں گزرا۔ اور اگلے لمحے میری نظر اچار کی بوتل پر پڑگئی۔ "اچار تو خوب چٹخارے دار ہوگا”۔

"ظاہر ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ اچار حیدرآبادی ہو اور چٹخارے دار نہ ہو۔ پتہ ہے، میرے انڈین کولیگ کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے لوگ چٹ پٹی چیزوں کے دیوانے ہیں، دیوانے”۔

شام کے وقت ہم نے یوٹیوب پر میوزک کی ایک لمبی محفل جمائی۔ اس کے بُک مارکس میں نئے اور پُرانے انڈین گیتوں کی لمبی فہرستیں بنی ہوئی تھیں۔ بڑے عرصے بعد میں نے ‘مُغلِ اعظم’ کے سدابہار گیت سُنے۔ اس طویل نشست میں وقفہ اُس وقت آیا جب اُسے انڈین کولیگ کی کال آئی۔ کال ختم ہوئی تو اُس نے مجھے مطلع کیا "یار تمہاری بھابی کو راجھستانی لہنگا بہت پسند ہے۔ میں نے اپنے انڈین کولیگ سے کہاتھا کہ واپسی پر ایک لہنگا لیتا آئے۔ میں نے تمہاری بھابی کو سالگرہ پر تحفے میں دینی ہے۔” اُس کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

اگلی صبح میری آنکھ ذاکرنائیک کی آواز پر کھلی۔ میں نے گردن موڑ کر اس کے بستر کی طرف دیکھا تو جناب لیپ ٹاپ کھولے یو ٹیوب پر ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سن رہے تھے۔ "یار، تم اس بندے سے اتنا متاثر کیوں ہو؟”

"اس لئے کہ یہ لبرل فاشسٹ نہیں ہیں” اس نے پہلے ہی مجھے اور میرے پسندیدہ تجزیہ نگاروں کو اس خطاب سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ قبل اس کے کہ وہ طنز کے مزید نشتر برساتا، میں نے بستر چھوڑ کر باتھ روم کی راہ لی۔ واپس آیا تو ناشتہ تیار تھا لیکن جناب ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کسی سیاسی ٹاک شو کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے میں محو تھے جس میں قومی نظریے پر زید حامد اور ماروی سرمد کی تُند وتیز بحث چل رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر اُس نے ویب پیچ بند کیا اورایک طمانیت بھری سانس لی۔ "خدا کا شکر ہے کہ اس ملک میں ابھی بھی محب وطن اور مخلص لوگ موجود ہیں ورنہ تمہارے یہ بھارتی دلال لبرل فاشسٹ تو کب کا یہ ملک دشمن کے ہاتھ بیچ چکے ہوتے۔” میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی تشریح بھی کردی۔ ” اب دیکھوناں اس ہندو حُلیے والی عورت کو۔ یہ پاکستانی یا مسلمان کہلانے کی لائق ہے؟ کس دیدہ دلیری سے دوقومی نظریے کی تردید بلکہ تذلیل کر رہی ہے” اچانک اُس احساس ہوا کہ میری نظریں اُس پر نہیں بلکہ اُس کے لیپ ٹاپ کے وال پیپر پر جمی ہیں۔

"اچھا، تو تم بھی کترینہ کیف کے دیوانے ہو؟” اُس نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا۔

"تو اور کیا”۔ میں نے جواب دیا

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

نکاح نامہ جدید… از مریم شفقت گورایہ


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ

دیسی مردوں کیلئےایک ہولناک نکاح نامہ۔ ۔ ۔روایتی مردوں کو حواس باختہ کرنے کیلئے پانچ منٹ کی ایک دلدوز، ہیبت ناک اور ڈراؤنی فلم

اصل انگریزی متن

znncdv چاہے مجھے خیالی پلاؤ پکانے والی مجبور لاچار لڑکی کہیں یا آزادئ نسواں کی زبردست حامی، اڑیل،خود سر، منہ چڑھی یا خونی چڑیل۔ ۔ ۔ لیکن یہ میرا ذاتی تجویز کردہ نکاح نامہ ہے جوشاید کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے آپ اس کو تحریکِ آزادی نسواں کی خودکش بمبار کا ایٹمی حملہ تصور کریں کہ جس سے ایک ہی ہلے میں مردانگی ابدی نیند سو جائے۔ ( جی بالکل اوربرائے مہربانی اپنی مردانگی کے کچھ سٹیم سیل (stem cell)کوہ ہمالیہ کی منفی پچاس ڈگری کی سردی میں محفوظ کرلیں اس سے پہلے کہ یہ حادثہ ہو جائے)۔ 
تو چلیں میں آغاذ کرتی ہوں ایک ایسی چیز سے جو مردوں کو زبردست مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار کر دے گی:
۱۔ چائے سے آغاز کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ چائے۔۔۔ کیونکہ میرے دن کا آغاز فرحت بخش چائے کی پیالی سےہوتا ہے تو نکاح نامہ بھی یہاں سے شروع ہونا چاہئے نا۔ مجھ سے یہ امید بے کار ہےکہ میں اٹھتے ساتھ ہی تمھارےلئے یا اپنے لئے بھی۔ ۔ ۔ چولہے پر دودھ پتی چڑھا دوں گی۔ ہر گز نہیں کیونکہ میں ٹی بیگز کی چائے پسند کرتی ہوں۔ بھئی اس میں وقت کم لگتا ہے اور محنت بھی۔ ہاں، تمھیں اگر تیز پتی والی کڑک چائے پسند ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ۔ ۔ اپنے لئےتم خود بنا سکتے ہو۔

۲۔مجھے اپنے ہاتھ کا پکا کھانے کھائے ہوئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ ہو گیاہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث میں ایک بند یا ڈبل روٹی کھا کے گزارا کر لیتی ہوں۔ بھئی سیدھی بات ہے کہ اس میں وقت بھی کم لگتا ہے اور محنت بھی ۔ ۔ ۔ لیکن اگر تمھیں ممی جی کے ہاتھ کے بنے گرما گرم پراٹھوں اور تازہ پکی روٹیوں کی عادت پڑی ہوئی ہے تو ضرور کھاؤ …لیکن… خود بنا کے۔دیکھتے ہیں کہ تم کتنے دن تک روزانہ دن میں دو بار اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر کھاتے ہو۔

۳۔ایک اور بات اگر تمھیں دیسی پکوان کھانے کا شوق ہے یا کیا نام ہے اس بد ذائقہ کھانے کا۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ کھٹ مٹھی بھنی ہوئی مرغی۔  تو وہ بھی تم یا تو ممی جی سے سیکھ کر بنا لینا یا پھر گُوگل ہے نا بھئی۔ دیکھو تم اپنے منھ اور معدے کے ساتھ جو مرضی سلوک کرو لیکن مجھ سے فرمائش کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔

۴۔مجھے بھی تمہاری طرح تمھیں طلاق دینے کا حق حاصل رہے گا۔ ہو سکتا ہے تم دل میں کہہ رہے ہو توبہ ہے شادی سے پہلے ہی طلاق کی باتیں ۔اتنی مایوسی کی کیا بات ہے۔ لیکن جانُو جیسے تم کسی بھی وقت طلاق طلاق طلاق کہ سکتے ہو کیوں کہ کسی خاص لمحے میں تمہارا سر غصے سے پھٹ رہا تھا تو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے بھی پاگل پن کا دورہ پڑ جاتا ہے۔

۵۔ اب تک تم سمجھ تو گئے ہو گے پھر بھی بتائے دیتی ہوں۔ سادہ سی بات ہے کہ۔ ۔ ۔ نہ کم نہ زیادہ، آدھا آدھا۔ یعنی ا گر ایک دن میں تمھارے گندے بدبودار کپڑے دھونے کی تکلیف اٹھاؤں گی تو اگلے دن میرے گندےکپڑے تم دھوؤ گے۔ اگرآج  میں نے فرش صاف کرنا ہے تو  تمہیں برتن دھونے ہوں گے ۔ سمجھ گئے!

۶۔تمھارے دفتر ی اوقات ایسے ہوں کہ تمہیں مجھ سے ایک یا دو گھنٹے پہلے اُٹھنا پڑے تو "ڈبل روٹی پر مکھن کتنا لگاؤں” یا "چائے میں چینی کتنی” جیسے سوالات کی توقع مت رکھنا مجھ سے۔  یہ جو لوگوں کی من گھڑت باتیں ہیں نا کہ اکٹھےکھانا کھانے سے محبت بڑھتی ہے۔ ۔ بالکل واہیات اور بے کار ہیں۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ صبح اٹھنے سے پہلے کے آخری پانچ، دس یا بیس منٹ کی جو نیند ہوتی ہے … کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ اور کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ان آخری منٹوں کی نیند چھوڑ کر خوش رہ سکے۔

۷۔ اگر صبح دفتر جاتے ہوئے تمھیں قمیص کا بٹن ٹوٹا ہوا ملے تو گبھرانے کی یا مجھے آوازیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں بتا رہی ہوں نا یہ بالکل آسان سا کام ہے۔ اس کے لئے تمھیں سوئی چاہیے اور دھاگا…پھر سوئی کے ناکے میں ایک طرف سے دھاگے کو ڈالو اور دوسری طرف سے نکال لو۔ اب اس کے بعد بٹن پکڑو قمیض کے اوپر رکھو اور بٹن اور قمیص میں سے چند بار سوئی کو گزارو۔ ۔ اور یہ لو۔ ۔ ۔ ۔تم نے بٹن کو ٹھیک سے ٹانک  لیاہے۔ اب اتنے سے کام کے لئے مجھے آواز دینے یا میرے معمولات میں مخل ہونے کی  کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے میں اس وقت ٹی وی پر اپنا پسندیدہ مارننگ شو دیکھ رہی ہوں۔

۸۔تمھارے گردو نواح میں دس کلومیٹر کے اندر اندر ہر شخص سے محبت کرنے کا فریضہ بھی میں نہیں سر انجام دینے والی۔پتہ ہے مجھ میں سرے سےیہ صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔مجھ سے نہیں رویا گیا جب میرے خالو کی بہن مر گئی۔  سو یہ توقع مت رکھو کہ میں تمہاری امی کو اپنی امی، تمہاری خالاؤں اور پھوپھیوں کو اپنی خالائیں اور پھوپھیاں بنا لوں گی۔ بھئ دیکھو سچی بات یہ ہے کہ یہ خالہ بھانجی والی محبت کا کھیل پہلے ہی بہت کھیل چکی ہوں، مجھے اس کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔

۹۔ خریداری کرتے ہوئے اگر میں گلابی رنگ کا جوڑا پسند کروں تو مجھے ہرگز یہ بتانے کی کوشش نہ کرنا کہ کاسنی رنگ مجھ پر کتنا جچتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے گلابی رنگ مجھے پسند ہے اور میں اپنی پسند ناپسند تمہارے ذوق کے مطابق بدل نہیں سکتی۔ اسی طرح میرے بال ….میں ان کو چھوٹا رکھوں یا لمبا کر لوں یا کسی بھی رنگ میں رنگ ڈالوں… یعنی یہی سبز ، سنہرا ، نیلا یا کوئی اور۔ ۔ ۔تو غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ پہلے میں آئینے میں خود کو  اچھی لگنا چاہتی ہوں اور  بعد میں تمہیں۔اگر تمھیں لمبے بال پسند ہیں تو تم فیشن بدلنے کا انتظار کرو یا اس بات کا کہ میں خود اپنے چھوٹے بالوں سے اکتا کر انھیں بڑھا لوں۔ چلوتمہارے لئے میں آسان لفظو ںمیں کہے دیتی ہوں: بالکل تمہاری طرح  میری بھی اپنی پسند اور نا پسند ہے ، میری اپنی خواہشات ہیں ، میرا اپنا ایک ذوق ہے ۔اگر ہم اپنے اپنے پسندیدہ رنگ اپنےتک رکھیں تو مسائل کافی حد تک کم ہوجائیں گے۔  

۱۰۔اگر تم اُن مردوں میں سے ہو جو تین تین ہفتے شیو کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور پیٹ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ جیسے چار ماہ کی حاملہ کا … تو میری جان، تم کسی ماڈل کو ساتھ رکھنے کے حقدار نہیں ہو۔ تمہیں یہ حق حاصل نہیں کہ تم مجھ سے یہ فرمائش کرو کہ میں اپنے آپ کو فٹ رکھوں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ہم روزانہ چہل قدمی کے لئے جا سکتے ہیں ، اور شاید اکٹھے بھی ۔ یہ زیادہ معقول تجویز ہو گی۔

 

غم و غصہ …. از سلمان راشد


 یہ  مضمون انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع ہوا۔ انگریزی متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک احمقانہ سے ویڈیو پر غم و غصے کا ڈرامہ کر کے ایک بزدل اور عقل سے پیدل آدمی نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔دہشت گردوں سے عام معافی۔ دہشت گردوں نے اُسے سیکولر نظریات کا مالک ہونے کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ لیکن جہاں اُس کے سیکولر نظریات ایک دھوکہ ہیں وہیں اُس کا مذہبی رجحانات بھی مشکوک ہیں۔

 ذرا غور کریں: اس شخص نے اعلان کیا کہ اگر اُسے موقع ملا تو وہ ویڈیو بنانے والے شخص کو قتل کر دے گا۔ اُس کے اس بیان پر فساد اور لوٹ مار کرنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موصوف کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ ایک (ناکام) ریاست پاکستان کا وفاقی وزیر ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس یقیناً نیلا پاسپورٹ ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ عام پاکستانیوں کو قتل پر اُکساتا جن کے لئے امریکہ جانا ہی ویزے کی مشکلات کے باعث ممکن نہیں ہوگا، اُسے چاہئے تھا کہ وہ خود کیلیفورنیا پہنچ جاتا اور اپنا کام کرگزرتا۔

 امریکہ میں مقیم ایک شخص کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس مذہبی غم و غصے کے مارے شخص کو اس بات کی تو پوری تسلی ہے کہ اُس کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یا تو قتل کرنے والے  کے لئے یہی ممکن نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ویزا حاصل کر سکے اور اگر کوئی ویزا لے کر امریکہ پہنچ بھی جائے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہیں گرفتار ہو جائے گا، مقدمے بھگتے گا، سزا پائے گا اور اتنے لمبے عرصے تک کسی جیل میں پڑا رہے گا کہ واپس آکر انعام کی رقم کا دعویٰ نہیں کر پائے گا۔ یہ سب کچھ محض ایک تماشا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔

 وزیر ریلوے غلام احمد بلور، جس پر ریلوے کو تباہ کرنے کا مقدمہ چلنا چاہئے،دراصل دہشت گردوں کے پیروں میں گر پڑا ہے جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔ اب اسلام کی زبانی کلامی خدمت کر کے اُس کو معافی مل گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ اور جن لوگوں نے اُس کو محض زبانی جمع خرچ پر معاف کر دیا ہے وہ بھی اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ اُن کی طرف سے دی گئی یہ معافی اُن کی مذہب سے محبت کو مشکوک بنا گئی ہے۔ کیا وہ اتنے سیدھے سادے ہیں کہ وہ اس چال کو سمجھ ہی نہیں پائے؟

 لیکن اس میں صرف بلور ہی قصور وار نہیں ہے۔ گرجنا برسنا اس قوم کا شیوہ ہے۔ پورے ملک میں ایسے بینر لگے ہوئے ہیں جن پر فلم بنانے والے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے "اب تمہاری خیر نہیں”۔ میں نے جتنے بھی بینر دیکھے اُن پرنکولا بیسیلے نکولا کو دھمکی دینے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ نہیں، قطعاً کچھ نہیں۔ یہ سب محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پیغمبر کا عظیم نام داغدار ہو گیا ہے مگر یہ لوگ محض بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ ان کا عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یہ لوگ خالی خولی دھمکیاں دینے کی بجائے اب تک امریکہ روانہ ہو چکے ہوتے تاکہ وہاں اُس مصری عیسائی کا قلع قمع کر سکیں۔

 اب آتے ہیں غم و غصے کی طرف۔ سروپ اعجاز نے بجا طور پر "غم و غصہ کی صعنت” کو ایک منافع بخش کاروبار قرار دیا ہے۔ ذرا کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں موجود نوجوانوں کے انٹرویو تو سنیئے۔ ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے تو اُس نے جواب دیا "شغل”۔ ایک اور نوجوان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ سب ویڈیو یوٹیوب سے پابندی ہٹتے ہی آپ دیکھ سکیں گے۔ ایک اور نوجوان کی تصویر دیکھیں۔ یہ پشاور کا منظر ہے اور نوجوان چہرے مہرے سے پختون معلوم ہوتا ہے جنہیں ہم سب پاکستانیوں میں اسلام کے زیادہ قریب سممجھتے ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لوٹ کا مال سمیٹے جا رہا ہے۔ کیا یہ سب توہینِ رسالت پر غم و غصے کا اظہار ہے؟

 ہم کسی کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ اس مذہب کے ساتھ بھی نہیں جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہم جھوٹے، منافق اور بد عنوان لوگ ہیں جومذہب سمیت ہر کسی کو صرف باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم غم و غصے کے اظہار میں آگے رہتے ہیں اور اس میں اپنے ہی ملک کو جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ حقیقی گستاخ جن کو سزا ملنی چاہئے ہمارے درمیان موجود ہیں اور بلور اُن میں سر فہرست ہے۔