دوقومی نظریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از محمد طارق


ترجمہ: لالاجی

میرا دوست "و” انتہائی دلچسپ طبیعت کا مالک ہے۔ ابھی ہفتہ دس دن قبل اُس سے اس کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔ جناب کو چٹپٹے کھانے بنانے میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ رات کے کھانے کے متعلق جب اُس نے میری پسند پوچھی تو میں نے محض چاول کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ میری نیت بھانپ گیا اور کہا کہ وہ بریانی بنانے لگا ہے۔ یوں تو بریانی کے ذکر سے میرے طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی، تاہم میں پوچھے بنا نہ رہ سکا- "لیکن تم تو کہتے ہو کہ اچھی بریانی بنانا تمہارے لئے بھی آسان نہیں ہے”۔https://i0.wp.com/blogs.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2013/01/15567-twonationtheory-1359440969-246-640x480.jpg

اُس نے شیلف میں رکھے ہوئے مصالحے کے ڈبوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا "پُرانی بات ہے۔ اب بھائی کے ہاتھ بمبئ بریانی مصالحہ لگا ہے۔ کمال کی چیزہے”۔ ایک لمحے کو مجھے کسی ٹی وی اشتہار کا سا گماں گزرا۔ اور اگلے لمحے میری نظر اچار کی بوتل پر پڑگئی۔ "اچار تو خوب چٹخارے دار ہوگا”۔

"ظاہر ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ اچار حیدرآبادی ہو اور چٹخارے دار نہ ہو۔ پتہ ہے، میرے انڈین کولیگ کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے لوگ چٹ پٹی چیزوں کے دیوانے ہیں، دیوانے”۔

شام کے وقت ہم نے یوٹیوب پر میوزک کی ایک لمبی محفل جمائی۔ اس کے بُک مارکس میں نئے اور پُرانے انڈین گیتوں کی لمبی فہرستیں بنی ہوئی تھیں۔ بڑے عرصے بعد میں نے ‘مُغلِ اعظم’ کے سدابہار گیت سُنے۔ اس طویل نشست میں وقفہ اُس وقت آیا جب اُسے انڈین کولیگ کی کال آئی۔ کال ختم ہوئی تو اُس نے مجھے مطلع کیا "یار تمہاری بھابی کو راجھستانی لہنگا بہت پسند ہے۔ میں نے اپنے انڈین کولیگ سے کہاتھا کہ واپسی پر ایک لہنگا لیتا آئے۔ میں نے تمہاری بھابی کو سالگرہ پر تحفے میں دینی ہے۔” اُس کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

اگلی صبح میری آنکھ ذاکرنائیک کی آواز پر کھلی۔ میں نے گردن موڑ کر اس کے بستر کی طرف دیکھا تو جناب لیپ ٹاپ کھولے یو ٹیوب پر ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سن رہے تھے۔ "یار، تم اس بندے سے اتنا متاثر کیوں ہو؟”

"اس لئے کہ یہ لبرل فاشسٹ نہیں ہیں” اس نے پہلے ہی مجھے اور میرے پسندیدہ تجزیہ نگاروں کو اس خطاب سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ قبل اس کے کہ وہ طنز کے مزید نشتر برساتا، میں نے بستر چھوڑ کر باتھ روم کی راہ لی۔ واپس آیا تو ناشتہ تیار تھا لیکن جناب ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کسی سیاسی ٹاک شو کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے میں محو تھے جس میں قومی نظریے پر زید حامد اور ماروی سرمد کی تُند وتیز بحث چل رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر اُس نے ویب پیچ بند کیا اورایک طمانیت بھری سانس لی۔ "خدا کا شکر ہے کہ اس ملک میں ابھی بھی محب وطن اور مخلص لوگ موجود ہیں ورنہ تمہارے یہ بھارتی دلال لبرل فاشسٹ تو کب کا یہ ملک دشمن کے ہاتھ بیچ چکے ہوتے۔” میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی تشریح بھی کردی۔ ” اب دیکھوناں اس ہندو حُلیے والی عورت کو۔ یہ پاکستانی یا مسلمان کہلانے کی لائق ہے؟ کس دیدہ دلیری سے دوقومی نظریے کی تردید بلکہ تذلیل کر رہی ہے” اچانک اُس احساس ہوا کہ میری نظریں اُس پر نہیں بلکہ اُس کے لیپ ٹاپ کے وال پیپر پر جمی ہیں۔

"اچھا، تو تم بھی کترینہ کیف کے دیوانے ہو؟” اُس نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا۔

"تو اور کیا”۔ میں نے جواب دیا

مقدمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از خانزادہ


Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس

یہ بات اتنی پُرانی نہیں ہے۔

ریمنڈ ڈیویس نے تین پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور "انگریزی قانون” کے تحت سفارتکاروں کو ملنے والی رعایت کا فائدہ اُٹھانا چاہا تو قوم آگ بگولہ ہوگئی۔ بعد میں جب اُسے قرآن کے بتائے ہوئے شرعی قانون کے تحت خُون بہا کی ادائیگی کے بعد مُعاف کرکے خُصوصی طیارے میں اپنے مُلک پہنچایا گیا تو قوم اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئی۔

لودھراں کے بیٹی کو مزارِ قائد کے احاطے میں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور مظلوم لڑکی نے کمال جُرات کا مظاہرہ کرکے خاموش رہنے کے بجائے اپنے لئے صدائے انصاف بلند کی تو "انگریزی قانون” کے تحت اُس کے مجرموں کو سزا سُنادی گئی۔ لیکن بھلا ہو قُرآن کے بتائے ہوئے شرعی قوانین کا جنہوں نے بروقت چار گواہان کی عدم دستیابی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے "ناقص” ہونے کا فائدہ دیتے ہوئے مجرموں کو باعزت بری کردیا۔

Shah Rukh

شاہزیب کے قاتل جن کو حال ہی میں "اللہ کے نام پر” معاف کر دیا گیا

اس ملک میں کہانیاں ختم ہی نہیں ہوتیں۔ نوجوان شاہزیب کو دولت اور طاقت کے نشے میں مخمور امیر زادے شاہ رُخ جتوئی نے قتل کیا تو سِول سوسائٹی چیخ اُٹھی۔ ایک بار پھر "انگریزی قانون” سُرخرو ہوا اور قاتل کو سزائے موت سُنا دی گئی۔ لیکن ابھی اسلامی شریعت نے کہاں ہار مانی تھی۔ کروڑوں کا کھیل چلا اور اسلامی قوانین کے تحت وڈیرے کے بیٹے کو بنامِ خُدا معاف کرکے "لائسنس ٹُو کِل” دے دیا گیا۔

اسلامی قانون اس وقت طاقتور اور دولتمند مجرموں کا پسندیدہ قانون ہے۔

ہاں مُجھے پتا ہے آپ کا گِھسا پِٹا تبصرہ آنے والا ہے۔ "اسلام کا تو کوئی قصور نہیں ہے، اسلام کے قوانین کی غلط تشریح کی جارہی ہے”۔

اگر آپ کا شُتر مُرغ اپنا سر ریت سے باہر نکالنے کیلئے تیار ہے تو اُس سے ذرا پوچھئے کہ جب تمام مُسلمان عموما” اور "عُلمائے اسلام "خُصوصا”، دین کی سربلندی اور حفاظت کیلئے جان قُربان کیلئے ہر دم ہرآن تیارہیں تو اُنہیں اسلام اور قرآن کی غلط تشریح کرنے والے یہ لوگ نظر نہیں آتے؟ کیا اُن کی یہ جانبازی صرف غیر مسلموں پر توہین رسالت کا الزام لگاکر اُنہیں مارنے کی حد تک ہی ہے؟ جب جب اسلام پر اعتراض اُٹھتا ہے، تب تب یہی بہانہ سامنے آتا ہے لیکن "عُلمائے حق” کبھی یہ جُرات نہ کرسکے کہ کسی ایسے شخص کے خلاف فتویٰ تک دے دیں جو دین اور قُرآن کی غلط تشریح کرتا ہو۔ عُلماء کی غیرت بھگت سنگھ چوک کے نام پر جاگ سکتی ہے لیکن جب بربریت اور درندگی کیلئے اسلام اور قُرآن کو استعمال کیا جاتا ہے تو یہی غیرت افیون کھاکے سوجاتی ہے اور جاگنے کے بعد "غلط تشریح” کا راگ الاپنا شروع کردیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا ظُلم ہوگیا، غلط تشریح ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ تو اسلام نے جیسے مجرموں کی ایسی کی تیسی کرنی تھی۔ ہونہہ!

اوران عُلماء پر کیا موقوف، جب کہ خُدا نے خُود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے تو پھر بھلا اس کی غلط تشریح ممکن ہے؟ اگر قُرآن کا غلط استعمال ممکن ہے تو کیا یہ محفُوظ تصور ہوسکتی ہے؟ ایک طرف قرآن کے غلط استعمال کی فریاد اور دوسری جانب یہ دعویٰ کہ یہ محفوظ ہے۔ جیسے آپکی گاڑی ہر رات چوری کی واردات میں استعمال ہورہی ہو لیکن آپ کا چوکیدار دعویٰ کرے کہ جناب گاڑی تو محفوظ ہے ورنہ دیکھیں کوئی پُرزہ کم ہو، کوئی ڈینٹ پڑا ہو تو بتائیں۔

اب یا تو خُدا نے اپنی ذمے داری سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے اور یا قُران وہی ہے جس کا استعمال ریمنڈ ڈیویس، شاہ رُخ جتوئی اور مزارِ قائد کے جنسی درندوں نے اپنے تحفظ کیلئے کیا ہے۔ اور اگر قُرآن یہی ہے تو اس سے "انگریزی قانون” کہیں بہتر ہے جس نے انڈیا میں دہلی گینگ ریپ کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سُنادی ہے اور انڈین قوم کی خُوش قسمتی کہ وہاں اِن مجرموں کا کسی اسلامی قانون کے تحت بچنا ناممکن ہے۔ مذہب ہمیشہ انسانوں کی بلی دیتا رہا ہے اور جن لوگوں کو ابھی بھی یہ دعویٰ ہے کہ مذہب یا مذہبی قوانین انسانیت کے محافظ ہیں، وہ محض احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔

اِک اور باغی ۔ ۔ ۔ از خانزادہ


Upload This

ہم اپنے رنگ برنگے ثقافتی ملبوسات کو چھوڑ کر اندھا دھند عرب ثقافت اپنائے جا رہے ہیں(لالاجی)

میں نے بچپن میں پڑھا تھا کہ پاکستان ہمارا پیارا مُلک ہے۔ اُس وقت یا تو مُجھے پیار کا مطلب نہیں معلوم تھا، یا شاید اب حالات بدل گئے ہیں کیونکہ اس پیارے مُلک سے پیار کرنا آسان نہیں رہا۔  پیار کرنا تو الگ، پیار کرنے کا دعویٰ ثابت کرنا بھی خُود کو مُشکل میں ڈالنے والی بات ہے۔ مقامی لُغت کے مُطابق اِس مُلک سے پیار کرنا اِس سرزمین سے پیار کرنے کو نہیں کہتے۔ یہاں کے لوگوں سے مُحبت کرنا اور اُنہیں مُحترم سمجھنا اس مُلک کا وفادار ہونے کا ثبُوت ہرگز نہیں ہے۔ یہ دھرتی ہماری جنم بھومی سہی، لیکن اس سے مُحبت، اس مٹی سے مُحبت، پاکستان سے مُحبت کے مُترادف نہیں ہے۔ ہم یہاں کی دھنک رنگ ثقافت میں پلے بڑھے ہیں، لیکن ہمارے خُون میں اس ثقافت کا دوڑنا، ہماری باتوں سے اس کی خُوشبُو آنا، مُلکِ پاکستان سے مُحبت کی علامت نہیں ہے۔ اگر یہاں کی ماں بولیاں ہماری سماعتوں میں موسیقی بن کر اُترتی ہیں، تو یہ کوئی ایسی دلیل نہیں کہ اس سے خُود کو مُحبِ وطن ثابت کیا جاسکے۔ ہمارے ہیرو، بہادر اور دلیر ہیرو، اس مٹی سے جنم لینے والے ہیرو اگر ہمارے دِلوں میں بستے ہیں تو یہ بھی اس مُلک سے پیار کرنے کا کوئی مُعتبر ثبوت نہیں۔ یہاں کے مسائل کو سمجھنا، اُن مسائل پر بات کرنا، اُنہیں اپنی ترجیحات قراردینا آپ کا مشغلہ تو ہوسکتاہے، اس مُلک سے محبت کا اظہار نہیں۔ ہم بھلے قدیم تہذیبوں کے وارث ہوں لیکن ہماری حُب الوطنی اس تہذیبی ورثے کی حفاظت کی مُتقاضی نہیں۔ ہمارے گیت، ہمارے کھیل، ہماری محبتیں، ہماری چاہتیں، ہماری دوستیاں، ہمارے رشتے ناتے، ہمارا لباس، ہماری چادر، ہماری کامیابیاں، ہماری خُوشیاں، ہماری آرزوئیں، ہمارے ارمان، ہمارا فخر، ہمارا مان، ہماری رسمیں، ہمارے رواج، ہمارا معاشرہ، ہمارا سماج، ہمارا کل اور ہمارا آج ۔ ۔ ۔ کسی چیز کو اپنانا اور اُس کے فروغ کیلئے کام کرنا اس مُلک سے مُحبت کا غماز نہیں ہے۔ یہ سب محض ایک مشقِ لاحاصل ہے، دیوانے کی بَڑ ہے!

تو پِھر حُب الوطنی کیا ہے؟

ع۔ حیراں ہُوں دل کو رؤوُں کہ پِیٹوں جگر کو میں

 ۔ ۔ ۔  اس سے بڑھ کر بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر آپ پاکستان سے مُحبت کے دعویدار ہیں، تو عرب سرزمین سے محبت کریں۔ اس مٹی سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو مکہ میں دفن ہونے کی خواہش کریں۔ سر پر بِٹھانے کیلئے ہیرو چاہیئے توعرب ابنِ قاسم حاضر ہے۔ بہن بھائی کے رشتے کا استعارہ اور عزت کی روایتی نشانی چادر کو ترک کرکے عربی حجاب اور سکارف اپنائیں۔ مبارکباد سے لیکر خُوش آمدید تک کیلئےغیرمانُوس عربی کلموں کا استعمال کریں۔ مذہبی لحاظ سے کُشادہ دلی اور پُرامن بقائے باہمی کی ایک قابلِ فخر تاریخ کے حامل ہوتے ہوئے سارا دن عربوں کی تنگ دِلی کیلئے من گھڑت جواز تلاش کرتے رہنا ہماری زندگی کا نصب العین ہو۔ اعضاء کاٹنے اور سر قلم کرنے جیسی وحشی سزاؤوں کی وکالت کریں۔ اپنی دھرتی پر قدیم علمی تہذیب کے جیتے جاگتے آثار دیکھتے ہوئے بھی جدید عربی مذہب کی آمد کو انسانی تہذیب کا نقطہءِ آغاز کہیں۔ سماجی اور سیاسی طور پر مُتحرک اپنی خواتین کے بھر پُور کردار کو نظرانداز کرکے عربوں کی پیروی میں خواتین کو عُضوِ مُعطل بنائیں۔ رنگ برنگے مقامی تہواروں کو رد کرکے مذہب کے نام پر اذیت ناک عربی رسوُم و رواج مسلط کریں۔ اپنے مُلک میں روزانہ کی بُنیاد پر نشانہ بنائے جانے والے بیگُناہوں کے قتل پر خاموش رہیں اور عرب مُردوں کا ماتم کریں، اُن کیلئے جلوُس پر جلُوس نکالیں، سڑکیں بند کرکے مُظاہرے کریں۔ عظیم ادبی ورثے کے امین ہوتے ہوئے ادب، شاعری، موسیقی اور رقص کی مُخالفت لیکن عربوں سے درآمد شُدہ بربریت اور درندگی کی تبلیغ کریں۔ مہذب انسانی حُلیے کے بجائے عرب بُدھوؤں جیسا خوفناک حُلیہ اپنائیں۔ مقامی ناموں کو گالی سمجھیں اورعربی ناموں پر فخر کریں، اور اپنی زبان چھوڑ کر عربی زبان کو اپنی زبان کہیں تو ہماری حُب الوطنی ہر شک و شُبہے سے بالاتر ہے۔

2_Mohenjo_daro_The_Great_Bath_Brittanica.com_

موہنجو دڑو(سندھ) کا منظر۔ ہم نے تخت بھائی (پختونخواہ)، مہر گڑھ (بلوچستان) اور ہڑپہ (پنجاب) جیسے تاریخی ورثے سے منہ موڑ رکھا ہے۔ ہمارے ہوٹل، چوک، سڑکیں، محلے، ٹاؤن سب کچھ عربوں نام پر ہیں(لالاجی)

bhagat Singh

اگرچہ بھگت سنگھ ہندوستان کے سارے لوگوں کی آزادی چاہتا تھا اور مسلمانوں کے قائد اعظم بھی اُس کا مقدمہ لڑنے کو تیار تھے مگر پاکستان میں بھگت سنگھ کا نام لینا کفر ہے(لالاجی)

 بھلا ایسی غیر فطری مُحبت کوئی آسان کام ہے۔ دوسری قوموں اور ممالک سے نفرت کرنا بلاشُبہ تعصُب ہے، لیکن اپنے مُلک اور اپنے لوگوں سے پیار کرنا یقینا" ایک فطری جذبہ ہے۔ کم ازکم میرے لئے تو اپنی زمین اور اس سے وابستہ ہر چیز کو نظر انداز کرکے کسی بدیشی مُلک سے مُحبت کرنا اور وہاں کی ثقافت کے گُن گانا قابلِ قبُول نہیں ہے۔ چُنانچہ معاملات کو سادہ رکھنے کیلئے مُجھے یہ اقرار کرنے دیں کہ میں اس مُلک سے باغی ہوں اور مُجھے اپنی اس بغاوت پرفخر ہے۔ اگر اپنی ماں کے حصے کی مُحبت، عزت اور تقدس کسی پرائی شخصیت کو دینے سے انکار کرنا بغاوت ہے تو میں نہ صرف اس بغاوت کو ایک مقدس فریضہ سمجھتا ہوں۔ بلکہ یہ فریضہ ادا نہ کرنے والوں کی بھر پُور مذمت کرتا ہوں۔

؂   یہی جو ٹھہری شرطِ وصلِ لیلٰی

   تو استعفیٰ مِرا باحسرت و یاس

یہ مسلمان نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ؟


ابھی الیکشن کا ہنگامہ تھما نہیں تھا کہ خیبر پُختونخوا کے ايک دُوردراز علاقے کی مساجد میں ہونے والے دھماکوں نے ایک بار پھر درجنوں بیگُناہ جانیں لے لیں۔ رات کو خبروں میں مساجد کے ملبے سے لاشیں نکلتی دیکھ کرعزیز خان صاحب جذباتی ہوگئے، بولے، "نہیں، یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا”۔ بات کرکے اُنہوں نے اپنے بڑے بیٹے گُل خان کیطرف دیکھ، جیسے اُس کا ردعمل جاننا چاہتے ہوں۔ گُل خان کا اپنے والد سے عمُوما" ان معاملات پر اختلاف ہی رہتا تھا۔ "جی نہیں خان بابا، یہ مسلمانوں ہی کا کارنامہ ہے۔ اس علاقے میں میرے کالج کا ایک دوست سکول ٹیچر ہے۔ اُس کے مطابق اس دن گاؤں میں کوئی غیر مسلم نہیں دیکھا گیا۔ اس سے پہلے اس علاقے میں ذبح شدہ لاشیں بھی موصول ہوچکی ہیں اور ذبح ہونے والوں کوبھرے مجمعے کے سامنے اُٹھاکر لے جانے والے باریش کلمہ گو مُسلمان تھے”۔ عزیز خان صاحب کو بیٹے کی بات ناگوار گزری۔ ” تُم اتنے وثُوق سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ مسلمان ہی تھے؟ کسی کے ماتھے پرلکھا ہوتا ہے کیا کہ وہ کس مذہب کا پیروکار ہے؟”

” توکیا آپ نثار کو نہیں جانتے تھے جس کا اپنا ابّا بڑے فخر سے اُسے اُس کے جہادی نام ابُو طلحہ سے پُکاراکرتا تھا؟ کیا وہ مسلمان نہیں تھا؟ کیا وہ اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں کُفر سیکھنے گیا تھا؟ کیا آپ نے خُود اُس کی امامت میں دو بار نماز نہیں پڑھی تھی؟”

عزیز خان صاحب جواب دیے بغیر کمرے سے نکل گئے۔ نثار گُل خان لوگوں کا وہ پڑوسی تھا جوببانگِ دہل خود کو القاعدہ کا ادنیٰ سپاہی کہاکرتا تھا۔ علاقے کے لوگ اُسے مُجاہد کہا کرتے تھے۔ اُس کے ساتھیوں نے پچھلے سال گھر والوں کو اُس کی موت کی خبردی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کیسے مارا گیا۔ غالب گُمان یہ ہے کہ ڈرون حملے میں ماراگیا تھا۔

گُل خان سے یہ گُتھی کبھی نہ سُلجھی کہ لوگوں کیلئے سچ بات کہنا تو الگ، سُننا بھی اتنا مُشکل کیوں ہے۔ یہ مسئلہ صرف اُس کے والد صاحب کا نہیں ہے۔ دہشت گردی کے ہرواقعے کے بعد اسطرح کے بیانات سُننا معمُول کی بات بن گئی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پڑوسی، ہمارے علاقے کے جانے پہچانے لوگ طالبان میں شامل ہوکر اپنے ہی علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں لیکن ہماری ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ مسلسل یہ تکرار کئے جاتے ہیں کہ ‘نہیں یہ مسلمان نہیں ہیں’۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ نہ صرف یہ لوگ مسلمان ہیں بلکہ وہ ہمارا قتلِ عام بھی اسی اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔  اور وہ اس کام کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں۔ خود کو مُجاہد اور اس جنگ کو جہاد کہتے ہیں۔ بچہ بچہ یہ بات ہر شخص جانتا ہے۔ کیا سوات اور ملاکنڈ میں گاڑیوں سے کیسٹ پلئیر اُتروانے والے اور سی ڈی کی دُکانیں جلانے والے مُسلمان نہیں تھے؟ حجاموں کو دھمکیاں دینے والے کون تھے؟ کیا سوات کے ایف ایم پر قُرآن اور حدیث کا وعظ نہیں ہوتا تھا؟ اور کیا طالبان کے ان تمام اقدامات کو ہمارے مذہبی طبقے کی بھرپُور اخلاقی حمایت حاصل نہیں تھی؟

گُل خان کے خالُو، جو کہ گاؤں کے پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ بھلے یہ لوگ خود کو مسلمان سمجھیں، لیکن ان کے عقائد اور اعمال کی بُنیاد پر ہم انہیں مسلمان نہیں مانتے۔ گُل خان سوچتا ہے کہ اگر ایک لمحے کووہ یہ بات مان بھی لے کہ چُونکہ طالبان کے اعمال ‘مسلمانوں والے’ نہیں ہیں لہٰذا یہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اور یہ کہ یہ دراصل ایک گُمراہ لشکر ہے۔ تو پھر اُن لوگوں کے متعلق کیا کہا جائے جونظریاتی طور پر اس ‘گمراہ’ لشکر کے شانہ بشانہ کھڑےہیں؟ یعنی جماعتِ اسلامی، جمعیتِ عُلماءِ اسلام، اہلِ حدیث، تبلیغی جماعت اور دیوبندی طرزِ فکر کےحامل مدارس ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ آج تک طالبان اور القاعدہ کی دہشت گردی کی مذمت نہیں کی بلکہ گاہے گاہے ان کی صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مساجد میں اَلّلہُمّ النصُرُالمُجَاہِدِینَ فِی الوَزِیرِستَان (اے اللہ وزیرستان کے مجاہدین کی مدد فرما) کے خُطبے کس نے نہیں سُنے؟ ہماری مساجد کے پیش امام جن مدارس کے سند یافتہ ہیں، طالبان بھی تو اُنہی مدارس کی پیداوار ہیں۔ اور آج تک طالبان کی تمام کارروائیوں کو مذہبی اور اخلاقی جواز تو یہی لوگ فراہم کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ مُسلمان نہیں ہیں؟

ڈھٹائی پر ڈھٹائی مُلاحظہ ہو کہ ان خُود کُش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کو غیرمُلکی ایجنسیوں (راء، مُوساد، بلیک واٹروغیرہ) کے کھاتے میں ڈالنے والے لوگ اُس وقت طالبان کے سب سے بڑے وکیل بن کر سامنے آتے ہیں جب طالبان سے بات چیت کی بات کی جاتی ہے۔ اگریہ حملے ہمارے مُسلمان طالبان نہیں کررہے تو اُن سے بات چیت کیا معنی؟ پھر تو ہمیں بلیک واٹر سے بات چیت کرنی چاہیئے یا انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیئے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس دوغلے رویے کیساتھ دہشت گردی کے اس عفریت کو ختم کردینگے، تو یہ ہماری خام خیالی ہے۔ جب تک ہم مُجرم کو مجرم نہیں کہیں گے، قاتل کو قاتل نہیں گردانیں گے ہم قتل ہوتے رہیں گے، ہماری سربُریدہ لاشیں سرِ راہ ملتی رہیں گی۔ اور ہم ‘مُجاہدین’ کے ہاتھوں ‘شہید’ ہوتے رہیں گے۔

نابالغ انقلاب۔۔۔۔از خانزادہ


hope-imran-knonie

نابالغ انقلاب

(۱)

تحریک ِ انصاف کے جلسے میں شرکت کے بعد میرا ایک دوست آیا تو اُسکے چہرے پر مُسرت اور دُکھ کی ملی جُلی کیفیات تھیں۔ کہہ رہا تھا کہ بڑی مخلوق آئی تھی جلسے میں۔ لگتا ہے کہ اس شہر میں تو اور کسی پارٹی کو ووٹ ہی نہیں پڑے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اس شہر میں لوگوں کو اکھٹا ہونے کیلئے بہانہ چاہیئے ہوتا ہے۔ سارے لوگ تھوڑاہی ایک پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ کُچھ لوگ ہر پارٹی کے جلسے میں جاتے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ اسی پارٹی کے ووٹر بھی ہوں۔ سختی سے انکار کرتے ہوئے بولا، ” ہرگزنہیں۔ ہر بندہ موجودہ کرپٹ نظام اورچور حکمرانوں سے تنگ آیا ہوا ہے اس لئے سارے لوگ تبدیلی کی خواہش لیکرآئے تھے۔ چہرے بتائے دے رہے تھے کہ وہ عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے آئے ہیں، تبدیلی کی نوید لینے آئے ہیں۔” میں نے بات بدلتے ہوئے پُوچھا ” چھوڑو یہ بحث۔ یہ بتاؤ تُم پریشان سے لگتے ہو۔ خیر تو ہے؟” اچانک اس کا چہرہ بُجھ سا گیا۔ کہا، "ہاں یار جلسے میں کسی نے میری جیب میں سے موبائل نکال لیا”۔ میں نے طنزا" کہا، "کرپٹ اور چور حکمرانوں سے تنگ آنے والے کسی انقلابی نے نکالا ہوگا”۔ بولا، "نہیں یار، جلسے میں سارے انقلابی تھوڑی آتے ہیں۔” اور پھرکچھ سوچنے کے بعد کھسیا کرچلا گیا۔

(۲)

مارچ کے وسط میں مُجھے اپنا پاسپورٹ ری- نیو کرانا تھا۔ میں نیشنل بینک پہنچا تو پتا چلا کہ بینک والوں کے پاس فیس جمع کرنے والا چالان/رسید ہی نہیں ہے۔ پُوچھنے پر بتایاگیا کہ ختم ہوگئے ہیں اور قریبی دُکاندار سے تیس روپے کے عوض دستیاب ہیں (بینک کی رسیدیں دُکاندار کے پاس کہاں سے آگئیں؟ ظاہر ہے کہ بینک والے دکاندارکی ملی بھگت سے عوام کولّوٹ رہے تھے)۔ میں نے بینک والوں سے اپنا تعارف ایک سرکاری ادارے کے افسر کی حیثیت سے کرایا تو پریشان ہوکر کھڑے گئے۔ میں نے اُنہیں ایک لمبا سارا لیکچر دیا جسے اُنہوں نے شرمندگی سے سر جُھکائے سُن لیا۔ چاروناچار مُجھے اُسی دکاندار سے چالان لینا پڑا کیونکہ پاسپورٹ آفس ایک گھنٹے بعد بند ہونا تھا۔ فیس جمع کرکے بینک سے نکلتے ہوئے مجھے کوئی خیال آیا۔ واپس گیا اور کاؤنٹر پر جاکر سب کو مُخاطب کرکے کہا، "خبردار جو آئندہ کسی نے چائے پر گپ شپ کرتے ہوئے زرداری کو کرپٹ کہا۔”

(۳)

مردان سے پنڈی آنے والی ہائی ایس پر کنڈیکٹر نے ڈیڑھ گُنا کرایہ طلب کیا تو ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ نے انکار کردیا۔ کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی والوں کے بائیکاٹ کے بعد اُنہیں پٹرول مہنگا پڑتا ہے، چُنانچہ زیادہ کرایہ لینا اُنکی مجبوری ہے۔ سٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے طے ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلُوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اُترنے کا مطالبہ کردیا۔ مُجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک مُعمر شخص نے داڑھی چباتے ہوئے "پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔ پتا یہ چلا کہ حضرت کوپنڈی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری "خوامخواہ کی تکرار” سے اُنکا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ اُن کیساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسبِ توفیق ہمیں کوسنوں سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ ‘الخاموشی،نیم رضا’ کے مصداق راضی برضائے کنڈیکٹر ہوگئے سوائے میرے اور اُس یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے۔ ہم دونوں بھی بادلِ ناخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ سب کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے آواز اُبھری "بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ خُدا کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہمارے حکمران چاہیں توہماری فوج لمحوں میں گرا مارے ان ڈرونوں کو؟”

اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، یونیورسٹی سٹُوڈنٹ نے جلے کٹے لہجے میں کہا، "چاچا جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سُپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی اچھی نہیں لگتی”۔

پنڈی پہنچنے تک چاچا کی آواز نہیں آئی۔

اسلامی اُصول….از خانزادہ


ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے "علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

مغرب کی ضد میں۔۔۔۔ از خانزادہ


مغربی تہواروں سے ہماراپہلا تعارف کالج کی زندگی میں ہوا۔ مدر ڈے پر ہمیں اپنے کالج کے مین گیٹ سے لیکر ایڈمن بلاک تک ہلکے نیلے رنگ میں لکھے ہوئے بینرز اور چارٹ لگے نظر آئے جن پر لکھے ہوئے مختلف نعروں کا خلاصہ یہ تھا کہ مغربی اولاد چونکہ بڑھاپے میں اپنے والدین کاسہارا بننے کے بجائے اُنہیں اولڈ ہاؤسز میں بھیج دیتی ہے لہٰذا مدر فادر ڈے کا ٹوپی ڈرامہ اُنکی ضرورت اور مجبوری ہے۔ اپنے والدین سے مُحبت کا اظہار کرنے کیلئے ایک دن مُتعین کرنا ہماری اعلٰی مشرقی اور مذہبی اقدار کی

توہین ہے۔ جس ماں کے قدموں تلے جنت ہو، اُس سے محبت کا اظہارکرنے کیلئے تو زندگی کم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

پڑجاتی ہے۔ مغربی اولاد پر لگائے جانے والے الزامات اور ہماری ‘اعلٰی اقدار’ کے دعؤوں میں کتنی صداقت تھی (اور ہے)، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بُنیادی نُکتہ یہ تھا کہ ہم مغربی رجحانات کو اس لئے قبُول نہیں کرسکتے کہ ہمارا اپنا اخلاقی نظام اس سے متصادم ہے۔ جن مقاصد کیلئے ایک عُمر وقف کرنے کی ضرورت ہے، اُن کے لئے محض ایک دن مُختص کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

آج جبکہ اس بات کو پندرہ سال گُزرگئے، بحث بد ل چُکی ہے۔ شدت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی 14سالہ ملالہ کی تعلیم کیلئے کی گئی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پچھلے سال 10 نومبر کو "یومِ ملالہ (ملالہ ڈے)” منانے کا اعلان ہوا تو اس بار ہلکے نیلے بینرزوالوں نے اسکے مقابلے میں "عافیہ ڈے” منانے کی تحریک چلائی اور اس موقعہ پر کی جانے والی مباحثوں میں یہ نکتہ کہیں نہیں آیا کہ کیا "قوم کی بیٹی” کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہارکیلئے ایک دن کافی ہے؟ 14 فروری کو "حیا ڈے” منانے والوں نے بھی اس نُکتے پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا ہم نے بالآخرایک خالص مغربی رُجحان کے سامنے ہتھیا ر پھینک دیے اور "کُچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں” کا ورد کرتے ہوئے اپنے عزیزہستیوں اور عظیم مقاصد کیلئے محض ایک دن مختص کرنے کے فلسفے پر ایمان لے آئے۔

1993ء میں جب ناظرہ کی جگہ قرآن کو ترجمے کیساتھ پڑھانا سکولوں میں لازمی قراردیا گیا تو اسلامیات کے اُستاد (جو بقول خود جدی پُشتی مُلا اور مُتاثرینِ رائے ونڈ کے شیدائی تھے) نے ہمیں پہلے پارے کی ابتدائی آیا ت کی تشریح میں بتایا کہ سائنس اورمذہب دو متصادم نظریات ہیں۔ مذہبی تعلیمات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دِل سے نتھی کرتی ہیں جبکہ سائنس دماغ کوعقل و شعُور کا منبع سمجھتی ہے۔ اُنکے خیال میں چُونکہ سائنس مُشاہدات اور تجربات کی تابع ہے جبکہ قُرآن کے الفاظ ایک مُطلق حقیقت ہیں لہٰذا سائنس ایک دن اپنے عُروج پر پُہنچتے ہی مذہب کے پیروں میں سر رکھ دے گا۔ موصوف کا خیال تھا کہ دماغ اور سائنس پر بھروسہ کرنا مغرب کی کج روی ہے جبکہ دل اور ایمان پر بھروسہ کرنا ایمان کا تقاضا ہے (ایک روز اُنہوں نے کلاس میں پُوچھا کہ آپ کو دَم اور دوا میں سے کس پر زیادہ یقین ہے تو راقم نے دواکے حق میں ووٹ دیا۔ اُستادِ مُحترم نے خاکسار کی عقل پر تاسّف کا اظہار کرتے ہوئے ایک لمبی لاحول پڑھی!)۔

تاہم آج صُورتحال یہ ہے کہ روایتی مولوی ہوں، رائے ونڈ پرست مُبلغین ہوں یا سوشل میڈ یا پر دندناتے سائبر جہادی، سب سائنسی ترقی کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ جو مولوی صاحب دعوٰی کرتے تھے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی جنس کا علم صرف اور صرف خُدا کو ہوتا ہے، اُنکی اہلیہ بھی الٹراساؤنڈ ٹیکنیشن سے پیشگی خُوشخبری کی فرمائش کئے بنا نہیں رہ سکتیں۔ ہاں، دونوں مولویوں، مولوی باللسان و مولوی بالقلب، کی ضد یہ ہے کہ یہ سب کُچھ تو ہماری مذہبی کتابوں کے توسط سے پہلے ہی اشاروں کنایوں میں بتا دیا گیا تھا مغرب تو سائنس کے ذریعے محض پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی بے وقعت سی مشق کررہا ہے ۔ گویا مذہبی نُکتہ نظرآج خود کو اس لئے ٹٹولنے پر مجبور ہے کہ اُسے سائنس (جی ہاں مغرب کی سائنس) کے پُجاریوں کے سامنے اپنا وجود منوانا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آج اگرغُلام، کنیز اور لونڈی جیسے قبیح تصورات ہمارے لئے مکروہ ہوچکے ہیں، تو اسکی وجہ بھی ہماری اپنی مذہبی تعلیمات نہیں۔ مذہبی تعلیمات میں لے دے کے غُلاموں سے "حُسنِ سلوک” کی تعلیم ہی ملتی ہے۔ غُلامی پر پابندی اور اسے ناقابلِ قبول قراردینا انسان کی ترقی پسند سوچ کا کارنامہ ہے۔ غُلامی پر پابندی کیلئے قانون سازی کی ابتداء کا سہرا مغربی اقوام کے سر ہے۔ چُنانچہ جن لوگوں کیلئے غُلامی اوراس جیسی دوسری قباحتوں کو تسلیم کرنا مُمکن نہیں وہ دراصل مغرب کی ترقی پسندی کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو رسومات اور تصورات کل تک ہمارے لئے اجنبی بلکہ ناقابلِ قبُول تھے، آج ہمارے پاس اُنہیں اپنانے کے سوا اگر کوئی چارہ نہیں تو کیا یہ ہمارے لئے ایک لمحہِ فکریہ نہیں؟ اگر ہم انسانی شعُور کی ترقی کو تمام عالمِ انسانیت کا مُشترکہ اثاثہ تسلیم کرکے اپنے حصے کے حصُول کیلئے کوشش کرتے تو شاید آج ہمیں تعلیم سے لیکر دفاع تک اپنی تمام ضروریا ت کیلئے دیگر اقوام کیطرف نہ دیکھنا پڑتا۔ ترقی کے اُوپر مغرب کا مُتعصب لیبل لگانے کے باوجود اگر بالآخر ہمیں اسے تسلیم کرنا ہی ہے، تو یہ کام بروقت اور شعُوری طور پر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ پسماندگی کا مقدر ترقی کے سامنے ہتھیارڈالنے کے سوا کوئی نہیں۔