پیشہ ور قاتلو…! تم سپاہی نہیں

Ahmad Faraz

احمد فراز

پاک فوج کے لئے یہ نظم احمد فراز نے ۱۹۷۱ء کے سانحے کے بعد لکھی تھی۔ پاک فوج نے خیر سبق تو کیا سیکھنا تھا محض چھ برس بعد وہ پھر قوم کو فتح کر کے مسندِ اقتدار پر آ بیٹھی اور ظلم و جبر کا وہی بازار گرم کر دیا جو پاک فوج کا خاصہ ہے۔ اس نظم میں مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کی طرف سے بنگالیوں کی "نسل بدلنے” کا حوالہ بھی موجود ہے اور آج بھی سرحد (موجودہ پختونخواہ) سے لے کر پنجاب اور مہران تک مقتل سجانے کی بات ہے اور بولان میں شہریوں کے گلے کاٹنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ کسی بھی طرح یہ نہیں لگتا کہ یہ نظم ستر کی دہائی میں لکھی گئی ہے۔ پاکستان آج بھی ویسا کا ویسا ہی ہے … پاکستان کی فوج آج بھی ویسی کی ویسی ہی ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ (لالاجی)

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں

جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں


سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے

جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے

پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے

یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے

ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

Advertisements

2 خیالات “پیشہ ور قاتلو…! تم سپاہی نہیں” پہ

  1. لالہ جی کو یہ نظم حامد میر کے غم میں یاد آئ یے [ پتا نہیں ان میروں کو مسلمانوں سے غداری کا نسل در نسل کیوں شوق ہے چاہے میر جعفر٫ میر صادق ہو یا حامد میر ] لالہ جی سے درخواست ہے کہ YOUTUBE پے حامد میر کی حکیم اللہ سے گفتگو سنیں جسکے نتیجے میں خالد خواجہ اور کرنل امام کے گلے کٹے تھے۔

  2. اس میں قصور کس کا ہے ؟؟ ظاہر ہے لا لا جی ! اسمیں قصور اس "اسٹاف کالج ” کا ہے جو ایک ہی قسم کی ڈمیا ں بنا کر پاکستانی مارکیٹ کو مہیا کر رہا ہے !

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s