نکاح نامہ جدید… از مریم شفقت گورایہ

ترجمہ: سلیقہ وڑائچ

دیسی مردوں کیلئےایک ہولناک نکاح نامہ۔ ۔ ۔روایتی مردوں کو حواس باختہ کرنے کیلئے پانچ منٹ کی ایک دلدوز، ہیبت ناک اور ڈراؤنی فلم

اصل انگریزی متن

znncdv چاہے مجھے خیالی پلاؤ پکانے والی مجبور لاچار لڑکی کہیں یا آزادئ نسواں کی زبردست حامی، اڑیل،خود سر، منہ چڑھی یا خونی چڑیل۔ ۔ ۔ لیکن یہ میرا ذاتی تجویز کردہ نکاح نامہ ہے جوشاید کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے آپ اس کو تحریکِ آزادی نسواں کی خودکش بمبار کا ایٹمی حملہ تصور کریں کہ جس سے ایک ہی ہلے میں مردانگی ابدی نیند سو جائے۔ ( جی بالکل اوربرائے مہربانی اپنی مردانگی کے کچھ سٹیم سیل (stem cell)کوہ ہمالیہ کی منفی پچاس ڈگری کی سردی میں محفوظ کرلیں اس سے پہلے کہ یہ حادثہ ہو جائے)۔ 
تو چلیں میں آغاذ کرتی ہوں ایک ایسی چیز سے جو مردوں کو زبردست مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار کر دے گی:
۱۔ چائے سے آغاز کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ چائے۔۔۔ کیونکہ میرے دن کا آغاز فرحت بخش چائے کی پیالی سےہوتا ہے تو نکاح نامہ بھی یہاں سے شروع ہونا چاہئے نا۔ مجھ سے یہ امید بے کار ہےکہ میں اٹھتے ساتھ ہی تمھارےلئے یا اپنے لئے بھی۔ ۔ ۔ چولہے پر دودھ پتی چڑھا دوں گی۔ ہر گز نہیں کیونکہ میں ٹی بیگز کی چائے پسند کرتی ہوں۔ بھئی اس میں وقت کم لگتا ہے اور محنت بھی۔ ہاں، تمھیں اگر تیز پتی والی کڑک چائے پسند ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ۔ ۔ اپنے لئےتم خود بنا سکتے ہو۔

۲۔مجھے اپنے ہاتھ کا پکا کھانے کھائے ہوئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ ہو گیاہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث میں ایک بند یا ڈبل روٹی کھا کے گزارا کر لیتی ہوں۔ بھئی سیدھی بات ہے کہ اس میں وقت بھی کم لگتا ہے اور محنت بھی ۔ ۔ ۔ لیکن اگر تمھیں ممی جی کے ہاتھ کے بنے گرما گرم پراٹھوں اور تازہ پکی روٹیوں کی عادت پڑی ہوئی ہے تو ضرور کھاؤ …لیکن… خود بنا کے۔دیکھتے ہیں کہ تم کتنے دن تک روزانہ دن میں دو بار اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر کھاتے ہو۔

۳۔ایک اور بات اگر تمھیں دیسی پکوان کھانے کا شوق ہے یا کیا نام ہے اس بد ذائقہ کھانے کا۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ کھٹ مٹھی بھنی ہوئی مرغی۔  تو وہ بھی تم یا تو ممی جی سے سیکھ کر بنا لینا یا پھر گُوگل ہے نا بھئی۔ دیکھو تم اپنے منھ اور معدے کے ساتھ جو مرضی سلوک کرو لیکن مجھ سے فرمائش کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔

۴۔مجھے بھی تمہاری طرح تمھیں طلاق دینے کا حق حاصل رہے گا۔ ہو سکتا ہے تم دل میں کہہ رہے ہو توبہ ہے شادی سے پہلے ہی طلاق کی باتیں ۔اتنی مایوسی کی کیا بات ہے۔ لیکن جانُو جیسے تم کسی بھی وقت طلاق طلاق طلاق کہ سکتے ہو کیوں کہ کسی خاص لمحے میں تمہارا سر غصے سے پھٹ رہا تھا تو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے بھی پاگل پن کا دورہ پڑ جاتا ہے۔

۵۔ اب تک تم سمجھ تو گئے ہو گے پھر بھی بتائے دیتی ہوں۔ سادہ سی بات ہے کہ۔ ۔ ۔ نہ کم نہ زیادہ، آدھا آدھا۔ یعنی ا گر ایک دن میں تمھارے گندے بدبودار کپڑے دھونے کی تکلیف اٹھاؤں گی تو اگلے دن میرے گندےکپڑے تم دھوؤ گے۔ اگرآج  میں نے فرش صاف کرنا ہے تو  تمہیں برتن دھونے ہوں گے ۔ سمجھ گئے!

۶۔تمھارے دفتر ی اوقات ایسے ہوں کہ تمہیں مجھ سے ایک یا دو گھنٹے پہلے اُٹھنا پڑے تو "ڈبل روٹی پر مکھن کتنا لگاؤں” یا "چائے میں چینی کتنی” جیسے سوالات کی توقع مت رکھنا مجھ سے۔  یہ جو لوگوں کی من گھڑت باتیں ہیں نا کہ اکٹھےکھانا کھانے سے محبت بڑھتی ہے۔ ۔ بالکل واہیات اور بے کار ہیں۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ صبح اٹھنے سے پہلے کے آخری پانچ، دس یا بیس منٹ کی جو نیند ہوتی ہے … کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ اور کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ان آخری منٹوں کی نیند چھوڑ کر خوش رہ سکے۔

۷۔ اگر صبح دفتر جاتے ہوئے تمھیں قمیص کا بٹن ٹوٹا ہوا ملے تو گبھرانے کی یا مجھے آوازیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں بتا رہی ہوں نا یہ بالکل آسان سا کام ہے۔ اس کے لئے تمھیں سوئی چاہیے اور دھاگا…پھر سوئی کے ناکے میں ایک طرف سے دھاگے کو ڈالو اور دوسری طرف سے نکال لو۔ اب اس کے بعد بٹن پکڑو قمیض کے اوپر رکھو اور بٹن اور قمیص میں سے چند بار سوئی کو گزارو۔ ۔ اور یہ لو۔ ۔ ۔ ۔تم نے بٹن کو ٹھیک سے ٹانک  لیاہے۔ اب اتنے سے کام کے لئے مجھے آواز دینے یا میرے معمولات میں مخل ہونے کی  کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے میں اس وقت ٹی وی پر اپنا پسندیدہ مارننگ شو دیکھ رہی ہوں۔

۸۔تمھارے گردو نواح میں دس کلومیٹر کے اندر اندر ہر شخص سے محبت کرنے کا فریضہ بھی میں نہیں سر انجام دینے والی۔پتہ ہے مجھ میں سرے سےیہ صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔مجھ سے نہیں رویا گیا جب میرے خالو کی بہن مر گئی۔  سو یہ توقع مت رکھو کہ میں تمہاری امی کو اپنی امی، تمہاری خالاؤں اور پھوپھیوں کو اپنی خالائیں اور پھوپھیاں بنا لوں گی۔ بھئ دیکھو سچی بات یہ ہے کہ یہ خالہ بھانجی والی محبت کا کھیل پہلے ہی بہت کھیل چکی ہوں، مجھے اس کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔

۹۔ خریداری کرتے ہوئے اگر میں گلابی رنگ کا جوڑا پسند کروں تو مجھے ہرگز یہ بتانے کی کوشش نہ کرنا کہ کاسنی رنگ مجھ پر کتنا جچتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے گلابی رنگ مجھے پسند ہے اور میں اپنی پسند ناپسند تمہارے ذوق کے مطابق بدل نہیں سکتی۔ اسی طرح میرے بال ….میں ان کو چھوٹا رکھوں یا لمبا کر لوں یا کسی بھی رنگ میں رنگ ڈالوں… یعنی یہی سبز ، سنہرا ، نیلا یا کوئی اور۔ ۔ ۔تو غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ پہلے میں آئینے میں خود کو  اچھی لگنا چاہتی ہوں اور  بعد میں تمہیں۔اگر تمھیں لمبے بال پسند ہیں تو تم فیشن بدلنے کا انتظار کرو یا اس بات کا کہ میں خود اپنے چھوٹے بالوں سے اکتا کر انھیں بڑھا لوں۔ چلوتمہارے لئے میں آسان لفظو ںمیں کہے دیتی ہوں: بالکل تمہاری طرح  میری بھی اپنی پسند اور نا پسند ہے ، میری اپنی خواہشات ہیں ، میرا اپنا ایک ذوق ہے ۔اگر ہم اپنے اپنے پسندیدہ رنگ اپنےتک رکھیں تو مسائل کافی حد تک کم ہوجائیں گے۔  

۱۰۔اگر تم اُن مردوں میں سے ہو جو تین تین ہفتے شیو کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور پیٹ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ جیسے چار ماہ کی حاملہ کا … تو میری جان، تم کسی ماڈل کو ساتھ رکھنے کے حقدار نہیں ہو۔ تمہیں یہ حق حاصل نہیں کہ تم مجھ سے یہ فرمائش کرو کہ میں اپنے آپ کو فٹ رکھوں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ہم روزانہ چہل قدمی کے لئے جا سکتے ہیں ، اور شاید اکٹھے بھی ۔ یہ زیادہ معقول تجویز ہو گی۔

 

Advertisements

3 خیالات “نکاح نامہ جدید… از مریم شفقت گورایہ” پہ

  1. قطع نظر مضمون كے چلبلا پن كے، اگر سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے تو بھی آپکی تجاویز سے کلی اتفاق یوں ممکن نہ ہو گا كے آپ نے اپنی صنف [نازک کا لفظ جان کےنہیں استعمال کر رہا]کی تو نمائندگی کرتے ہووے جملہ شرائط تحریر فرما دیں مگر کوئی اک آدھا جملہ صنف مخالف كے لیے بھی ہو جاتا تو ذرا مضمون متوازن ہو جاتا . اور پِھر جومنظر نامہ تشکیل پائے گا وہ آپکی توقعات كے برعکس ہی ہو گا . . مثلاً جیسے . .
    اگر آپکو گھریلو کاموں میں شراکت داری مطلوب ہے تو لا محالہ گھر كے اخراجات میں بھی ہاتھ بٹانا ہو گا . تو جناب پِھر آپ بھی صبح نیند کا مزہ لینے کی بجائے آفس کی تیاری میں ہی مصروف ہوں گی .نیند کی قربانی تو مرد کی طرح دینی ہی ہوگی۔
    مرد كے لیے فائدہ یہ ہو گا كے اس پہ آپکوگھر کے اخراجات دینے كے لیے وہ اخلاقی دباؤ نہیں ہو گا کیونکہ آپ برابر کی جگہ چاہ رہی ہیں .
    گھر كے باہر والے کام بھی برابر طور پہ تقسیم ہوں گے اورمرد کی طرح باہركےدکھے کھانے پڑیں گے
    ” وہ والا سوٹ دلوا دیں ” کی بجاے خود کمائ کرنا پڑے گی تو زندگی ناول کی کہانیوں كے تصورات سے کہیں ذیادہ سخت ثابت ہو گی .
    ہاں اگر برابر كے حقوق نامی نظرئے کا جنسی تعصب سے پرے جائزہ لیا توعورت کے حق میں سراسر گھاٹے کا سودا ہو گا البتہ منصفانہ حقوق کی بات کریں توعورت کا ہی ذیادہ فائدہ ہے لیکن نقطہ بہت ہی غور طلب ہے .

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s