مقدمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از خانزادہ


Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس

یہ بات اتنی پُرانی نہیں ہے۔

ریمنڈ ڈیویس نے تین پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور "انگریزی قانون” کے تحت سفارتکاروں کو ملنے والی رعایت کا فائدہ اُٹھانا چاہا تو قوم آگ بگولہ ہوگئی۔ بعد میں جب اُسے قرآن کے بتائے ہوئے شرعی قانون کے تحت خُون بہا کی ادائیگی کے بعد مُعاف کرکے خُصوصی طیارے میں اپنے مُلک پہنچایا گیا تو قوم اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئی۔

لودھراں کے بیٹی کو مزارِ قائد کے احاطے میں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور مظلوم لڑکی نے کمال جُرات کا مظاہرہ کرکے خاموش رہنے کے بجائے اپنے لئے صدائے انصاف بلند کی تو "انگریزی قانون” کے تحت اُس کے مجرموں کو سزا سُنادی گئی۔ لیکن بھلا ہو قُرآن کے بتائے ہوئے شرعی قوانین کا جنہوں نے بروقت چار گواہان کی عدم دستیابی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے "ناقص” ہونے کا فائدہ دیتے ہوئے مجرموں کو باعزت بری کردیا۔

Shah Rukh

شاہزیب کے قاتل جن کو حال ہی میں "اللہ کے نام پر” معاف کر دیا گیا

اس ملک میں کہانیاں ختم ہی نہیں ہوتیں۔ نوجوان شاہزیب کو دولت اور طاقت کے نشے میں مخمور امیر زادے شاہ رُخ جتوئی نے قتل کیا تو سِول سوسائٹی چیخ اُٹھی۔ ایک بار پھر "انگریزی قانون” سُرخرو ہوا اور قاتل کو سزائے موت سُنا دی گئی۔ لیکن ابھی اسلامی شریعت نے کہاں ہار مانی تھی۔ کروڑوں کا کھیل چلا اور اسلامی قوانین کے تحت وڈیرے کے بیٹے کو بنامِ خُدا معاف کرکے "لائسنس ٹُو کِل” دے دیا گیا۔

اسلامی قانون اس وقت طاقتور اور دولتمند مجرموں کا پسندیدہ قانون ہے۔

ہاں مُجھے پتا ہے آپ کا گِھسا پِٹا تبصرہ آنے والا ہے۔ "اسلام کا تو کوئی قصور نہیں ہے، اسلام کے قوانین کی غلط تشریح کی جارہی ہے”۔

اگر آپ کا شُتر مُرغ اپنا سر ریت سے باہر نکالنے کیلئے تیار ہے تو اُس سے ذرا پوچھئے کہ جب تمام مُسلمان عموما” اور "عُلمائے اسلام "خُصوصا”، دین کی سربلندی اور حفاظت کیلئے جان قُربان کیلئے ہر دم ہرآن تیارہیں تو اُنہیں اسلام اور قرآن کی غلط تشریح کرنے والے یہ لوگ نظر نہیں آتے؟ کیا اُن کی یہ جانبازی صرف غیر مسلموں پر توہین رسالت کا الزام لگاکر اُنہیں مارنے کی حد تک ہی ہے؟ جب جب اسلام پر اعتراض اُٹھتا ہے، تب تب یہی بہانہ سامنے آتا ہے لیکن "عُلمائے حق” کبھی یہ جُرات نہ کرسکے کہ کسی ایسے شخص کے خلاف فتویٰ تک دے دیں جو دین اور قُرآن کی غلط تشریح کرتا ہو۔ عُلماء کی غیرت بھگت سنگھ چوک کے نام پر جاگ سکتی ہے لیکن جب بربریت اور درندگی کیلئے اسلام اور قُرآن کو استعمال کیا جاتا ہے تو یہی غیرت افیون کھاکے سوجاتی ہے اور جاگنے کے بعد "غلط تشریح” کا راگ الاپنا شروع کردیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا ظُلم ہوگیا، غلط تشریح ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ تو اسلام نے جیسے مجرموں کی ایسی کی تیسی کرنی تھی۔ ہونہہ!

اوران عُلماء پر کیا موقوف، جب کہ خُدا نے خُود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے تو پھر بھلا اس کی غلط تشریح ممکن ہے؟ اگر قُرآن کا غلط استعمال ممکن ہے تو کیا یہ محفُوظ تصور ہوسکتی ہے؟ ایک طرف قرآن کے غلط استعمال کی فریاد اور دوسری جانب یہ دعویٰ کہ یہ محفوظ ہے۔ جیسے آپکی گاڑی ہر رات چوری کی واردات میں استعمال ہورہی ہو لیکن آپ کا چوکیدار دعویٰ کرے کہ جناب گاڑی تو محفوظ ہے ورنہ دیکھیں کوئی پُرزہ کم ہو، کوئی ڈینٹ پڑا ہو تو بتائیں۔

اب یا تو خُدا نے اپنی ذمے داری سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے اور یا قُران وہی ہے جس کا استعمال ریمنڈ ڈیویس، شاہ رُخ جتوئی اور مزارِ قائد کے جنسی درندوں نے اپنے تحفظ کیلئے کیا ہے۔ اور اگر قُرآن یہی ہے تو اس سے "انگریزی قانون” کہیں بہتر ہے جس نے انڈیا میں دہلی گینگ ریپ کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سُنادی ہے اور انڈین قوم کی خُوش قسمتی کہ وہاں اِن مجرموں کا کسی اسلامی قانون کے تحت بچنا ناممکن ہے۔ مذہب ہمیشہ انسانوں کی بلی دیتا رہا ہے اور جن لوگوں کو ابھی بھی یہ دعویٰ ہے کہ مذہب یا مذہبی قوانین انسانیت کے محافظ ہیں، وہ محض احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔