ہماری حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، یا ناکام بنائی جاتی ہیں؟

ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کو باقی حالات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ انتخابات کے لئے چلنے والی مہم سے لے کر نئی حکومتوں کے قیام اور ان کے فورًا بعد ہونے والی قتل و غارت میں کافی پیغام ہے ہمارے لئے۔ موجودہ حکومتوں کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ان کی ناکامی کے حوالے سے فرمان جاری ہو گئے ہیں۔ آخر کون ہے جو عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو ناکام کرنے پر تُلا ہوا ہے؟ اس کے لئے کوئی بہت راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے آنے سے کس کا بھلا ہوتا ہے، کون عیاشی کرتا ہے، کون ہمارےوسائل پر بلا شرکتِ غیرے قابض ہو جاتا ہے اور اس کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتا۔

mur

میر مرتضیٰ بھٹو… بے نظیر بھٹو کا بھائی جو بےنظیر بھٹو کے اپنے دورِ اقتدار میں قتل ہوا۔

ہم (بشمول لالاجی) اکثر اپنی تمام برائیوں کی جڑ فوج کو قرار دیتے ہیں (اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے) مگر بنیادی طور پر غلطی سیاسی قوتوں ہی کہ ہے۔ سیاستدانوں کی نا اہلی اور آپس کی کھینچا تانی کی وجہ سے پہلے پاکستان پر بیورکریسی سوار ہوئی جس کی مثالیں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی موجودگی میں غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کا جناح کے بعد گورنر جنرل بن جانا ہے، اور اس کے بعدایک اور بیورکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل بن گیا۔ یہ سیاستدانوں ہی کی نا اہلی تھی کہ بیوروکریسی سے معاملات اپنے ہاتھ میں واپس لینے میں اس قدر ناکام رہے کہ پھر معاملات فوج کے ہاتھ میں چلے گئے اور ہم نے مشرقی پاکستان تک گنوا دیا۔

بھٹو نے سیاسی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے جرنیلوں کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنانے کا موقع فراہم کیا جس کی سزا نہ صرف بھٹو نے بھگتی بلکہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسامہ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر کمیشن بٹھایا اور اُس کمیشن کی رپورٹ دبائے رکھی جو آخر کار الجزیرہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ اب بھی اُس رپورٹ میں ہمیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اسامہ کس کس کی مدد سے ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔

اس مختصر سے وقت میں بھی نواز شریف اور عمران خان کے لئے کافی اسباق موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور آپس میں کھینچا تانی، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں۔ اُن قوتوں کو پہچانیں جو ہماری ہر حکومت کو ناکام بناتی آئی ہیں ۔

آصف زرداری نے بھی نئی حکومت بننے کے بعد پہلے پہل نواز شریف کے ساتھ سینگ پھنسائے تھے اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس کے بعد اس نوعیت کی کوئی حرکت نہیں کی گئی حتیٰ کہ شہباز شریف کے ناقابل برداشت بیانات پر بھی زرداری صاحب خاموش رہے۔ آج سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے اور پیپلز پارٹی کو ٹائٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گورنر راج کا بھی دبے لفظوں میں ذکر ہو رہا ہے۔پنجاب کے وزیرِ قانون نے پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں حال ہی میں لشکرِ جھنگوی والے پولیس والوں کو یرغمال بنا کر اُن کے بدلے اپنے بندے چھڑا کر لے گئے ہیں۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایجنسیوں نے فوری طور پر یہ خبر تو چلوا دی کہ حملے کی اطلاع پہلے ہی سول انتظامیہ کو دے دی تھی تاہم کوئی بھی یہ تحقیق نہیں کرے گا (عمران خان بھی یہ سوال نہیں اُٹھا رہا) کہ ۱۰۰ دہشت گرد وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور ڈھائی سو لوگوں کو ساتھ لے کر واپس بھی پہنچ گئے۔ وزیرستان میں موجود فوج وہاں کیا کر رہی تھی؟ وہاں کے فوجی کمانڈر کو ڈی ایچ اے میں گھر مل جائے گا اور جب کبھی وہ مرے گا پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا۔

ہماری تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پہلے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور مل کر اُسے زیر کریں۔ اس ملک پر حکمرانی کرنا، اس ملک کی خارجہ پالیسی بنانا، اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے ، یہ سب فیصلے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب کام وہ لوگ کریں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں۔ جنہوں نے اور نہیں تو کم از کم پانچ سال بعد ہمارے سامنے آنا ہوتا ہے، ہم سے ووٹ مانگنا ہوتا ہے۔جنہیں ہم پانچ سال بعد ٹھینگا دکھا سکتے ہیں (جیسا کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کوحالیہ انتخابات میں دکھایا ہے) یہ سارے فیصلے ہم ایسے لوگوں کےہاتھوں میں نہیں رہنے دینا چاہتے جن کی نہ ہم شکلوں سے واقف ہیں نہ کرتوتوں سے۔ جو ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر ہم اُنہیں پانچ سال تو کیا پچاس سال بعد بھی ہٹا نہیں سکتے جب تک کچھ لاشیں نہ گر جائیں، کچھ خون نہ بہ جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آتی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s