اِک اور باغی ۔ ۔ ۔ از خانزادہ

Upload This

ہم اپنے رنگ برنگے ثقافتی ملبوسات کو چھوڑ کر اندھا دھند عرب ثقافت اپنائے جا رہے ہیں(لالاجی)

میں نے بچپن میں پڑھا تھا کہ پاکستان ہمارا پیارا مُلک ہے۔ اُس وقت یا تو مُجھے پیار کا مطلب نہیں معلوم تھا، یا شاید اب حالات بدل گئے ہیں کیونکہ اس پیارے مُلک سے پیار کرنا آسان نہیں رہا۔  پیار کرنا تو الگ، پیار کرنے کا دعویٰ ثابت کرنا بھی خُود کو مُشکل میں ڈالنے والی بات ہے۔ مقامی لُغت کے مُطابق اِس مُلک سے پیار کرنا اِس سرزمین سے پیار کرنے کو نہیں کہتے۔ یہاں کے لوگوں سے مُحبت کرنا اور اُنہیں مُحترم سمجھنا اس مُلک کا وفادار ہونے کا ثبُوت ہرگز نہیں ہے۔ یہ دھرتی ہماری جنم بھومی سہی، لیکن اس سے مُحبت، اس مٹی سے مُحبت، پاکستان سے مُحبت کے مُترادف نہیں ہے۔ ہم یہاں کی دھنک رنگ ثقافت میں پلے بڑھے ہیں، لیکن ہمارے خُون میں اس ثقافت کا دوڑنا، ہماری باتوں سے اس کی خُوشبُو آنا، مُلکِ پاکستان سے مُحبت کی علامت نہیں ہے۔ اگر یہاں کی ماں بولیاں ہماری سماعتوں میں موسیقی بن کر اُترتی ہیں، تو یہ کوئی ایسی دلیل نہیں کہ اس سے خُود کو مُحبِ وطن ثابت کیا جاسکے۔ ہمارے ہیرو، بہادر اور دلیر ہیرو، اس مٹی سے جنم لینے والے ہیرو اگر ہمارے دِلوں میں بستے ہیں تو یہ بھی اس مُلک سے پیار کرنے کا کوئی مُعتبر ثبوت نہیں۔ یہاں کے مسائل کو سمجھنا، اُن مسائل پر بات کرنا، اُنہیں اپنی ترجیحات قراردینا آپ کا مشغلہ تو ہوسکتاہے، اس مُلک سے محبت کا اظہار نہیں۔ ہم بھلے قدیم تہذیبوں کے وارث ہوں لیکن ہماری حُب الوطنی اس تہذیبی ورثے کی حفاظت کی مُتقاضی نہیں۔ ہمارے گیت، ہمارے کھیل، ہماری محبتیں، ہماری چاہتیں، ہماری دوستیاں، ہمارے رشتے ناتے، ہمارا لباس، ہماری چادر، ہماری کامیابیاں، ہماری خُوشیاں، ہماری آرزوئیں، ہمارے ارمان، ہمارا فخر، ہمارا مان، ہماری رسمیں، ہمارے رواج، ہمارا معاشرہ، ہمارا سماج، ہمارا کل اور ہمارا آج ۔ ۔ ۔ کسی چیز کو اپنانا اور اُس کے فروغ کیلئے کام کرنا اس مُلک سے مُحبت کا غماز نہیں ہے۔ یہ سب محض ایک مشقِ لاحاصل ہے، دیوانے کی بَڑ ہے!

تو پِھر حُب الوطنی کیا ہے؟

ع۔ حیراں ہُوں دل کو رؤوُں کہ پِیٹوں جگر کو میں

 ۔ ۔ ۔  اس سے بڑھ کر بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر آپ پاکستان سے مُحبت کے دعویدار ہیں، تو عرب سرزمین سے محبت کریں۔ اس مٹی سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو مکہ میں دفن ہونے کی خواہش کریں۔ سر پر بِٹھانے کیلئے ہیرو چاہیئے توعرب ابنِ قاسم حاضر ہے۔ بہن بھائی کے رشتے کا استعارہ اور عزت کی روایتی نشانی چادر کو ترک کرکے عربی حجاب اور سکارف اپنائیں۔ مبارکباد سے لیکر خُوش آمدید تک کیلئےغیرمانُوس عربی کلموں کا استعمال کریں۔ مذہبی لحاظ سے کُشادہ دلی اور پُرامن بقائے باہمی کی ایک قابلِ فخر تاریخ کے حامل ہوتے ہوئے سارا دن عربوں کی تنگ دِلی کیلئے من گھڑت جواز تلاش کرتے رہنا ہماری زندگی کا نصب العین ہو۔ اعضاء کاٹنے اور سر قلم کرنے جیسی وحشی سزاؤوں کی وکالت کریں۔ اپنی دھرتی پر قدیم علمی تہذیب کے جیتے جاگتے آثار دیکھتے ہوئے بھی جدید عربی مذہب کی آمد کو انسانی تہذیب کا نقطہءِ آغاز کہیں۔ سماجی اور سیاسی طور پر مُتحرک اپنی خواتین کے بھر پُور کردار کو نظرانداز کرکے عربوں کی پیروی میں خواتین کو عُضوِ مُعطل بنائیں۔ رنگ برنگے مقامی تہواروں کو رد کرکے مذہب کے نام پر اذیت ناک عربی رسوُم و رواج مسلط کریں۔ اپنے مُلک میں روزانہ کی بُنیاد پر نشانہ بنائے جانے والے بیگُناہوں کے قتل پر خاموش رہیں اور عرب مُردوں کا ماتم کریں، اُن کیلئے جلوُس پر جلُوس نکالیں، سڑکیں بند کرکے مُظاہرے کریں۔ عظیم ادبی ورثے کے امین ہوتے ہوئے ادب، شاعری، موسیقی اور رقص کی مُخالفت لیکن عربوں سے درآمد شُدہ بربریت اور درندگی کی تبلیغ کریں۔ مہذب انسانی حُلیے کے بجائے عرب بُدھوؤں جیسا خوفناک حُلیہ اپنائیں۔ مقامی ناموں کو گالی سمجھیں اورعربی ناموں پر فخر کریں، اور اپنی زبان چھوڑ کر عربی زبان کو اپنی زبان کہیں تو ہماری حُب الوطنی ہر شک و شُبہے سے بالاتر ہے۔

2_Mohenjo_daro_The_Great_Bath_Brittanica.com_

موہنجو دڑو(سندھ) کا منظر۔ ہم نے تخت بھائی (پختونخواہ)، مہر گڑھ (بلوچستان) اور ہڑپہ (پنجاب) جیسے تاریخی ورثے سے منہ موڑ رکھا ہے۔ ہمارے ہوٹل، چوک، سڑکیں، محلے، ٹاؤن سب کچھ عربوں نام پر ہیں(لالاجی)

bhagat Singh

اگرچہ بھگت سنگھ ہندوستان کے سارے لوگوں کی آزادی چاہتا تھا اور مسلمانوں کے قائد اعظم بھی اُس کا مقدمہ لڑنے کو تیار تھے مگر پاکستان میں بھگت سنگھ کا نام لینا کفر ہے(لالاجی)

 بھلا ایسی غیر فطری مُحبت کوئی آسان کام ہے۔ دوسری قوموں اور ممالک سے نفرت کرنا بلاشُبہ تعصُب ہے، لیکن اپنے مُلک اور اپنے لوگوں سے پیار کرنا یقینا" ایک فطری جذبہ ہے۔ کم ازکم میرے لئے تو اپنی زمین اور اس سے وابستہ ہر چیز کو نظر انداز کرکے کسی بدیشی مُلک سے مُحبت کرنا اور وہاں کی ثقافت کے گُن گانا قابلِ قبُول نہیں ہے۔ چُنانچہ معاملات کو سادہ رکھنے کیلئے مُجھے یہ اقرار کرنے دیں کہ میں اس مُلک سے باغی ہوں اور مُجھے اپنی اس بغاوت پرفخر ہے۔ اگر اپنی ماں کے حصے کی مُحبت، عزت اور تقدس کسی پرائی شخصیت کو دینے سے انکار کرنا بغاوت ہے تو میں نہ صرف اس بغاوت کو ایک مقدس فریضہ سمجھتا ہوں۔ بلکہ یہ فریضہ ادا نہ کرنے والوں کی بھر پُور مذمت کرتا ہوں۔

؂   یہی جو ٹھہری شرطِ وصلِ لیلٰی

   تو استعفیٰ مِرا باحسرت و یاس

Advertisements

2 خیالات “اِک اور باغی ۔ ۔ ۔ از خانزادہ” پہ

  1. پنگ بیک: اک اور باغی | Rationalist Pakistan: Rationalist Society of Pakistan
  2. پنگ بیک: اِک اور باغی | Khan Zada's Blog

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s