یہ مسلمان نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ؟

ابھی الیکشن کا ہنگامہ تھما نہیں تھا کہ خیبر پُختونخوا کے ايک دُوردراز علاقے کی مساجد میں ہونے والے دھماکوں نے ایک بار پھر درجنوں بیگُناہ جانیں لے لیں۔ رات کو خبروں میں مساجد کے ملبے سے لاشیں نکلتی دیکھ کرعزیز خان صاحب جذباتی ہوگئے، بولے، "نہیں، یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا”۔ بات کرکے اُنہوں نے اپنے بڑے بیٹے گُل خان کیطرف دیکھ، جیسے اُس کا ردعمل جاننا چاہتے ہوں۔ گُل خان کا اپنے والد سے عمُوما" ان معاملات پر اختلاف ہی رہتا تھا۔ "جی نہیں خان بابا، یہ مسلمانوں ہی کا کارنامہ ہے۔ اس علاقے میں میرے کالج کا ایک دوست سکول ٹیچر ہے۔ اُس کے مطابق اس دن گاؤں میں کوئی غیر مسلم نہیں دیکھا گیا۔ اس سے پہلے اس علاقے میں ذبح شدہ لاشیں بھی موصول ہوچکی ہیں اور ذبح ہونے والوں کوبھرے مجمعے کے سامنے اُٹھاکر لے جانے والے باریش کلمہ گو مُسلمان تھے”۔ عزیز خان صاحب کو بیٹے کی بات ناگوار گزری۔ ” تُم اتنے وثُوق سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ مسلمان ہی تھے؟ کسی کے ماتھے پرلکھا ہوتا ہے کیا کہ وہ کس مذہب کا پیروکار ہے؟”

” توکیا آپ نثار کو نہیں جانتے تھے جس کا اپنا ابّا بڑے فخر سے اُسے اُس کے جہادی نام ابُو طلحہ سے پُکاراکرتا تھا؟ کیا وہ مسلمان نہیں تھا؟ کیا وہ اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں کُفر سیکھنے گیا تھا؟ کیا آپ نے خُود اُس کی امامت میں دو بار نماز نہیں پڑھی تھی؟”

عزیز خان صاحب جواب دیے بغیر کمرے سے نکل گئے۔ نثار گُل خان لوگوں کا وہ پڑوسی تھا جوببانگِ دہل خود کو القاعدہ کا ادنیٰ سپاہی کہاکرتا تھا۔ علاقے کے لوگ اُسے مُجاہد کہا کرتے تھے۔ اُس کے ساتھیوں نے پچھلے سال گھر والوں کو اُس کی موت کی خبردی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کیسے مارا گیا۔ غالب گُمان یہ ہے کہ ڈرون حملے میں ماراگیا تھا۔

گُل خان سے یہ گُتھی کبھی نہ سُلجھی کہ لوگوں کیلئے سچ بات کہنا تو الگ، سُننا بھی اتنا مُشکل کیوں ہے۔ یہ مسئلہ صرف اُس کے والد صاحب کا نہیں ہے۔ دہشت گردی کے ہرواقعے کے بعد اسطرح کے بیانات سُننا معمُول کی بات بن گئی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پڑوسی، ہمارے علاقے کے جانے پہچانے لوگ طالبان میں شامل ہوکر اپنے ہی علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں لیکن ہماری ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ مسلسل یہ تکرار کئے جاتے ہیں کہ ‘نہیں یہ مسلمان نہیں ہیں’۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ نہ صرف یہ لوگ مسلمان ہیں بلکہ وہ ہمارا قتلِ عام بھی اسی اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔  اور وہ اس کام کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں۔ خود کو مُجاہد اور اس جنگ کو جہاد کہتے ہیں۔ بچہ بچہ یہ بات ہر شخص جانتا ہے۔ کیا سوات اور ملاکنڈ میں گاڑیوں سے کیسٹ پلئیر اُتروانے والے اور سی ڈی کی دُکانیں جلانے والے مُسلمان نہیں تھے؟ حجاموں کو دھمکیاں دینے والے کون تھے؟ کیا سوات کے ایف ایم پر قُرآن اور حدیث کا وعظ نہیں ہوتا تھا؟ اور کیا طالبان کے ان تمام اقدامات کو ہمارے مذہبی طبقے کی بھرپُور اخلاقی حمایت حاصل نہیں تھی؟

گُل خان کے خالُو، جو کہ گاؤں کے پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ بھلے یہ لوگ خود کو مسلمان سمجھیں، لیکن ان کے عقائد اور اعمال کی بُنیاد پر ہم انہیں مسلمان نہیں مانتے۔ گُل خان سوچتا ہے کہ اگر ایک لمحے کووہ یہ بات مان بھی لے کہ چُونکہ طالبان کے اعمال ‘مسلمانوں والے’ نہیں ہیں لہٰذا یہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اور یہ کہ یہ دراصل ایک گُمراہ لشکر ہے۔ تو پھر اُن لوگوں کے متعلق کیا کہا جائے جونظریاتی طور پر اس ‘گمراہ’ لشکر کے شانہ بشانہ کھڑےہیں؟ یعنی جماعتِ اسلامی، جمعیتِ عُلماءِ اسلام، اہلِ حدیث، تبلیغی جماعت اور دیوبندی طرزِ فکر کےحامل مدارس ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ آج تک طالبان اور القاعدہ کی دہشت گردی کی مذمت نہیں کی بلکہ گاہے گاہے ان کی صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مساجد میں اَلّلہُمّ النصُرُالمُجَاہِدِینَ فِی الوَزِیرِستَان (اے اللہ وزیرستان کے مجاہدین کی مدد فرما) کے خُطبے کس نے نہیں سُنے؟ ہماری مساجد کے پیش امام جن مدارس کے سند یافتہ ہیں، طالبان بھی تو اُنہی مدارس کی پیداوار ہیں۔ اور آج تک طالبان کی تمام کارروائیوں کو مذہبی اور اخلاقی جواز تو یہی لوگ فراہم کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ مُسلمان نہیں ہیں؟

ڈھٹائی پر ڈھٹائی مُلاحظہ ہو کہ ان خُود کُش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کو غیرمُلکی ایجنسیوں (راء، مُوساد، بلیک واٹروغیرہ) کے کھاتے میں ڈالنے والے لوگ اُس وقت طالبان کے سب سے بڑے وکیل بن کر سامنے آتے ہیں جب طالبان سے بات چیت کی بات کی جاتی ہے۔ اگریہ حملے ہمارے مُسلمان طالبان نہیں کررہے تو اُن سے بات چیت کیا معنی؟ پھر تو ہمیں بلیک واٹر سے بات چیت کرنی چاہیئے یا انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیئے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس دوغلے رویے کیساتھ دہشت گردی کے اس عفریت کو ختم کردینگے، تو یہ ہماری خام خیالی ہے۔ جب تک ہم مُجرم کو مجرم نہیں کہیں گے، قاتل کو قاتل نہیں گردانیں گے ہم قتل ہوتے رہیں گے، ہماری سربُریدہ لاشیں سرِ راہ ملتی رہیں گی۔ اور ہم ‘مُجاہدین’ کے ہاتھوں ‘شہید’ ہوتے رہیں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s