ڈی این اے اور فورنزکس… از محمد طارق

 

ہمارے بلاگ آئینہ کے ایک پرستار محمد طارق نے یہ تحریر ہمیں لکھ کر بھیجی ہے۔ ہم بہت ممنون ہیں کہ انہوں نے آئینہ کو اس لائق سمجھا اور عوام تک اپنی بات پہنچانے کے لئے آئینہ کا انتخاب کیا۔ دیگر دوست بھی اپنی تحریریں ہمیں ارسال کر سکتے ہیں۔ تاہم تحریروں کی اشاعت کا فیصلہ لالا جی محفوظ رکھتے ہیں۔

فورینزک سا ئنس وہ علم ہے جو قانونی مسائل حل کرنے میں عدالتوں کی مدد کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک وسیع موضوع ہے لیکن گزشتہ تیس سالوں کے دوران تفتیشی معاملات میں ڈی این اے کے نمُونوں کے استعمال نے اس عِلم کو جِدت اور تکمیل کی نئی بُلندیوں سے رُوشناس کرایا ہے۔ ڈی این اے کی حیثیت جانداروں کیلئے ایک آئین کی سی ہوتی ہے جس میں لکھی ہوئی ہدایات پر اُس جاندار کے تمام ظاہری خدوخال اور افعال کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہ چار بُنیادی اکائیوں، جنہیں نیوکلیوٹائیڈز کہتے ہیں، سے بنا ہوتا ہے۔ ان نیوکلیوٹائیڈز کو اختصار کی غرض سے انگریزی حرُوف "اے”، "سی”، "جی” اور "ٹی”کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ dna
چُونکہ ہرجاندار میں ڈی این اے ہوتا ہے اور ڈی این اے کی ترتیب میں ایسا تنوع پایا جاتا ہے کہ اس کی مدد سے اُس جاندار کو شناخت کرنا ممکن ہے، لِہٰذا فوجداری نوعیت کے مقدمات میں اگر کوئی حیاتیاتی نمونہ بطورِ شہادت میسر ہو تو اس نمونے میں سے ڈی این اے حاصل کرکے اس کے ماخذ تک پہنچا جاسکتا ہے۔
ڈی این اے کو قانونی معاملات میں استعمال کرنے کا خیال برطانوی ماہرِ جینیات ڈاکٹر الیک جیفری نے پیش کیا۔ وہ موروثی بیماریوں پر تحقیق کے دوران ولدیت اور امیگریشن کے تنازعات کو جینیاتی بُنیادوں پر حل کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ لیسٹر یونیورسٹی میں اپنی تحقیق کے دوران اُنہوں نے دریافت کیا کہ تمام انسانوں کے ڈی این اے مالیکیول میں مخصُوص مقامات پر نیوکلیوٹائیڈز کی تنوع پزیر ترتیب پائی جاتی ہے تاہم اس ترتیب کی لمبائی ہر انسان کے ڈی این اے میں مُختلف ہوتی ہے۔ مثلا” اگر ایک انسان میں اس ترتیب کی لمبائی اسّی نیوکلیوٹائیڈز ہے تو دوسرے میں بیاسی یا چوراسی نیوکیوٹائیڈزہوگی یا ہوسکتاہے کہ اٹھہتر یا چھہتر نیوکلیوٹائیڈز ہو۔ یہ مخصوص مقامات جینیٹک مارکر کہلاتے ہیں۔ ڈاکٹر جیفری کو خیال آیا کہ جینیٹک مارکرز کے اس تنوع کو انسان کی شناخت کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اُنہوں نے اس تکنیک کو جینیٹک فنگر پرنٹنگ کا نام دیا۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ ہر انسان کا جینیٹک فنگر پرنٹ منفرد ہوتا ہے اور سوائے ہمشکل جڑواں بھائیوں/بہنوں کے کوئی دو انسان ایک طرح کے جینیٹک فنگرپرنٹس کے حامل نہیں ہوتے۔ فوجداری معاملات میں ایک سے زیادہ (عمُوما” 10-13) مارکرز استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ کسی شک و شبہہ کی گُنجائش نہ رہے۔

ڈاکٹر جیفری کی دریافت کا فورنزکس میں استعمال سب سے پہلے اسی شہر کی پولیس نے کیا جب لیسٹر یونیورسٹی کا آس پاس کے علاقے ہی میں قتل کی دو وارداتیں ہوئیں۔ تاریخ میں پہلی دفعہ کسی کی بریت یا سزا کا فیصلہ جینیٹک فنگر پرنٹنگ کے ذریعے ہونا تھا۔ 1983 میں یونیورسٹی کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں پندرہ سالہ لِنڈا مان کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ تین سال بعد ایک اور پندرہ سالہ لڑکی ڈان اشورتھ کوبھی جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ سترہ سالہ رِچرڈ بُکلینڈ پولیس کی حراست میں تھا اور اُس نے دوسری واردات کا اقبالِ جُرم کر رکھا تھا۔ اس اقبالِ جُرم نے تفتیش کاروں کے ذہن میں شکُوک و شُبہات کو جنم دیاتھا کیونکہ اگر دونوں قتل بُکلینڈ نے کئے ہوتے تو پہلے جُرم کے وقت اس کی عُمر صرف 14 سال ہوتی۔ گُتھی سُلجھانے کیلئے سُراغرسانوں کی ٹیم نے ڈاکٹر جیفری سے مدد طلب کی جنہوں نے دونوں لاشوں پر سے حاصل کئے گئے نُطفے سے ڈی این اے کا بُکلینڈ کے ڈی این اے کیساتھ موازنہ کرکے اُسے بیگُناہ قرار دیا۔ ڈی این اے کے موازنے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں جرائم کا ارتکاب ایک ہی شخص نے کیا ہے۔ اِن شواہد کی بُنیاد پر قانُون نافذ کرنے والے ادارے نے قاتل کو پکڑنے کیلئے ایک بےمثل کام کا عزم کیا۔ چُونکہ قاتل کے خُون کا گرُوپ ‘اے” تھا، اوروہ ایک اِنزائم "پی جی ایم ون کیلئے پازیٹیو تھا، لہٰذا تین قصبوں سے کُل 4582 مردوں کے خُون کا گرُوپ اور اُن میں مذکُورہ انزائم کی موجودگی کو چیک کیا گیا۔ دس فیصد افراد ان کوائف پرپُورے اُترے۔ چُنانچہ ان افراد کے خُون سے ڈی این اے حاصل کرکے اُسکا تجزیہ کیا گیا۔
کولن پیچفورک نامی ایک مقامی نانبائی نے اپنا خُون نہیں دیا تھا۔ اُس نے اپنے دوست آئن کیلی کیساتھ ساز باز کی اور اُس کی تصویر اپنے پاسپورٹ پر لگاکر اُسے اپنی جگہ خُون دینے بھیجا۔ کئی مہینے بعد یہاں کے ایک رہائشی نے مقامی شراب خانے میں کیلی کی گُفتگو سُنی جس میں اُس نے پیچفورک سے رقم لیکر اُسکی جگہ اپنا خُون دینے کا اعتراف کیا۔ اس رہائشی نے پولیس کو مطلع کردیا جس پر پولیس نے ستائیس سالہ پیچفورک کو گرفتار کرلیا- اُس کے ڈی این اے کا قاتل کے ڈی این اے سے موازنہ کرنے پر پتا چلا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ پیچفورک نے کیس لڑنے کے بجائے دونوں لڑکیوں کی عصمت دری اور قتل کا اعتراف کرلیا۔ 1987 میں پیچفورک ڈی این اے کی مدد سے شناخت کئے جانے والا پہلا مُجرم بن گیا۔ اُسے عُمر قید کی سزا ہوئی جو کم از کم تیس سال تک کی ہوتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں ترقی یافتہ مملک سائنس اور ٹیکنالوجی کو انصاف کے حُصول کیلئے بڑھ چڑھ کر استعمال کررہے ہیں، اور جہاں پر ڈی این اے کی بُنیاد پر مُجرموں تک پُہنچنے کا کام لگ بھگ تیس سال پہلے شُروع ہوگیا تھا، وہیں ہمارے مُلک میں اس معاملے کو مُلا کی جہالت کی نذر کردیا گیا۔ پانچ سال قبل مزارِ قائد کے احاطے میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی جنسی زیادتی کا نشانہ بنی۔ لڑکی نے اپنے مُجرموں کو پہچان لیا اور اُن کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت بھی ہوگیا کہ مُجرم وہی تھے لیکن پانچ سال بعد کراچی کی ایک عدالت نے یہ کہہ کر کہ چونکہ کسی نے ریپ ہوتے دیکھا نہیں اور ڈی این اے کا ثبوت قابل قبول نہیں ہے، ملزمان کو باعزت بری کردیا۔ اِسی ہفتے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس کے اعلانیے میں کہا کہ ڈی این اے کی شہادت کو ملزموں کو سزا دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

Advertisements

6 خیالات “ڈی این اے اور فورنزکس… از محمد طارق” پہ

  1. محترم محمد طارق صاحب، بہت اچھا لکھا ہے، ماشااللہ۔ میں بھی انہی خطوط پر لکھ رہا ہوں البتہ میرا موضوع کافی وسیع ہے۔ کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں آپ کا یہ مضمون اپنے اس مضمون میں شامل کر دوں۔ انشاللہ آپ کو اکنالج کیا جائے گا اور آپ کے اس مضمون کا حوالہ بھی دوں گا۔ شکریہ۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔

  2. لالہ جی اور محمّد طارق صاحب !
    آپ دونوں حضرات کا ازحد شکریہ …
    ماشااللہ … بہت شاندار اور معلوماتی مضمون ہے-
    لیکن مضمون کے آخر میں بالجبر "ملا ” کو ٹھونس دیا گیا- میرا سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کی جس عدالت نے مجرموں کو بری کیا ، اس کے جج صاحب ، لڑکی کے وکیل ، مجرموں کے وکیل ، اہلمد ، ریڈر ، غرض یہ کہ تمام عدالتی نظام "ملا” ٹائپ لوگوں پر مشتمل تھا؟؟؟
    دوسری بات ، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل بھی "ملا” چلا رہے ہیں؟
    نہیں جناب! اس کونسل کے چیئرمین کچھ عرصہ پہلے تک "جاوید احمد غامدی” جیسے آزاد خیال لوگ تھے- "ملا” کو ہر جگہ ناجایز لتاڑنا بھی درست نہیں-

  3. امام دین صاحب: شُکریہ۔ اور ہاں مُجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
    سعدیہ نواز صاحبہ: شُکریہ مادام
    سلیم خالد صاحب: آرٹیکل کی پسندیدگی کیلئے شُکریہ۔ جہاں تک آپکے شکوے کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ دراصل مُلا نے خود اپنے آپ کو ‘بالجبر’ اس مسئلے میں ٹھونسا ہوا ہے۔ عدالت نے جو فیصلہ کیا اُسے چیلنج کرکے کالعدم بھی کروایا جاسکتا تھا، لیکن جب ایک "اسلامی نظریے” کی ٹھیکیدار کونسل نے اس مسئلے پر اپنی سفارشات پیش کردیں تو اس کو چیلنج کرنا عملا” ناممکن ہوگیا ہے۔ اس مُلک میں کسی موضوع کو شجرِ ممنوعہ بنانا ہو تو اس پر "اسلام کے خلاف” ہونے کا لیبل لگادیں، لوگ اس پر بات کرنے سے خائف ہو جائیں گے۔ موضوعات اور اشیاء کو اس طرح کی مذہبی بلیک میلنگ کی نذر کرنے کا نام ‘مُلائیت’ ہے۔ ہمارے ججز ہوں یا وکیل، جب تک اُنکے اور شیرانی صاحب کے رویے میں فرق نہیں ہوگا، سارے ہی مُلّا ہیں۔ کیا مُلائیت کو تحفظ دینے والے لوگ مُلا نہیں کہلائیں گے؟

  4. پنگ بیک: ڈی این اے اور فورنزکس | Rationalist Pakistan: Rationalist Society of Pakistan

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s