نابالغ انقلاب۔۔۔۔از خانزادہ

hope-imran-knonie

نابالغ انقلاب

(۱)

تحریک ِ انصاف کے جلسے میں شرکت کے بعد میرا ایک دوست آیا تو اُسکے چہرے پر مُسرت اور دُکھ کی ملی جُلی کیفیات تھیں۔ کہہ رہا تھا کہ بڑی مخلوق آئی تھی جلسے میں۔ لگتا ہے کہ اس شہر میں تو اور کسی پارٹی کو ووٹ ہی نہیں پڑے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اس شہر میں لوگوں کو اکھٹا ہونے کیلئے بہانہ چاہیئے ہوتا ہے۔ سارے لوگ تھوڑاہی ایک پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ کُچھ لوگ ہر پارٹی کے جلسے میں جاتے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ اسی پارٹی کے ووٹر بھی ہوں۔ سختی سے انکار کرتے ہوئے بولا، ” ہرگزنہیں۔ ہر بندہ موجودہ کرپٹ نظام اورچور حکمرانوں سے تنگ آیا ہوا ہے اس لئے سارے لوگ تبدیلی کی خواہش لیکرآئے تھے۔ چہرے بتائے دے رہے تھے کہ وہ عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے آئے ہیں، تبدیلی کی نوید لینے آئے ہیں۔” میں نے بات بدلتے ہوئے پُوچھا ” چھوڑو یہ بحث۔ یہ بتاؤ تُم پریشان سے لگتے ہو۔ خیر تو ہے؟” اچانک اس کا چہرہ بُجھ سا گیا۔ کہا، "ہاں یار جلسے میں کسی نے میری جیب میں سے موبائل نکال لیا”۔ میں نے طنزا" کہا، "کرپٹ اور چور حکمرانوں سے تنگ آنے والے کسی انقلابی نے نکالا ہوگا”۔ بولا، "نہیں یار، جلسے میں سارے انقلابی تھوڑی آتے ہیں۔” اور پھرکچھ سوچنے کے بعد کھسیا کرچلا گیا۔

(۲)

مارچ کے وسط میں مُجھے اپنا پاسپورٹ ری- نیو کرانا تھا۔ میں نیشنل بینک پہنچا تو پتا چلا کہ بینک والوں کے پاس فیس جمع کرنے والا چالان/رسید ہی نہیں ہے۔ پُوچھنے پر بتایاگیا کہ ختم ہوگئے ہیں اور قریبی دُکاندار سے تیس روپے کے عوض دستیاب ہیں (بینک کی رسیدیں دُکاندار کے پاس کہاں سے آگئیں؟ ظاہر ہے کہ بینک والے دکاندارکی ملی بھگت سے عوام کولّوٹ رہے تھے)۔ میں نے بینک والوں سے اپنا تعارف ایک سرکاری ادارے کے افسر کی حیثیت سے کرایا تو پریشان ہوکر کھڑے گئے۔ میں نے اُنہیں ایک لمبا سارا لیکچر دیا جسے اُنہوں نے شرمندگی سے سر جُھکائے سُن لیا۔ چاروناچار مُجھے اُسی دکاندار سے چالان لینا پڑا کیونکہ پاسپورٹ آفس ایک گھنٹے بعد بند ہونا تھا۔ فیس جمع کرکے بینک سے نکلتے ہوئے مجھے کوئی خیال آیا۔ واپس گیا اور کاؤنٹر پر جاکر سب کو مُخاطب کرکے کہا، "خبردار جو آئندہ کسی نے چائے پر گپ شپ کرتے ہوئے زرداری کو کرپٹ کہا۔”

(۳)

مردان سے پنڈی آنے والی ہائی ایس پر کنڈیکٹر نے ڈیڑھ گُنا کرایہ طلب کیا تو ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ نے انکار کردیا۔ کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی والوں کے بائیکاٹ کے بعد اُنہیں پٹرول مہنگا پڑتا ہے، چُنانچہ زیادہ کرایہ لینا اُنکی مجبوری ہے۔ سٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے طے ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلُوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اُترنے کا مطالبہ کردیا۔ مُجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک مُعمر شخص نے داڑھی چباتے ہوئے "پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔ پتا یہ چلا کہ حضرت کوپنڈی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری "خوامخواہ کی تکرار” سے اُنکا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ اُن کیساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسبِ توفیق ہمیں کوسنوں سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ ‘الخاموشی،نیم رضا’ کے مصداق راضی برضائے کنڈیکٹر ہوگئے سوائے میرے اور اُس یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے۔ ہم دونوں بھی بادلِ ناخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ سب کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے آواز اُبھری "بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ خُدا کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہمارے حکمران چاہیں توہماری فوج لمحوں میں گرا مارے ان ڈرونوں کو؟”

اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، یونیورسٹی سٹُوڈنٹ نے جلے کٹے لہجے میں کہا، "چاچا جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سُپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی اچھی نہیں لگتی”۔

پنڈی پہنچنے تک چاچا کی آواز نہیں آئی۔

Advertisements

2 خیالات “نابالغ انقلاب۔۔۔۔از خانزادہ” پہ

  1. I’m amazed, I have to admit. Rarely do I come across a blog that’s both educative and amusing,
    and let me tell you, you have hit the nail on the head.
    The issue is something too few people are speaking intelligently about.
    I am very happy I stumbled across this during my search for
    something regarding this.
    http://khushabnews.com/

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s