پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف

یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: "دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، "تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

Advertisements

ایک خیال “پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف” پہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s