گھر کی عزت….از محمد طارق

ہمارے ہاں گھر یبٹھے خبریں گھڑنے میں بعض لوگوں کو خاص کمال حاصل ہے ۔ تاہم دکھ اس بات کا ہے کہ لوگ ایسی خبروں کا تنقیدی جائزہ لئے بغیر ہی ایسی خبروں کو آگے پھیلاکر ثوابِ دارین حاصل کرتے ہیں، ان کے سچ جھوٹ ہونے پر ایک لمحہ غور نہیں کرتے۔ اس سے پہلے سوئس  بنکوں میں پاکستانیوں کے اربوں ڈالر کے حوالے سے ایک خبر بہت پھیلی تو لالاجی کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسی بے تُکی خبر پر ایک بلاگ لکھنا پڑا۔ اب ایسی ہی ایک اور خبر کی فیس بک اور ٹوٹر پر بھرپور انداز میں تشہیر جاری ہے۔ خبر کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ غیر سرکاری تنظیم کا نام نہیں دیا گیا۔ اس تنظیم نے گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کے بارے میں اعدادوشمار کہاں سے اکٹھے کئے، کیسے اکٹھے کئے۔ کوئ وضاحت نہیں ۔ لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی وجہ محض موبائل فون ہی ہیں؟ گھر کے حالات ، والدین کا رویہ، دیگر وجوہات ؟؟؟حد تو یہ ہے کہ اس تصویر میں یہ وضاحت بھی نہیں کہ یہ خبر کس اخبار میں شائع ہوئی  اور کب شائع ہوئی۔ آئینہ کے ایک مستقل قاری محمد طارق نے اس خبر کو پڑھ کر اپنے خیالات تحریری شکل میں ارسال کئے ہیں۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں( لالاجی)

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی خبر کا عکس۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی خبر کا عکس۔

گھر کی عزت

گزشتہ چنددنوں سے اُوپر دی گئی تصویرفیس بُک پربہت گردش میں ہے۔ اگرچہ تصویر میں دی گئی خبر کے ماخذ کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ہمارے یہاں ایک ترقی گُریز طبقہ اس طرح کی خبروں کو من و عن قبول کرکے اخذ شدہ نتائج کی ترویج شروع کردیتا ہے اور ساتھ ہی یہ واویلا کہ یہ سب مغرب سے درآمد کی گئی ترقی کا ‘خمیازہ’ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نتائج پہلے سے مُرتب کرکے اُنہیں سہارا دینے کیلئے ثبُوت تلاش کریں، اُنہیں اس طرح کے بھونڈے ثبوت ایسے ہی ملتے ہیں جیسے شکر خورے کو شکر۔
اس خبر کے پہلے فقرے پر غور کریں،
"موبائل فون، کیبل کا کردار۔ ایک سال میں 17ہزار211 لڑکیاں گھروں سے فرار”
کیا موبائل اور کیبل جیسی ٹیکنالوجی کی قبولیت بھی اب ایک قابل بحث موضوع ہے؟ یعنی ہم ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کرپائے کہ ہمیں جدید انسانی ترقی کو قبول کرنا ہے یا اس کی مذمت کرنی ہے۔ کیا کیبل پرلڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں؟ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کیبل کے ذریعے باقی دنیا سے رُوشناس ہو کر اور جدیدترقی یافتہ معاشروں میں صنف نازک کو اپنی زندگیوں کے فیصلے خود کرتا دیکھ کر ہمارے ہاں لڑکیوں کو اپنے انسان ہونے کا احساس ہوا اوراُنہوں نے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گُزارنے کیلئے بغاوت کی راہ اختیار کی۔ سوال یہ ہے کہ لڑکیوں کے دل میں گھر سے بھاگنے کی خواہش کیبل نے پیدا کی یا مردوں کی اجارہ داری نے؟ لڑکیوں کو اپنے سارے رشتے، ناتے، آس پاس، پڑوس ۔ ۔ ۔ حتّیٰ کہ اپنی شناخت سے مُنہ موڑکر محض اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گُزارنے جیسی معصوم خواہش کیلئے مُعاشرے سے بغاوت کے کٹھن فیصلے پر مجبورکرناہمارا جُرم ہے، موبائل اور کیبل کا نہیں۔ کیا کہا، یہاں مردوں کی اجارہ داری نہیں۔ جومردانہی لڑکیوں کیساتھ گھروالوں کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کیلئے گھر چھوڑتے ہیں تو کیا اُنہیں بھی ‘بھاگاہوا’ کہتے ہیں؟کیا اُن کی بھی اتنی ہی مذمت کی جاتی ہے؟
خبر کا دُوسرا حصہ، جس میں 4 ہزار شادی شُدہ خواتین کے فرار کا ذکر ہے، بھی ہمارے لئے ایک بہت بڑا لمحہِ فکریہ ہے۔ آخر ایک شادی شُدہ خاتون گھر سے فرار ہونے کا فیصلہ کیوں کرتی ہے؟ اس لئے کہ اُسکی شادی اُس کی مرضی کے خلاف ہوئی ہوتی ہے۔ اسلئے کہ وہ اپنی شادی، اپنے شوہر اور اپنے سُسرال سے خوش نہیں ہوتی۔ اسلئے کہ وہ تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ اور اس لئے کہ اُس کے پاس ایسی شادی کو ختم کرنے کا کوئی آسان اور باعزت رستہ نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات تو سِرے سے کوئی رستہ ہوتا ہی نہیں۔ میرا سوال اُن لوگوں سے ہے جو روزانہ مغربی معاشرے کی ہجو میں بُلند شرحِ طلاق کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت اتنی بااختیار ہو کہ ایک ناکام شادی کو نہ صرف ختم کرسکے بلکہ بعد ازاں عزت سے معاشرے میں رہ بھی سکے تو اُسے ‘گھر سے بھاگنے’ جیسا انتہائی اقدام اُٹھانے کی ضرورت کیوں پیش  آئے گی؟
کُچھ دن پہلے اپنی ریسرچ کے سلسلے میں میانوالی میں ایک اٹھہتر سالہ بابا جی سے ملاقات ہوئی۔ باباجی نے حُکومت کے سارے گُناہ معاف کرتے ہوئے محترمہ حِنا ربانی کھر کو وزیرِ خارجہ بنانے پرشدید تنقید کی۔ میں نے حیرت سے پوچھا :” باباجی، اور بھی تو کافی ساری وزیرنیاں ہیں، صرف وزیرِ خارجہ پر اعتراض کیوں؟” باباجی نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ "بیٹا، عورت گھر کی عزت ہوتی ہے، اُسے گھر سے باہرغیروں کے ہاں نہیں بھیجنا چاہیئے”۔ میں اپنی پھڑکتی حسِ ظرافت پر قابو پاکر وہاں سے اُٹھا لیکن میرادوست تاڑ گیا تھا۔ باہر آکر اُس نے دریافت کیا تو مُجھ سے رہا نہ گیا۔ ” گھر کی عزت عورت ہے توہم مرد کیا ذلت ورسوائی ہیں؟” وہ بھی مُوڈ میں تھا، بولا، "تو اورکیا!”۔
” توگھر کی عزت رُخصت ہونے کے بعد پیچھے رہنے والی رسوائی کو عزت کا واویلا مچانے کا کوئی حق نہیں، بہتر ہے وہ خود کو ‘عزت’ بنانے کی کوشش کرے”۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s