غم و غصہ …. از سلمان راشد

 یہ  مضمون انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع ہوا۔ انگریزی متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک احمقانہ سے ویڈیو پر غم و غصے کا ڈرامہ کر کے ایک بزدل اور عقل سے پیدل آدمی نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔دہشت گردوں سے عام معافی۔ دہشت گردوں نے اُسے سیکولر نظریات کا مالک ہونے کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ لیکن جہاں اُس کے سیکولر نظریات ایک دھوکہ ہیں وہیں اُس کا مذہبی رجحانات بھی مشکوک ہیں۔

 ذرا غور کریں: اس شخص نے اعلان کیا کہ اگر اُسے موقع ملا تو وہ ویڈیو بنانے والے شخص کو قتل کر دے گا۔ اُس کے اس بیان پر فساد اور لوٹ مار کرنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موصوف کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ ایک (ناکام) ریاست پاکستان کا وفاقی وزیر ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس یقیناً نیلا پاسپورٹ ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسے ویزہ جاری کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ عام پاکستانیوں کو قتل پر اُکساتا جن کے لئے امریکہ جانا ہی ویزے کی مشکلات کے باعث ممکن نہیں ہوگا، اُسے چاہئے تھا کہ وہ خود کیلیفورنیا پہنچ جاتا اور اپنا کام کرگزرتا۔

 امریکہ میں مقیم ایک شخص کے سر کی قیمت مقرر کر کے اس مذہبی غم و غصے کے مارے شخص کو اس بات کی تو پوری تسلی ہے کہ اُس کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یا تو قتل کرنے والے  کے لئے یہی ممکن نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ویزا حاصل کر سکے اور اگر کوئی ویزا لے کر امریکہ پہنچ بھی جائے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہیں گرفتار ہو جائے گا، مقدمے بھگتے گا، سزا پائے گا اور اتنے لمبے عرصے تک کسی جیل میں پڑا رہے گا کہ واپس آکر انعام کی رقم کا دعویٰ نہیں کر پائے گا۔ یہ سب کچھ محض ایک تماشا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔

 وزیر ریلوے غلام احمد بلور، جس پر ریلوے کو تباہ کرنے کا مقدمہ چلنا چاہئے،دراصل دہشت گردوں کے پیروں میں گر پڑا ہے جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔ اب اسلام کی زبانی کلامی خدمت کر کے اُس کو معافی مل گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ اور جن لوگوں نے اُس کو محض زبانی جمع خرچ پر معاف کر دیا ہے وہ بھی اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ اُن کی طرف سے دی گئی یہ معافی اُن کی مذہب سے محبت کو مشکوک بنا گئی ہے۔ کیا وہ اتنے سیدھے سادے ہیں کہ وہ اس چال کو سمجھ ہی نہیں پائے؟

 لیکن اس میں صرف بلور ہی قصور وار نہیں ہے۔ گرجنا برسنا اس قوم کا شیوہ ہے۔ پورے ملک میں ایسے بینر لگے ہوئے ہیں جن پر فلم بنانے والے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے "اب تمہاری خیر نہیں”۔ میں نے جتنے بھی بینر دیکھے اُن پرنکولا بیسیلے نکولا کو دھمکی دینے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ نہیں، قطعاً کچھ نہیں۔ یہ سب محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پیغمبر کا عظیم نام داغدار ہو گیا ہے مگر یہ لوگ محض بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں حالانکہ ان کا عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یہ لوگ خالی خولی دھمکیاں دینے کی بجائے اب تک امریکہ روانہ ہو چکے ہوتے تاکہ وہاں اُس مصری عیسائی کا قلع قمع کر سکیں۔

 اب آتے ہیں غم و غصے کی طرف۔ سروپ اعجاز نے بجا طور پر "غم و غصہ کی صعنت” کو ایک منافع بخش کاروبار قرار دیا ہے۔ ذرا کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں موجود نوجوانوں کے انٹرویو تو سنیئے۔ ایک نوجوان سے جب پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے تو اُس نے جواب دیا "شغل”۔ ایک اور نوجوان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ سب ویڈیو یوٹیوب سے پابندی ہٹتے ہی آپ دیکھ سکیں گے۔ ایک اور نوجوان کی تصویر دیکھیں۔ یہ پشاور کا منظر ہے اور نوجوان چہرے مہرے سے پختون معلوم ہوتا ہے جنہیں ہم سب پاکستانیوں میں اسلام کے زیادہ قریب سممجھتے ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لوٹ کا مال سمیٹے جا رہا ہے۔ کیا یہ سب توہینِ رسالت پر غم و غصے کا اظہار ہے؟

 ہم کسی کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ اس مذہب کے ساتھ بھی نہیں جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہم جھوٹے، منافق اور بد عنوان لوگ ہیں جومذہب سمیت ہر کسی کو صرف باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم غم و غصے کے اظہار میں آگے رہتے ہیں اور اس میں اپنے ہی ملک کو جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ حقیقی گستاخ جن کو سزا ملنی چاہئے ہمارے درمیان موجود ہیں اور بلور اُن میں سر فہرست ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s