کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔۔۔؟

ابھی حال ہی میں میرے حد سے زیادہ مسلمان بھائیوں نے پاکستان میں جو گل کھلا کر اسلام کو زندہ کرنے اور پیغمبردو جہاں کی عزت بحال کرنے اور امریکی یہودیوں کو (اُن میں سے ۹۹ فیصد کو یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ فلم ایک مصری نژاد عیسائی نے بنائی ہے) سبق سکھانے کا جو عظیم الشان مظاہرہ کیا ہے اُس پر کم از کم لالا جی کا سر توہمیشہ کے لئے ہندوؤں (کراچی میں مندر میں تور پھوڑ کے واقعے پر)، عیسائیوں (مردان میں گرجا گھر جلائے جانے پر) اور عام کمزور ایمان والے مسلمانوں (جن کی املاک جلائی گئیں، گاڑیاں توڑی گئیں، روزگار ختم ہو گئے) کے آگے شرم سے جھکا رہے گا۔

 اس ذہنی صورت حال میں ایک سکھ مذہب کی توہین کے ایک واقعے کی رپورٹ نظر سے گزری تو دل بہت خوش ہوا۔ مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے والوں کو جان سے مار کر تو پتہ نہیں کچھ حاصل ہو کہ نہ ہو، مگر اُن کے ساتھ دوستانہ رویے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔

بلپریت کور کی وہ تصویر جویورپی لڑکے نے بلپریت کو بتائے بغیر بنائی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی۔

 واقعہ بیان کرنے سے پہلے سکھ مذہب کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہمارا جسم خدا (اللہ، بھگوان، جسے بھی آپ خدا مانتے ہیں) کی دین ہے اور ہمیں اِسے ویسا ہی رکھنا چاہئیے جیسا خدا نے عطا کیا ہے۔ اس میں غیر فطری طریقوں سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کی ناشکری کے مترادف ہے۔ اسی حکم کی وجہ سے پختہ عقیدے کے مالک سکھ اپنے جسم کے بال نہیں کٹواتے۔ ہم سکھوں کا اس بات پر مذاق اُڑاتے ہیں اور ایسے میں یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم کسی کے مذہبی عقائد کی توہین کر رہے ہیں۔

 بالکل یہی ایک نوجوان نے ایک راسخ العقیدہ سکھ لڑکی بلپریت کور کے ساتھ کیا۔ بلپریت کور کے چہرے پر بھی بال موجود ہیں اور دیکھنے والا چندلمحوں کے لئے حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یہ عورت ہے یا مرد۔ ایک مغربی نوجوان، جو ریڈٹ نامی ایک ویب سائٹ (فیس بک اور ٹویٹر کی طرح کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ) پر یورپین ڈاؤشبیگ کا نام استعمال کرتا ہے، نے بلپریت کی تصویر (جو کہ بلپریت سے چھپ کر بنائی گئی تھی) ویب سائٹ پر لگا دی اور لکھا "مجھے پتہ نہیں اس کا کیا مطلب ہے”۔ تصویر کا بھر پور مذاق بن گیا، گھٹیا اور گندے تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔

 بلپریت کے کسی دوست کی نظر سے یہ پوسٹ گزری تو اُس نے بلپریت کو بتادیا۔ شکر ہے کہ بلپریت مسلمان نہیں تھی ورنہ اُس کا بھائی  اپنی غیرت کے تحفظ کے لئے اُس لڑکے کو ڈھونڈ کر قتل کر دیتا (اگر پاکستانی ہوتا تو ساتھ بلپریت کو بھی قتل کر دیتا)۔ اسلام کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے سینما ہاؤس جلائے جاتے، بنک لوٹے جاتے، دس پندرہ لوگ مارے گئے ہوتے۔ مگر سکھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سکھوں کو اپنے مذہب سے اتنا زیادہ عشق نہیں ہے جتنا ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کو ہے۔ یہ احمق لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں دنیا سے اُس کی عزت کرانا نہیں جانتے۔ ہم اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے مگر دنیاوالوں سے اپنے مذہب کی عزت کرانا ہمیں خوب آتا ہے۔

 بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ سمجھے خدا کرے کوئی

 واپس آتے ہیں بلپریت کی طرف۔ بلپریت نے نہایت ٹھنڈے دل سے اپنی تصویر اور اُس پر ہونے والے تبصروں کو دیکھا اور پھر ایک جواب لکھا۔ بلپریت کور کا جواب ملاحظہ ہو:

 ہیلو دوستو! ۔۔۔ میں بلپریت کور ہوں اس تصویر والی لڑکی۔ مجھے دراصل اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا؛ مجھے میرے ایک دوست نے فیس بک پر اس بارے میں بتایا۔ اگر ڈائوشبیگ کو تصویر لینی تھی تو مجھے بتا دیتا میں خوشی سے تصویر بنوا تی۔ تاہم مجھے نہ تو شرمندگی ہے اور نہ میں اس تصویر کو ملنے والی توجہ (چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) پر کوئی ذلت محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں جو ہوں سو ہوں۔ ہاں میں ایک سکھ عورت ہوں جس کے چہرے پر بال ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ میری جنس کے بارے میں اکثر غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کیوںکہ میں دوسری عورتوں سے مختلف نظر آتی ہوں۔ تاہم ہم سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے جسم کو مقدس مانتے ہیں اور اسے خدا (جو نہ مذکر ہے نہ مونث) کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ سمجھتے ہیں جسے اپنی فطری حالت میں رکھ کر ہم خدا کی مرضی کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ جیسے بچے اپنے والدین کی طرف سے ملے ہوئے تحائف کو مسترد نہیں کرتے، سکھ خدا کی طرف سے عنایت کردہ جسم کو مسترد نہیں کرتے۔ میں میں کی رٹ لگا کر اور اپنے جسم میں تبدیلیاں لا کر ہم اپنی انا کی غلامی کرتے ہیں اوراپنی ذات اور اپنے خدا کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ معاشرے کی طرف سے دیئے گئے خوبصورتی کے معیارت سے بالا تر ہو کر میں اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دے سکتی ہوں۔ میرے خیالات، عقائد اور اعمال کا حسن میرے جسم کے حسن سے زیادہ اہم ہے کیوںکہ جسم کا کیا ہے یہ تو ایک دن راکھ ہو جائے گا تو میں اُس کے بارے میں کیوں ہلکان ہوتی رہوں۔ جب میں مر جاؤں گی تو کوئی بھی یہ یاد نہیں رکھے گا کہ میں کیسی لگتی تھی، حتیٰ کہ میرے بچے بھی میری آواز تک بھول جائیں گے۔ آہستہ آہستہ تمام جسمانی/طبعی چیزیں مٹ جائیں گی۔ تاہم میری سوچ اور خیالات باقی رہیں گے اور اپنی جسمانی خوب صورتی سے توجہ ہٹانے کی وجہ سے مجھے اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری پر توجہ دینے کے لئے بہت سا وقت مل جاتا ہے ۔ اس طرح میں اس دنیا میں بہتری لانے کے لئے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکتی ہوں۔ لہٰذا میرے لئے میرا چہرا اہم نہیں ہے تاہم وہ مسکراہٹ اور خوشی جو میرے چہرے کےپیچھے چھپی ہیں وہ اہم ہیں۔ چنانچہ اگرآپ میں سے کوئی مجھے یونیورسٹی میں دیکھے تو بے دھڑک آکر مجھ سے بات کرے۔ میں یہاں پوسٹ کئے گئے تمام تبصروں (چاہے وہ مثبت ہوں یا تھوڑے کم مثبت) سے خوش ہوں کیوں کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ ویسے یوگا پینٹ جو میں نے پہن رکھی ہے بہت آرام دہ ہے اور یہ شرٹ ایک ایسی تنظیم کی طرف سے ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کافی باتوں کی وضاحت کر دی ہے۔ بہت معذرت کہ میری وجہ سے کچھ غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اُس کے لئے بھی بہت معذرت۔

 یہ جواب یقیناً بہت غیر متوقع تھا۔ تاہم اس جواب کا رد عمل اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ تصویر پوسٹ کرنے والے نوجوان نے اس کے جواب میں لکھا:

 مجھے پتہ ہے کہ یہ کوئی دلچسپ پوسٹ نہیں ہے لیکن میں سکھوں سے بالعموم اور بلپریت سے بالخصوص معا فی چاہتا ہوں کہ میں نے ان کو تکلیف پہنچائی۔ سیدھی سے لفظوں میں یہ ایک احمقانہ حرکت تھی۔ لوگوں کا مذاق اُڑانا کچھ لوگوں کے لئے تفریح کا باعث ہوگا مگر جن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اُن کے لئے یہ یقیناً بہت تذلیل کا باعث ہوتا ہے۔ یہ پوسٹ یقیناً ایک ناقابلِ یقین سی بد تمیزی اور جہالت تھی۔ اس تصویر کو تفریح کے عنوان کے تحت نہیں بلکہ نسلی تعصب یا عدم برداشت کے عنوان کے تحت پوسٹ کیا جانا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔ میں نے سکھ مذہب کے بارے میں کافی مواد پڑھا ہے اور مجھے بہت دلچسپ لگا۔ یہ بات مجھے بہت معقول لگتی ہے کہ ہم اپنے جسمانی حسن کی بجائے اپنے خیالات اور سوچ کو خوبصورت بنائیں۔ وہ تصویر لگانا میری طرف سے انٹرنیٹ کی دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش تھی۔ میں احمق تھا۔خیر بلپریت۔۔۔! مجھے اپنی تنگ نظری پر افسوس ہے۔ آپ مجھ سے بہت بہتر انسان ہو۔ سکھ دوستو۔۔۔! مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہارے طرز زندگی اور ثقافت کا مذاق اُڑایا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی مسلمانوں نے پندرہ سے زیادہ لاشیں گرا دیں اور چھہتر ارب روپے کا نقصان کر کے اپنی ہی جگ ہنسائی کرالی۔ تاہم امریکی فلم ساز کو پھر بھی معافی مانگنے پر مجبور نہ کر سکے۔ بلپریت کور نے سکھ مذہب کی اقدار کا مذاق اڑانے والے کے سر پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کئے بغیر ہی اُسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

 مجھے پتہ ہے کہ اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیدار (جوعموماً علم و فضل کے سمندر ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں) بلپریت کور سے کچھ نہیں سیکھیں گے۔ ویسے بھی جنہوں نے پیغمبرِ دو جہاں کی تعلیمات سے کچھ نہیں سیکھا وہ بلپریت کورسے کیا سیکھیں گے۔ میں یہ بلاگ اُن کے لئے لکھ بھی نہیں رہا۔ یہ بلاگ عام سیدھے سادے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم سیدھے سادے، کم علم، مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے میں نہیں ہچکچائیں گے۔

Advertisements

ایک خیال “کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔۔۔؟” پہ

  1. بہت ہی شاندار لالی جی….میں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں لیکن یہ تحریر میرے خیال میں سب پر بازی لے گئی….خاص طور پر ’’حد سے زیادہ مسلمان‘‘ کی جو اصطلاح آپ نے اختیار کی ہے، بہت ہی مناسب، حسبِ حال اور شاندار ہے….خوش رہئیے….اور یونہی حق کا پرچار کرتے رہئیے….آپ کی صحت و مسرت کے لیے نیک تمناؤں کے ساتھ!!!

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s